(مسندِ احمد کی احادیث سے متعلق استفسارات اور ان کا جواب)
(4)
مطیع سید: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا کہ دجال مشرق کے ایک علاقے سے نکلے گا، جس کا نام خراسان ہے۔ اور اس کی پیروکار ایسی قومیں ہوں گی جن کے چہرے ہتھوڑے سے ہموار کی گئی ڈھالوں کے مانند ہوں گے (رقم 12)۔ یہ کون سی قومیں ہوں گی؟
عمار ناصر: چپٹی اور چھوٹی ناک والی قوموں کی تعبیر تو عام طور پر روایات میں ترک نسل کے لوگوں کے لیے آئی ہے، لیکن دیگر احادیث کو بھی سامنے رکھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ دجال کے پیروکار کسی ایک خاص گروہ سے متعلق نہیں ہوں گے، بلکہ مختلف نسلوں اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے گروہ اس کے پیچھے لگ جائیں گے۔ مثلاً ام المومنین عائشہ کی روایت میں ذکر ہے کہ دجال کا ظہور اصفہان کے یہودیوں میں ہوگا۔1 اسی طرح دیگر روایات میں تصریح ہے کہ دجال کا ظہور مشرق کی طرف سے جن لوگوں میں ہوگا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے ہوں گے اور قرآن پڑھتے ہوں گے، جو ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتا ہوگا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ لوگ جب بھی سر اٹھانے کی کوشش کریں گے، انھیں کچل دیا جائے گا، تاآنکہ ان کے باقی ماندہ لوگوں میں دجال کا ظہور ہو جائے۔2
مطیع سید: سقیفہ بنی ساعدہ میں بحث ومباحثہ کے بعد حضرت سعد بن عبادہ نے حضرت ابو بکر صدیق سے کہہ دیا کہ آپ امرا ہیں اور ہم وزرا ہیں(رقم18)۔ یہ کہنے کے باوجود انھوں نے حضرت ابوبکر کی بیعت نہیں کی۔ اس کی کیا وجہ تھی؟
عما ر ناصر :نہیں، یہ مہاجرین کی تجویز تھی کہ قریش امرا اور انصار وزرا ہوں گے، لیکن حضرت سعد نے اسے قبول نہیں کیا۔ یہاں راوی نے یا تو بہت اختصار سے بات بیان کی ہے یا وہ خلط مبحث کا شکار ہوا ہے۔ تفصیلی روایات میں وضاحت ہے کہ یہ تجویز انصار نے عموماً قبول کر لی تھی، لیکن حضرت سعد نے اس سے اتفاق نہیں کیا تھا۔
مطیع سید: ایک بات یہ کہی جاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین کے انتخاب کا معاملہ اتنا اہم تھا کہ صحابہ نے آپ کی تکفین و تدفین پر بھی اسے مقدم رکھا، لیکن واقعے سے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ ہنگامی طور پر کیا گیا تھا۔
عمار ناصر: آپ کی بات درست ہے۔ واقعے کی نوعیت یہ نہیں تھی کہ صحابہ نے قصداً خلیفہ کے انتخاب کو مقدم رکھا۔ اہل تشیع کی طرف سے جو اعتراض کیا جاتا ہے، وہ بھی درست نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی میت مبارک پڑی ہوئی تھی اور صحابہ خلافت کا مسئلہ طے کرنے کی فکر میں تھے۔ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر تو اس ارادے سے گئے ہی نہیں تھے کہ خلافت کی بیعت لیں؛ وہ تو صرف انصار کو روکنے گئے تھے کہ وہ اس معاملے میں جلد بازی نہ کریں،یہ بہت سوچ سمجھ کر اور اتفاق راے سے کرنے کا فیصلہ ہے، لیکن وہاں کی صورت حال حضرت عمر نے دیکھی تو انھیں شدید خدشہ محسوس ہوا کہ اگر اس معاملے کو ایسے ہی چھوڑ دیا گیا تو پھر سے بگاڑ کا امکان ہے۔تب انھوں نے ہنگامی صورت حال میں ایک طرح سے اپنی شخصیت کا دباؤ استعمال کرکے حضرت ابوبکر کی بیعت کرا دی تاکہ اس معاملے کو نامکمل نہ چھوڑ دیا جائے۔
مطیع سید: آگے حضرت عمر کی مسند میں ایک روایت آئے گی کہ حضرت عمر فاروق نے حضرت ابو بکر صدیق کے حوالے سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی امامت کے لیے ان کو آگے کیا تھا، یعنی اس بات کو ان کی خلافت کے لیے دلیل کے طور پر پیش کیا،لیکن یہ دلیل حضرت ابو بکر نے اپنی تقریر میں پیش نہیں فرمائی (رقم233)۔
عمار ناصر: نہیں، حضرت ابوبکر تو اپنے لیے خلافت کا دعویٰ ہی نہیں کر رہے تھے، بلکہ وہ چاہ بھی نہیں رہے تھے کہ انھیں خلیفہ بنایا جائے۔ حضرت عمر کے ذہن میں بھی یہ نہیں تھا کہ اسی موقع پر ہم نے خلیفہ کا انتخاب کرانا ہے، لیکن وہ اس میں بالکل واضح تھے کہ خلیفہ ابوبکر ہی ہوں گے۔یعنی حضرت ابو بکر کے بارے میں ان کی طے شدہ راے تھی کہ وہی خلیفہ ہوں گے، ان کے ہوتے ہوئے اور کوئی نہیں ہو سکتا۔
مطیع سید: حضرت ابوبکر نے قریش کے متعلق کہا کہ عرب کے لوگ ان کے علاوہ کسی کی سیادت کو قبول نہیں کریں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ ایک خالصتاً سیاسی معاملہ تھا۔ تو سیاسی لحاظ سے تو انصار کے موقف میں بھی و زن تھا کہ اسلام کو آج اقتدار حاصل ہے تو ان کی تائید کی وجہ سے ہے، اس لیے اقتدار پر ان کا زیادہ حق ہے۔جب معاملہ سیاسی تھا، دینی نہیں تھا تو یہ حق تو انصار کا بھی بنتا تھا کہ وہ اپنی سیاسی حیثیت کا دعویٰ کریں۔
عمار ناصر: یقیناً انصار کے موقف میں سیاسی وزن تھا اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نے بھی ان سے یہ نہیں کہا کہ آپ کی یہ خدمات نہیں ہیں یا آپ سرے سے کوئی موقف پیش کرنے کاحق ہی نہیں رکھتے۔ مسئلہ تو سیاسی ہی تھا، لیکن، سیاسی مسئلے کا مطلب یہ نہیں کہ انصار کا موقف چپ چاپ مان لیا جائے اور اس میں کوئی پوزیشن نہ لی جائے۔ اس سیاسی فیصلے پر آیندہ کے سارے عمل کا مدار تھا۔ یہ سوال کہ اقتدار کون سنبھالے گا، اس کو یہ کہہ کر نظر اندا ز نہیں کیا جا سکتا تھا کہ مسئلہ تو سیاسی ہے۔دین کے استحکام،دین کی بقا اور جو ذمہ داری صحابہ نے آگے انجام دینی ہے،ان سب باتوں کا اس پر انحصار تھا۔یعنی براہِ راست تو یہ دین کا مسئلہ نہیں تھا، لیکن صحابہ پر جو دینی ذمہ داری عائد کی گئی، وہ اس پر منحصر تھی کہ مستحکم عرب حکومت کس کی قیادت میں قائم ہو سکتی ہے۔
مطیع سید: حضرت عثمان نے ایک موقع پر حضرت ابوبکر کے سامنے اس بات پر انتہائی پریشانی کا اظہار کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا اور میں آپ سے یہ نہیں پوچھ سکا کہ ’ما نجاۃ ہذا الامر؟‘، یعنی ہماری نجات کس بات پر ہوگی؟ حضرت ابوبکر نے انھیں بتایا کہ میں نے آپ سے اس کے متعلق پوچھا تھا تو آپ نے فرمایا کہ وہ کلمہ، یعنی لا الٰہ الا اللہ کہنے سے نجات ہو جائے گی، جو میں نے اپنے چچا ابو طالب کے سامنے پیش کیا، لیکن انھوں نے قبول نہیں کیا (رقم20)۔ حضرت عثمان کی پریشانی کی وجہ سمجھ میں نہیں آئی۔ کیا وہ واقعی نہیں جانتے تھے کہ نجات کس بنیاد پر ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی تو یہی بات لوگوں کو بتانے میں گزری تھی۔
عمار ناصر: نہیں، ان کی پریشانی کا سبب یہ سوال نہیں تھا کہ ہماری نجات کس بنیاد پر ہو گی؟ یہ تو قرآن کا بھی موضوع ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بہت وضاحت سے نجات کا معیار بیان فرمایا ہے۔ اصل میں راوی جب بات کو بالمعنیٰ بیان کرتے ہیں تو کئی دفعہ اس کی شکل مختلف ہو جاتی ہے۔ اسی واقعے کے دیگر طرق بھی امام احمد نے آگے چل کر نقل کیے ہیں، ان سے بات واضح ہو جاتی ہے۔ حضرت عثمان دراصل دل میں شیطان کی طرف سے ڈالے جانے والے وسوسوں کے متعلق پریشان تھے کہ ان سے ہم کیسے نجات پا سکتے ہیں، یعنی ہم ایسا کیا کریں کہ ان کا گناہ ہم پر نہ پڑے؟ تو حضرت ابوبکر نے انھیں بتایا کہ ایسے موقع پر کلمہ توحید پڑھ لینا کافی ہے۔ اس سے یا تو وسوسے ختم ہو جائیں گے یا اگر نہ بھی ختم ہوں تو انسان اپنے ایمان کا اظہار کر کے بری الذمہ ہو سکتا ہے۔ 3
مطیع سید: حضر ت ابو بکر صدیق نے یزید بن ابی سفیا ن کو شام میں امارت کے لیے بھیجا اور ان کو تلقین فرمائی کہ یزید، تمھاری کچھ رشتے داریاں ہیں،ہوسکتاہے کہ تم امیرِ لشکر ہونے کی وجہ سے اپنے رشتے داروں کو ترجیح دو۔ مجھے تمھارے متعلق سب سے زیاد ہ اسی بات کا اندیشہ ہے (رقم21)۔ کیا انھیں یہ محسوس ہو رہا تھا کہ یہ اقربا پروری کی طرف جا سکتے ہیں؟ غالباً حضرت عمر کے دور میں بھی وہ شام میں کمانڈر رہے ہیں۔ لیکن جو خدشہ حضرت ابوبکر محسوس کررہے تھے، اس بات کا ثبوت نہیں ملتا کہ ایسا کچھ ہوا ہو۔ کیا ان لوگوں کے بارے میں یہ عمومی تاثر تھاکہ یہ اقربا پروری کرتے ہیں؟
عمارناصر:یہ ایک عمومی ہدایت تھی، جو کسی کو بھی منصب دیتے ہوئے کی جاتی تھی۔ حضرت عمر نے جب اپنے بعد چھ لوگوں کو خلافت کے لیے نام زد کیا تو ان میں سے جن کے متعلق زیادہ گمان تھا کہ ان کو منتخب کیا جائے گا، ان سب کو الگ الگ یہی نصیحت کی تھی۔ حضرت عثمان سے کہا کہ دیکھو،تمھیں اگر خلافت ملے تو بنو امیہ کو لوگوں پر مسلط نہ کر دینا۔ حضرت سعد سے کہا کہ اپنے قبیلے کے لوگوں کو مسلط نہ کر دینا۔ اسی طرح حضرت علی سے کہا کہ بنو ہاشم کو لوگوں پر مسلط نہ کر دینا۔4
مطیع سید: حضر ت ابو بکر سے روایت ہے کہ جو کوئی برا عمل کرے گا، اس کا بدلہ دنیا میں ہی مل جائے گا (رقم23)۔ یہ بات خداکی جو امتحان کی پوری اسکیم ہے، اس کے خلاف معلوم ہوتی ہے۔ ہر برے عمل کا بدلہ اگر دنیا میں ہی مل جائے گا تو آخرت پھر کس لیے ہے؟
عما رناصر: نہیں، یہ روایت یہاں اختصار کے ساتھ بیان ہو ئی ہے، جس سے اشکال پیدا ہو رہا ہے۔ پوری روایت بھی امام احمد نے آگے چل کر نقل کی ہے۔ وہ یہ ہے کہ جب قرآن مجید میں یہ آیت نازل ہوئی: ’ لَیۡسَ بِاَمَانِیِّکُمۡ وَ لَاۤ اَمَانِیِّ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ ؕ مَنۡ یَّعۡمَلۡ سُوۡٓءًا یُّجۡزَ بِہٖ‘، ’’نہ تمھاری آرزوؤں کی کوئی اہمیت ہے اور نہ اہل کتاب کی آرزوؤں کی۔ جو بھی کوئی برائی کرے گا، اسے اس کا بدلہ ملے گا‘‘(النساء 4: 123 )۔ تو حضرت ابو بکر اس پر بہت مضطرب ہو گئے کہ انسان تو گناہ گار ہے، غلطیاں کرتا رہتا ہے؛ آخرت میں اگر ہرعمل کا بدلہ لازماً ملنا ہے تو پھر تو بڑی مشکل ہو جائے گی۔ انھوں نے یہ اشکال جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا تو آپ نے فرمایا کہ نہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر گناہ کا بدلہ آخرت میں جہنم کے عذاب کی صورت میں ملے گا، انسان کے گناہوں کی معافی کا ایک ذریعہ یہ بھی ہے کہ دنیا میں انسا ن کو جو کوئی تکلیف، پریشانی یا مصیبت آتی ہے تو اس کو بھی اللہ تعالیٰ مغفرت کا ذریعہ بنادیتے ہیں۔5 تو یہ پوری روایت ہے، جسے کسی موقع پر راوی نے اس طرح مختصر کر کے بیان کر دیا ہے کہ ہر برے عمل کا بدلہ دنیا میں ہی مل جائے گا۔
مطیع سید: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کی جو یہ تفسیر بیان فرمائی ہے، کیا وہ کچھ دوسری آیات کی روشنی میں بیان فرمائی ہے؟ کیونکہ بہ ظاہر تو آیت میں اس کی وضاحت موجود نہیں ہے۔
عما رناصر: یہ اچھا سوال ہے۔ آپ نے گناہوں کی تلافی کا جو طریقہ بیان فرمایا ہے، وہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ اصولوں کی روشنی میں فرمایا ہے، جن کا قرآن مجید میں کئی جگہ ذکر ہوا ہے۔ مثلاً ایک جگہ فرمایا ہے کہ نیکیاں کرنے سے بھی صغیرہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں: ’إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ‘ (ہود 11: 114)۔ ایک جگہ فرمایا ہے کہ اگر اہل ایمان کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتے رہیں تو اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے صغیرہ گناہ اپنے فضل سے ہی معاف فرما دیں گے: ’إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ‘ (النساء 4: 31)۔ اسی طرح اس کا ذکر بھی قرآن میں ہوا ہے کہ انسانوں پر آنے والے بہت سے مصائب اور تکلیفیں ان کے اعمال کی پاداش میں آتے ہیں: ’ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ‘(الروم 30: 41)۔
البتہ یہ بات ملحوظ رکھنی چاہیے کہ یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم دراصل آیت کی تفسیر نہیں بیان فرما رہے۔ آیت تو جس سیاق میں آئی ہے، اس کا مدعا یہ بتانا نہیں ہے کہ انسان کو اس کی ہر ہر برائی کا بدلہ ملے گا، اصل مقصود اس بات کی تردید ہے کہ کسی بھی مذہبی گروہ کو، چاہے وہ اہل کتاب ہوں یا مسلمان، اللہ تعالیٰ کی طرف سے گناہوں کے مواخذے سے کوئی استثنا حاصل نہیں۔ قرآن مجید کے دیگر نظائر کو سامنے رکھیں تو اس کا روے سخن دراصل یہود کی طرف ہے، جن کا خیال یہ تھا کہ وہ خدا کی برگزیدہ اور محبوب قوم ہیں اور ان کے گناہوں پر چند دن کے عذاب کے سوا کوئی مواخذہ نہیں کیا جائے گا۔6 ان کا حوالہ دے کر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو بھی اس غلط فہمی پر متنبہ فرما دیا ہے۔ البتہ آیت کے الفاظ سے حضرت ابوبکر اور صحابہ کو یہ تاثر ہوا کہ جب اللہ کا مواخذے کا قانون اتنا بے لاگ ہے تو پھر ہر ہر گناہ کی سزا ضرور ملے گی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دراصل ان کے اضطراب کو پیش نظر رکھ کر ان کو تسلی دے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سزا تو دیتے ہیں، لیکن انسان کی دنیوی تکالیف اور آزمایشیں بھی سزا ہی کی ایک صورت ہیں۔ یہ آیت کی تفسیر نہیں ہے۔
مطیع سید: حضرت ابوبکر صدیق کا ایک خطبہ ہے، جس میں وہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ عافیت ایمان کے بعد بہت بڑی چیز ہے(رقم 34)۔یہ خطبہ ان کی مسانید میں کئی دفعہ آیا ہے اور ان روایات میں ایک بے ترتیبی سی ہے۔اس سے بھی لگتا ہے کہ امام صاحب کو نظرِ ثانی کا موقع نہیں ملا۔
عمار ناصر:درست ہے۔ اس طر ح کی ترتیب کا انھوں نے لحاظ نہیں رکھا یا انھیں موقع نہیں ملا، یہ دونوں وجہیں ہو سکتی ہیں۔
مطیع سید:عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی ایک روایت ہے، جس میں وہ بتاتے ہیں کہ صحابہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کھودنے لگے تو حضرت عباس نے ایک آدمی کو ابو عبیدہ بن جراح کی طرف اور دوسرے کو ابو طلحہ کی طرف بھیجا۔ ابوعبیدہ اہل مکہ کے طریقے کے مطابق سیدھی قبر کھودتے اور ابوطلحہ اہل مدینہ کے طریقے کے مطابق لحد تیار کرتے تھے (رقم 39)۔ اس روایت کے نہ راوی حضرت ابوبکر صدیق ہیں اور نہ ان کاکوئی قول ہے، تو پھر اسے حضرت ابوبکر کی مسند میں کیوں درج کیا گیا ہے؟
عمار ناصر: اصل میں ابن عباس کی جو پوری روایت ہے، اس میں اس کے بعد یہ بھی ذکر ہے کہ صحابہ کا اس پر اختلاف ہو گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کس جگہ دفن کیا جائے۔ اس پر حضرت ابوبکر نے روایت بیان کی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا کہ نبی کا جس جگہ انتقال ہو، اسے وہیں دفن کیا جاتا ہے۔7 امام احمد نے جو روایت نقل کی ہے، یہ اسی پوری روایت کا ایک ٹکڑا ہے۔ ہو سکتا ہے، پوری روایت بھی مسودے میں درج کی ہو یا کرنے کا ارادہ ہو، لیکن درج نہ کر سکے ہوں۔ بہرحال پوری روایت میں چونکہ حضرت ابوبکر کا بھی ذکر ہے، اس لیے مناسبت واضح ہے۔
مطیع سید: عقبہ بن حارث کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے کچھ دن بعد عصر کی نماز پڑھ کر حضرت ابوبکر کے ساتھ مسجد سے نکلا اور حضرت علی بھی ان کے ساتھ تھے۔ راستے میں انھوں نے حسن بن علی کو بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا تو حضرت ابوبکر نے انھیں اٹھا کر اپنے کندھے پر بٹھا لیا اور کہنے لگے کہ حسن کی شباہت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ زیادہ ہے، علی کے ساتھ نہیں ہے، اور حضرت علی یہ سن کر ہنس رہے تھے (رقم 40)۔ اس روایت سے تو یہ لگتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور حضرت ابوبکر کے خلیفہ بننے کے بعد سیدنا ابوبکر اور سیدنا علی کے ذاتی تعلقات بہت خوش گوار تھے اور کوئی خاص ناراضی نہیں تھی۔ لیکن صحیح بخاری کی روایت میں حضرت عائشہ بتاتی ہیں کہ حضرت علی نے حضرت فاطمہ کی وفات تک حضرت ابوبکر کی بیعت نہیں کی۔ پھر ان کی وفات کے بعد لوگوں کا رویہ حضرت علی کے ساتھ بدل گیا تو انھیں صلح کی ضرورت محسوس ہوئی اور انھوں نے پیغام بھیج کر حضرت ابوبکر کو اپنے گھر بلایا اور ان سے شکوہ شکایت کی۔ پھر اس کے بعد مسجد میں جا کر ان کی بیعت کی۔8 اس روایت سے یہ لگتا ہے کہ دونوں کے تعلقات بہت ہی کشیدہ تھے۔
عمار ناصر: بالکل، حضرت حسن والے واقعے سے بھی اور اس کے علاوہ کئی اور واقعات سے بھی اس تاثر کی تائید نہیں ہوتی کہ ان دونوں حضرات کے مابین ذاتی تعلقات میں کوئی کشیدگی تھی جو حضرت فاطمہ کی وفات تک قائم رہی۔ اسی طرح یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اتنے عرصے تک حضرت علی مسلمانوں کے معاملات سے الگ تھلگ رہے اور فیصلوں میں شریک نہیں ہوئے۔ ابن کثیر نے حضرت حسن کے اسی واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی نمازیں حضرت ابوبکر کے پیچھے ہی ادا کرتے تھے۔9 اس کے علاوہ، اور بھی شواہد ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ وہ سیدنا ابوبکر اور صحابہ کے ساتھ مشاورت میں بھی شریک رہتے تھے۔ مثلاً ایک واقعہ سیدہ عائشہ نے ہی نقل کیا ہے کہ سیدنا ابوبکر نے مرتدین کے خلاف بھیجے جانے والے لشکر کی قیادت خود کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور لشکر کے ساتھ مدینہ سے نکل کر کئی میل دور تک چلے بھی گئے تھے، لیکن سیدنا علی نے انھیں ایسا کرنے سے منع کیا اور کہا کہ اگر آپ جنگ میں شہید ہو گئے تو مسلمانوں کا پورا نظام درہم برہم ہو جائے گا، اس لیے آپ کو بہ ذات خود نہیں جانا چاہیے۔ 10 دیگر تاریخی روایات میں بھی اس واقعے کا ذکر ہے۔11 یہ واقعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے دو ڈھائی ماہ بعد کا ہے اور ظاہر ہے کہ اگر حضرت علی نے اس وقت تک بیعت نہیں کی تھی تو یہ گفتگو بھی نہیں کر سکتے تھے۔
اصل میں حضرت علی اور حضرت زبیر کے متعلق یہ بات تو عموماً تاریخی روایات میں بیان ہوئی ہے کہ یہ حضرات سیدنا ابوبکر کی بیعت کے سلسلے میں مشورے میں شامل نہ کیے جانے پر رنجیدہ تھے اور اس کا انھوں نے اظہار بھی کیا، اور پھر شکوہ شکایت کے بعد بیعت بھی کر لی۔ لیکن زیادہ تر تاریخی روایات کے مطابق یہ معاملہ زیادہ لمبے عرصے تک نہیں چلا۔ بعض روایات کے مطابق اسی موقع پر اور بعض کے مطابق ایک دو دن کے وقفے سے انھوں نے بیعت کر لی تھی۔ ابن سعد، طبری، بلاذری اور دیگر مورخین نے تفصیل سے یہ روایات نقل کی ہیں۔ پورے ذخیرے میں صرف سیدہ عائشہ کی یہ روایت ہے، جس میں یہ کہا گیا ہے کہ حضرت فاطمہ کی وفات تک، یعنی چھ ماہ تک حضرت علی بیعت سے رکے رہے اور اس کے بعد بیعت پر آمادہ ہوئے۔ اب اس کو چونکہ امام بخاری نے صحیح میں نقل کر دیا ہے تو اس کی ایک خاص اہمیت بن گئی ہے اور بہت سے اہل علم اسی کو زیادہ معتبر روایت قرار دیتے ہیں۔ بہرحال بعض اکابر محدثین، مثلاً امام بیہقی اور ابن کثیر نے اس پر سوالات بھی اٹھائے ہیں اور دیگر روایات کی روشنی میں یہ توجیہ کی ہے کہ غالباً حضرت فاطمہ کی وفات کے بعد سیدنا علی نے دوبارہ اپنی بیعت کی توثیق کی ہوگی۔12 لیکن حضرت عائشہ کی روایت بہ ظاہر اس توجیہ کو قبول نہیں کرتی۔ زیادہ بہتر استدلال یہ ہے کہ دیگر تمام روایات کی روشنی میں سیدہ کی اس روایت کو شاذ مانا جائے۔
مطیع سید: حضرت عائشہ کی اسی روایت میں یہ بھی ذکر ہے کہ سیدہ فاطمہ اپنی وفات تک فدک کے قضیے کی وجہ سے سیدنا ابوبکر سے ناراض رہیں اور جب ان کی وفات ہوئی تو سیدنا علی نے سیدنا ابوبکر کو اطلاع دیے بغیر رات کے وقت ان کی تدفین کر دی۔
عمار ناصر: جی، یہ بھی اس میں بیان ہوا ہے، لیکن دیگر روایات سے اس بات کی بھی تائید نہیں ہوتی۔ اس پر سب سے اہم اشکال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیدہ فاطمہ کی علالت کے دوران میں ان کی تیمارداری سیدنا ابوبکر کی اہلیہ اسماء بنت عمیس کر رہی تھیں اور انھوں نے ہی وفات کے بعد ان کو غسل دیا اور ان کی تجہیز وتکفین کا انتظام کیا تھا۔13 اب یہ بڑی عجیب بات ہوگی کہ حضرت ابوبکر کی اہلیہ ان کے اتنے قریب ہوں اور تجہیز وتکفین میں شریک ہوں اور سیدنا ابوبکر کو اس معاملے کی بالکل کوئی خبر نہ ہو۔ حضرت فاطمہ کی تدفین رات کے وقت کی گئی ہو اور اس میں زیادہ لوگوں کو، خصوصاً مردوں کو شریک نہ کیا گیا ہو، اس کی وجہ تو سمجھ میں آتی ہے؛ سیدہ ستر وغیرہ کے معاملے میں بہت حساس تھیں اور روایات میں بیان ہوا ہے کہ وہ فرماتی تھیں کہ مرنے کے بعد جب خواتین کی میت کو چارپائی پر رکھا جاتا ہے تو ان کے جسم کے خط وخال پر مردوں کی بھی نظر پڑتی ہے، جو مجھے بہت برا لگتا ہے۔ چنانچہ انھی کی خواہش پر اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے یہ طریقہ تجویز کیا، جو انھوں نے اہل حبشہ کے ہاں دیکھا تھا کہ میت کی چارپائی سپاٹ نہیں ہوتی، بلکہ اس کے اوپر ذرا اونچائی پر کپڑا تان دیا جاتا ہے جس سے میت کے جسم کے ابھار نظر نہیں آتے۔ سیدہ نے اس طریقے کو پسند کیا اور اسماء کو وصیت کی کہ میری وفات کے بعد ایسے ہی کرنا اور کسی کو بھی میرا جسم نہ دیکھنے دینا۔14
اب سیدہ کی اس حساسیت کی وجہ سے ان کو رات کے وقت دفنانے اور غیر محرم مردوں کو اس موقع پر اطلاع نہ دینے کا اہتمام کیا گیا ہو، یہ تو قابل فہم ہے، لیکن یہ کہ حضرت ابوبکر اس سے بالکل بے خبر تھے یا ان کو قصداً بے خبر رکھا گیا، یہ بہت ہی بعید از قیاس بات لگتی ہے، بلکہ اسی روایت میں یہ بیان ہوا ہے کہ حضرت فاطمہ کی وصیت کے مطابق اسماء بنت عمیس نے ان کی میت پر کپڑا تان دیا اور حضرت عائشہ آئیں تو ان کو بھی سیدہ کا جسم نہیں دیکھنے دیا۔ اس پر حضرت عائشہ نے حضرت ابوبکر سے شکایت کی کہ آپ کی اہلیہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کی میت نہیں دیکھنے دے رہیں۔ حضرت ابوبکر ان کے پاس گئے اور ان سے اس کی وجہ پوچھی تو انھوں نےبتایا کہ یہ فاطمہ کی وصیت تھی۔ یہ معلوم ہونے پر حضرت ابوبکر نے ان سے کہا کہ جیسے فاطمہ نے وصیت کی ہے، اسی کے مطابق کرو۔15 اس روایت سے تو اس کی بالکل نفی ہو جاتی ہے کہ سیدنا ابوبکر کی بے خبری میں حضرت فاطمہ کی تدفین کر دی گئی۔
مطیع سید: مولانا محمد نافع نے اپنی کتاب ’’رحماء بینہم“ میں تو ایسی روایات کا بھی ذکر کیا ہے جن سے معلوم ہوتا ہےکہ سیدہ کی نماز جنازہ بھی حضرت ابوبکر نے ہی پڑھائی تھی۔
عمار ناصر: نماز جنازہ کے متعلق بھی کافی مختلف روایات ہیں۔ ابن سعد نے ان کا ذکر کیا ہے۔ بعض میں حضرت عباس کا ذکر ہے، بعض میں یہ ہے کہ حضرت علی نے خود پڑھائی تھی اور بعض میں حضرت ابوبکر کے نماز جنازہ پڑھانے کا ذکر ہے۔ بہ ظاہر یہ تینوں شخصیات ایسی ہیں کہ اگر ان میں سے کسی نے بھی نماز جنازہ پڑھائی ہو تو اسے قرین قیاس مانا جا سکتا ہے۔ حضرت علی سیدہ کے شوہر تھے، حضرت عباس بنو ہاشم کے بڑے بزرگ تھے اور حضرت ابوبکر خلیفۃ المسلمین تھے۔ لیکن واقع میں کس نے پڑھائی، یہ یقین سے کہنا مشکل ہے۔ میرے خیال میں اگر ستر کے متعلق سیدہ کی حساسیت کی وجہ سے ان کو رات کے وقت دفنانے کا اہتمام کیا گیا تو پھر زیادہ قرین قیاس یہ ہے کہ حضرت علی نے نماز جنازہ بھی خود ہی پڑھائی ہوگی۔
[باقی]
- ۔ مسند احمد، رقم 24467۔
- ۔ مسند احمد، رقم 19808۔
- ۔ مسند احمد، رقم 37۔
- ۔ الطبقات الکبریٰ، ابن سعد 3/ 319۔
- ۔ مسند احمد، رقم 76۔
- ۔ البقرہ 2: 80۔
- ۔ سنن ابن ماجہ، رقم 597۔
- ۔ صحیح بخاری، رقم 4241۔
- ۔ البدایۃ والنہایہ 8/189۔
- ۔ تاریخ دمشق، ابن عساکر 30/316۔
- ۔ البدایۃ والنہایہ 6/346، 8/189۔
- ۔ البدایۃ والنہایہ 9/417۔
- ۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم 7011۔
- ۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم 7011۔
- ۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم 7011۔