(مسندِ احمد کی احادیث سے متعلق استفسارات اور ان کا جواب)
(2)
مطیع سید: امام احمد نے ’’مسند‘‘ میں تقریباً سات سو صحابہ کی روایات جمع کی ہیں، لیکن رجال کی کتب میں کل بارہ ہزار کے لگ بھگ صحابہ کا ذکر ملتا ہے۔صحابہ کی کل تعداد تو کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار بتائی جاتی ہے۔ باقی کے متعلق معلومات کہاں ہیں؟
عمارناصر:باقی کے متعلق تو معلومات تاریخ میں محفوظ نہیں ہیں اور ان سب کی مرویات بھی ، ظاہر ہے کہ محفوظ نہیں ہیں۔ امام ابو زرعہ سے اس کے متعلق پوچھا گیا کہ حضور سے روایت کرنے والے صحابہ کتنے ہیں؟ تو انھوں نے کہا کہ اس کا شمار کون کر سکتا ہے؟ اسی طرح ان سے احادیث کی تعداد کے متعلق پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ احادیث کا شمار کیسے کیا جا سکتا ہے؟ پھر انھوں نے کہا کہ مجموعی طور پر اہل مکہ، اہل مدینہ، اعراب اور حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے اور آپ کی باتیں سننے والے صحابہ کی تعداد ایک لاکھ چودہ ہزار تھی ( الجامع لاخلاق الراوی و آداب السامع، خطیب بغدادی 2/293)۔ مطلب یہ کہ نہ تو تمام صحابہ کے متعلق شخصی معلومات محفوظ ہیں اور نہ ان میں سے ہر ایک کی سنی ہوئی احادیث ساری محفوظ ہیں۔
مطیع سید: آپ نے ذکر کیا کہ امام احمد احادیث کا ایک جامع مجموعہ بنانا چاہتے تھے، جس کی طرف اہل علم رجوع کر سکیں۔ کیا وہ ہر قسم کی احادیث کو اس میں جمع کرنا چاہتے تھے یا دوسرے محدثین کی طرح صرف مستند حدیثوں کا انتخاب کر رہے تھے؟
امام صاحب کا مقصد ان دونوں کے بین بین تھا۔ نہ تو یہ مقصود تھا کہ کوئی معیار ملحوظ رکھے بغیر ہر طرح کی حدیثیں جمع کر دی جائیں اور نہ یہ پیش نظر تھا کہ ان کی تحقیق کے مطابق جو روایت صحیح ہے، صرف وہی اس میں درج ہو۔ وہ ایسا مجموعہ مرتب کرنا چاہ رہے تھے جس سے اہل علم احادیث کی تحقیق میں استفادہ کر سکیں۔ اس لیے انھوں نے بالکل بے اصل روایات تو نہیں لیں، لیکن ضعیف روایات لے لی ہیں، جن سے ان کے خیال میں اہل علم کو واقف ہونا چاہیے۔ بعض مقامات پر ان میں پائے جانے والے ضعف کی بھی وہ نشان دہی کر دیتے ہیں۔
مطیع سید: یعنی ’’مسند احمد‘‘ میں ضعیف احادیث تو شامل ہیں، لیکن موضوع احادیث نہیں ہیں؟
عمار ناصر: جی، سند کے اعتبار سے ضعیف روایات تو کافی ہیں۔ محققین ان کی نشان دہی بھی کرتے ہیں۔ البتہ ایسی روایات جنھیں بالکل باطل اور موضوع قرار دیا جا سکے، نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ابن الجوزی نے دو درجن کے قریب روایات پر بعض مجروح راویوں کی وجہ سے یا متن کے مضمون کو دیکھتے ہوئے موضوع ہونے کا حکم لگایا ہے، لیکن حافظ ابن حجر نے ان سے اتفاق نہیں کیا۔ انھوں نے ’’القول المسدد فی الذب عن المسند للامام احمد‘‘ کے نام سے ایک رسالہ لکھا ہے اور ان روایات کی مختلف سندیں اور طرق جمع کر کے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ یہ بالکل بے اصل روایات نہیں ہیں۔
مطیع سید: کیا روایت کی صحت کو جانچنے کے لیے سند کے علاوہ درایتی اصولوں کا استعمال بھی امام احمد کے ہاں ملتا ہے؟
عمار ناصر : درایتی اصولوں کا استعمال تو دیگر اکابر محدثین کے ہاں بھی ملتا ہے۔ درایتی اصول کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ سند میں تو بہ ظاہر کوئی خرابی نہ ہو، لیکن روایت کا مضمون کسی علمی دلیل کے منافی ہو۔ مثلاً صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ کی ایک روایت ہے، جس میں ہفتے کے سات دنوں میں زمین وآسمان کی تخلیق کے مراحل بیان کیے گئے ہیں۔ اس کے مضمون میں کئی چیزیں قرآن مجید کے بیانات کے خلاف ہیں۔ امام بخاری اس کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے دراصل یہودی عالم کعب الاحبار سے نقل کی ہے۔1 یعنی یہ مرفوع حدیث نہیں ہے، بلکہ اسرائیلیات میں سے ہے۔
امام احمد کے ہاں بھی ایسی مثالیں ملتی ہیں۔ مثلاً حضرت ابوہریرہ کی روایات میں عبد اللہ بن احمد رضی اللہ عنہ نے ایک روایت نقل کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ جب قریش کے حکمران بگاڑ کا شکار ہو جائیں تو پھر ہم کیا کریں؟ آپ نے جواب میں فرمایا کہ بہتر ہے کہ لوگ ان سے کنارہ کش ہو جائیں۔2 عبد اللہ بن احمد یہ حدیث نقل کر کے لکھتے ہیں کہ امام احمد نے اپنی آخری بیماری کے دنوں میں مجھ سے کہا تھا کہ اس حدیث کو حذف کر دو، کیونکہ یہ ان تمام احادیث کے خلاف ہے جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہدایت فرمائی ہے کہ حکمران اگر بگڑ بھی جائیں تو لوگ صبر سے کام لیتے ہوئے ان کی سمع وطاعت کرتے رہیں۔
مطیع سید: آپ نے اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے میں امام احمد کے حوالے سے درایتی تنقید کا یہ اصول بھی ذکر کیا ہے کہ اگر کوئی حدیث کسی صحابی کی نسبت سے مروی ہو، لیکن صحابی کا اپنا عمل یا راے اس حدیث کے خلاف ہو تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی طرف روایت کی نسبت صحیح نہیں۔
عمار ناصر : جی، ابن رجب نے اپنی کتاب میں امام احمد کی آرا میں اس کی مثالیں بیان کی ہیں۔ مثلاً حضرت ابو ہریرہ اور حضرت عبد اللہ بن عمر سے مسح علی الخفین کی روایات مروی ہیں، لیکن امام احمدکہتے تھے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ تو مسح علی الخفین کا انکار کرتے تھے، جب کہ ابن عمر نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو مسح کرتے ہوئے دیکھ کر ان پراعتراض کیا تھا۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ ان کی طرف مسح علی الخفین کی حدیث روایت کرنے کی جو نسبت ہوئی ہے، وہ درست نہیں۔ اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ایک مشہور روایت ہے کہ جو عورت اپنے سرپرست کی اجازت کے بغیر نکاح کرے، اس کا نکاح باطل ہے۔ امام احمد سے اس کے متعلق ایک راے یہ منقول ہے کہ سیدہ عائشہ کا اپنا عمل اس کے خلاف تھا، تو اگر یہ روایت واقعتاً انھوں نے نقل کی ہوتی تو خود اس کے خلاف عمل نہ کرتیں۔3 یہ وہی اعتراض ہے جو حنفی فقہا بھی اس روایت پر اٹھاتےہیں۔
مطیع سید: علماے حنفیہ کے یہاں بھی اصول فقہ میں حدیث کی معنوی تنقید کی بات کی جاتی ہے۔ اسی طرح ابن خلدون نے تاریخی تنقید کے اصولوں کا ذکر کیا ہے۔ کیا ان سب طبقوں کا درایتی تنقید کا منہج ایک ہی ہے یا کچھ مختلف ہے؟
عمار ناصر : محدثین کے تنقیدِ متن کے اصولوں، فقہا کے درایتی نقد اور تاریخی اصول تنقید میں بنیادی تصور تو ایک ہی ہے، یعنی کسی خبر کے مضمون کی چھان پھٹک دیگر میسر علمی ذرائع سے کی جائے اور صرف راویوں کی ثقاہت کو کافی نہ سمجھا جائے۔ البتہ ان سب کے طریق کار اور معیارات میں کافی فرق ہے۔ محدثین زیادہ تر کسی روایت کے مختلف طرق کے موازنے سے اور اسی طرح دیگر اخبار سے یہ جانچنے کی کوشش کرتے ہیں کہ راوی سے کوئی غلطی تو نہیں ہو گئی۔ فقہا اس سے ذرا آگے بڑھ کر قرآن، تعامل امت اور قیاس وغیرہ کی روشنی میں بھی خبر کی صحت یا عدم صحت کو جانچتے ہیں۔ تاریخی تنقید میں یہ دائرہ مزید وسیع ہو جاتا ہے اور کسی دور کے عمومی حالات، مختلف محرکات وعوامل اور واقعے سے متعلق مختلف امکانات وغیرہ کو بھی اخبار کی تنقید کی بنیاد بنایا جاتا ہے۔ اس پر کچھ اصولی گفتگو ابن خلدون نے اپنے مقدمے میں کی ہے۔ بعض اہم پہلوؤں کا ذکر علامہ شبلی نے بھی مقدمۂ سیرت میں کیا ہے۔ مغربی مصنفین کا ان سب سے الگ اپنا ایک منہاج ہے۔ جس طریقے سے وہ تاریخی تنقید کو اسلامی مآخذ کے تجزیے میں استعمال کرتے ہیں، اس کے نمونے مستشرقین کی تصانیف میں عام مل جاتے ہیں۔
مطیع سید: امام احمد بن حنبل کے حوالے سے میں پڑھ رہا تھا کہ ان کا فتویٰ یہ تھا کہ جو ردی احادیث ہیں، ان کو جلادیاجائے۔ یہاں ایک سوال تو یہ ہے کہ یہ ردی احادیث کون سی تھیں جن کو وہ جلانا چاہتے تھے؟
عمار ناصر: بنیادی طور پر ان کا توحش ایسی روایات سے تھا جن میں بعض صحابہ کے متعلق معائب ومثالب بیان ہوئے ہیں یا ان کو بیان کر کے بعض گروہ ان سے صحابہ کی تنقیص اور عیب جوئی کا کام لیتے تھے۔ امام احمد کا موقف یہ تھا کہ ایسی روایات کو بیان کرنا یا سن کر لکھنا جائز نہیں۔ مدعا یہ تھا کہ ان سے کوئی دینی فائدہ تو وابستہ نہیں اور الٹا ان کو کئی گروہ صحابہ کی جماعت کے متعلق تنفر پیدا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں تو اس میں ان کی مدد کرنے سے ہمیں گریز کرنا چاہیے۔4
مطیع سید: یہ رجحان شاید بعض صحابہ کے ہاں بھی ملتا ہے۔ غالباً حضرت سلمان فارسی سے اس طرح کا کوئی واقعہ منقول ہے۔
عمار ناصر: جی، سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت میں آتا ہے کہ انھیں پتا چلا کہ حضرت حذیفہ لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ باتیں بتاتے ہیں جو آپ نے غصے میں بعض صحابہ کے بارے میں کہیں تھیں۔ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ اس طرح تو آپ لوگوں کے دلوں میں بعض صحابہ کی محبت اور بعض کی نفرت ڈال دیں گے ۔پھر ان کو تنبیہ کی کہ اگر تم ایسا کرنے سے باز نہ آئے تو میں حضرت عمر کو تمھاری شکایت لکھ بھیجوں گا ۔5
مطیع سید: ’’مسند‘‘ میں بعض روایات کے متعلق فرماتے ہیں کہ ’قال احمد: ھذا حدیث منکر‘، یعنی خود منکر روایات بھی لے رہے ہیں اور دوسری طرف ا ن کا جلانے کا فتویٰ بھی ہے۔
عمار ناصر: میں نے عرض کیا کہ بنیادی طور پر ان کا یہ موقف صحابہ کے مثالب سے متعلق بعض خاص احادیث کے حوالے سے تھا۔ یہ کوئی عمومی موقف نہیں تھا کہ ہر طرح کی کم زور روایات کو جلا دیا جائے۔ ظاہر ہے کہ ان کے جلا دینے سے روایات دنیا سے تو ختم تو نہیں ہو جائیں گی۔ جب روایات موجود ہیں تو یہی ممکن تھا کہ ان کو بیان کر کے، ان کے بارے میں اپنی جو تحقیق ہے، وہ ساتھ درج کر دی جائے تاکہ ذمہ داری ادا ہو جائے۔
مطیع سید: دوسرا سوال یہ ہے کہ عام طورپر محدثین کے بارے میں ایسا نہیں ملتا کہ انھوں نے ضعیف احادیث کو مٹا دینے کی کوشش کی ہو،بس انھوں نے یہ بتا دیاکہ یہ کم زور روایا ت ہیں۔ صحاح ستہ کے مطالعے کے دوران میں آپ نے بھی فرمایا تھا کہ محدثین نے ردی حدیثوں کو بھی محفوظ کیا اور یہ ایک اچھا کام تھا ، لیکن ایسے لگتا ہے کہ امام احمد نے باقاعدہ یہ موقف اختیار کیا کہ ایسی روایات کو مٹا دیا جائے۔
عمار ناصر: اس میں فرق کو سمجھنا چاہیے ۔ ایک بات یہ ہے کہ محدثین کی مجموعی روایت نے کیا رویہ اختیار کیا اور دوسری یہ کہ انفرادی طورپر بعض اہل ِ علم کا رجحان اس سے مختلف ہو سکتا ہے۔ اس کا بھی اپنا ایک وزن ہے کہ اس طرح کی روایات جو مستند نہیں ہیں اور لوگوں میں پھیلیں گی تو مسائل پیداکریں گی، ان کو ضائع کردیا جائے ۔یہ انفرادی رجحان ہوسکتا ہے۔ اس میں اہم بات یہ ہے کہ یہ رجحان پیدا ہونا تدوین حدیث کے دور میں تو ممکن تھا، لیکن تاریخی مواد مدون ہو جانے کے بعد محدثین کے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں تھا۔ آپ اگر تھوڑا پیچھے چلے جائیں تو صحابہ میں قلتِ روایت اور کثرت ِ روایت کے حوالےسے جو بحث تھی ،اس میں تو ایک پورا مکتبِ فکر یہی رجحان رکھتا تھا۔ فقہاے صحابہ کا رجحان یہی تھا کہ ساری حدیثیں، سارے واقعات، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری باتیں جو ہمیں معلوم ہیں،ان کو آگے منتقل کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ اس سے اجتناب کر نا چاہیے۔مختلف اسباب سے وہ یہ رجحان رکھتے تھے۔ یہی رجحان ایک حد تک اس مرحلے میں بھی قائم رہا، جب احادیث وروایات کی جمع وتدوین ہو رہی تھی۔ امام احمد بن حنبل کا تعلق اسی دور سے ہے۔ پھر جب یہ سارا ذخیرہ مدون ہو کر اہل علم کی رسائی میں آ گیا تو محدثین کی روایت نے جو موقف اختیار کیا، وہ یہ تھاکہ اب چونکہ یہ سارا مواد تاریخ کے ریکارڈ میں آگیا ہے،لوگوں کی رسائی میں ہےتو ہم اس سارے مواد کو بھی اور اس پر ہم نے جو تحقیقی کام کیا ہے ، اس سب کو محفوظ کر دیں اور اسی طرح یہ بعد میں آنے والوں تک پہنچ جائے۔
مطیع سید: یعنی ایک وقت تھا جب کسی حد تک اس پر عمل کیا جا سکتاتھا ۔ میرے خیال میں اب تو وہ وقت بھی نہیں رہا۔
عمار ناصر: تاریخی طور پر یہ ایک امکان تو تھا ، لیکن اس پر عمل شاید اس وقت بھی ممکن نہیں تھا۔ آپ مسیحی تاریخ سے اگر موازنہ کریں تو ایک بنیادی فرق پایا جاتا ہے۔ مسیحی روایت میں ابتدائی صدیوں میں بہت سی اناجیل لوگوں میں پھیل گئی تھیں۔ان کی تعداد درجنوں بتائی جاتی ہے۔ آباے کلیسا (Church Fathers) کے ہاں کچھ اناجیل کو ایک عمومی مقبولیت حاصل ہوگئی، لیکن عام لوگوں میں بہت سی دوسری اناجیل بھی رائج تھیں۔ بعض اناجیل کے حوالےسے خود آباے کلیسا کے مابین بھی اختلاف ِ راے پایا جاتاتھا۔ مسیحی روایت میں اناجیل کی Canonization کا عمل، یعنی ان میں سے مستند اناجیل کا انتخاب اور باقی چیزوں کو ضائع کر دینا یا ان کی اشاعت کو روک دینا، یہ اس لیے ممکن ہوا کہ کلیسا کا ایک باقاعدہ ادارہ موجود تھا، جو مذہبی اور الہٰیاتی مسائل کے متعلق صحیح اور غلط کے فیصلے کرتا تھا۔
مسلمانوں کے ہاں قرآن کے معاملے میں تو یہ ہوا کہ سرکاری طورپر اس کے متن کو محفوظ کرنے کا اہتمام کیا گیا۔ صحابۂ کرام اس معاملے میں بہت حساس تھے کہ قرآن کے متن کے بارے میں اگر امت میں اختلاف پیدا ہو جائے تو یہ ٹھیک نہیں ہے،لیکن احادیث کے بارے میں ایسا طرز فکر پیدا نہیں ہوا، اس لیے محدثین کے لیے یہ ممکن نہیں تھاکہ علما کی کوئی کمیٹی یہ فیصلہ کر کے اس کو نافذ کر دے کہ ہمیں فلاں احادیث کو محفوظ رکھنا ہے اور فلاں کو نہیں رکھنا ۔ محدثین ایسا کر ہی نہیں سکتے تھے، کیونکہ ہمارے ہاں کلیسا کی طرح کا کوئی ادارہ نہیں تھا، جس کو مذہبی معاملات میں فیصلے جاری کرنے اور نافذ کرنے کا اختیار ہو۔ سیاسی طاقت یہ کرنا چاہتی تو کر سکتی تھی، لیکن ہماری روایت میں بہت شروع سے ہی ایک فرق قائم ہو گیا تھا کہ حکمران دینی اور علمی معاملات میں دخل نہیں دیں گے۔ جب بھی کسی نے دخل دینے کی کوشش کی، اس کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا گیا۔ مثلاً مامون وغیرہ نے جو کچھ معتزلہ کے زیر اثر کیا یا بعد میں متوکل نے دوسری جانب سے حنابلہ کی ترجمانی میں کیا، اس کو اچھی نظرسے نہیں دیکھا گیا اور اس فصل کے قائم رہنے کو ایک مثبت چیز سمجھا گیا۔ آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اسلامی روایت میں سیکولرزم کا اپنا ایک خاص تصور موجود ہے کہ سیاسی طاقت، علمی روایت کو آزاد چھوڑ دے ۔ وہ خود اپنا سفر طے کرے، سیاسی طاقت اس میں دخل نہ دے۔
مطیع سید: یہ خودبہ خود ایک تقسیم کار پیدا ہوگئی یا اس کے کچھ خاص اسباب تھے؟ ظاہر ہے کہ یہ باقاعدہ طے کرکے تو نہیں ہوئی ۔
عمار ناصر: جی باقاعدہ طے کرکے تو ایسا نہیں کیا گیا ، لیکن اتفاقاً بھی نہیں ہوا۔ تہذیب کے اندر مختلف قسم کی قوتیں کام کر رہی ہوتی ہیں اور ان کے مجموعی اثر سے تاریخ کا ایک خاص رخ بن جاتا ہے۔
[باقی]
- ۔ التاریخ الکبیر 2/170۔
- ۔ مسند احمد، رقم 7992۔
- ۔ ابن رجب، شرح علل الترمذی 2/889، 890۔
- ۔ الجامع لعلوم الامام احمد 4/ 544 -545۔ مولفین: خالد الرباط، سيد عزت عيد، محمد احمد عبد التواب۔
- ۔ ابو داؤد، رقم 4659۔