(مسندِ احمد کی احادیث سے متعلق استفسارات اور ان کا جواب)
(11)
مطیع سید: حضرت عثمان لوگوں کو حج تمتع کرنے سے منع کر رہے تھے۔ حضرت علی نے ان سے کہا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم نے حج تمتع نہیں کیا تھا؟ حضرت عثمان نے جواب میں فرمایا کہ اس وقت ہم حالت خوف میں تھے(رقم 432)۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ وہ کس حالت خوف کا ذکر کر رہے ہیں؟
عمارناصر: اس کی وضاحت تو روایت میں نہیں ہے۔ شاید مراد یہ ہو کہ حجۃ الوداع کے موقع پر پورے جزیرۂ عرب میں ابھی مسلمانوں کی حکومت مستحکم نہیں ہوئی تھی۔ قبائلی دشمنیوں کا پرانا سلسلہ ابھی جاری تھا، جس کی وجہ سے بہت سے عرب قبائل کے لیے عمرے کا الگ سفر کرنا مشکل تھا۔ اس مصلحت سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مناسب سمجھا کہ پورے عرب سے جو لوگ حج کے لیے آئے ہوئے ہیں، وہ اسی سفر میں عمرہ بھی کر لیں۔ اصل میں حضرت عمر اور حضرت عثمان، دونوں کا رجحان یہ سمجھ میں آتا ہے کہ حج اور عمرہ بنیادی طور پر تو الگ الگ عبادتیں ہیں تو ان کے لیے سفر بھی الگ الگ ہونا چاہیے۔ مثلاً آپ اشہر حرم کو دیکھیں تو ان میں سے تین مہینے ذوالقعدہ، ذو الحجہ اور محرم یہ اکٹھے ہیں، جو حج کے سفر کے لیے رکھے گئے ہیں، لیکن رجب ان سے بالکل الگ ہے، جس میں اہل عرب عمرے کا سفر کیا کرتے تھے۔ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کو تو لوگ گناہ سمجھتے تھے۔ اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اس تصور کی تردید کے لیے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ حج کے احرام کو عمرے کے احرام میں بدل لیں۔ تو حضرت عمر اور حضرت عثمان کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ یہ ایک خاص مصلحت سے دی گئی رخصت تھی جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل کیا، لیکن عمومی طور پر مسلمانوں کو حج اور عمرے کے لیے الگ الگ سفر ہی کرنا چاہیے۔ اس روایت میں حضرت عثمان جب یہ کہہ رہے ہیں کہ اس وقت ہم حالت خوف میں تھے تو میرے خیال میں اسی طرف اشارہ کرنا چاہ رہے ہیں کہ ایک خاص ماحول میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہدایت فرمائی تھی۔
مطیع سید: ابن معمر نے شیبہ بن جبیرکی بیٹی سے اپنے بیٹے کا نکاح کیاتو حضرت عثمان کے بیٹے ابان بن عثمان کو جو امیرِ حج تھے،شرکت کی دعوت دی۔ انھوں نے فرمایاکہ میں تو تمھیں عراقی دیہاتی نہیں سمجھتاتھا۔ تم احرام کی حالت میں یہ نکاح کرا رہے ہو؟ (رقم492) اس روایت سے لگتا ہے کہ عراقیوں کے بارے میں شروع سے ہی لوگوں کی راے اچھی نہیں تھی۔ یہ سمجھا جاتا تھا کہ یہ لوگ دین کے معاملے میں اپنی مرضی سے کام کرتے ہیں۔
عمارناصر: جی، عراقی کالفظ صحابہ اور تابعین کے ہاں منفی مفہوم میں استعمال ہوتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے تبصروں میں بھی اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ مکہ اور مدینہ کے مقابلے میں، جہاں عموماً لوگ دین سے واقف تھے،عراق کے لوگ نئے اور نوآموز سمجھے جاتے تھے جو دین سے صحیح طور پر واقف نہیں ہیں۔ پھر آگے چل کر وہاں سے جو مختلف طرح کے فکری اور مذہبی فتنے اٹھے، ان سے بھی یہ تاثر مضبوط ہوا۔ اس طرح عراقی کا مطلب دین میں بلاوجہ راے زنی کرنے والا بن گیا۔
مطیع سید: امام ابو حنیفہ بھی چونکہ عراق سے تھے، اس لیے ان کو بھی اس تنقیدکا سامنا کرنا پڑا؟
عمارناصر: جی، امام صاحب کے بارے میں منفی تاثر بننے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ اس علاقے سے تعلق رکھتے تھے۔ عراق کی فضا کے متعلق جو ایک منفی تاثر تھا، امام صاحب کی بعض آرا بھی اس میں فٹ بیٹھ رہی تھیں، مثلاً وہ کئی حدیثوں کو قبول نہیں کر رہے تھے۔ تو یہ بھی ان کے متعلق منفی راے بننے کی ایک وجہ تھی۔
مطیع سید:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ روایات بھی عراق کے حوالے سے ہیں، جیسے وہاں سے شیطان کا سینگ نکلے گا۔
عمارناصر: جی، یہاں سے فتنوں کے اٹھنے کا ذکر احادیث میں بھی آیا ہے۔ ان سب چیزوں سے عراقیوں کے بارے میں ایک مجموعی تاثر بن گیا تھا۔
مطیع سید: عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ مروان بن الحکم نے بتایا کہ ایک سال حضرت عثمان نکسیر کی بیماری کی وجہ سے حج پر نہیں جا سکے تو قریش کے لوگوں نے انھیں پیغام بھیجا کہ کسی کو اپنا خلیفہ مقرر کر دیں۔ حضرت عثمان نے پوچھا کہ کس کو؟ پھر پوچھا کہ کیا وہ زبیر کے بارے میں کہہ رہے ہیں؟ پیغام پہنچانے والے نے کہا کہ ہاں۔ اس پر حضرت عثمان نے قسم کھا کر کہا کہ وہ میرے علم کے مطابق سب سے بہتر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب شخص ہیں (رقم 455)۔ اس روایت میں عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میرے خیال میں مروان پر ہمارے بارے میں الزام نہیں لگایا جا سکتا (وَمَا إِخَالُهُ يُتَّهَمُ عَلَيْنَا)۔ اس سے کیا مراد ہے؟
عمارناصر: وہ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ مروان نے حضرت عثمان کی یہ بات نقل کی ہے تو ان پر اعتماد کیا جا سکتا ہے، یعنی یہ بدگمانی کرنے کی کوئی وجہ نہیں کہ حضرت زبیر کے متعلق انھوں نے یہ بات اپنی طرف سے بیان کر دی ہوگی۔ اشارہ اس طرف کرنا چاہتے ہیں کہ حضرت زبیر تو حضرت عثمان کے ناقدین میں سے تھے، تو مروان کو کیا ضرورت ہو سکتی ہے کہ وہ حضرت عثمان کے مخالف کے متعلق ان کا ایک مبنی بر تحسین تبصرہ نقل کریں۔
مطیع سید: حضرت عثمان نے یہ اندازہ کر کے کہ قریش کے لوگ حضرت زبیر کو خلیفہ بنوانا چاہتے ہیں، ان کے مطالبے کی ایک طرح سے تائید بھی کی ہے۔ کیا اس سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر ان کو موقع ملتا تو وہ حضرت زبیر کو ہی اپنا جانشین مقرر کرتے؟ حضرت عمر کی شہادت کے بعد چھ افراد میں سے آخر میں تو حضرت عثمان اور حضرت علی ہی بچ گئے تھے جن میں سے پھر عبد الرحمٰن بن عوف نے حضرت عثمان کا انتخاب کیا۔ کیا اس اعتبار سے حضرت عثمان کے بعد حضرت علی کا حق نہیں بنتا تھا؟
عمارناصر: اس سوال پر تو صحابہ میں بھی بڑی واضح سیاسی تقسیم موجود تھی۔ قریش سے باہر بعض صحابہ، مثلاً حضرت سلمان فارسی اور حضرت عمار وغیرہ کی یہ راے تھی کہ حضرت عمر کے بعد حضرت علی کا ہی انتخاب ہونا چاہیے تھا۔ حضرت عمر کا بھی اس طرف کافی میلان تھا اور خود حضرت علی کو بھی یہی توقع تھی کہ ان کو ذمہ داری دی جائے گی، لیکن عبد الرحمٰن بن عوف نے کہا کہ میں نے تمام لوگوں کی راے معلوم کی ہے اور اکثریت کی راے حضرت عثمان کے حق میں ہے۔ تو عین ممکن ہے کہ حضرت عثمان کے بعد بھی قریش کا رجحان حضرت علی کے بجاے حضرت زبیر کی طرف ہو۔ حضرت زبیر اور طلحہ ویسے عمر کے اعتبار سے بھی سینئر تھے اور اس کے علاوہ بنی ہاشم میں سے کسی کو خلافت کی ذمہ داری دینے کے متعلق قریش کے باقی قبائل میں ایک گریز کی کیفیت بھی تھی جس کا حضرت عمر نے بھی ذکر کیا ہے۔ انھوں نے ایک موقع پر ابن عباس سے کہا کہ قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تمھارے خاندان کو اس لیے خلافت نہیں دی کہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ نبوت پہلے ہی بنو ہاشم میں ہے، تو اگر خلافت بھی ان میں چلی گئی تو پھر کبھی ان سے باہر نہیں نکلے گی۔
مطیع سید: حضرت عثمان نے حضرت ابن مسعود سے فرمایا کہ مجھے تمھارے حوالے سے کچھ باتیں پہنچی ہیں، کیا تم ان سے باز نہیں آؤ گے؟ حضرت ابن مسعود نے کچھ عذر پیش کیا۔ حضرت عثمان نے فرمایا کہ جیسے تم نے سنا ہے، بات ویسے نہیں ہے۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سنا ہے۔ آپ نے یوں فرمایا تھاکہ ایک حکمران کو قتل کیاجائے گا اور ایک کودنے والا کودے گا۔ پھر حضرت عثمان نے کہا کہ جس حکمران کو قتل کیا جائے گا، وہ میں ہوں گا، اس کا مصداق عمر نہیں ہیں۔ عمر کو تو ایک آدمی نے قتل کیا تھا، لیکن مجھے سب لوگ مل کر قتل کریں گے(رقم479)۔کیا حضرت ابن مسعود بھی حضرت عثمان پر اعتراضات کر رہے تھے؟ ان کے کیا اعتراضات تھے؟
عمارناصر: جی، ابن مسعود بھی حضرت عثمان کے ناقدین میں سے تھے۔ ان کا نمایاں اعتراض جو روایات میں نقل ہوا ہے، وہ تو عمال کے متعلق حضرت عثمان کی نرمی کے حوالے سے ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کوفہ میں بیت المال کے خازن تھے۔ حضرت عثمان نے جب ولید بن عقبہ کو گورنر بنا کر کوفہ بھیجا تو اس نے بیت المال سے کچھ رقم قرض لی۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کچھ عرصے کے بعد واپسی کا تقاضا کیا تو ولید اس پر ناراض ہو گیا اور حضرت عثمان کو شکایت لکھ کر بھیجی۔ حضرت عثمان نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ تم اس معاملے میں ولید سے تعرض نہ کرو۔ اس پر ابن مسعود نے ناراض ہو کر بیت المال کے خازن کی ذمہ داری چھوڑ دی۔ پھر وہ کوفہ میں اپنی مجالس میں ولید پر تنقید کیا کرتے تھے۔ اس پر ولید نے دوبارہ حضرت عثمان کو شکایت کی تو انھوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ناراض ہو کر انھیں حکم دیا کہ وہ کوفہ سے مدینہ واپس آ جائیں۔ روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ انھوں نے دو تین سال کے لیے بیت المال سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا وظیفہ بھی بند کر دیا تھا۔ وہ پھر ابن مسعود کی وفات کے بعد ان کی بیٹیوں کو دے دیا گیا۔ 1
مطیع سید: حضرت عثمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا حوالہ دے رہے ہیں اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہہ رہے ہیں کہ جیسے تم نے سنا ہے، آپ نے ویسے بات نہیں فرمائی تھی۔ اس کی کچھ وضاحت کر دیں۔
عمارناصر: روایت سے بہ ظاہر جو سمجھ میں آتا ہے، وہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد ایک حکمران کے قتل ہونے کا اور ایک کودنے والے، یعنی اقتدار پر قبضہ کرنے والے کا ذکر فرمایا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس کی تعبیر یوں کر رہے تھے کہ قتل ہونے والےحکمران تو حضرت عمر تھے، اور کودنے والے کا مصداق وہ حضرت عثمان کے طرز حکومت پر اعتراض کرتے ہوئے ان کو قرار دے رہے تھے۔ حضرت عثمان جواب میں یہ واضح کر رہے ہیں کہ نہیں، آپ نے جس حکمران کے قتل ہونے کا ذکر کیا ہے، وہ عمر نہیں، بلکہ میں ہوں اور کودنے والا میرے بعد آئے گا۔ اس کی دلیل وہ یہ دے رہے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شخصی طور پر کسی کے ہاتھوں قتل ہونے والے حکمران کا ذکر نہیں کیا، بلکہ ایسے حکمران کا ذکر کیا ہے جس کے خلاف جمع ہو کر لوگ اسے قتل کر دیں گے، اور پھر کہہ رہے ہیں کہ اس کا مصداق میں بنوں گا، کیونکہ حضرت عمر کو تو ایک آدمی نے قتل کیا تھا۔
مطیع سید: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ پیشین گوئی فرمائی کہ ایک حکمران کو قتل کیا جائے گا تو اس پیشین گوئی سے کیا مقصود تھا؟ امت کو اس سے عملاً کیا فائدہ ہوا؟
عمارناصر: ظاہرہے کہ ان پیشین گوئیوں کا مقصد یہ تو نہیں تھا کہ اگر پہلے سے لوگوں کو بتا دیا جائے تو وہ اس سے بچ جائیں گے۔ اگر لوگ بچ جاتے تو یہ پیشین گوئیاں ہی پوری نہ ہوتیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پیشین گوئیوں کا عمومی ابلاغ بھی نہیں کیا۔ اگر مقصد یہ ہوتا کہ لوگ ان کی روشنی میں معاملات طے کریں تو آپ ان کا عمومی ابلاغ بھی کرتے،وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا۔اس لیے یہ ایسے ہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مستقبل کے متعلق جو علم دیا گیا تھا، اس میں سے آپ کچھ باتیں مختلف مجالس میں صحابہ کے سامنے بھی بیان فرما دیتے تھے۔ یہ بنیادی طور پر غیب کی خبر دینے اور نبوت کی دلیل کے طور پر ہوتا تھا۔
مطیع سید: ولید بن عقبہ سے حضرت عبد الرحمٰن بن عوف کی ملاقات ہوئی تو ولید نے ان سے کہا کہ آپ نے حضرت عثمان کے ساتھ بے وفائی کی ہے۔عبد الرحمٰن رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ حضرت عثمان کو میری طرف سے کہنا کہ میں غزوۂ احد میں فرار نہیں ہوا،نہ غزوۂ بدر میں پیچھے رہا اور نہ میں نے سنتِ عمر کو چھوڑاہے۔اس کے جواب میں حضرت عثمان نے کہا کہ غزوۂ احد میں فرار ہونے کو تو اللہ نے معاف فرما دیا اور غزوۂ بدر میں، میں رسول اللہ کی بیٹی رقیہ کی تیمار داری کر رہا تھا۔ اور جہاں تک سنت عمرکا تعلق ہے تو اس پر چلنے کی طاقت نہ مجھ میں ہے اور نہ عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ میں(رقم490)۔ غزوۂ احد اور غزوۂ بدر والی بات، جس کی انھوں نے وضاحت کی ہے، کیا حضرت عبد الرحمٰن اس سے باخبر نہیں تھے؟ وہ یہ اعتراض کیوں کر رہے تھے؟
عمارناصر: ان کا اصل اعتراض تو سنتِ عمر کو چھوڑنے کا ہی ہے، باقی دو تو شخصی اعتراض ہیں، جن کا ذکر عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ یہ جتانے کے لیے کر رہے ہیں کہ میں اگر عثمان رضی اللہ عنہ پر تنقید کر رہا ہوں تو مجھے اس کا حق ہے، کیونکہ بعض فضیلتیں مجھے بھی ان پر حاصل ہیں۔ اس ضمن میں انھوں نے ذکر کیا ہے کہ میں بدر میں بھی شریک ہوا تھا اور احد میں بھی میدان جنگ سے پسپا نہیں ہوا تھا۔ اصل میں حضرت عثمان کی طرف سے جب ان کو بے وفائی کا طعنہ دیا گیا تو انھوں نے بھی جواب میں اس طرح کی باتیں کہہ دیں۔ یہ ایک طرح کی شخصی نوک جھوک تھی، کوئی سیریس اعتراض نہیں تھا۔
مطیع سید: سنتِ عمر کو چھوڑنے سے کیا مراد ہے ؟کیا وہ حضرت عمر کے کسی اقدام سے اختلاف کی گنجایش نہیں مانتے تھے؟
عمارناصر: حضرت عثمان کے جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی مراد یہ تھی کہ جس کڑے معیار پر حضرت عمر نے حکومت کی اور جس طرح وہ سختی سے اپنا بھی اور عمال کا بھی محاسبہ کرتے تھے، آپ نے وہ کڑا معیار قائم نہیں رکھا۔ اس کے جواب میں حضرت عثمان کہہ رہے ہیں کہ ان کو اچھی طرح پتا ہے کہ حضرت عمر بہت سخت مزاج کے تھے اور ان کے قائم کیے ہوئے معیار پر کوئی بھی حکومت نہیں کر سکتا۔ اگر عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوتے تو وہ بھی نہیں کر سکتے تھے۔
مطیع سید: آگے ایک روایت میں ہے کہ ابو وائل نے عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تم لوگوں نے حضرت علی کو چھوڑ کر حضرت عثمان کی بیعت کیوں کر لی؟ عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے پہلے علی رضی اللہ عنہ سے ہی پوچھا تھا کہ کیا میں اس شرط پر آپ کی بیعت کروں کہ آپ اللہ کی کتاب اور رسول اللہ کی سنت اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہماکے طریقے کے مطابق حکومت کریں گے؟ انھوں نے کہا کہ میں اپنی استطاعت کے مطابق کوشش کروں گا، یعنی انھوں نے وعدہ نہیں کیا۔ پھر میں نے یہی بات عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کی تو انھوں نے اس شرط کو قبول کر لیا(رقم557)۔ اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عثمان نے شروع میں اس کی پابندی قبول کی تھی۔
عمارناصر: جی، ہو سکتا ہے، حضرت عثمان کا ارادہ یہی ہو، لیکن پھر بعد میں اتنے کڑے معیار پر معاملات کو چلانے میں یا اپنے قبیلے کے لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے میں دشواری محسوس ہوئی ہو۔ البتہ میرے خیال میں یہ بیعت کے لیے کوئی فیصلہ کن یا بنیادی شرط نہیں ہوگی۔ عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان کی بیعت تو اصل میں اس بنیاد پر کی تھی کہ مدینہ میں ہر طرح کے لوگوں سے وسیع مشاورت کے بعد اور ان کی راے معلوم کرنے کے بعد یہ بات سامنے آئی تھی کہ لوگ حضرت عثمان کو ہی خلیفہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ حضرت عثمان کی بیعت کرنے کے بعد عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے حضرت علی کو بھی یہی وجہ بتائی تھی۔2
[باقی]
- انساب الاشراف 6/140۔ تاريخ المدينہ، ابن شبہ 5/354۔
- بخاری، رقم 6781۔