مواد پر جائیں

مطالعۂ مسندِ احمد

ڈاکٹر عمار خان ناصر/ ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن اردو

(مسندِ احمد کی احادیث سے متعلق استفسارات اور ان کا جواب)

(3)

مسند ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ

مطیع سید: مسند احمد کا آغاز حضرت ابوبکر صدیق کی روایات سے ہوا ہے۔ ان کی بہت کم روایات ہیں۔ اس کی وجہ جو سننے میں آتی ہے، وہ یہ ہے کہ چونکہ ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد وقت کم ملا،لہٰذا ان کو زیادہ روایات بیان کرنے کا موقع نہیں ملا، لیکن انھوں نے اڑھائی سال کا عرصہ گزارا ہے اور پھر ا ن کا دور بڑے اہم واقعات کا دور ہے۔ اس اعتبار سے تو ان کی بہت ساری مرویات ہونی چاہییں۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ کیا وجہ تھی کہ حضرت ابوبکر صدیق سے روایات بہت کم مروی ہیں ؟

عمار ناصر: اس میں دونوں پہلو ہیں : یہ پہلو بھی ہے جو آپ بتا رہے ہیں کہ ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اڑھائی سال کا عرصہ ہی ملا۔اس میں بھی بنیادی طورپر ان کی مصروفیت یا اشتغال لوگوں کو دین سکھانے سے یا احادیث بیان کر نے سے تو نہیں تھا۔وہ خلافت کی ذمہ داریاں انجام دینے میں مصروف تھے اور امو رِ مملکت کی انجام دہی میں اور امت کی شیرازہ بندی میں لگے ہوئے تھے۔ علمی کام کی طرف بنیادی طورپر متوجہ نہیں تھے۔اس لحاظ سے ان کی مرویات کم ہی ہونی چاہییں۔دوسری بات یہ کہ اکابر صحابہ کا اصولی مسلک بھی یہ نہیں تھا کہ احادیث کو کثرت سے بیان کیا جائے۔ ان کا طریقہ یہ نہیں تھا کہ جو بھی احادیث ان کے علم میں ہیں، وہ ساری کی ساری ضرور روایت کی جائیں۔ اکابر صحابہ ضرورت کے موقع پر ہی احادیث بیان کرتے تھے، یعنی جب کوئی ایسا سوال سامنے آجاتا جس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ان کو معلوم ہوتی تھی تو اُس کے جواب میں ہی وہ اِسے بیان کرتے تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا بھی یہی مسلک تھا۔ خاص طور پر احادیث کو لکھ کر محفوظ کرنے سے تو وہ سخت اجتناب کرتے تھے۔ بعض روایات کے مطابق انھوں نے ایک موقع پر کچھ اہم احادیث جمع بھی کی تھیں،لیکن پھر انھیں جلا دیا۔1

مطیع سید: ان کی مرویات کا مضمون دیکھیں تو وہ بالکل سادہ سی چیزیں ہیں۔ زیادہ تر انھوں نے نصیحت کی باتیں یا دعائیں نقل کی ہیں۔ خاص یا اہم معاملات سے متعلق ان کی روایات بہت کم ہیں، حالاں کہ سب سے زیادہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ہی ان کا علم ہو سکتا تھا۔

عمار ناصر: میرے خیال میں تو ایسا نہیں ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سامنے بہت سے اہم مسائل بھی آئے ہیں اور ان میں انھوں نے احادیث بیان کی ہیں۔ مثلاً‌ آپ دیکھیں کہ قریش کی خلافت کے معاملے میں انھوں نے انصار کے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا حوالہ دیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین کے لیے جگہ کے انتخاب کا مسئلہ سامنے آیا تو حضرت ابوبکر نے ہی یہ حدیث بیان کی کہ نبی کی قبر وہیں بنائی جاتی ہے، جہاں ان کا انتقال ہوا ہو۔ اس کے بعد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا فدک وغیرہ کی وراثت کا مطالبہ لے کر آئیں تو اس میں بھی حضرت صدیق اکبر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا حوالہ دے کر ہی ان کا مطالبہ ماننے سے انکارکیا۔ مزید آپ دیکھیں تو مرتدین کے خلاف قتال کا فیصلہ کرتے ہوئے بھی مشہور حدیث ’امرت ان اقاتل الناس‘ زیربحث آئی۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو مرتدین کے خلاف جہاد کا امیر مقرر کرتے ہوئے بھی انھوں نے حدیث کا حوالہ دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد کو ’ سیف من سیوف اللّٰہ‘ قرار دیا تھا۔

عہد نبوی کے کئی اہم واقعات بھی ان سے مروی ہیں۔ مثلاً‌ سفر ہجرت کی داستان براء بن عازب نے ان سے خاص طور پر سنی تھی۔ اسی طرح یہ واقعہ بھی انھوں نے بیان کیا ہے کہ 9 ؍ ہجری میں حج کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین سے متعلق کچھ اہم اعلانات کرنے کی ہدایت ان کو دی تھی، لیکن پھر ان کے پیچھے یہ ذمہ داری ادا کرنے کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا گیا۔ ماعز کو رجم کرنے کا واقعہ بھی انھوں نے بیان کیا ہے۔ مواشی کی زکوٰۃ کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شرحیں مقرر کی تھیں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے عمال کے لیے باقاعدہ ان کی ایک تحریر لکھوا دی تھی۔ قیامت کے دن لوگ مختلف انبیا کے پاس سفارش کی درخواست لے کر جائیں گے، یہ حدیث بھی تفصیل سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ دجال کے، خراسان سے نمودار ہونے سے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی بھی ان کی مرویات میں شامل ہے۔ یزید بن ابی سفیان کو انھوں نے شام کا والی مقرر کیا تو حکمران کی ذمہ داری سے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ان کو خاص طور پر بیان فرمایا۔ تو یہ ساری مرویات اہم واقعات سے متعلق ہیں۔

مطیع سید: حضرت ابوبکر نے خطبہ ارشاد فرمایا اور کہا کہ تم لوگ قرآن کی یہ آیت پڑھتے ہو اور اس کا غلط مفہوم مراد لیتے ہو: ’یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا عَلَیۡکُمۡ اَنۡفُسَکُمۡ ۚ لَا یَضُرُّکُمۡ مَّنۡ ضَلَّ اِذَا اہۡتَدَیۡتُمۡ ؕ اِلَی اللّٰہِ مَرۡجِعُکُمۡ جَمِیۡعًا فَیُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ‘(المائدہ 5: 105)، جب کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے کہ لوگ جب منکر کو دیکھیں اور اس پر انکار نہ کریں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو عذاب کی لپیٹ میں لے لے۔2 اس میں حضرت ابوبکر نے حدیث کی روشنی میں یہ تو واضح فرمایا ہے کہ منکر پر نکیر کرنا ضروری ہے، لیکن آیت کا مفہوم لوگ کیسے غلط سمجھ رہے ہیں، اس کی وضاحت نہیں فرمائی تو اس ظاہری مفہوم میں لوگ کیا غلطی کر رہے تھے؟

عمار ناصر: جوظاہری مفہوم لوگ سمجھ رہے تھے، یہ تھا کہ آدمی کو اپنی فکر کرنی چاہیے۔ اگر دوسرے لوگ منکر کا ارتکاب کر رہے ہوں تو اس پر نکیر کرنا انسان کی ذمہ داری نہیں۔ ظاہر ہے، یہ آیت کی مراد نہیں ہے۔ منکر پر نکیر کرنا اپنی جگہ ایک ذمہ داری ہے، لیکن اس کے بعد لوگ نہ سدھریں اور منکر پر قائم رہیں تو اس کی ذمہ داری ان لوگوں پر نہیں آتی جنھوں نے اپنا فرض ادا کیا۔ حضرت ابوبکر حدیث کا حوالہ دے کر اسی غلطی کو واضح فرما رہے ہیں۔

سیاق و سباق کے لحاظ سے بھی دیکھیں تو آیت کی مراد یہ نہیں ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے حوالے سے اہل ایمان پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی یا یہ کہ انھیں گم راہی میں مبتلا ہونے والوں کی کوئی فکر نہیں کرنی چاہیے۔ اس سے پچھلی آیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطب اہل کفر کی ہٹ دھرمی کو واضح کیا گیا ہے، جو اللہ اور اس کے رسول کی بات تسلیم کرنے کے بجاے اپنے آباو اجداد کی پیروی پرمصر تھے۔ اس سیاق میں اہل ایمان سے کہا گیا ہے کہ اگر اتمام حجت کے باوجود یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو اس کی کوئی ذمہ داری اہل ایمان پر نہیں ہے، کیونکہ اہل ایمان نے اپنی ذات کی حد تک تو ہدایت کی پیروی کو قبول کرلیا ہے اور وہ اسی کے مکلف ہیں۔ دوسروں کو زبردستی ہدایت پر لے کر آنا اللہ تعالیٰ نے ان کے ذمے نہیں لگایا۔

مطیع سید: حضرت فاطمہ مدینہ اور فد ک کی زمینوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت کا مطالبہ لے کر حضرت ابوبکر کے پاس گئی تھیں، لیکن انھوں نے انکار کردیا اور جواب میں فرمایا کہ ’إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ فِي هَذَا الْمَالِ‘،3 یعنی ان زمینوں سے آل محمد کی ضروریات تو پوری کی جائیں گی، لیکن وراثت کے طور پر انھیں نہیں ملیں گی۔ اس سے صاف معلوم ہو رہا ہے کہ و ہ ’آل محمد‘ سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندان ہی لے رہے ہیں، لیکن میں نے کچھ لوگوں سے سنا ہے کہ درودِ ابراہیمی میں جو ’آل محمد‘ آیا ہے، اس سے مرا د تمام مسلمان ہیں۔آپ کی کیا راے ہے ؟

عمار ناصر : ’آل ‘ کے لفظ میں تو کافی وسعت ہے۔ خاندان کے قریبی افراد کے لیے بھی آتا ہے، اولاد یا ذریت کے معنی میں بھی آتا ہے، جیسے ’آل عمران‘ اور ’آل ابراھیم‘ کی تعبیر قرآن میں آئی ہے، اور کسی کے پیروکاروں کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جیسے قرآن میں ’آل فرعون‘ آیا ہے۔ لیکن پیروکاروں کے لیے یہ لفظ توسیعاً‌ آتا ہے اور اس کے لیے قرینہ چاہیے ہوتا ہے۔ زبان کے لحاظ سے ’آل‘ کا اصل استعمال قریبی خاندان، یعنی بیوی بچوں کے لیے یا پھر اگلی نسلوں، یعنی ذریت کے لیے ہوتا ہے۔درود ابراہیمی میں ’آل ابراھیم‘ سے مراد حضرت ابراہیم کی ذریت ہے۔ اس مناسبت سے ’آل محمد‘ سے بھی آپ کا خاندان اور آپ کی ذریت مراد ہے۔ بعض روایات میں اس کی جگہ ’أزواجه وذریته‘ کے الفاظ آئے ہیں، اس سے بھی یہی مفہوم واضح ہوتا ہے۔

مطیع سید: حضرت ابوبکر نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا حوالہ دے کر واضح فرما دیا کہ یہ زمینیں وراثت میں تقسیم نہیں ہوں گی تو ایک روایت کے مطابق سیدہ فاطمہ نے ان سے کہا کہ ٹھیک ہے، آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بات سنی ہے، اس کے مطابق آپ معاملے کو بہتر جانتے ہیں۔4 لیکن دوسری روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سامنے آنے کے بعد بھی سیدہ فاطمہ اپنے مطالبے سے دست بردار نہیں ہوئیں، بلکہ سیدنا ابوبکر کے انکار پر ان سے ناراضی اختیار کر لی اور وفات تک ان سے گفتگو نہیں کی۔5

عمار ناصر: جی، یہ دو متعارض بیانات ہیں۔ حضرت فاطمہ کے بارے میں یہی روایت بخاری میں بھی ہے کہ انھوں نے حضر ت ابو بکر کی اس وضاحت کو نہیں مانا اور باقاعدہ اس پر ان سے ناراض ہو گئیں اور پھر انھوں نے با ت چیت بھی نہیں کی۔اب اس کی تفصیل ہمارے سامنے نہیں کہ وہ کیوں اس سے مطمئن نہیں ہوئیں، کیونکہ روایت میں حضرت ابوبکر کا استدلال تو بڑا واضح انداز میں نقل ہوا ہے، لیکن حضرت فاطمہ جواب میں کیوں مطمئن نہیں ہوئیں یا کیا وجہ تھی کہ انھوں نے اس پر نہ صرف اختلاف رکھا، بلکہ ناراض ہوگئیں،یہ روایت میں بیان نہیں ہوا۔ البتہ مسند احمد کی جس روایت کا آپ نے ذکر کیا ہے، اس میں بیان ہوا ہے کہ سیدہ فاطمہ نے بہ ظاہر حضرت ابوبکر کے استدلال کو قبول کر لیا۔ بعض دیگر روایات میں بھی بیان ہوا ہے کہ سیدنا ابوبکرنے وفات سے قبل سیدہ فاطمہ کو راضی کر لیا تھا۔6 اگر یہ بات درست ہے تو پھر اشکال نہیں رہتا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج نے بھی ان اموال میں اپنے حصے کا مطالبہ کرنے کا ارادہ کیا تھا، لیکن ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی ارشاد کا حوالہ دیتے ہوئے انھیں اس سے منع کیا تو ازواج نے ان کی بات تسلیم کر لی تھی۔7 سیدہ فاطمہ نے بھی اگر ابتداءً‌ یہ مطالبہ کیا ہو تو قابل فہم ہے، لیکن اگر یہ حدیث سامنے آنے کے بعد بھی وہ ناراض رہیں تو اس پر یقیناً‌ اشکال پیدا ہوتا ہے۔ چونکہ روایات میں اہل بیت کا استدلال نقل نہیں ہوا، اس لیے یہ سمجھنا بہ ظاہر مشکل ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے باوجود کیونکر اپنے آپ کو ان اموال کی وراثت کا حق دار سمجھتے تھے۔ ممکن ہے کہ سیدہ فاطمہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی تعبیر وتاویل میں سیدنا ابوبکر سے اختلاف ہو اور وہ اسے ان اموال کے بہ طور وراثت تقسیم ہونے میں مانع نہ سمجھتی ہوں۔ ان کے بعد حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ دوبارہ یہ مطالبہ لے کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تھے۔ اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ خلفا کے موقف سے متفق نہیں تھے۔ البتہ اہل بیت ہی کے ایک جلیل القدر بزرگ امام زید بن علی سے یہ منقول ہے کہ انھوں نے کہا کہ اگر میں سیدنا ابوبکر کی جگہ ہوتا تو فدک کے بارے میں وہی فیصلہ کرتا جو انھوں نے فرمایا۔8

مطیع سید: یہ زمینیں دوتین مقامات پر تھیں۔ خیبر،فدک اور مدینے میں کچھ زمینیں تھیں۔ حضرت عمر نے مدینے کی زمین حضرت علی اور حضرت عباس کے حوالے کر دی، لیکن خیبر و فدک کی زمینیں نہیں دیں۔ کیا خلفا ان زمینوں کے بارے میں واضح نہیں تھے یا اپنے اپنے اجتہاد سے فیصلے کر رہے تھے؟ اگر مدینے کی زمین اہل بیت کے سپرد کر دی گئی تو خیبر اور فدک کی بھی تو دی جا سکتی تھی؟

عمار ناصر: نہیں، حضرت عمر نے بھی مدینے کی زمینیں بہ طور ملکیت ان کو نہیں دی تھیں۔ دراصل سیدنا ابوبکر کے انتقال کے بعد حضرت علی اور حضرت عباس، دونوں حضرت عمر کے پاس گئے تھے کہ شاید حضرت عمر کاموقف اس معاملے میں کچھ مختلف ہو۔لیکن انھوں نے بھی اسی بنیادپر انکار کر دیا۔پھر حضر ت علی اور حضرت عباس نے یہ کہا کہ ٹھیک ہے، یہ زمینیں بیت المال ہی کی رہیں،لیکن ان کا انتظام و انصرام آپ ہمارے سپر د کر دیں اور ہم اس میں وہی معاملہ کریں گے جو چلا آرہا ہے تو حضرت عمر نے اس شرط پر مدینے کی اراضی کا انتظام ان کے سپر د کر دیا کہ وہ اسی طریقے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کنبے کی ضرورتیں پوری کریں گے اور جو بچ جائے گا، وہ صدقہ کر دیا جائے گا۔پھر کچھ عرصے کے بعد حضرت عباس اور حضرت علی کے مابین اس کے انتظامی امور میں اختلافات پیداہوگئے تو وہ دوبارہ یہ قضیہ لے کر آئےاور بہت سے دوسرے حضرات کو،جن میں حضرت عثمان اور عبد الرحمٰن بن عوف بھی شامل تھے، ایک طر ح سے بہ طور سفارشی ساتھ لائے۔ حضر ت عباس نے حضرت علی کے بارے میں بڑی سخت باتیں کیں۔ظاہر ہے، وہ ان کے بڑے بھی تھے۔ انھو ں نے مطالبہ کیا کہ چونکہ ہمارا جھگڑا ہو گیا ہے، اس لیے آپ انتظامی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے بھی زمین ہمارے مابین تقسیم کر دیں۔ یہ مطالبہ حضرت عمرنے نہیں مانا۔ان کو خدشہ یہ تھا کہ اس طرح تقسیم کرنے کا مطلب عملاًیہ ہو گا کہ گویا زمین ان میں بہ طور ملکیت تقسیم کر دی گئی ہے۔

مطیع سید: آپ نے بتایا کہ وراثت کا مطالبہ صرف حضرت فاطمہ یا حضرت علی کا نہیں تھا،بلکہ ازواج ِ مطہرات نے بھی یہی مطالبہ پیش کیا تھا،لیکن وہ عام طوپر ڈسکس نہیں ہوتا۔

عمار ناصر: اصل میں رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جتنے ممکنہ وارث ہو سکتے تھے،ان کے ذہن میں ابتداءً‌ یہی تاثر تھا کہ یہ جو زمینیں ہیں جن سے ہمارے خرچ اخراجات کا بندوبست کیا جاتا ہے، رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ ہمیں بہ طور ملکیت مل جائیں گی۔چنانچہ ازواج نے بھی پیغام بھیجنے کا ارادہ کیا، لیکن حضرت عائشہ نے انھیں منع کیا اور سمجھایا کہ یہ ہمیں نہیں ملیں گی۔ اسی طرح حضرت فاطمہ بھی آئیں اور حضرت ابو بکر نے ان کو بھی یہی جواب دیا کہ ان زمینوں کی جو نوعیت آپ سمجھ رہی ہیں، وہ درست نہیں ہے۔یہ بہ طور ملکیت نہیں دی گئیں، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے کنبے کی ضروریات کے بندوبست کے لیے دی گئی ہیں۔ زمینیں بیت المال کی رہیں گی اور ان سے جو فصل آئے گی، اس سے آپ لوگوں کے اخراجات پورے کیے جائیں گے۔ اس کے بعد جو بچ جائے گا،وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی صدقہ کر دیا کرتےتھے اور ہم بھی اس کو صدقہ کر دیں گے۔یہ حضرت ابوبکر کا موقف تھا۔تو ازواج نے ایک دفعہ یہ مطالبہ کرنے کے بعد ددبارہ یہ بات نہیں کی اور اس دعوے سے دست برداری اختیار کر لی۔ چونکہ انھوں نے اصرار بھی نہیں کیا اور ان کے نام پر بعد میں اس طرح کی کوئی سیاسی گروہ بندی بھی نہیں ہوئی، اس لیے ان کا ذکر اس معاملے میں نہیں ہوتا۔ فرض کریں کہ ازواج ِ مطہرات کی نسبت سے بھی کوئی سیاسی عصبیت امت میں قائم ہوتی تو ان کے حوالے سے بھی یہ بحث آج تک جاری ہوتی کہ ازواج ِ مطہرات کو ان کا حق نہیں دیا گیا۔

مطیع سید: حضرت عمر بن عبد العزیز کے بارے میں آتا ہے کہ انھوں نے فد ک کو واپس کر دیا تھا۔ تو انھوں نے یہ کس کو واپس کیا تھا؟

عمار ناصر: عمر بن عبد العزیز نے دراصل حضرت معاویہ کے فیصلے کو واپس کر کے فدک کی اس حیثیت کو بحال کیا تھا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاے راشدین کے زمانے میں موجود تھی۔ روایات میں بیان ہوا ہے کہ حضرت معاویہ نے فدک کی اراضی مروان کو الاٹ کر دی تھی۔ پھر مروان کے بعد یہ ان کے بیٹوں عبد الملک اور عبد العزیز سے ہوتی ہوئی عمر بن عبد العزیز تک پہنچی تو انھوں نے اس کی تحقیق کی کہ اس زمین کی نوعیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کیا تھی اور پھر تحقیق کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ وہ اس کو اپنی ملکیت میں نہیں رکھیں گے، بلکہ اسے سرکاری اراضی کے طور پر بیت المال کو واپس کر دیں گے۔ 9

مطیع سید: تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ عمر بن عبد العزیز نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے فیصلے کو غلط یا ناجائز سمجھتے ہوئے اسے واپس کیا؟

عمار ناصر: نہیں، قانونی پہلو سے تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ الاٹ کرنے کا فیصلہ ناجائز تھا۔ یہ بیت المال کی اراضی تھی اور بہ طور حکمران اپنے انتظامی اختیار کو استعمال کرتے ہوئے وہ یہ زمین کسی کو بھی دے سکتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بہت سی سرکاری اراضی لوگوں کو الاٹ کی تھیں۔ عمر بن عبد العزیز سے اس کی وجہ یہ منقول ہےکہ انھوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سیدہ فاطمہ نے آپ سے اس زمین کا مطالبہ کیا تھا، لیکن آپ نے ان کا مطالبہ نہیں مانا اور اسے بیت المال کی ملکیت ہی میں رکھا۔ پھر بعد میں خلفا نے بھی اس کی اسی حیثیت کو قائم رکھا۔ تو عمر بن عبدالعزیز کو اس پہلو سے یہ محسوس ہوا کہ جو زمین نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ کو نہیں دی، میرا بھی اس پر حق نہیں بنتا اور بہتر ہے کہ اسے بیت المال کی اراضی کے طور پر ہی رکھا جائے، جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا تھا۔

[باقی]

  1. ۔ تذکرۃ الحفاظ، ذہبی 1/10 -11۔
  2. ۔رقم 1، 6۔
  3. ۔ رقم 9۔
  4. ۔ رقم 14۔
  5. ۔ رقم 25۔
  6. ۔ السنن الکبریٰ،بیہقی، رقم 12863۔
  7. ۔ بخاری، رقم 6349۔ ابو داؤد، رقم 2977۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم 12510۔
  8. ۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم 12524۔
  9. ۔ ابو داؤد، رقم 2972۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم 12864۔ الطبقات الکبریٰ، ابن سعد، رقم 9949۔