(سنن ابن ماجہ کی احادیث سے متعلق استفسارات اور ان کا جواب)
(6)
مطیع سید: نظر کے باب میں روایت ہے کہ سہل بن حنیف نہا رہے تھے۔ عامر بن ربیع نے انھیں دیکھا تو کہا کہ ایسا خوب صورت جسم تو میں نے کسی عورت کا بھی نہیں دیکھا ۔ان کے یوں کہنے سے سہل بن حنیف درد سے لوٹ پوٹ ہونے لگے۔ ان کو اس حالت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ بڑی پریشانی میں فرمایا کہ تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو قتل کر ڈالتا ہے! پھر فرمایا کہ تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو دیکھے تو برکت کی دعا کیا کرے۔ پھر آپ نے پانی منگوایا اور عامر بن ربیع کو وضو کرنے کا حکم دیا اور پھر وہ پانی سہل پر ڈالنے کا حکم دیا۔1
آج تو ہمارے لیے ممکن ہی نہیں کہ کسی کو یہ کہیں کہ فلاں کو تمھاری نظر لگ گئی ہے، تم وضو کر کے پانی ہمیں دو۔اس سے لڑائی جھگڑا بھی ہوسکتاہے۔
عمار ناصر: آج ہم اس لیے نہیں کر سکتے کہ لوگ ان چیزوں کو مانتے نہیں ہیں۔ لوگوں کا تاثر یا خیال اس کے بارے میں بدل گیا ہے، لیکن اگر کرنا چاہیں تو آج بھی کر سکتے ہیں۔ ٹوٹکے تو ہمارے ہاں بھی چلتے ہیں، لیکن ہمارے ہاں اس سے ذرا مختلف ٹوٹکے ہیں۔ مثلاً خواتین مرچیں جلا کر جس کو نظر لگی ہو، اس پر وارتی ہیں یا اس طرح کے دیگر ٹوٹکے آزماتی ہیں ۔تو یہ تو حقیقت ہے کہ نظر سے کچھ بری تاثیر منتقل ہوتی ہیں اور اس کو اتارنے کے لیے ٹوٹکے آزمائے جا سکتے ہیں۔ یہ بات تو حدیث سے معلوم ہوتی ہے۔
مطیع سید: ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورۂ آل عمران اور سورۂ طٰہٰ میں اسم اعظم ہے، اس کے ساتھ جو دعا کی جائے تو وہ قبول ہوتی ہے۔2 یہ اسم اعظم کیا چیز ہے؟ اگر یہ اللہ ہی کا نام ہے تو اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مبہم کیوں رکھا ہے؟ واضح کیوں نہیں فرما دیا؟
عمار ناصر: نہیں، اس میں چھپانے والی کوئی چیز نہیں ہے۔ اگر تمام روایات کو دیکھیں تو یہی ملتا ہے کہ یہ اللہ کی الوہیت کا اور اس کی عظمت کا ذکر ہے۔ لفظ ’اسم‘ عربی میں نام سے زیادہ صفات پر دلالت کرنے والے کلمات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور وہ مختلف ہیں۔ وہ کوئی منتر قسم کی چیز نہیں ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں۔ جس کلمے میں اللہ کی عظمت کا ذکر ہے، اس کے الٰہ ہونے کا ذکر ہے ،توحید کا ذکر ہے، وہ اسم اعظم ہے۔ سورۂ آل عمران کی ابتدائی آیات میں ’اللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الۡحَیُّ الۡقَیُّوۡمُ ‘3 کا کلمہ اس کا واضح مصداق ہے۔ اسی طرح سورۂ طٰہٰ میں ’اَللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ لَہُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰی‘4 اور ’وَ عَنَتِ الۡوُجُوۡہُ لِلۡحَیِّ الۡقَیُّوۡمِ ‘5 کے کلمات بھی اسی زمرے میں آتے ہیں۔
مطیع سید: تین لوگوں کی دعا قبول ہوتی ہے: مظلوم کی، اپنی اولاد کے لیے والدین کی اور مسافر کی۔6 پہلے دو کی دعا کی قبولیت تو سمجھ میں آتی ہے، لیکن مسافر کی دعا کی قبولیت کس حوالے سے ہے؟ وہ تو اپنے کام کے لیے نکلا ہوتا ہے۔ مثلاً میں اپنے کاروبار کے لیے جا رہا ہوں تو اس میں دعا کی قبولیت کی کیا خاص وجہ ہے؟
عمار ناصر: اگر آپ معاش کے لیے سفر کر رہے ہیں تو شریعت کی نظر میں یہ آپ کی دنیاوی سرگرمی نہیں ہے۔ اس حدیث میں عمومی معنی بھی یہی مراد ہے کہ وہ شخص جو معاش کے لیے گھر بار چھوڑ کر نکلا ہوا ہے اور اپنے بیوی بچوں کی ضروریات کے لیے دھکے کھا رہا ہے، تو اس پہلو سے وہ بڑی نیکی کی سرگرمی میں مصروف ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر کوئی شخص گناہ کے لیے سفر کر رہا ہے تو وہ اس میں شامل نہیں ہے، لیکن اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے اور کسب حلال کے لیے سفر کی مشقت اٹھانے والا تو اللہ کی نظر میں بہت پسندیدہ آدمی ہے۔
مطیع سید: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خواب ایک پرندے کے پر َپر ہوتا ہے، جب تک کہ اس کی تعبیر نہ کی جائے۔7 اس سے کیا مراد ہے؟
عمار ناصر: مراد یہ ہے کہ خواب کی تعبیر کیا ہوگی؟ اس میں ایک ابہام ہوتا ہے، اس لیے اگر خواب کی تعبیر اچھی کی جائے تو اس کا اس پر اثر پڑتا ہے کہ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ مقصد یہ ہے کہ ہر آدمی کو خواب نہ بتاؤ اور خاص طور پر ایسے آدمی کو نہ بتاؤ جس کے بارے میں پتا ہو کہ یہ الٹا مطلب ہی نکالے گا یا یہ منفی ذہنیت کا آدمی ہے ۔کسی ایسے آدمی کو بتاؤ جو سمجھ دار ہو اور وہ خوب غور و فکر کر کے خواب کی تعبیر کرے، کیونکہ جب تعبیر ہو جائے گی تو پھر خواب کی تعبیر کا اس کے مطابق ظاہر ہونے کا گمان زیادہ ہے۔ اس میں بھی فال والا اصول کارفرما ہے کہ جس طرح بندہ اچھا گمان رکھے اور اچھا شگون لے تو اسی کے مطابق معاملہ ہو جاتا ہے، اسی طرح خواب کی بھی اچھی تعبیر کی جائے اور اللہ سے اچھی توقع رکھی جائے تو اس کے مطابق پھر اللہ تعالیٰ معاملہ کرتےہیں۔
مطیع سید: لیکن مصر کے بادشاہ نے خواب دیکھا اور نجومیوں نے کہہ دیا کہ یہ تو پریشان خیالی ہے، لیکن ان کی اس بات کا تو اس خواب کی تعبیر پر کوئی اثر نہیں پڑا۔
عمار ناصر: دراصل نجومیوں نے کوئی تعبیر نہیں بتائی، کیونکہ انھیں تعبیر سمجھ میں ہی نہیں آئی، تو انھوں نے کہہ دیا کہ یہ پریشان خیالی ہے،ورنہ اگر خواب کو دیکھا جائے تو اس کے اندر ایک منفی پیغام واضح ہے کہ گائیں ایک دوسرے کو کھا رہی ہیں ۔اس میں یہ کہا جا سکتا تھا کہ کوئی بہت بڑی مصیبت آرہی ہے، آپ کا ملک تباہ ہو جائے گا اور یہ تعبیر سن کر بادشاہ کا بھی اس پر یقین بن جاتا۔ یوسف علیہ السلام نے اس خواب کو صحیح طریقے سے سمجھا اور اس کی درست تعبیر بتائی کہ اس میں ایک آزمایش کی بھی اطلاع ہے، لیکن اس کے ممکنہ حل کی طرف بھی اشارہ موجود ہے۔
مطیع سید: ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوذر سے فرمایاکہ جب قتل وغارت کا بازار گرم ہو تو تم اس سے الگ رہنا اور اپنے گھر میں بیٹھے رہنا۔ابوذر نے عرض کی کہ اگر فسادی میرے گھر میں گھس آئیں تو کیا کروں؟ آپ نے فرمایا کہ اگر تجھ کو قاتل کی تلوار کی چمک کا ڈرہوتو اپنی چادر کا کونہ اپنے منہ پرڈال لینا، (اور دفاع میں بھی اس کو قتل کرنے کی کوشش نہ کرنا) ۔ قتل کرنے والااپنااور تیرا، دونوں کا گناہ سمیٹ لے گااور دوزخی ہو گا۔8
پہلاسوال یہ ہے کہ اس روایت میں آپ ابوذر کو اپنے دفاع سے بھی کیوں منع کر رہے ہیں؟ دوسرایہ کہ حضرت ابوذر کے ساتھ ایسا معاملہ پیش نہیں آیا۔عموماًآپ صلی اللہ علیہ وسلم جس کو یہ بتارہے ہوتے ہیں ،اس کے ساتھ ویسا معاملہ پیش آ جاتا ہے۔
عمار ناصر: یہ بات صحیح ہے کہ اکثر ایسا ہی ہوا ہے کہ جو حالت آپ نے بیان فرمائی، وہ صحابی کو پیش آگئی، لیکن یہ ضروری نہیں ہے۔ جو حالات کی تبدیلی ہوئی، اس میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور تک تو حضرت ابوذر زندہ تھے۔ ابھی مسلمانوں کا باہمی قتال شروع نہیں ہوا تھا، لیکن حالات اسی طرف جا رہے تھے۔
پہلےسوال کا جواب یہ ہے کہ یہ کوئی عام اور معمول کی حالت نہیں ہے، جو حدیث میں بیان کی جا رہی ہے کہ کوئی آدمی آپ پر حملہ کرے اور آپ اپنا دفاع نہ کریں۔ احادیث میں تو بتایا گیا ہے کہ اپنی جان اور مال کو بچاتے ہوئے جان دے دینا شہادت ہے۔ یہاں پر اس فتنے کی صورت حال بیان کی جا رہی ہے جب مسلمان آپس میں برسرپیکار ہوں گے اور صورت حال ایسی ہوگی کہ حتمی طور پر فیصلہ کرنا کہ یہ فریق بالکل ٹھیک ہے اور وہ فریق بالکل غلط ہے، یہ ممکن نہیں ہوگا۔ اس صورت حال سے متعلق یہ ہدایت دی گئی ہے، کیونکہ آپ نے کسی مسلمان کی جان لینی ہے تو آپ کے پاس بالکل واضح برہان ہونی چاہیے، جس کی بنیاد پر کل قیامت کو آپ اللہ کے سامنے جواب دے سکیں۔ فتنے کی حالت میں جب وہ چیز نہیں ہے اور لوگ اندھا دھند ایک دوسرے کو مار رہے ہیں تو اس مشتبہ صورت حال میں عزیمت کا مقام یہ ہوگا کہ آدمی اپنے دفاع میں بھی کسی کی جان لینے کے حق سے دست بردار ہو جائے اور اپنی جان دے دینے کو ترجیح دے۔ تو یہ حکم اس خاص صورت حال میں آپ علیہ السلام نے دیا تھا اور یہ عزیمت کا درجہ تھا، دفاع کے حق کی اصولی نفی اس میں نہیں کی گئی۔
مطیع سید: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہترین شخص وہ ہے جو اپنے گھوڑے کی باگ تھامے ہوئے اللہ کی راہ میں سوار رہتا ہے، جب دشمن کی آواز آتی ہے تو اس طرف جاتا ہے اور موت اور قتل کے درمیان مواقع ڈھونڈتا ہے۔ اور دوسرا وہ شخص جو اپنی چند بکریوں کے ساتھ کسی پہاڑ کی چوٹی پر رہتا ہے اور کسی وادی میں عبادت کرتا ہے اور وہیں پر اسے موت آ جاتی ہے۔9 یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہ یک وقت دو مختلف انداز کی زندگی کو پسند فرما رہے ہیں۔
عمار ناصر: یہاں دیکھنا یہ ہے کہ یہ جو دو طرز زندگی ہیں، ان کا تقابل کس سے ہے؟ ان کا تقابل عام متمدن زندگی سے ہے۔ آپ یہ دیکھ رہے ہیں کہ آنے والے سالوں میں جو متمدن زندگی ہوگی، اس میں مسلمان یا تو قتل وقتال اور آپس کے جھگڑوں میں مصروف ہوں گے یا مال و دولت اور دنیوی آسایشیں اتنی آجائیں گی کہ متمدن زندگی حسد کی،ایک دوسرے کے خلاف سازشوں کی یا آپس کے لڑائی جھگڑوں کی زندگی بن جائے گی۔ اس تناظر میں فرمایا کہ ان سارے فتنوں سے بچنے کے لیے ان دونوں میں سے کوئی بھی راہ اختیار کر لینا،یہ بہترین زندگی ہے۔یا تو آدمی اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے محاذ پر چلا جائے، یہ بھی معمول کی زندگی سے الگ تھلگ ہونا ہے یا پھر دنیا سے بے رغبت ہو جائے اور پہاڑوں اور وادیوں میں الگ تھلگ اور فتنوں اور مفاسد سے دور رہتے ہوئے زندگی کی مہلت پوری کر لے۔
مطیع سید: مشہور روایت ہے کہ اکہتر فرقے یہود کے ہوئے اور بہتر فرقے نصاریٰ کے ہوئے اور میری امت میں تہتر فرقے ہوں گے اور ان میں سے ایک جنتی ہوگا۔ اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’الجماعۃ‘۔10 ’الجماعۃ‘ سے کیا مراد ہے؟ اور مختلف فرقوں میں سے کون سا فرقہ ہے جو اس کا مصداق ہے؟ ہمارے ہاں تو ہر گروہ یا فرقہ اپنے آپ کو اس کا مصداق قراردیتاہے۔ اس حدیث کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟
عمار ناصر: اس حدیث میں آپ علیہ السلام یہ بتا رہے ہیں کہ میرے بعد میری امت میں جو افتراق پیدا ہوگا ،اس میں نجات پر وہی ہوں گے جو’الجماعۃ‘ کے تحت ہوں گے۔ اس میں پھر دونوں پہلو ہیں۔ سیاسی طور پر انتشار پیدا ہو اور اس میں مختلف گروہ بن جائیں تو اس میں ’الجماعۃ‘ کا مصداق وہ سواد اعظم ہوگا جس پر مسلمان مجتمع ہوں۔ اس کے ساتھ وابستہ رہنا اور اس کے خلاف قتل و قتال کا طریقہ اختیار نہ کرنا، یہ صحیح اور نجات کا راستہ ہے۔ اور جہاں پر دینی معاملات اور تعبیرات میں اختلاف واقع ہوتو اس میں ’ما أنا علیہ وأصحابی‘ کا معیار بتایا گیا ہے، یعنی جس پر میرے معتمد صحابہ قائم ہوں۔ مختلف مواقع پر آپ علیہ السلام نے ان کے نام بھی واضح کیے ہیں، جن میں خلفا کا ذکر ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے اور دیگر جو فقہا صحابہ تھے، ان کا ذکر ہے کہ ان سے دین سیکھنا۔ گویا دین کے فہم میں درست راستے کا معیار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معتمد اصحاب ہیں اور سیاسی انتشار کے وقت ٹکڑیوں میں بٹے ہوئے لوگ نہیں، بلکہ وہ لوگ جو مسلمانوں کی اجتماعیت کے ساتھ وابستہ ہوں، وہ نجات کے راستے پر چلنے والے ہیں۔
اس حوالے سے یہ نکتہ بھی ہمارے سامنے ہونا چاہیے کہ قرآن اور احادیث میں دوزخ میں جانے سے متعلق جو وعیدیں آئی ہیں، وہ بنیادی طور پر لازمی نتیجے کو بیان کرنے کے لیے نہیں ہیں کہ اگر کوئی ایسا کرے گا تو وہ ضرور دوزخ میں جائے گا، بلکہ ان میں دراصل کسی عمل کی شناعت کو بیان کرنا مقصود ہوتا ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص اس راستے پر چلے گا تو اللہ کی نظر میں عذاب کا مستحق ہے۔ ہاں، عملاً اس کے انجام کا فیصلہ کیسے ہوگا، اس میں پھر کئی اور پہلو بھی ملحوظ رکھے جائیں گے۔ اگر کوئی شخص اس راستے پر چل رہا ہے تو دیکھا جائے گا کہ اس کے حالات کیا ہیں اور ماحول میں کس قسم کا انتشار ہے، جس کی وجہ سے وہ اس راستے پر چلا گیا۔ ہو سکتا ہے کہ وہ حسن نیت سے ہی کر رہا ہو، تو لوگوں کے اعذار بھی اپنی جگہ ملحوظ ہوں گے۔
مطیع سید: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ اپنے بعد آنے والے حالات کے تناظر میں فرما رہے ہیں؟ ہم اس کو آج کی صورت حال پر کیسے منطبق کریں گے؟
عمار ناصر: میں اس کو اس طرح دیکھتا ہوں کہ حدیث کا مدعا یہ بتانا نہیں کہ کوئی ایک متعین اور خاص گروہ ہوگا جو سو فی صد اس کا مصداق ہوگا، اور اس کے علاوہ باقی گروہوں کا راہ نجات سے کوئی واسطہ نہیں ہوگا۔ اصل معیار ’ما أنا علیہ وأصحابی‘ ہے اور مختلف فرقوں میں سے جو اس معیار کے زیادہ قریب ہوگا، وہ نجات کا زیادہ حق دار ہوگا۔ اب تو انتشار بہت پھیل گیا ہے اور کسی ایک خاص گروہ کو متعین کر کے اس کا مصداق قرار دینا بہت مشکل ہے۔ اس لیے متکلمین نے کہا ہے کہ راستہ اور علامات بتا دی گئی ہیں ، اب جتنے بھی گروہ ہیں، ان میں دیکھا جائے گا کہ کون کس حد تک اس راستے پر ہے۔ لازم نہیں کہ کوئی ایک متعین گروہ ہو جو سو فی صد اس نجات یافتہ گروہ کا مصداق ہو۔ دعویٰ تو سب کرتے ہیں اس راستے پر چلنے کا، لیکن ممکن ہے کہ کچھ چیزوں میں ایک گروہ اس کے قریب تر ہو اور کچھ اور چیزوں میں کوئی دوسرا گروہ اس کے قریب تر ہو۔ طالب حق کے لیے طریقہ یہ ہے کہ وہ یہ دیکھے کہ ’ما أنا علیہ وأصحابی‘ کیا تھا اور موجود گروہوں میں سے کون اس کے زیادہ قریب ہے، نہ یہ کہ کسی ایک خاص گروہ کو فرقہ ناجیہ سمجھ کر اس میں شامل ہو جائے اور باقی گروہوں کو جہنمی سمجھنے لگے۔
مطیع سید: حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا کہ صدقہ دیا کرو اور استغفار زیادہ کیا کرو، کیونکہ میں نے جہنم میں عورتوں کی کثرت دیکھی ہے ۔ایک عورت بولی : ہم جہنم میں زیادہ کیوں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لعن طعن زیادہ کرتی ہو اور شوہروں کی نافرمانی کرتی ہو۔ پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ’ناقصات العقل والدین‘ بھی کہا۔ اس عورت نے جرأت کر کے پوچھ لیا کہ ہماری عقل اور دین میں کیا نقص ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عقل کا نقص یہ ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہے اور دین کا نقص ایام مخصوصہ میں نماز ادا نہ کر سکنا بتایا۔11
آپ سے ایک مرتبہ اس روایت پر بات ہوئی تھی تو آپ نے فرمایا تھا کہ احناف نے ایک خاص تناظر میں کہی گئی بات کو وسیع کر دیا ہے اور اس کو عمومی اصول بنا لیا ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہوگی۔
عمار ناصر: وہ بات یہ تھی کہ قرآن مجید میں دو عورتوں کو گواہ بنانے کا ذکر تحریری شہادت کے حوالے سے ہوا ہے، اس میں گواہی کا کوئی ایسا نصاب، جس کی عدالت نے پابندی کرنی ہے، وہ نہیں بیان ہوا ۔ اس بات کو احناف نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ عدالت نے بھی اس اصول کی پابندی کرنی ہے، جب کہ جمہور فقہا کہتے ہیں کہ اس آیت میں عدالت کے لیے نصاب بیان نہیں ہوا۔ وہ اس بنیاد پر یہ بات کہتے ہیں کہ حدیثوں میں اور بھی طریقے بیان ہوئے ہیں، جیسے ایک گواہ کے ساتھ مدعی سے قسم لے کر بھی فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ تو دو گواہوں کے بغیر فیصلہ کرنا آیت کے خلاف نہیں ہے، لیکن آیت میں ایک مرد کے برابر دو عورتوں کی گواہی کا جو ذکر ہوا ہے، اس کو جمہور فقہا بھی تعمیم میں لے جاتے ہیں۔ تو ایک پہلو سے جمہور آیت کا محل ٹھیک متعین کرتے ہیں، لیکن جب اس کا اطلاق کرتے ہیں تو اس کو پوری طرح ملحوظ نہیں رکھتے۔
پھر اس بات میں بھی احناف اور جمہور فقہا کا اختلاف ہے کہ عورت کی گواہی کہاں لی جائے گی اور کہاں نہیں لی جائے گی۔اس میں احناف زیادہ وسعت سے کام لیتے ہیں، جب کہ باقی فقہا کہتے ہیں کہ نکاح اور طلاق وغیرہ میں تو عورت کی گواہی قابل قبول ہی نہیں، صرف مالی معاملات میں عورت کی گواہی پر فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ بہرحال اس پر جمہور فقہا کا اتفاق ہے کہ عورتوں کی گواہی جہاں بھی لے جائے گی، بعض استثنائی معاملات کے علاوہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہوگی۔ اس پہلو کو فقہا نے ملحوظ نہیں رکھا کہ اس آیت میں جو دو عورتوں کو گواہ بنانے کا کہا گیا ہے تو اس کے پیچھے بنیادی حکمت کیا ہے۔ یہ ہدایت عورت کی اہلیت یا صلاحیت کے نقص کی وجہ سے نہیں دی گئی، بلکہ اجنبی اور غیر مانوس ماحول میں اسے سہارا فراہم کرنے کے لیے دی گئی ہے۔
مطیع سید: لیکن حدیث میں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمومی انداز میں عورتوں کو ’ناقصات العقل‘ فرمایا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا ناقص العقل ہونا ایک عمومی اصول کے طور پر ہے اور ہر معاملے میں ان کی گواہی اسی اصول کے مطابق شمار ہوگی۔
عمار ناصر: حدیث میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر کوئی فقہی یا قانونی ضابطہ بیان کرنا نہیں ہے۔ اصل میں آپ خواتین پر یہ واضح فرمانا چاہ رہے ہیں کہ تمھیں دنیا کے معاملات اور معاشرتی امور کا اتنا تجربہ نہیں ہے اور تمھیں گواہی بھی دینی پڑے تو تم دو عورتیں مل کر پیش ہوتی ہو، لیکن اس کے باوجود تم مردوں کو فتنے اور آزمایش میں مبتلا کرنے کی صلاحیت سے پوری طرح بہرہ ور ہو۔ یہ اس تناظر میں کہی گئی بات ہے۔
مطیع سید: حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زمین سے دابۃ الارض نکلے گا اور اس کے ساتھ حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا ہوگا ۔عصا سے مسلمان کا چہرہ روشن ہو جائے گا اور انگوٹھی سے کافر کی ناک پر نشان لگ جائے گا اور وہ جانوربتائے گا کہ یہ مومن ہے اور یہ کافر ہے ۔12
سوال یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے یوم الدین رکھا ہوا ہے اور وہاں پر فیصلہ ہوگا،جب کہ دنیا دارالامتحان ہے، دارالجزاء نہیں تو یہاں پر فیصلہ کرنے کے لیے اس جانور کو نمودار کرنے کی کیا ضرورت ہے؟
عمار ناصر: اللہ تعالیٰ کی جو تکوینی اسکیم صحائف کے بیانات سے سمجھ میں آتی ہے، وہ یہ ہے کہ جب تک انبیا کا سلسلہ جاری تھا تو ان قوموں کے لیے خوارق عادت جیسی چیزوں کا ظہور بھی جاری تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جو آخری نبی حضرت مسیح آئے ، ان پر تو خوارق عادت کی انتہا ہو گئی۔ پوری شخصیت ہی خرق عادت کا مظہر تھی۔ پھر جب آخری نبی آئے تو ان کے ساتھ یہ سلسلہ ایک طرح سے اختتام کو پہنچ گیا ۔ان کو بھی دلیل کے طور پر جو بڑا اور نمایاں معجزہ دیا گیا، وہ قرآن ہے۔ باقی ایسی نشانیاں ہیں جو ان کے براہ راست دیکھنے والوں کے لیے ایمان میں اضافے اور تقویت کا ذریعہ تھیں۔ نبوت ختم ہونے کے ساتھ خوارق عادت کا وہ سلسلہ جو پہلے لوگوں پر حجت قائم کیا کرتا تھا، وہ نہیں رہا ۔پھر جیسے جیسے زمانۂ نبوت دور ہوتا گیا تو ان نشانیوں کی قوت اور تاثیر بھی لوگوں کے ذہنوں پر کم ہوتی چلی گئی۔ جیسے جیسے زمانہ آگے بڑھتا جائے گا ، لوگوں کا ایمان سے دور اور کفر کی طرف مائل ہونا، یہ بھی بڑھتا جائے گا۔ جب یہ بڑھتا جائے گا تو پھر اللہ تعالیٰ نے اس دارالامتحان کی بساط کو مقررہ وقت پر جا کر لپیٹ دینا ہے، لیکن اس حتمی فیصلے سے پہلے اللہ تعالیٰ قرب قیامت میں ایک بار پھر غیر معمولی نشانیاں ظاہر کرے گا۔ وہ نشانیاں گذشتہ انبیا کی نشانیوں سے بھی بڑی نشانیاں ہوں گی اور کائناتی سطح کی ہوں گی اور اللہ تعالیٰ یہ اتمام حجت کے لیے کرے گا۔ چونکہ اس وقت ہر طرف کفر کا ہی غلبہ ہوگا تو اللہ تعالیٰ بساط لپیٹنے سے پہلے انسانوں کو یہ نشانیاں دکھائے گا۔ بالکل آخر میں سورج الٹی طرف سے نکلنا شروع ہو جائے گا اور دابۃ الارض نکل آئے گا۔ اتنی بڑی بڑی نشانیاں دکھانے کے بعد بھی جب لوگ بے حس رہیں گے اور حق کو قبول نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ اپنی سنت کے مطابق حق بجانب ہوں گے کہ اب اس پورے نظام کو لپیٹ دیا جائے۔ یہ وہ پوری اسکیم ہے جو انبیا کی دی ہوئی خبروں سے سمجھ میں آتی ہے۔
مطیع سید: قران مجید کا بہت زیادہ ارتکاز آخرت پر ہے۔ ہر دوسرے صفحے پر آخرت کا ذکر ہے اور وہ انسانوں کو تیار ہی آخرت کے لیے کر رہا ہے، لیکن قرب قیامت میں جو بڑی بڑی نشانیاں ہیں، ان کا ذکر قران مجید میں نہیں کیا گیا۔ صرف یاجوج وماجوج کا ذکر ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟
عمار ناصر: ظاہر ہے کہ یہ تو اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کرنا تھا کہ کون سی بات کہاں ذکر کرنی ہے۔ بہ ظاہر یہ لگ رہا ہے کہ قرآن مجید کا براہ راست خطاب چونکہ اس وقت کے اہل عرب سے تھا اور ان کے اندر آخرت کے حوالے سے بے فکری تھی جو ساری برائیوں کی جڑ ہے، اس لیے قرآن کا مطمح نظر یہ ہے کہ یہ لوگ متوجہ ہوں اور ان میں اللہ کے سامنے جواب دہی کا احساس اور خوف پیدا ہو۔ یہ بالکل بے خوف ہوئے بیٹھے ہیں، ان کو پتا چلے کہ انھوں نے آگے جا کر جواب دینا ہے۔ آج بھی دیکھیں تو یہ الحاد وغیرہ پہلے جواب دہی کے احساس اور آخرت کے تصور پر ہی ضرب لگاتے ہیں۔ اس کے بعد پھر ایمان کی کوئی اہمیت رہ نہیں جاتی۔
مطیع سید: مجھے یہ بات بڑی عجیب لگتی تھی کہ مشرکین مکہ خدا کو مانتے تھے، لیکن آخرت کو نہیں مانتے تھے ۔ان کا بڑا مسئلہ آخرت ہے ۔میں نے ایک ہندو گرو کو ایک دفعہ سنا تو اس نے یہ فلسفہ بیان کیا، جس میں آخرت کے بغیر خدا کو مانا جاتا ہے۔ وہ کہہ رہا تھا کہ یہ جو ہماری زمین ہے، کائنات کے اندر اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور اتنی بڑی کائنات کو جو خدا چلا رہا ہے، اس نے اگر اس زمین کے لیے کوئی منصوبہ نہیں بھی بنایا تو کیا حرج ہے؟ وہ کہہ رہا تھا کہ یہی زندگی ہے اور اس زندگی کو بھرپور جی لیں، یہی سورگ ہے اور یہی نرگ ہے۔
عمار ناصر: ہم چونکہ ابراہیمی روایت میں کھڑے ہیں تو ابراہیمی روایت میں خدا کا تصور تب ہی بامعنی ہوتا ہے جب اس کے ساتھ رسالت اور آخرت کا تصور جڑا ہوا ہو، اس لیے ہمارے ہاں آخرت کے تصور کے بغیر خدا کا تصور ممکن نہیں ہے، لیکن دنیا کے دیگر مذاہب اور روحانی فلسفوں میں زیادہ تر ایسا ہی ہے کہ لوگ خدا کو مانتے ہیں، لیکن آخرت کا تصور نکال دیتے ہیں اور پھر اس پر کئی طرح کی فلسفیانہ بحثیں کی جاتی ہیں۔ فلسفہ تو ایک ایسی ظالم انسانی صلاحیت ہے جو ہر چیز کا ایک عقلی سانچہ بنا سکتی ہے۔
مطیع سید: صحابی کہتے ہیں کہ ہم ایک جھونپڑا بنا رہے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا: یہ کیا ہے ؟ ہم نے کہا کہ ہمارا مکان پرانا ہو گیا ہے ، ہم اس کو درست کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تو دیکھتا ہوں کہ موت اس سے بھی جلد آنے والی ہے۔ 13
پہلا سوال تو یہ ہے کہ کیا اسلام کو تمدن سے کوئی دل چسپی نہیں ؟دوسرایہ کہ کیا اہلِ مغرب یہ بات درست کہتے ہیں کہ ہم نے مذہب سے جان چھڑا کر ہی اتنی ترقی کی ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ مذہب کو ماننے والی کوئی قوم سپر پاور بھی ہو جائے تو وہ اس طرح ترقی نہیں کر سکتی، جس طرح یہ مغربی اقوام ترقی کر رہی ہیں؟
عمار ناصر: یہ بہت درست سوال ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام اپنے طرز زندگی سے دنیا کے متعلق جو پیغام دیتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو پیغام دیتے ہیں، وہ آپ کو ایک اور سمت میں لے جاتا ہے۔ اس میں آپ بہ ظاہر تمدن کو بھی ایک خاص سطح سے آگے اور تہذیب کو بھی ایک خاص حد سے آگے نہیں لے جا سکتے ۔لیکن اس کے ساتھ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ایک طرف تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس حدیث میں یہ فرما رہے ہیں اور دوسری طرف آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ قیصر و کسریٰ کے خزانے میری امت کے تصرف میں آئیں گے اور دولت کی فراوانی کے ساتھ جو رویے پیدا ہوتے ہیں، وہ بھی لازماً پیدا ہوں گے۔ ان متوقع رویوں سے متعلق خبردار کرنے کے لیے آپ نے یہ اسلوب اختیار کیا، جس میں آپ لوگوں کے دلوں میں یہ بات راسخ کر رہے ہیں کہ دنیا میں تو رہنا ہی ہے اور دنیوی زندگی گزارنے کے لیے جو اسباب اختیار کرنے ہیں، اور جو تگ و دو کرنی ہے، وہ تو کرنی ہی ہے، لیکن میں جس مقصد کے لیے دنیا میں آیا ہوں، وہ یہ نہیں ہے۔ میں تمھیں یہ بات یاد دلانے کے لیے آیا ہوں کہ انسان کی نجات اور کامیابی آخرت کے ساتھ ہے۔ اب امت کے لیے یہ آزمایش ہے کہ اس نے یہ توازن پیدا کرنا ہے کہ وہ ایک تہذیب بھی بنائے، دنیا میں طاقت و قوت بھی پیدا کرے، لیکن اس کے اندر یہ پیغام بھی زندہ رہے کہ ہم جو کچھ بھی بنا رہے ہیں، بہت اچھا ہے، خوب صورت ہے، دل کو لبھاتا ہے، لیکن اصل حقیقت یہی ہے کہ موت آنے والی ہے اور ہم نے اللہ کے سامنے پیش ہو جانا ہے۔ یہ احساس ختم نہ ہو اور تہذیب اس کو ایک اعلیٰ حقیقت کے طور پر مانتی رہے ۔
مطیع سید: میری امت کی عمریں ساٹھ سے ستر سال کے درمیان ہوں گی، کم ہی لوگ ہوں گے جو ستر سے تجاوز کریں گے۔14 اب تو بہت سے علاقوں میں سائنس کی بدولت بیماریوں پر قابو پا کرلوگوں نے اپنی اوسط عمریں بڑھا لی ہیں۔
عمار ناصر: اس میں ’امتی‘ کے لفظ پر ارتکاز ہے۔ اس سے مراد آپ کی قائم کردہ وہ امت ہے جس نے آپ کی نیابت کی ذمہ داری اٹھائی اور اس کے لیے اسے دنیا میں سیادت اور اقتدار عطا کیا گیا۔ دیگر کئی قوموں میں تو اوسط عمر اس وقت بھی زیادہ رہی ہے اور اب بھی کئی قوموں میں بڑھ گئی ہے۔ حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو ’امتی‘ کا لفظ استعمال کر رہے ہیں، اس سے مراد عرب کے لوگ ہیں، جو آپ پر ایمان لائے۔ ایک مخصوص سیاق میں یہ بات کہی جا رہی ہے۔
- ۔ کتاب الطب، باب العین ،رقم3509۔
- ۔ کتاب الدعاء، باب اسم الاعظم ، رقم 3856۔
- ۔ 3: 2۔
- ۔ 20: 8۔
- ۔ 20: 111۔
- ۔ کتاب الدعا، باب دعوۃ الوالد و دعوۃ المظلوم ، رقم3862۔
- ۔ کتاب تعبیر الرؤیا،باب الرؤیا اذاعبرت وقعت فلا یقضھا الا علی وادِ، رقم 3914۔
- ۔ کتاب الفتن، باب التثبت فی الفتنۃ ،رقم:3958۔
- ۔ کتاب الفتن،باب العزلۃ، رقم3977۔
- ۔ کتاب الفتن ، باب الافتراق الامم ، رقم3992۔
- ۔ کتاب الفتن، باب فتنۃ النساء، رقم 4003۔
- ۔ کتاب الفتن ،باب دابۃ الارض، رقم 4066۔
- ۔ کتاب الزہد،باب فی البناء و الخراب ،رقم 4160۔
- ۔ کتاب الزہد، باب الامل و الاجل ، رقم 4236۔