مواد پر جائیں

مطالعۂ مسندِ احمد

ڈاکٹر عمار خان ناصر/ ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن اردو

(مسندِ احمد کی احادیث سے متعلق استفسارات اور ان کا جواب)

(5)

مسند عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ

مطیع سید: حضرت عمر کے متعلق عام طور پر بتایا جاتا ہے کہ وہ کثرت روایت کے قائل نہیں تھے، لیکن ان کی روایات کی تعداد حضرت ابوبکر کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ زیادہ عرصہ آپ کے بعد زندہ رہے؟

عمار ناصر: جی، ایسا ہی ہے۔ وہ چودہ پندرہ سال زندہ بھی رہے اور ان کے عہد خلافت میں بہت سے ایسے معاملات بھی ان کے سامنے آئے جن میں حضرت عمر کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کی تلاش اور تحقیق کرنی پڑی یا بہت سی احادیث جو ان کے علم میں تھیں، وہ بیان کرنی پڑیں۔ اس لیے بدیہی طور پر ان کی مرویات کی تعداد زیادہ ہے۔

مطیع سید: بعض احادیث سے حضرت عمر واقف نہیں تھے، حالاں کہ وہ صحابہ میں بہت معروف تھیں۔ جیسے انھوں نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی کہ کسی کے گھر جا کر تین دفعہ اجازت مانگنی چاہیے اور کوئی جواب نہ ملے تو واپس چلے جانا چاہیے۔ اس پر حضرت عمر نے ان سے کہا کہ اس پر کوئی گواہ لے کر آؤ، ورنہ میں سزا دوں گا(ترمذی، رقم2690)۔ یہ تو روزمرہ کے آداب زندگی سے متعلق ایک حدیث تھی، حضرت عمر اس سے کیسے ناواقف رہے؟ وہ تو ہر وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے۔

عمار ناصر: ایسا ہو جانا بعید تو نہیں۔ بعض دفعہ بہت قریبی تعلق رکھنے والے بھی کسی اہم بات سے بے خبر ہوتے ہیں۔ ویسے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اہتمام تو کرتے تھے کہ آپ نے ان کی غیر موجودگی میں جو اہم باتیں ارشاد فرمائی ہوں، ان کے علم میں آتی رہیں۔ انھوں نے اپنے ایک ساتھی کے ساتھ باری تقسیم کی ہوئی تھی۔ ایک دن حضرت عمر تجارت وغیرہ کے معاملات کو دیکھتے تھے اور ان کا ساتھی مسجد نبوی میں حضور کے ساتھ رہتا تھا۔ دوسرے دن وہ تجارت کو دیکھتا تھا اور حضرت عمر آپ کے ساتھ رہتے تھے اور پھر دونوں ایک دوسرے کو اہم باتوں کی خبر دے دیا کرتے تھے( بخاری، رقم89)۔ اس کے باوجود کچھ اہم باتیں ان کے علم میں نہ آئی ہوں تو یہ بعید از امکان نہیں۔

مطیع سید: شام سے کچھ لوگ آئے اور حضرت عمر سے کہا کہ ہمارے پاس گھوڑے اور غلام ہیں اور ہم ان کی زکوٰۃ ادا کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت عمر نے کہا کہ یہ کام نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر نے نہیں کیا، اس لیے میں صحابہ سے اس کے متعلق مشورہ کروں گا۔ پھر حضرت علی نے مشورہ دیا کہ اگر یہ ان پر مستقل طور پر لازم نہ کی جائے جو آپ کے بعد بھی ان سے وصول کی جاتی رہے تو پھر ان سے زکوٰۃ لے لیں (رقم 82)۔ اس سے تو ایسا لگتا ہے کہ صحابہ نے وقتی طور پر ان کی زکوٰۃ وصول کی، مستقل طور پر زکوٰۃ عائد کرنے کے قائل نہیں تھے۔ اس کی کیا وجہ تھی؟ کیا وہ زکوٰۃ کے حکم کو کچھ خاص اموال تک محدود سمجھتے تھے؟

عمار ناصر: یہ اچھا سوال ہے، اس سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ اجتہاد اور قیاس کا عمل امت میں کیسے آگے بڑھا ہے۔ اگر آپ قرآن کے الفاظ کو دیکھیں تو اس میں عموم ہے: ’ خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً‘،’’ تم اُن کے مالوں کا صدقہ قبول کر لو ‘‘(التوبہ103:9)۔ اس میں کسی خاص مال کی تعیین نہیں ہے۔ قیاساً‌ بھی دیکھا جائے تو ہر طرح کے مال میں زکوٰۃ ہونی چاہیے۔ لیکن ہماری فقہی روایت اس نتیجے تک ایک دم نہیں پہنچ گئی، بلکہ کچھ اجتہادی مراحل سے گزر کر یہ موقف اختیار کیا گیا ہے۔ اصل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور میں جن چیزوں کی زکوٰۃ وصول کی، وہ تو وہی اموال تھے، جو اس وقت عرب کے لوگوں کے پاس عموماً‌ ہوتے تھے۔ آپ نے سونا چاندی کی، زرعی پیداوار کی اور مواشی میں سے اونٹوں، گایوں اور بکریوں کی زکوٰۃ وصول کی، لیکن گھوڑے اور غلام کے متعلق فرمایا کہ میں نے ان کی زکوٰۃ معاف کر دی ہے۔ زرعی پیداوار میں بھی آپ نے سبزیوں اور ترکاریوں کی زکوٰۃ نہیں لی، صرف کھجور اور گندم اور جو وغیرہ کی زکوٰۃ لی۔

اس پس منظر میں صحابہ اور تابعین کے ہاں عام رجحان یہی تھا کہ زکوٰۃ اصلاً‌ مال کی انھی اقسام پر عائد کی گئی ہے۔ حضرت عمر اور حضرت علی کے اس مکالمے میں بھی یہی رجحان جھلک رہا ہے۔ روایات میں ہے کہ انھوں نے اہل شام کے گھوڑوں اور غلاموں کی زکوٰۃ ان کے اصرار پر قبول تو کر لی، لیکن بدلے میں ان کے غلاموں کے لیے بیت المال سے وظیفہ بھی جاری کر دیا (الاموال، ابو عبید، رقم 1365، 1366)۔ پھر زرعی پیداوار کی بھی جو نئی اقسام سامنے آئیں، ان کے متعلق صحابہ وتابعین میں اختلاف راے رہا کہ ان سے زکوٰۃ لینی چاہیے یا نہیں۔ بعض فقہا کی راے یہ تھی کہ صرف ان اصناف کی زکوٰۃ لینی چاہیے، جن کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لی ہے، لیکن دوسرے فقہا نے دوسری اجناس، مثلاً‌ مکئی، زیتون، چاول اور دالوں وغیرہ کی بھی زکوٰۃ لینے کو درست قرار دیا۔ پہلے دور میں فقہا کے مابین یہ اختلاف عموماً‌ قائم رہا ہے۔ ایک بڑے گروہ کی یہی راے تھی اور آپ تیسری صدی میں ’’کتاب الاموال‘‘ کے مصنف امام ابوعبید کو دیکھیں تو ان کا رجحان بھی یہی تھا کہ زکوٰۃ صرف ان خاص اموال میں ہے، جن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لی، ان کے علاوہ باقی اموال میں زکوٰۃ نہیں ہے۔

مطیع سید: قیاس کے مطابق تو یہی بات لگتی ہے کہ ہر طرح کے مال میں زکوٰۃ ہونی چاہیے۔ جو فقہا صرف خاص اموال میں زکوٰۃ کے قائل تھے، کیا وہ قیاس کو درست نہیں سمجھتے تھے؟ اگر وہ قیاس کو مانتے تھے تو پھر کس بنیاد پر یہ راے رکھتے تھے؟

عمار ناصر: نہیں، ان کی راے کی وجہ قیاس کا انکار نہیں۔ قیاس کو تو وہ مانتے تھے، لیکن اس خاص مسئلے میں ان کا اختلاف ا س نکتے میں تھا کہ زکوٰۃ کے واجب ہونے کی بنیادی علت شریعت کی نظر میں کیا ہے؟ اگر تو یہ صرف مال ہونا ہے تو پھر ہر مال میں زکوٰۃ ہونی چاہیے، لیکن وہ یہ سمجھتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مختلف قسم کے اموال میں سے کچھ خاص اقسام کی زکوٰۃ وصول کی اور باقی کی نہیں کی، بلکہ صراحت سے فرمایا کہ میں ان کی زکوٰۃ معاف کرتا ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ شریعت زکوٰۃ کو ان خاص اموال تک محدود رکھنا چاہتی ہے۔ امام ابوعبید نے بعض اہل علم سے اس کی تعلیل یوں نقل کی ہے کہ شریعت کا مقصد دراصل فقرا اور مساکین کی خوراک کی ضرورت کو پورا کرنا ہے، اس لیے اس نے غذائی اجناس میں سے صرف گندم، جو اور کھجور کی اور جانوروں میں سے صرف اونٹوں، گایوں اور بکریوں کی زکوٰۃ مقرر کی ہے تاکہ غربا ان اجناس کو کھا کر اور جانوروں کا دودھ پی کر پیٹ بھر سکیں۔ چنانچہ یہ حضرات قیاس کے منکر نہیں تھے، لیکن اس حکم کی اصل علت کیا ہے؟ اس میں ان کا نقطۂ نظر مختلف تھا۔ بہرحال جیسے جیسے تمدن بدلتا چلا گیا اور اموال کی دوسری قسمیں زیادہ کارآمد اور اہم ہوتی چلی گئیں، فقہا میں بھی یہ رجحان زیادہ عام ہوتا چلا گیا کہ ہر قسم کے مال میں زکوٰۃ واجب ہے۔ جدید دور کے اہل علم میں تو ہر طرح کے اموال میں زکوٰۃ واجب ہونے پر تقریباً‌ اتفاق ہے۔ یوسف القرضاوی صاحب کی ’’فقہ الزکوٰۃ‘‘ میں آپ اس بحث کو دیکھ سکتے ہیں۔

مطیع سید: بنو تغلب کا ایک عیسائی مسلمان ہوا اور اس نے حج او رعمرے کا اکٹھا احرام باندھ لیا۔ کسی نے اس کے اس عمل پر اسے بے وقوف قرار دیا۔ وہ پریشان ہو کر حضر ت عمر کے پاس گیا تو انھوں نے فرمایا کہ پریشان ہونے کی بات نہیں، تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ہی کام کیا ہے(رقم83)۔لیکن دوسری طرف ان کے بارے میں یہ بھی آتا ہے کہ وہ حج تمتع سے منع کرتےتھے۔ ایک طرف وہ اسے سنت تسلیم کر رہے ہیں اور دوسری طرف منع بھی فرماتے تھے؟

عمار ناصر: نہیں، یہ تو تمتع نہیں تھا، یہ قران تھا۔ قران میں عمرہ اور حج ایک ہی احرام سے ادا کیا جاتا ہے، عمرے کے بعد احرام کھولا نہیں جاتا۔ تمتع میں ایک ہی سفر میں پہلے عمرہ ادا کر کے احرام کھول لیا جاتا ہے اور اس کے بعد حج کا احرام الگ باندھا جاتا ہے۔ حضرت عمر حج تمتع سے منع کرتے تھے تاکہ لوگ درمیان میں احرام نہ کھولیں۔

مطیع سید: حضرت عمر حج میں مزدلفہ سے منیٰ کی طرف طلوع ِ آفتا ب سے قبل ہی روانہ ہو گئے اور وجہ یہ بتائی کہ مشرکین طلوعِ آفتاب کے بعد روانہ ہوتے تھے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت کی اور طلوع آفتاب سے پہلے مزدلفہ سے روانہ ہو گئے (رقم84)۔ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وقتی مصلحت کے تحت مشرکین کی مخالفت کے لیے ایسا کیا تھا تو پھر حضرت عمر بعد میں اس پر اہتمام سے کیوں عمل کر رہے ہیں؟

عمار ناصر: نہیں، اس میں مشرکین کی مخالفت صرف ان سے امتیاز قائم کرنے کے لیے نہیں تھی۔ مزدلفہ سے طلوع آفتاب سے پہلے روانہ ہونے کا فیصلہ آپ نے دراصل زمانۂ جاہلیت میں لوگوں کی ایک خود ساختہ پابندی کی اصلاح کے لیے کیا تھا، یعنی مشرکین نے اپنی طرف سے ہی ایک پابندی عائد کی ہوئی تھی کہ سورج کے طلوع ہونے تک ہم مزدلفہ میں ہی رکیں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اصلاح فرمائی کہ اس کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں، طلوع آفتاب سے پہلے بھی نکل سکتے ہیں۔ اسی لیے حضرت عمر نے بھی آپ کی پیروی میں اسی وقت کا انتخاب کیا۔

مطیع سید: حضرت عمر کے ہاں بعض چیزوں میں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعینہٖ پیروی کرنے کا رجحان نظر آتا ہے، چاہے وہ وجہ باقی نہ رہی ہو۔ جیسے طواف کے تین چکروں میں رمل کرنے کے متعلق بھی انھوں نے کہا کہ اگر چہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو طاقت دے دی ہے، لیکن ہم اسے جاری رکھیں گے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم یہ کرتے آ رہے ہیں (رقم317)۔ لیکن دوسرے کئی موقعوں پر حضرت عمر کا موقف اس سے مختلف دکھائی دیتا ہے، جیسے مولفۃ القلوب کے متعلق انھوں نے کہا کہ اب ان کو زکوٰۃ دینے کی ضرورت نہیں، کیونکہ اب اسلام کو قوت حاصل ہو چکی ہے۔ تو ایسا کس بنیاد پر ہے کہ وہ بہت ساری چیزوں میں کہتے نظر آتے ہیں کہ ہم یہ عمل ویسے ہی کریں گے، جب کہ کئی چیزوں میں اس سے مختلف طریقہ اختیار کر لیتے ہیں؟

عمار ناصر: میرے خیال میں حضرت عمر کا رجحان یہ تھا کہ جن معاملات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو ترک کرنے کا کوئی باعث نہیں، اس کو ویسے ہی قائم رکھا جائے، چاہے وہ عمل آپ نے کسی وقتی مناسبت سے کیا ہو۔ مثلاً‌ طواف میں تین چکر تیز چلتے ہوئے لگانے کا عمل اگرچہ ایک خاص پس منظر میں کیا گیا تھا،لیکن اس کو ترک کرنے کا کوئی خاص داعیہ بھی موجود نہیں۔ اگرچہ وہ خاص وجہ موجود نہیں رہی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عمل کیا اور مسلمان کرتے چلے آرہے ہیں تو اس کو چھوڑنے یا ترک کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ اس کے مقابلے میں جہاں کوئی دینی مصلحت یا ضرورت تقاضا کر رہی ہو کہ اس طریقے کو ترک کر دیا جائے تو وہاں وہ اجتہاد کو ترجیح دیتے تھے۔جیسے مولفۃ القلوب کی مد کو ضرورت نہ ہونے کی وجہ سے موقوف کر دینا ایک دینی مصلحت تھی۔ اسی طرح قرآن مجید کو ایک مصحف میں یکجا کر دینے کے معاملے میں آپ دیکھیں تو حضرت ابوبکر متردد تھے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا تو ہم کیسے کریں، لیکن حضرت عمر نے اصرار کیا کہ یہ ضروری کام ہے، اس کو کر لینا چاہیے۔

مطیع سید: عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک سفر میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو موزوں پر مسح کرتے دیکھا تو تعجب ظاہر کیا اور مدینہ واپس آ کر حضرت عمر سے اس کی تصدیق چاہی۔ اس پر حضرت عمر نے کہا کہ جب سعد تمھیں کوئی حدیث بیان کریں تو اس کے متعلق کسی اور سے نہ پوچھا کرو(رقم 88)۔ اس میں ایک سوال تو یہ ہے کہ موزوں پر مسح کے متعلق تو ہم سنتے ہیں کہ اس کی حدیثیں متواتر ہیں۔ لیکن اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر جیسے صحابی بھی اس رخصت سے واقف نہیں تھے۔ یہ کیا معاملہ ہے؟

عمار ناصر: حدیثوں کے متواتر ہونے کی بات تو بعد میں محدثین نے کہی ہے اور ان کے ہاں تواتر کا مفہوم مختلف ہے۔ جیسے ہم کہتے ہیں کہ قرآن مجید متواتر ہے اور دین کے بنیادی فرائض، جیسے نماز اور حج وغیرہ متواتر ہیں تو یہاں تواتر کا معنی یہ ہوتا ہے کہ پوری امت ان چیزوں کو نقل کر رہی ہے اور ان سے واقف ہے۔ لیکن جب محدثین کسی بات کے متعلق کہتے ہیں کہ اس کی روایات متواتر ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ بات بہت سی روایات میں بیان ہوئی ہے اور جب ہم نے ان سب روایات کو جمع کر کے دیکھا تو یہ یقین پیدا ہو گیا کہ یہ بات درست ہے، اس کو نقل کرنے میں کوئی غلطی نہیں ہوئی۔ چنانچہ اس مفہوم میں محدثین موزوں پر مسح کی روایت کو اور اس طرح کے دوسرے واقعات کو متواتر کہتے ہیں۔ آپ اس کو دوسرے انداز میں یوں سمجھ سکتے ہیں کہ فقہا کے ہاں متواتر کا اطلاق اس پر ہوتا ہے، جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے ہی مسلمانوں کی پوری جماعت واقف ہو۔ اگر حضور کے یا صحابہ کے دور میں کوئی بات اس طرح معلوم ومعروف نہ ہو تو وہ متواتر نہیں ہے، چاہے بعد کے دور میں وہ بہت مشہور ہو جائے۔ حنفی فقہا نے ایسی روایات کے لیے ’خبر مشہور‘ کی الگ اصطلاح وضع کی ہے، یعنی جو حضور کے زمانے سے تو متواتر نہ ہو، لیکن صحابہ یا تابعین کے دور میں جستجو اور تحقیق سے معروف ہو گئی ہو۔ محدثین کی اصطلاح اس سے مختلف ہے۔ اگر تیسری چوتھی صدی میں بھی کسی روایت کے بہت سے طرق جمع کرنے سے یہ اطمینان ہو جائے کہ واقعہ درست ہے تو محدثین اس کو بھی سند کے لحاظ سے متواتر کہہ دیتے ہیں۔

مطیع سید: دوسرا سوال یہ کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمل کبھی کبھار کیا تھا، جس کی وجہ سے کچھ صحابہ اس کو جانتے تھے اور کچھ نہیں جانتے تھے؟

عمار ناصر: زیادہ تر روایات میں یہی بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح سفر کی حالت میں کیا۔ حضر میں مسح کی روایتیں بہت کم ہیں۔ پھر سفر میں بھی، ظاہر ہے کہ سارے صحابہ ہر وقت حضور کے قریب نہیں ہوتے تھے۔ اس لیے جن صحابہ کو سفر میں آپ کے قریب ہونے کی وجہ سے یہ عمل دیکھنے کا موقع ملا، وہ واقف تھے اور دوسرے صحابہ واقف نہیں تھے۔ حضرت عائشہ سے اسی لیے جب موزوں پر مسح کی مدت کے متعلق پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ حضرت علی سے پوچھو، کیونکہ وہ عام طور پر سفر میں حضور کے ساتھ ہوتے تھے(مسلم، رقم 276)۔ امام مالک سے بھی ایک موقف یہ منقول ہے کہ وہ حضر میں موزوں پر مسح کے قائل نہیں تھے۔ اس کی وجہ بھی غالباً‌ یہی تھی کہ اس کے ثبوت کی روایات سفر کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔

مطیع سید: غالباً‌ امام ابوحنیفہ کے متعلق آتا ہے کہ انھوں نے اہل السنہ کی ایک پہچان یہ بتائی کہ وہ موزوں پر مسح کرتے ہیں۔ تو ایک ایسی بات کو جس سے سارے صحابہ بھی واقف نہیں تھے، وہ اسے اہل السنہ کی پہچان کیسے قرار دیتے ہیں؟

عمار ناصر: اس کا پس منظر مختلف ہے۔ دراصل مسلمانوں میں جو فرقہ بندی قائم ہو گئی تھی، اس میں مختلف گروہوں کی مذہبی شناخت میں خاص مسائل بن گئے تھے۔ مثلاً‌ رافضی حضرت ابوبکر اور حضرت عمر سے براءت کرتے تھے۔ خوارج حضرت عثمان اور حضرت علی، دونوں سے براءت کرتے تھے اور حدیثوں میں قرآن سے زائد جو بہت سے احکام آئے ہیں، جیسے رجم اور موزوں پر مسح اور دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنے کی ممانعت، ان کا انکار کرتے تھے۔ اس پس منظر میں امام ابوحنیفہ نے کہا کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کو باقی صحابہ سے افضل ماننا، اور حضرت عثمان اور حضرت علی، دونوں سے محبت رکھنا اور موزوں پر مسح کرنا، یہ اہل السنہ کا موقف ہے۔

مطیع سید: ایک روایت آتی ہے کہ ایک شخص نے تلوار کے وا رسے اپنے بیٹے کو قتل کر دیا تو حضرت عمر نے فرمایا کہ اگر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہ فرمایا ہوتا کہ باپ سے قصاص نہیں لیا جا سکتا تو میں تمھیں قتل کر دیتا (رقم98)۔ صحاح ستہ کے مطالعے میں آپ نے یہ فرق بتایا تھا کہ باپ ویسے ہی مارپیٹ کر رہا ہو اور اس دوران میں بچے کو ایسی سخت چوٹ لگ جائے جس سے اس کی موت واقع ہو جائے تو اس میں قصاص نہیں ہوگا۔ لیکن اگر باپ ارادتاً‌ بیٹے کو قتل کرتا ہے تو اس پر قصاص لیا جائے گا۔ یہاں تو بڑے صاف لفظ ہیں کہ باپ نے تلوار کے وار سے بیٹے کو قتل کر دیا اور حضرت عمر اس پر بھی یہی قانون جاری کر رہے ہیں کہ باپ سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔

عمارناصر: آپ کو یاد ہو تو ہم نے وہاں واضح کیا تھا کہ یہ فرق مالکیہ کا موقف ہے۔مالکیہ یہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کا محل یہ ہے کہ ارادۂ قتل کے بغیر باپ کے ہاتھوں بیٹا قتل ہو گیا ہو تو قصاص نہیں ہوگا، لیکن اگر باپ دانستہ اور ارادتاً قتل کرے تو وہاں یہ حکم نہیں ہوگا، بلکہ قصاص لیا جائے گا۔باقی فقہا کا یہ موقف نہیں ہے، وہ دونوں صورتوں میں قصاص نہ لینے کے قائل ہیں۔ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ بات بیان فرمائی تو اس کا کیا موقع تھا، چونکہ یہ روایت میں بیان نہیں ہوا،اس لیے یہ دونوں تعبیرات کی محتمل ہے۔ حضرت عمر کے واقعے میں بھی پوری تفصیل بیان نہیں ہوئی کہ قتل کی نوعیت کیا تھی۔ بہ ظاہر الفاظ سے ایسے لگتا ہے کہ باپ نے کچھ فاصلے سے تلوار اٹھا کر بیٹے کی طرف پھینکی اور وہ کاری ضرب لگنے سے مر گیا۔ ضروری نہیں کہ اس کا قتل کرنے کا ہی ارادہ ہو، یہ قتل خطا بھی ہو سکتا ہے۔ اگر یہ صورت ہے تو شاید حضرت عمر اس کو تہدید کے طور پر اور اس کی بے احتیاطی پر تنبیہ کرنے کے لیے فرما رہے ہیں کہ یہ حدیث نہ ہوتی تو میں تمھیں قتل کرا دیتا۔ لیکن اگر صورت ارادتاً‌ قتل کرنے کی تھی تو پھر یہ کہا جا سکتا ہے کہ حضرت عمر کی تفہیم بھی جمہور فقہا کے مطابق ہے۔ لیکن مالکیہ اس صورت میں کہہ سکتے ہیں کہ ہم صحابی کے فہم اور تشریح سے اتفاق کرنے کےبجاے قیاساً‌ حدیث کا محل طے کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اجتہادی امور میں اختلاف کی بہت گنجایش ہوتی ہے۔

مطیع سید: حضرت عمر فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے اپنی خالہ کو ایک غلام دیاہے،مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے لیے اسے باعثِ برکت بنائے گااور میں نے انھیں اس بات سے منع کیاہے کہ وہ اس کو حجام، قصاب یا سنار بنائیں (رقم102)۔ اس سے منع کرنے کی وجہ سمجھ میں نہیں آئی، ان پیشوں میں کوئی حرج تو معلوم نہیں ہوتا ؟

عمار ناصر:حجامت، یعنی پچھنے لگانے کے بارے میں تو احادیث میں ایک ظاہری سا تعارض ہے، جو محدثین کے ہاں زیر بحث آتا ہے۔ پچھنے لگانے کے پیشے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند بھی کیا،حجام بنانے سے بھی منع کیا، لیکن خود پچھنے لگو ائے بھی ہیں اور حجامت کرنے والے کو اجرت بھی دی ہے۔عام طو رپر محدثین اس طرح تطبیق دیتے ہیں کہ شرعی پہلو سے تو اس پیشے کی ممانعت یا حرمت نہیں ہے، لیکن چونکہ کام ایسا ہے کہ اس میں خون کو جسم سے کھینچنے کا کام منہ سے کرنا پڑتا تھا، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں طبعی کراہت محسوس کی۔ ایک نفیس آدمی کو گھن محسوس ہوتی ہے تو اس پہلو سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا، ورنہ پیشے کو آپ نے حرام نہیں کہا، اسی لیے خود لگوائے بھی اور اس کی اجرت بھی ادا کی۔

مطیع سید: اور دوسرے جو دو پیشے ہیں، ان سے کیوں منع فرمایا؟

عمار ناصر :ا ن میں بھی ایسا ہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو عمومی حکم نہیں دے رہے کہ قصاب کا پیشہ حرام ہے۔آپ کہہ رہے ہیں کہ میں نے اس غلام کے متعلق کہا ہے کہ اس کو قصاب نہ بنانا۔قصاب کا کام ہر وقت گو شت کاٹنے کا ہوتا ہے تو شاید ایک طبعی ناپسندیدگی کا آپ کے ہاں اظہار ہوا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ قصاب کے پیشے کے ساتھ اس ماحول میں کوئی ایسے پہلو جڑے ہوئے ہوں جو ناپسندیدہ ہوں۔ اسی طرح سنار کے متعلق بھی قیاس کیا جا سکتا ہے۔ شارحین کہتے ہیں کہ سنار کو زیور بناتے ہوئے ملاوٹ بھی کرنی پڑتی ہے اور اس میں کمی بیشی یا دھوکے کا موقع بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس پہلو سے آپ نے احتیاطاً‌ اس سے منع کیا، ورنہ ان پیشوں کے فی نفسہٖ ناجائز ہونے کو بیان کرنا مقصود نہیں ہے۔

مطیع سید: حضر ت عمر کو شام میں طاعون کی اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا کہ اگر میرا وقت آگیا اور ابو عبیدہ بن جراح زندہ ہوئے تومیں ان کو اپنا خلیفہ مقرر کردوں گا۔ یہ بات لوگوں کو پسند نہیں آئی اور انھو ں نے کہا کہ قریش کے بڑے قبیلوں، یعنی بنو فہر کا کیا بنے گا؟ (رقم108)۔ یہ بنو فہر کون تھے اور قریش میں ان کی کیا حیثیت تھی ؟

عمارناصر: فہر تو قریش ہی کا نام تھا، اور بنو فہر سے مراد پورا قبیلۂ قریش ہے۔ قریش کے اندر مختلف خاندان تھے اور ان میں سے کچھ خاندان، جیسے بنو ہاشم اور بنو امیہ افرادی تعداد اور سیاسی حیثیت کے لحاظ سے زیادہ نمایاں اور ممتاز تھے۔ باقی خاندان، جیسے بنو عدی اور بنو جمح اور بنو تیم وغیرہ چھوٹے خاندان تھے۔ پہلے دو خلفا کا تعلق ان چھوٹے خاندانوں سے ہی تھا۔ حضرت ابوبکر، بنو تیم سے تھے اور حضرت عمر کا تعلق بنو عدی سے تھا۔ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کا تعلق بنو جمح سے تھا۔ وہ چونکہ اکابر مہاجرین میں سے اور السابقون الاولون میں سے تھے، اس لیے حضرت عمر نے اپنا ارادہ ظاہر کیا کہ اگر میں کسی کو خلیفہ نام زد کروں گا تو وہ ابوعبیدہ ہوں گے۔ ان کا نام حضرت ابوبکر نے بھی سقیفہ بنی ساعدہ میں پیش کیا تھا۔ انھوں نے فرمایا کہ ابو عبیدہ یا عمر میں سے کسی کو خلیفہ منتخب کر لو۔ اب حضرت عمر نے جب تیسرے خلیفہ کے لیے بھی قریش کے ایک چھوٹے خاندان سے تعلق رکھنے والے صحابی کا نام لیا تو فطری طور پر لوگوں میں اور خاص طو ر پر قریش میں یہ سوال پیدا ہوا کہ بڑے خاندانوں، یعنی بنو ہاشم اور بنو امیہ کو خلافت سے دور کیوں رکھا جا رہا ہے؟

مطیع سید: اسی روایت میں ہے کہ حضرت عمر نے معاذ بن جبل کے بارے میں بھی فرمایا کہ میں ان کو خلیفہ مقرر کرنا، پسند کروں گا (رقم108)۔ اسی طرح ان کا ایک قول سالم مولیٰ ابی حذیفہ کے بارے میں بھی آتا ہے جو حضرت حذیفہ کے آزاد کردہ غلام تھے کہ اگر وہ زندہ ہوتے تو میں انھی کو اپنے بعد خلیفہ بنا دیتا (فضائل الصحابہ، ابن حنبل 2/742)۔ لیکن حضرت معاذ تو انصار میں سے تھے، قریش میں سے نہیں تھے۔ سقیفہ بنی ساعدہ میں انصار کے موقف کے جواب میں تو یہی موقف پیش کیا گیا تھا کہ عرب کے لوگ قریش کے علاوہ کسی کی سیادت قبول نہیں کریں گے۔ تو پھر حضرت عمر ایک انصاری صحابی کا یا ایک آزاد کردہ غلام کا نام کیسے لے رہے تھے کہ ان کو خلیفہ بنا دیا جائے؟ کیا قریش یا عرب کے لوگ ان کی سیادت قبو ل کر لیتے ؟

عمارناصر: یہ اصل میں کسی آدمی کی اہلیت کو بیان کرنے کا ایک انداز ہوتا ہے کہ اگر اس کا موقع آتا اور کوئی مانع نہ ہوتا تو میں ان لوگوں کو خلیفہ نام زد کرتا، کیونکہ وہ اس کے اہل ہیں کہ خلافت کی ذمہ داری انجام دیں۔ اشخاص کی تعریف کی جاتی ہے تو اس کے مختلف محل ہوتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ حضرت عمر ان کو باقاعدہ خلیفہ نام زد کر نے کے امکان کی یا گنجایش کی بات کر رہے ہوں۔ عام طور پر شارحین نے حضرت عمر کے ان اقوال کا یہی محل بیان کیا ہے۔ لیکن مجھے خیال ہوتا ہے کہ حضرت عمر خلافت اور قریش کے باہمی تعلق کو اس طرح نہیں دیکھتے تھے کہ یہ لازم وملزوم ہے یا ہمیشہ ایسے ہی رہنا چاہیے۔ سقیفہ بنی ساعدہ میں بھی قریش میں سے خلیفہ ہونے کا نکتہ سیاسی مصلحت کے پہلو سے بیان کیا گیا تھا، اور جہاں تک مجھے یاد ہے، حضرت ابوبکر نے اور بعض انصاری صحابہ نے بیان کیا تھا۔ حضرت عمر نے وہاں بھی یہ استدلال نہیں کیا۔ ان کا استدلال دراصل حضرت ابوبکر کی شخصیت کے حوالے سے تھا کہ ان کے ہوتے ہوئے کسی اور کا خلیفہ بننا اللہ اور اس کے رسول کی نظر میں قابل قبول نہیں ہوگا۔ لیکن وہ مرحلہ گزر جانے کے بعد اور حکومت میں استحکام واستقرار پیدا ہو جانے کے بعد حضرت عمر جب مستقبل کے امکانات پر غور کر رہے ہوں گے تو میرے خیال میں ان کا رجحان یہ بنا ہوگا کہ خلافت کے منصب کا تعلق سیاسی عصبیت کے بجاے افراد کی اہلیت کے ساتھ ہونا چاہیے۔ یعنی قابل اور اہل افراد اگر قریش کے علاوہ انصار میں یا دوسرے قبائل میں بھی ہوں تو ان کو یہ ذمہ داری ملنی چاہیے۔ اس کو آپ ایک طرح سے ان کی’ loud thinking‘ کہہ سکتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ وہ عملی حالات میں اس ارادے پر عمل کرنا چاہتے ہوں یا کر سکتے ہوں، لیکن وہ اس پہلو سے متعلق سوچ ضرور رہے تھے۔

مطیع سید: حضرت عمر نے لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جو رخصت دینی تھی، وہ دی۔ لیکن اللہ کے نبی اب دنیا سے تشریف لے جا چکے ہیں، اس لیے تم حج اور عمرہ بھی مکمل کرو، جیسے اللہ نے حکم دیا ہے اور اپنی عورتوں کی شرم گاہوں کو بھی محفوظ رکھو (رقم 104)۔ یہ حضرت عمر کیا بات کہہ رہے ہیں اور کس رخصت کی بات کر رہے ہیں؟

عمارناصر: یہاں وہ حج تمتع اور عورتوں کے ساتھ وقتی نکاح، یعنی متعہ کا ذکر کر رہے ہیں۔ کہنا یہ چاہ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کسی خاص مصلحت کے تحت یہ رخصت دی تھی کہ لوگ محدود مدت کے لیے عورتوں سے نکاح کر لیں اور حج کے سفر میں ساتھ ہی عمرہ بھی کر لیں، لیکن یہ شریعت کا اصل یا مستقل حکم نہیں ہے۔ اصل حکم یہ ہے کہ عمرے کے لیے الگ اور حج کے لیے الگ سفر کیا جائے؛ ایک سفر میں دونوں کو جمع نہ کیا جائے۔ اسی طرح عورتوں سے نکاح کیا جائے تو وہ مستقل رشتے کی نیت سے ہو، وقتی اور عارضی نکاح نہ کیا جائے۔ ایک اور بڑی مشہور روایت ہے، جس میں وہ کہتے ہیں کہ دو متعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوتےتھے، لیکن میں ان سے منع کرتاہوں۔ایک حج تمتع اور دوسرا متعۃ النساء (مستخرج ابی عوانہ، رقم 3349)۔

مطیع سید: اس سے تو پتا چلتا ہے کہ حضرت عمر متعۃ النساء کی طرح حج تمتع کو بھی وقتی نوعیت کا حکم سمجھتے تھے، لیکن آگے ایک روایت میں ہے کہ انھوں نے فرمایا کہ حج تمتع بھی سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے، لیکن میں نہیں چاہتا کہ لوگ پیلو کے درخت کے نیچے بیویوں کے ساتھ ہم بستری کریں اور صبح اٹھ کر حج کی نیت کرلیں(رقم 342)۔ یعنی ان کو ذاتی طور پر یہ پسند نہیں تھا اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ لوگ یہ فائدہ اٹھائیں۔ یہ ان کاذاتی ذوق تو ہو سکتا ہے، لیکن اس کی بنیاد پر وہ لوگوں کو کیوں منع فرما رہے ہیں؟ یہ موقف کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔

عمارناصر: اصل میں روایات میں حضرت عمر سے مختلف طرح کے استدلال منقول ہیں۔ بعض میں یہ ہے کہ انھیں حج کے سفر میں حرم کے اندر حاجیوں کا میاں بیوی کا تعلق قائم کرنا پسند نہیں تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ حج کے لیے لوگ حرم پہنچیں تو پھر حج مکمل کرنے سے پہلے ہم بستری وغیرہ سے دور رہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر جب حج کا احرام باندھنے والے صحابہ کو یہ حکم دیا کہ وہ عمرہ کر کے احرام کھول لیں تو اس وقت بھی صحابہ اسی وجہ سے متردد رہے اور کہا کہ اگر ہم احرام کھول لیں تو پھر حج کے دن آنے پر اس حالت میں منیٰ کی طرف جائیں کہ ہم نے تازہ تازہ بیویوں سے ہم بستری کی ہو؟ (مسلم، رقم 1216)۔ بعض دوسری روایات میں ہے کہ حضرت عمر نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ لوگ کثرت سے بیت اللہ کی زیارت کو آتے رہیں (السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم8877)۔ شاید ان کو یہ خدشہ تھا کہ اگر لوگوں نے حج کے ساتھ ہی عمرہ کرنا شروع کر دیا تو پھر وہ حج کے علاوہ بیت اللہ نہیں آئیں گے اور یہاں سال کے باقی مہینوں میں لوگوں کی آمد و رفت کم ہو جائے گی۔ اور بعض روایات میں یہ ہے کہ وہ اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دی گئی ایک وقتی رخصت سمجھتے تھے، جیسا کہ اس روایت میں بیان ہوا ہے، جو آپ نے ذکر کی ہے۔

اب ہو سکتا ہے کہ ان کا اصل موقف یہی ہو کہ حج تمتع ایک وقتی رخصت تھی، ورنہ حج اور عمرے کا الگ الگ سفر کرنا ہی شریعت میں مطلوب ہے۔ لیکن اس پر بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ رخصت تو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں تصریحاً‌ بیان کی ہے، اگرچہ اس کے ساتھ جانور کی قربانی کرنے یا روزے رکھنے کاحکم بھی دیا ہے ( البقرہ 2: 196)۔ یعنی اس رخصت کو وقتی اور عارضی کہنا بہت مشکل ہے۔ میرا خیال یہ ہے کہ ان کا اصل اشکال یہ تھا کہ حرم کے حدود میں لوگ عمرے کا احرام کھولنے کےبعد درختوں کے نیچے اور جہاں بھی جگہ ملے، بیویوں سے ہم بستر ہو رہے ہوں تو یہ کوئی اچھا منظر نہیں ہے۔ اس زمانے میں، ظاہر ہے کہ سارے حاجیوں کو چاردیواری میسر نہیں تھی اور اکثر کو کھلی جگہوں پر ٹھہرنا پڑتا تھا تو ایسے حالات میں ہم بستری کے لیے ضروری پردہ داری کا اہتمام ممکن نہیں تھا۔ اس صورت حال سے بچنے کے لیے حضرت عمر نے لوگوں کو منع کرنا چاہا اور پھر غالباً‌ تائید کے طور پر یا ضمناً‌ یہ استدلال کیا ہوگا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں دی گئی ایک وقتی رخصت تھی، ورنہ اللہ تعالیٰ کا اصل مطالبہ یہ ہے کہ لوگ الگ الگ سفر کر کے عمرہ اور حج ادا کریں۔ ’وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلّٰهِ‘ کو وہ اسی معنی پر محمول کر رہے ہیں۔

مطیع سید: لیکن حضرت علی اور دیگر صحابہ تو حضرت عمر کے اس موقف پر تنقید کرتے تھے ؟

عمارناصر: جی،حضرت عمر پر بڑے سخت الفاظ میں تنقیدیں ہوئیں کہ وہ کون ہوتے ہیں اس سے روکنے والے،جب کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی ہے۔

مطیع سید: متعۃ النساء کے متعلق بھی اہل ِ تشیع کا یہ کہنا ہے کہ اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع نہیں فرمایا،بلکہ حضرت عمر نے منع فرمایا۔ کیا اہل السنہ بھی یہی مانتے ہیں کہ حضرت عمر نے منع فرمایا تھا یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود منع فر مادیا تھا ؟

عمارناصر: اگر آپ اہل ِ تشیع کی نظر سے دیکھیں تو وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر ایک جسارت مند آدمی تھے،اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکموں کے آگے بھی اپنی مرضی چلاتے تھے۔ وہ یہی ساری مثالیں بیان کرتے ہیں۔ حسین موسوی عراق کے ایک بڑے شیعہ عالم ہیں۔ انھوں نے اپنی کتاب ’’النص و الاجتہاد‘‘ میں خلفا کی ایسی ساری مثالیں جمع کی ہیں کہ ایک طرف نص تھی،اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم تھا اور خلفا نے اس کے مقابلے میں اپنی راے قائم کی۔ البتہ متعۃ النساء کے متعلق اہل تشیع کا اعتراض اس لیے نہیں بنتا کہ حضرت علی کا موقف بھی اس کے متعلق یہی تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض خاص مواقع پر اس کی اجازت دی تھی، لیکن پھر اس سے منع فرما دیا تھا (بخاری، رقم 6560)۔ البتہ حج تمتع کے متعلق حضرت علی نے حضرت عمر سے اتفاق نہیں کیا اور ان پر تنقید کی کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی اجازت پر کیوں پابندی لگا رہے ہیں۔ اہلِ سنت کی عمومی راے بھی یہی ہے کہ اس کی ممانعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کر دی تھی۔اصل ماخذ وہ ہے، لیکن بعض صحابہ اس کو جائز سمجھتے ہوئے یا نسخ کا علم نہ ہونے کی وجہ سے ایسا کر رہے تھے تو جب حضرت عمر کے علم میں آیا تو انھوں نے اس کو سختی سے روک دیا۔

مطیع سید: لیکن روایات سے تو یہ نہیں لگتا کہ حضرت عمر یہ کہہ رہے ہیں کہ اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا تھا۔

عمار ناصر: جی، ایسا ہی ہے۔ ان کا استدلال نقلی نہیں تھا،ان کا استدلال مقاصدِ شریعت کے لحاظ سے تھا۔

مطیع سید: کیا حضرت عمر کے بعد کسی اور نے اس کو جائز قراردیا ؟

عمارناصر: حضرت عمر کے فیصلے کے بعد بھی اختلاف ختم تو نہیں ہوا۔ دو ڈھائی صدیوں تک اختلاف موجود رہا اور اہل السنہ میں بھی دونوں آرا کے حامل گروہ موجود رہے۔ امام شافعی نے بھی اسے ایک اختلافی مسئلے کے طور پر ذکر کیا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس چونکہ حلت کے قائل تھے تو اہل مکہ کے ہاں بہت عرصے تک یہی موقف رائج رہا۔ پھر آہستہ آہستہ فقہی مسالک کے دور تک آتے آتے اہل السنہ کے ہاں تو اس کی حرمت پر عمومی اتفاق ہوگیا، لیکن جو حلت والا موقف تھا، اس کو امامیہ نے اختیار کر لیا۔

مطیع سید:ا ہلِ سنت کے ہاں اس پر اتفاق ہو جانے کے اسباب کیا تھے؟

عمارناصر: میرے خیال میں بڑا سبب تو وہی مقاصد شریعت والا استدلال تھا جو حضرت عمر نے بیان فرمایا۔ یہ تو واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہرحال ایک اضطراری کیفیت میں ہی اس کی رخصت دی تھی،عام اجازت نہیں دی تھی۔ لیکن ایسی چیزوں میں رخصت کو عمومی اجازت بننے میں دیر نہیں لگتی، یعنی سوء استعمال کے امکانات بہت غالب ہوتے ہیں۔اسی لیے حضرت عبد اللہ بن عباس کو، جو لوگوں کو باقاعدہ اس کے جواز کا فتویٰ دیاکرتےتھے، جب پتا چلا کہ لوگ اس رخصت کو استعمال کیسے کررہے ہیں تو انھوں نے راے سے رجوع تو نہیں کیا، لیکن لوگوں کو فتویٰ دینا چھوڑ دیا۔انھوں نے کہا کہ میں لوگوں کو یہ تو نہیں کہہ رہا کہ اس کا عام استعمال کریں،میں تو اس کو اسی طرح سمجھتاہوں جس طرح اضطرار کی حالت میں مردار کھانا حلال ہوتا ہے۔تو مجھے ایسے لگتا ہے کہ سنی اہلِ علم نے بھی بنیادی طورپر یہ دیکھا کہ اس رخصت کو اگر باقی رکھا گیا تو اس کا غلط استعمال بہت زیادہ ہوگا۔حضرت عمر نے بھی بنیادی طور پر اسی کوملحوظ رکھا، اسی لیے وہ کوئی نقلی دلیل نہیں دےرہے کہ یہ منسوخ ہوگیا ہے۔ وہ یہ دیکھ رہے تھے کہ یہ طریقہ اگر رائج ہوگیا تو اس کے مفاسد کو روکنا بڑا مشکل ہوگا۔

مطیع سید: اہل ِ تشیع کی روایت میں اس کی حلت بھی موجودہے اور ان کے ہاں عملاً‌ یہ چل بھی رہاہے۔ان کی معاشرت میں اس سے کیا مفاسد رونما ہوئے ہیں؟

عمارناصر:اہل تشیع بھی اس کو نظری طور پر جائز سمجھتے ہیں،لیکن اس کے ساتھ خاص شرائط بھی لگاتے ہیں اور حالات کے لحاظ سے عملاً‌ اس سے فائدہ اٹھانے کو روک بھی دیتے ہیں۔ ان کے فقہا جب دیکھتے ہیں کہ اس کا استعمال ٹھیک نہیں ہو رہا تو پھر اجازت نہیں دیتے۔بتایا جاتا ہے کہ ایران میں امام خمینی سے پہلے یہ قانونی طور پر جائز تھا، لیکن امام خمینی نے آکر اس کو روک دیا۔ تو ان کے سامنے اس کے عملی پہلو بھی ہوتے ہیں، لیکن جب وہ اصولی اور نظری بحث کرتے ہیں تو یہی موقف ہوتا ہے کہ یہ منسوخ نہیں ہے۔

[باقی]