مواد پر جائیں

مطالعۂ مسندِ احمد

ڈاکٹر عمار خان ناصر/ ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن اردو

(مسندِ احمد کی احادیث سے متعلق استفسارات اور ان کا جواب)

(10)

مطیع سید: حضرت عثمان نے وضوکے لیے پانی منگوایا۔ یہ روایتیں امام احمد نے حضرت عثمان کے مسند میں مختلف جگہ نقل کی ہیں۔ ان میں بعض روایتوں سے لگتاہے کہ انھوں نے پاؤں دھوئے اور بعض روایتوں سے محسوس ہوتاہے کہ انھوں نے پاؤں پر مسح کیا(رقم415)۔تو کیا صحابہ میں ایسے لوگ تھے جو پاؤں پر مسح کرتے تھے؟ اگر مسح کرنے والے بالکل نہیں تھے تو اہل ِتشیع کے ہاں یہ روایت کہاں سے آئی ہے؟

عمارناصر: حضرت عثمان کی اس روایت کے معروف طرق میں تو یہی ہے کہ انھوں نے پاؤں دھوئے۔ کسی طریق میں اگر مسح کا ذکر ہے تو غالب گمان یہی ہے کہ وہ راوی کا وہم ہے۔ حضرت علی کے متعلق یہ آتا ہے کہ وہ اگر پہلے سے باوضو ہوتے تو پھر پاؤں پر مسح کر لیتے تھے اور کہتے تھے کہ جس کا وضو ٹوٹا نہ ہو، وہ اس طرح وضو کر سکتا ہے(مسند احمد، رقم 1173)۔ البتہ صحابہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی راے یہ بیان ہوئی ہے کہ وہ کہتے تھے کہ قرآن میں اصل حکم تو مسح ہی کا ہے، لیکن لوگوں نے اس پر اکتفا نہیں کی، بلکہ پاؤں کو دھونا ہی شروع کر دیا (ابن ماجہ، رقم 458)۔ اس سے لگتا ہے کہ ان کے سامنے صحابہ کا عمل یا کوئی حدیث نہیں ہے اور وہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ لوگ دھو ہی رہے ہیں۔ اس کی وہ نفی بھی نہیں کرتے کہ یہ غلط ہے، لیکن قرآن کی آیت سے یہ استنباط کرتے ہیں کہ اصل حکم تو مسح ہی ہے۔ صحابہ میں تو یہ نقطۂ نظر مجھے حضرت ابن ِ عباس کے حوالے سے ہی ذہن میں آرہاہے۔ تاہم تابعین میں کافی لوگ تھے جن کی یہی راے تھی کہ مسح کرنے سے فرض ادا ہو جاتا ہے۔ممکن ہے، اسی سے اہلِ تشیع کے ہاں بھی یہ موقف رائج ہو گیا ہو۔

مطیع سید: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز کو برحق اور واجب جانا،وہ جنت میں داخل ہوگا(رقم423)۔اس روایت پر حکم تو یہ لگایا گیا ہے کہ اس کی سند ضعیف ہے۔ یہ کسی پوری بات کا کوئی ٹکڑا معلوم ہوتاہے یا پھر اس کا کوئی خاص پس منظر ہے ؟

عمارناصر: نماز،دین کا ایک بنیادی فریضہ ہے۔ اس کو برحق اور واجب جاننے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اس فریضے کا پابند رہے اور اہتمام سے اس کو ادا کرتا رہے۔ یہ اس کی تاکید بیان کرنے اور اس کی اہمیت بتانے کااسلوب ہے۔ اس کا مقصد دین کے باقی احکام کی اہمیت کی نفی کرنا نہیں ہوتا، بلکہ جو بات کہی جارہی ہے، اس کی اہمیت کو بیان کرنا ہوتا ہے۔

مطیع سید: حضرت ابوعبیدہ کہتے ہیں کہ حضرت عثمان اور حضرت علی، دونوں کے ساتھ عید الفطر اور عید الاضحیٰ میں شریک ہونے کا موقع ملا۔دونوں نماز کے بعد لوگوں کو تذکیر ونصیحت فرمانے لگے۔ حضرت علی نے فرمایا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا گو شت تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع فرمایا ہے(رقم435)۔ میرےخیال میں تو وہ ایک وقتی صورتِ حال تھی جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات فرمائی تھی۔حضرت علی بہت بعد کے دور میں اگر لوگوں کو یہ بتا رہے ہیں تو کیا وہ اسے وقتی حکم نہیں سمجھتے تھے ؟

عمارناصر: آپ کی بات درست ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی اگلے سال صحابہ میں اس حوالے سے سوال پیدا ہو گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمادیا تھا کہ وہ ایک وقتی پابندی تھی۔ البتہ ہو سکتا ہے، حضرت علی اُس سے یہ استنباط کرتے ہوں کہ قربانی کا اصل مقصد چونکہ یہی ہے کہ لوگوں میں گوشت تقسیم کیاجائے،اس لیے بہتر یہ ہے اور شاید وہ اس کو مستحب بھی سمجھتے ہوں کہ آدمی اتنا ہی گوشت گھر میں رکھے، جتنا تین دن میں کھا سکے، اور باقی گوشت تقسیم کردیا جائے۔ یہ میرے خیال میں ان کا استنباط تھا،اور وہ لوگوں میں ترغیب پیدا کرنے کے لیے تائیداً‌ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشادکا حوالہ دے رہے تھے۔

مطیع سید:ایک روایت میں آتاہے کہ انسان کے لیے ایک گھرکے سایے،خشک روٹی کے ٹکڑے اور ستر چھپانے کے لیے کپڑے اور پانی کے علاوہ جتنی بھی چیزیں ہیں،کسی ایک پر بھی اس کا استحقاق نہیں(رقم440)۔ اس روایت سے تو بالکل ایک جوگی یوگی کا حلیہ ذہن میں آتاہے اور رہبانیت کی روح اس میں جھلکتی ہے۔یہ کس حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے ؟

عمارناصر: اس طرح کی اور بھی چیزیں ہیں۔ عمارت پر پیسا خرچ کرنے کے بارے میں، مسجدوں کو سادہ رکھنے کے حوالےسے،گھروں کو منقش کپڑوں سے مزین کرنے کے حوالےسے اس طرح کی احادیث موجود ہیں۔ بنیادی طورپر تو اس میں سادگی کا اور بہ قدر کفایت سامان جمع کرنے کا پیغام ہے۔ مقصد یہ ہے کہ مسلمان تعیش میں نہ پڑیں۔ اس کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاص طور پر اس لیے تاکید کرنی پڑی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر آرہاتھا کہ بعد میں جب فتوحات ہوں گی اور مال ودولت آئےگا تو اس کے نتیجے میں تعیش کا کلچر پیداہوگا۔اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوچیزوں کے بارے میں، یعنی فتنۃ المال اور فتنۃ النساء کے متعلق خاص طور پر صحابہ کو خبردار فرما رہے تھے تاکہ مسلمان تعیش کی طرف نہ جائیں۔ لیکن سادگی اور عدم تعیش کی جو عملی صورت آپ نے بیان فرمائی ہے، وہ ظاہر ہے، اس تمدن کے لحاظ سے ہے جس میں آپ رہ رہے تھے۔ کوئی چیز تعیش ہے یا نہیں،اس کا تعین تو تمدن کی صورتِ حال کے لحاظ سے ہوگا۔آج کے تمدن کے لحاظ سے دیکھیں تو یہ چیزیں کم سے کم ضروریات زندگی میں شامل ہیں، لیکن وہ بھی ان سے زیادہ ہی ہیں۔

مطیع سید: انزال کے بغیر ہم بستری کے بارے میں حضرت عثمان فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی فرماتے ہوئے سناہے کہ اس سے غسل واجب نہیں ہوتا( رقم448)۔اس مسئلے میں صحابہ میں تو اختلاف پایا جاتاہے، لیکن میرے خیال میں کوئی بھی اس راے پر فتویٰ نہیں دیتا۔

عمارناصر: جی، صحابہ میں اختلاف رہاہے،لیکن بعد میں فقہا کے ہاں ایک عمومی اتفاق ہوگیا کہ اس صورت میں غسل واجب ہو جاتا ہے۔ حضرت عمر کے دور میں ‌ صحابہ میں بحث پیداہوئی تو انھوں نے یہ چاہا کہ اس طرح کے روزمرہ کے مسئلے میں اختلاف نہ پیداہوتو اچھا ہے اور ہم کسی ایک بات پر اتفاق کرلیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم ازواج ِ مطہرات سے پوچھ لیتے ہیں،پھر جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا عمل ہوگا، اسی کو ہم اختیار کرلیں گے۔یعنی وہ اس کو ناسخ و منسوخ کے زاویے سےنہیں،بلکہ اس پہلو سے دیکھ رہے تھے کہ یہ روزمرہ کا مسئلہ ہے تو اس میں ہم اتفاق راے سے کوئی موقف اختیار کرلیں۔ روایتیں بھی دونوں طرح کی ہیں،اور ان میں ناسخ اور منسوخ کا کوئی واضح قرینہ بھی نہیں ہے۔ بہرحال فقہا اس کو ناسخ اور منسوخ کے لحاظ سے ہی دیکھتے ہیں، البتہ امام بخاری کا موقف یہ ہے کہ اس صورت میں غسل فرض نہیں ہوتا، لیکن غسل کر لینے میں زیادہ احتیاط ہے تاکہ آدمی شبہے سے نکل جائے۔

مطیع سید: حضرت عثمان نے محمد بن جعفر کو زرد رنگ کا لباس پہنے ہوئے دیکھا تو انھیں ڈانٹا۔ حضرت علی نے فرمایاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اس سے منع نہیں فرمایا تھا،بلکہ مجھے منع فرمایا تھا(رقم 517)۔کیا یہ حضرت علی کے لیے کوئی خاص پابندی تھی؟

عمارناصر: جی، حضرت علی یہی کہتے تھے کہ زرد رنگ کا لباس پہننے سے آپ نے خاص طور پر ان کو منع کیا تھا۔ اس کے علاوہ بھی کچھ چیزوں کا ذکر روایات میں آتا ہے، مثلاً‌ سونے کی انگوٹھی اور ایک خاص طرح کا ریشمی کپڑا پہننا(مسند احمد، رقم 1098)۔ حضرت علی کی راے یہ تھی کہ ان چیزوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمومی طورپر لوگوں کو منع نہیں کیا،ان کے لیے آپ آسانی اور وسعت والا پہلو قائم رکھنا چاہتے تھے، لیکن خاص طورپر اپنے قریبی لوگوں سے یا کچھ خاص افراد سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہ رہے تھے کہ وہ یہ چیزیں استعمال نہ کریں۔

مطیع سید: اس میں یہ چیز بھی ملحوظ ہو سکتی ہے کہ ان لوگوں کو چونکہ لوگ نمونہ اور اسوہ سمجھتے ہیں تو ان کو یہ چیزیں استعمال نہیں کرنی چاہییں؟

عمارناصر: جی، اس پہلو سے بھی ہو سکتاہے، لیکن یہ ذاتی پسند ناپسند کے پہلو سے بھی ہوسکتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بہت قریبی لوگوں کو بعض دفعہ اپنی ذاتی پسند نا پسند بھی بتاتے تھے اور انھیں تجویز فرماتے تھے کہ وہ بھی ایسے ہی کیا کریں۔

مطیع سید: جس نے اہلِ عرب کو دھوکادیا، وہ میری شفاعت میں داخل نہیں ہوگا اور میری محبت نصیب نہیں ہوگی (رقم519)۔اس روایت کے ساتھ ’ضعیفًا جدًا‘ لکھا ہواہے۔ کیا جب بہت زیادہ عجمی اثرات آگئے،خاص طور پر سیاست میں تو اس کے رد میں یہ روایت گھڑی گئی ؟

عمارناصر: ہو سکتاہے، اس کے رد میں گھڑی گئی ہو،لیکن آپ مضمون کے لحاظ سےدیکھیں تو جو اس مضمون کی مستند حدیثیں ہیں،یہ ان سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔بات وہی ہے کہ مسلمانوں کے اقتدار میں اس وقت قائدانہ کردار اہلِ عرب کو دیا گیا تھا تو جو دوسری قومیں ہیں،ان سے یہی مطلوب تھا کہ وہ عرب کی سیاسی قیادت کو چیلنج نہ کریں۔ یہ بنیادی بات تھی۔

مطیع سید: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو قریش کی اہانت کرتاہے، وہ اللہ کی اہانت کرتاہے(رقم460)۔قریش کی سیادت تو ایک سیاسی معاملہ تھا،اسے دین کے ساتھ جوڑنے کی وجہ سمجھ میں نہیں آئی۔

عمارناصر: یہ روایت بھی ہے اوراس طرح حکمرانوں کے متعلق دیگر روایات بھی ہیں۔ اس مضمون کی جو بھی احادیث ہیں، ان کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو سیاسی نظم بننے جا رہاہے، اس کی قیادت کی ذمہ داری قریش کو دی گئی ہے۔ ظاہر ہے، ان کے مقابلے میں اور لوگ بھی ہوں گے۔توآپ صلی اللہ علیہ وسلم اصل میں سیاسی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے یہ باتیں فرما رہے ہیں کہ قریش کو اللہ نے جو ذمہ داری دی ہے،اگر لوگ اس کی نفی کرنے کی اور ان کے مقابلے میں اپنا استحقاق جتانے کی کوشش کریں گے تو یہ اللہ کی بتائی ہوئی اسکیم کے خلاف ہو گا۔ اس اسکیم میں جو بنیادی مقاصد ہیں، وہ تو مذہبی ہی ہیں۔ یعنی عرب کے ذریعے سے اللہ کو اپنے دین کا ایک کام لینا پیشِ نظر ہے۔اہل عرب کی جو فضیلت احادیث میں بیان ہوئی ہے، وہ اسی پس منظر میں ہے،اس لیے کہ اللہ نے اپنے دین کے کام کے لیے ان کو چنا ہے،پھر ان میں سے قریش کو ایک کام کے لیے چنا ہے۔تو لوگ اگر ان کی حیثیت کی نفی کریں یا اس کو چیلنج کرنے کی کوشش کریں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اس اسکیم کو خراب کررہے ہیں۔ بعض روایات میں ’من اہان سلطانًا‘ کے الفاظ آتے ہیں۔ مجھے اس وقت ان کی تحقیق ذہن میں نہیں، لیکن اگر وہ سند کے لحاظ سے ٹھیک ہیں تو وہ بھی اسی پہلو سے ہیں کہ جس کو مسلمانوں نے اپنا حکمران بنایاہے اور اقتدار اس کو دیا ہے، اس کی تکریم اور اس کی تعظیم کو ملحوظ رکھنا یہ اللہ کا بھی منشاہے۔ اگر آپ استحکام نہیں پیدا ہونے دیتے اور حکمران کی بے توقیری کرتے ہیں تو پورے معاشرے کو اور اس کے نظم کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

مطیع سید: قیامت کے دن سینگ والی بکری بے سینگ والی بکری کے درمیان بھی بدلہ دلایا جائے گا(رقم520)۔یہ تمثیلاً‌ کہا گیاہے یا حقیقت میں بھی ایسا ہوگا؟

عمارناصر: تمثیل بھی ہو سکتی ہے اور حقیقت بھی۔ اس میں یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اگر بکری نے بکری کو مارا ہےتو بدلہ دلوایا جائے گا،لیکن شیر بکری کو کھا جائے تو اس کا بدلہ نہیں دلایا جائے گا۔ شیر نے اپنی جبلت کے لحاظ سے بکری کوہی کھاناہے۔بکریاں آپس میں لڑیں تو وہ گویا اپنے حدود سے تجاوز کررہی ہیں۔ایک نوع کے لوگ آپس میں زیادتی نہیں کریں گے،وہ اگر کریں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنی حد سے تجاوز کررہے ہیں۔ سمجھانا یہ مقصود ہے کہ دنیا میں کسی کے ساتھ بھی کوئی زیادتی ہوئی ہے تو جس نے حدود کو پامال کیا ہوگا، جو اللہ نے اس کے لیے طے کیے ہیں تو قیامت کے دن اس کا تصفیہ کرایا جائے گا۔

مطیع سید: ایک موقع پر حضرت عثمان نے خطبے میں کتوں کو قتل کرنے اور کبوتروں کو ذبح کرنے کا حکم دیا(رقم521)۔ کتوں کو قتل کرنےکی وجہ تو سمجھ میں آتی ہے کہ شاید ان کی بہت کثرت ہو گئی ہوگی۔ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک موقع پر حکم فرمایا تھا،لیکن کبوتروں کو ذبح کرنے کی وجہ کیا یہ تھی کہ کبوتربازی کا شو ق بہت بڑھ گیاتھا؟

عمارناصر:ممکن ہے، کبوتر بازی کوئی ایسی ایک ثقافتی سرگرمی بن رہی ہو جو کسی پہلو سے پسندیدہ نہیں تھی۔یا تو اس میں بہت زیادہ اشتغال ہوتاہوگا یا ان کے ذریعے سے جوا کھیلا جا رہا ہوگا یا اس طرح کے کوئی اور پہلوہوں گے جن میں کبوتروں کا استعمال غیر اخلاقی سرگرمی کے لیے ہو رہا تھا۔

مطیع سید:نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ صبح کے وقت سوتےرہنے سے انسان رزق سے محروم ہوجاتا ہے(رقم530)۔یہ بات اس دور کے سماج کے اعتبار سے تو درست معلوم ہوتی ہے کہ آپ نے صبح سویرے اٹھ کر تگ ودو شر وع کرنی ہے۔اب تو ہمارا سماجی نظام تبدیل ہو گیا ہے۔

عمارناصر: یہ بات تمدن کے لحاظ سے بھی ہو سکتی ہے،لیکن اس میں بنیادی طور پر یہ ترغیب ہے کہ فجر کے لیے اٹھنا اور اس کے لیے رات کو جلدی سونا چاہیے۔ اسلام جو تمدن بنانا چاہتا ہے، اس میں یہ چیز بڑی اہم ہے کہ فجر کی نماز کے وقت لو گ اٹھ جائیں، اور اس کے لیے ضروری ہے کہ رات کو جلدی سو جائیں۔ضروری نہیں کہ تمدن میں جو بھی تبدیلیاں آرہی ہیں، ان کو ہم فطری ہی سمجھیں۔دین کے نقطۂ نظر سے تمدن میں یہ جو تغیر ہے، یہ غیر فطری اور بگاڑ پر مبنی ہے۔

مطیع سید: حضرت عثمان کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ ان کے بال ان کے بازوؤں کو ڈھانپ رہے تھے (رقم537)۔ یعنی اتنے لمبے بال تھے۔ ہمارے ہاں کانوں کی لو تک بال رکھنے کو مسنون قراردیاجاتا ہے، یہ حد بندی کس بنیاد پر کی گئی ہے ؟

عمارناصر: اس میں تو کوئی حد بندی نہیں۔ مختلف اوقات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف لمبائی کے بال رکھے ہیں۔ آپ جتنے بال سنبھال سکیں، صاف ستھرے رکھ سکیں، اتنے رکھ لیں۔

مطیع سید: حضرت عثمان نے منیٰ میں چار رکعات ادا کیں۔ لوگوں نے اعتراض کیا تو انھوں نے کہا کہ میں نے مکہ میں بھی شادی کر لی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی جس جگہ شادی کرے تو پھر وہاں مقیم کی طرح نماز ادا کرے(رقم433)۔ بعض فقہا جو کہتے ہیں کہ سسرال میں آدمی کو پوری نماز پڑھنی چاہیے، کیا وہ اسی سے استدلال کرتے ہیں؟

عمارناصر: اس روایت پر تو محدثین نے سند کے لحاظ سے تنقید کی ہے۔ یہ کافی کم زور روایت ہے (سلسلۃ الاحاديث الضعيفہ، البانی 10/‏74)۔ بہرحال بعض فقہا اس روایت سے یہ استدلال کرتے ہیں، لیکن وہ اس شرط کے ساتھ ہے کہ آدمی کی بیوی اسی شہر میں مقیم ہو۔ اگر بیوی کو وہ اپنے ساتھ دوسرے شہر لے گیا ہو تو پھر سسرال میں قصر نماز ہی ادا کرے گا۔ روایات میں حضرت عثمان کے، مکہ میں قصر کرنے کی کچھ دوسری وجوہ بھی بیان ہوئی ہیں۔ مثلاً یہ کہ حضرت عثمان نے طائف میں کچھ جایداد خرید لی تھی اور وہاں ٹھہر‌ نے کا ارادہ کر لیا تھا، اس لیے مکہ میں پوری نماز پڑھنے لگے۔ بعض روایات میں ہے کہ انھوں نے حج پر آئے ہوئے اعراب کو یہ سکھانے کے لیے کہ ظہر اور عصر کی چار رکعتیں ہوتی ہیں، پوری نماز پڑھنا شروع کر دی تاکہ جنھوں نے حج کے دنوں میں یہاں آ کر نماز سیکھی ہے، وہ یہ نہ سمجھیں کہ ان نمازوں کی دو ہی رکعتیں ہوتی ہیں (ابوداؤد، رقم 1712)۔

مطیع سید: حضرت ابوذر حضرت عثمان کے پاس آئے۔ وہاں حضرت عثمان نے کعب سے پوچھا کہ عبد الرحمٰن کا انتقال ہو گیا اور اس نے کچھ مال چھوڑا ہے تو ا س کے متعلق تمھاری کیا راے ہے؟ کعب نے کہا کہ اگر وہ اس میں اللہ کا حق ادا کرتے رہے ہیں تو کوئی حرج نہیں۔ یہ سن کر ابوذر نے اپنی لاٹھی اٹھا کر کعب کو ماری اور کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ چاہے میں احد پہاڑ کے برابر سونا صدقہ کروں اور وہ اللہ کے ہاں قبول ہو جائے، پھر بھی مجھے اپنے ترکے میں چھ اوقیہ چاندی چھوڑنا پسند نہیں۔ ابو ذر نے حضرت عثمان کو اللہ کی قسم دے کر پوچھا کہ کیا آپ نے بھی یہ حدیث سنی ہے؟ حضرت عثمان نے کہا کہ ہاں(رقم 453)۔ حضرت ابوذر کا دیگر اکابر صحابہ سے یہی اختلاف رہتا تھا۔ اس کی کیا بنیاد تھی؟ یہ تو ایک واضح سی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ ادا کرنے کے بعد مال کو پاک قرار دیا ہے۔ اور وراثت کے احکام پر بھی تبھی عمل ہو سکتا ہے جب آدمی کچھ مال چھوڑ کر مرا ہو۔ تو حضرت ابوذر سارا مال صدقہ کرنے پر کیوں اصرار کرتے تھے؟

عمارناصر: جی، یہ ایک معروف اختلاف ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ حضرت ابوذر کا فہم، شریعت کے احکام کے حوالے سے مختلف تھا۔ شریعت نے تو ظاہر ہے، کہیں یہ حکم نہیں دیا کہ آدمی بس ضرورت کی چیزیں رکھ کر سارا مال صدقہ کر دے۔ اصل سوال یہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت کرنے والی جماعت کو، یعنی صحابہ کو مال ودولت کے متعلق کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ حضرت ابوذر کی تکرار دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی صحابہ سے ہی ہوتی تھی۔ عام مسلمانوں سے وہ اصرار نہیں کرتے تھے کہ سب کچھ صدقہ کر دیں۔ صحابہ کے متعلق ان کا موقف یہ تھا کہ ان کو وہی معیار زندگی اختیار کرنا چاہیے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے اختیار فرمایا تھا۔ انھیں بہ قد ر کفایت ہی مال ودولت رکھنا چاہیے اور جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ترکے میں ذاتی استعمال کی چیزوں کے علاوہ کوئی مال ودولت چھوڑ کر دنیا سے رخصت نہیں ہوئے، اسی طرح آپ کے قریبی ساتھیوں کو بھی اسی کا نمونہ بن کر رہنا چاہیے۔ آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ وہ صحابہ سے عزیمت پر عمل چاہتے تھے، جب کہ زیادہ تر صحابہ کا موقف یہ تھا کہ شریعت کے بتائے ہوئے حقوق کو ادا کرنے کے بعد اللہ کی دی ہوئی نعمتوں اور مال ودولت سے بھی ہمیں مستفید ہونا چاہیے۔ ہاں، اس کے ساتھ ساتھ وہ اس پر تاسف کا اظہار بھی کرتے رہتے تھے کہ ہم اللہ کی نعمتوں سے لطف اندوز تو ہو رہے ہیں، لیکن اس سے ہمارا آخرت کا اجر کم ہو رہا ہے، جب کہ ہمارے کئی ساتھی اپنا پورا پورا اجر محفوظ کر کے اللہ کے پاس حاضر ہو چکے ہیں۔

[باقی]