مواد پر جائیں

مطالعۂ مسندِ احمد

ڈاکٹر عمار خان ناصر/ ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن اردو

(مسندِ احمد کی احادیث سے متعلق استفسارات اور ان کا جواب)

(8)

مطیع سید: کلیب کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کو بتائی تو انھوں نے کہا کہ اس پر تعجب کیوں کرتے ہو؟ پھر انھوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا واقعہ بیان کیا کہ وہ مجھے بزرگ صحابہ کے ساتھ اپنی مجالس میں شریک کرتے تھے، لیکن فرماتے تھے کہ جب تک باقی لوگ بات نہ کر لیں، تم بات نہ کیا کرو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری عشرے کی طاق راتوں میں لیلۃ القدر کو تلاش کرنے کی ہدایت فرمائی ہے تو تمھارے خیال میں وہ کون سی طاق رات ہے؟(رقم 85)۔ یہ روایت ادھوری سی لگ رہی ہے۔ راوی نے کون سی بات ابن عباس رضی اللہ عنہ کو بتائی؟ پھر واقعے کے آخر میں صحابہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سوال کا کیا جواب دیا، وہ بھی اس روایت میں ذکر نہیں ہوا۔

عمارناصر: جی، یہ روایت یہاں نامکمل ہے، لیکن دوسرے مآخذ میں اس کی تفصیل آئی ہے۔ اصل میں راوی نے یہ روایت سنی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لیلۃ القدر کو آخری دس راتوں میں تلاش کیا کرو۔ یہ شاید اس کے علم میں نہیں تھی تو اس نے تعجب سے یا تصدیق کے لیے حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ روایت بیان کی۔ انھوں نے جواب میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا صحابہ کے ساتھ مکالمہ نقل کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سوال پر صحابہ میں سے کسی نے کہا کہ یہ انتیسویں شب ہے، کسی نے پچیسویں اور کسی نے ستائیسویں شب کا ذکر کیا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سوال ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا جواب بڑا دل چسپ تھا۔ انھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ سات کے عدد کا بڑی کثرت سے ذکر کرتے ہیں، مثلاً‌ اللہ نے سات آسمان بنائے، سات زمینیں بنائیں۔ پھر وہ سورۂ عبس کا ذکر کرتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ نے زمین سے اگنے والی سات چیزوں کا ذکر کیا ہے۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کی ذہانت کی تعریف کی اور ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ پہلے میں نے تم سے یہ کہا تھا کہ ان بڑوں سے پہلے بات نہ کیا کرو، لیکن اب تم اپنی راے جب بھی پیش کرنا چاہو، کر دیا کرو (المستدرک علی الصحیحین، رقم 6297)۔

مطیع سید: یہ تو ایسا لگ رہا ہے کہ وہ اندازے اور قیاس سے طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کون سی طاق رات میں لیلۃ القدر ہوتی ہے۔ کیا یہ اس دائرے میں نہیں آتا جس میں غور کرنے سے منع کیا گیا ہے؟

عمارناصر: نہیں، متشابہات تو بنیادی طور پر وہ چیزیں ہوتی ہیں جن کو جاننے کا کوئی ذریعہ انسان کے پاس نہ ہو یا جن میں غور کرنے سے منع کیا گیا ہو۔ جن چیزوں میں علامات اور قرائن سے کوئی اندازہ یا استنباط کرنا ممکن ہو، وہ متشابہات میں نہیں آتا۔ جیسے لیلۃ القدر کے متعلق ایک موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ نشانی صحابہ کو بتائی کہ اس سے اگلے دن سورج کی شعاعیں بہت مدھم ہوں گی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اسی طرح سات کے عدد سے یہ قیاس کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے کئی چیزوں میں سات کے عدد کو پسند کیا ہے تو عین ممکن ہے، لیلۃ القدر بھی آخری عشرے کی ساتویں شب میں ہو۔ یہ بس ایک قیاس ہے، کوئی حتمی تعیین نہیں۔

مطیع سید: عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں خیبر گیا، جہاں ہماری زمینیں تھیں۔ وہاں نیند کی حالت میں کسی نے آ کر مجھ پر حملہ کیا اور کہنیوں سے میرے بازو اکھاڑ دیے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اطلاع پہنچی تو انھوں نے کہا کہ یہ یقیناً‌ یہودیوں کا کام ہے، کیونکہ ان کے علاوہ ہمارا وہاں کوئی دشمن نہیں اور پھر انھوں نے یہودیوں کو خیبر سے جلا وطن کرنے کا فیصلہ کر لیا (رقم 90)۔ کیا ثبوت کے بغیر محض شبہے سے اتنا بڑا اقدام کیا جا سکتا ہے؟

عمارناصر: نہیں، یہ صرف اتنی بات نہیں تھی۔ اصل میں یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ خیبر کی فتح کے بعد اسی موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو یہاں سے جلا وطن کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا، لیکن پھر ان کی درخواست پر انھیں رعایت دی اور یہ فرمایا کہ یہ ایک مشروط اجازت ہے اور ہم جب چاہیں گے، تمھیں یہاں سے نکال دیں گے۔ یعنی یہ ویسے ہی مسلمانوں کی صواب دید پر تھا کہ وہ کب تک ان کو وہاں ٹھہرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے ایام میں یہ ترجیح بیان فرما دی تھی کہ جزیرۂ عرب میں کسی غیر مسلم کو قیام کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس پس منظر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اگر کسی وجہ کے بغیر بھی یہودیوں کو نکالنے کا فیصلہ کرتے تو وہ درست ہوتا، لیکن اس کے ساتھ یہ واقعہ بھی سبب بن گیا۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ یہ ایک ہی واقعہ ہو۔ کئی اور واقعات بھی ہو سکتے ہیں جن میں یہودیوں نے شرارت کی ہو گی۔

مطیع سید: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے نے عراق کی فتوحات سے حاصل ہونے والے خزانے میں سے ایک انگوٹھی اٹھا کر پہن لی تو یہ منظر دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے۔ لوگوں نے کہا کہ آپ کیوں رو رہے ہیں، آج تو ہمیں فتح حاصل ہوئی ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے کہ جب کسی قوم کو مال و دولت بہت زیادہ حاصل ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان کے درمیان دشمنی اور بغض پیدا کر دیتا ہے(رقم 93)۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان فتوحات کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی بشارت دی تھی تو جو چیز دشمنی اور عداوت پیدا کرنے والی تھی، اس کی بشارت صحابہ کو کیوں دی گئی؟ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے باوجود فتوحات کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ یہ تو جانتے بوجھتے خرابی کے راستے پر چلنے کے برابر نہیں بن جاتا؟

عمارناصر: یہ تو اصل میں دنیا میں جو آزمایش کا اصول کارفرما ہے، اس کا بیان ہے۔ مال ودولت بہ ذات خود بری چیز نہیں اور فتوحات ہونا اور اقتدار ملنا اللہ کی طرف سے ایک انعام بھی ہے، لیکن ساتھ ہی یہ ایک بڑی آزمایش بھی ہے۔ دنیا کا نظام اللہ نے ایسا ہی بنایا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مال ودولت اور دنیوی اسباب کے نعمت ہونے کے پہلو سے فتوحات کی بشارت بھی دی، لیکن ساتھ ہی معاشرے اور اجتماعی اخلاق پر دولت کی فراوانی کے جو اثرات مرتب ہوتے ہیں، ان کو بھی واضح فرما دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا نہیں کیا کہ مال ودولت کے اثرات کو جاننے کی وجہ سے فتوحات یا غنائم کا سلسلہ موقوف کر دیا ہو۔ یہ تو دنیا کی تاریخ اور تہذیب سے کٹ کر جینے کا فیصلہ ہوتا، جیسے اس سے پہلے صدیوں تک اہل عرب جی رہے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی یہی کیا کہ فتوحات اور غنائم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے مسلمانوں کو اس سے خبردار کر دیا کہ اس کے آگے چل کر کیا نتائج مرتب ہوں گے۔ مقصد یہ تھا کہ تاریخ میں زندہ رہنے کے تقاضے پورے کرنا تو ناگزیر ہے، لیکن انسانی بصیرت بھی زندہ رہنی چاہیے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ظاہری چکا چوند سے انسانی بصیرت بھی مغلوب ہو جائے۔

مطیع سید: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ایک سفر میں انھوں نے عصر کے بعد دو رکعتیں ادا کیں تو ان پر بہت ناراض ہوئے اور کہا کہ آپ کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے(رقم 101)۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس ممانعت کے متعلق بہت حساس نظر آتے ہیں۔ وہ مسجد نبوی میں بھی کسی کو عصر کے بعد نفل پڑھتے دیکھتے تو اسے درہ لگاتے تھے۔ کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علم میں یہ بات نہیں تھی؟

عمارناصر: نہیں، ممانعت تو ان کے علم میں بھی ہوگی۔ اصل میں صحابہ کے مابین اس حوالے سے اختلاف نظر آتا ہے کہ عصر کے بعد نفل پڑھنے کی ممانعت کیا اس وجہ سے ہے کہ عصر کے بعد سے مغرب تک کا پورا وقت ہی نفل نماز کے لیے ممنوع ہے یا اصل ممانعت تو سورج کے غروب کے قریب وقت میں نماز پڑھنے کی ہے، لیکن سد ذریعہ اور احتیاط کے پہلو سے ا س سے منع کر دیا گیا کہ عصر کی فرض نماز پڑھنے کے بعد نوافل پڑھے ہی نہ جائیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پہلے موقف کے حامی نظر آتے ہیں، لیکن دوسرے صحابہ کی راے غالباً‌ یہ تھی کہ اصل ممانعت مکروہ وقت میں نماز پڑھنے کی ہے۔ اگر مکروہ وقت میں داخل ہونے کا خدشہ نہ ہو تو عصر کے بعد بھی نوافل پڑھے جا سکتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق تو یہ آتا ہے کہ انھوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق کہا کہ ان کو بات سمجھنے میں غلطی لگی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع نہیں کیا، بلکہ صرف سور ج کے طلوع اور غروب کے وقت نماز سے منع کیا تھا (مسلم، رقم 833)۔

مطیع سید: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہی بات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اس روایت کے بارے میں بھی فرمائی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر میں قتل ہونے والے مشرکین کی لاشوں سے مخاطب ہو کر پوچھا کہ کیا تم سے جو وعدہ کیا گیا تھا، تم نے دیکھ لیا کہ وہ سچا تھا؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تعجب سے پوچھا کہ یا رسول اللہ، یہ تو بے جان جسم ہیں، ان سے آپ کیسے بات کر رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ یہ تم سے بھی زیادہ میری بات سن سکتے ہیں، لیکن جواب نہیں دے سکتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ یہ بات قرآن کے خلاف ہے، کیونکہ قرآن کہتا ہے کہ آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے(بخاری، رقم 3760)۔

عمار ناصر: جی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ کی بات کا درست محل نہیں سمجھ سکے۔ آپ نے یہ فرمایا تھا کہ یہ لوگ اب جہاں پہنچ چکے ہیں، ان کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ میں جو کچھ کہہ رہا تھا، وہ بالکل حق تھا۔ یہ مراد نہیں تھی کہ یہ سچ مچ میری بات سن رہے ہیں۔

مطیع سید: یہ دلیل کس حد تک وزنی ہے؟

عمار ناصر: اس میں اہل علم نے کافی سوالات اٹھائے ہیں۔ مثلاً یہ کہ قرآن جس معنی میں مردوں کو سنائے جانے کی بات کر رہا ہے، وہ تو زندہ لوگوں کے مانند سننا سنانا ہے۔ ظاہر ہے، مرنے کے بعد مردوں سے اس طرح کی بات چیت نہیں ہو سکتی کہ وہ اس سے کوئی فائدہ اٹھا سکیں یا جواب دے سکیں۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ بالکل سماع کی صلاحیت سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔ بعض دوسرے اہل علم یہ کہتے ہیں کہ مردے عموماً نہ بھی سن سکتے ہوں تو بدر کے موقع پر آپ نے جن کو خطاب کیا، یہ بالکل ممکن ہے کہ ان کو اللہ نے خرق عادت کے طور پر آپ کی بات سنوا دی ہو۔

مطیع سید: اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی دلیل اتنی واضح نہیں۔

عمار ناصر: جی، وہ اتنی قطعی نہیں ہے، لیکن وہ جس مفہوم پر حدیث کو محمول کرتی ہیں، وہ بھی بعید از قیاس نہیں ہے۔ ان کی بات کا مطلب یہ بنتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات دراصل مرنے والوں کو سنانے کے لیے نہیں، بلکہ دیکھنے والوں کی عبرت کے لیے فرمائی۔ یہ بھی کلام کا ایک جائز اور معروف اسلوب ہے۔ اس امکان کی بالکل نفی نہیں کی جا سکتی۔

مطیع سید: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک اور حدیث پر بھی یہی اعتراض کیا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کی تھی کہ مرنے والے کے اہل خانہ اگر اس پر روئیں تو مرنے والے کو عذاب دیا جاتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ قرآن کہتا ہے کہ کسی ایک انسان کے گناہ کا بوجھ دوسرا انسان نہیں اٹھائے گا۔ یہ دلیل تو وزنی معلوم ہوتی ہے۔

عمار ناصر: جی، اس میں وزن ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کی توجیہ یہ منقول ہے کہ آپ نے یہ بات کسی یہودی یا مشرک کے بارے میں کہی تھی کہ اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں، جب کہ اس کو قبر میں عذاب دیا جا رہا ہے۔ مطلب یہ کہ عذاب ان کے رونے کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ آپ نے بتایا کہ کافر کو جب عذاب دیا جا رہا ہوتا ہے تو گھر والوں کا رونا دھونا اس کے کسی کام نہیں آتا۔

مطیع سید: امام احمد بن حنبل نے آگے اس کے متعلق دل چسپ روایات نقل کی ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ کسی نے حضرت ابن عمرسے پوچھا کہ کیا اللہ تعالیٰ زندہ کے رونے کی وجہ سے مردے کو عذاب دیتے ہیں؟ جواب میں ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نہ تو میں نے حضرت عمرکی طرف غلط بات منسوب کی ہے اور نہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط بات کی نسبت کی ہے (رقم 264)۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر جب قاتلانہ حملہ ہوا تو حضرت صہیب رضی اللہ عنہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا رونے لگے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو یاد دلایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کسی کے رونے کی وجہ سے مرنے والے کو عذاب دیا جاتا ہے(رقم 268)۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ایک جنازے کے موقع پر حضرت ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما، دونوں موجود تھے۔ گھر سے رونے کی آواز آئی تو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے وہاں یہی حدیث بیان کی تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے واقعہ سنایا کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات سے پہلے حضرت صہیب رضی اللہ عنہ کے رونے پر یہ حدیث بیان کی تو میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور انھیں یہ بات بتائی۔ ام المومنین نے فرمایا کہ بخدا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح بات نہیں کہی۔ آپ نے یہ فرمایا کہ کافر کو جب عذاب دیا جا رہا ہوتا ہے تو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے اس کے عذاب میں اضافہ کر دیا جاتا ہے(رقم 288)۔ اس سے تو پتا چلتا ہے کہ حضرت عمر اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ظاہری مفہوم کے مطابق ہی حدیث کو سمجھ رہے تھے۔ قرآن کی آیت تو ان کے بھی سامنے تھی اور ویسے کامن سینس بھی یہی بنتی ہے کہ زندہ کے رونے کی وجہ سے مرنے والے کو کیوں عذاب دیا جائے گا ؟ تو پھر یہ حضرات اس کو کس مفہوم میں لے رہے ہیں؟

عمار ناصر: میرے خیال میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے جو توجیہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے نقل کی ہے، وہ کافی معقول ہے۔ اصل میں اہل جاہلیت کے ہاں مرنے والے پر نوحے کا جو خاص انداز تھا، اور بڑے مبالغے کے ساتھ بڑھا چڑھا کر اس کے فضائل بیان کیے جاتے تھے، غالباً‌ اس تناظر میں آپ نے فرمایا کہ جب گھر والے مردے کی شان بیان کرتے ہیں تو فرشتے جو اس کے کفر و شرک کی وجہ سے پہلے ہی اسے عذاب دے رہے ہوتے ہیں، وہ اسے مزید عذاب دیتے ہیں کہ بتا، تو ایسا تھا جیسا تیرے گھر والے کہہ رہے ہیں؟ یعنی ایک کافر جو اپنے کفر کی وجہ سے پہلے ہی عذاب کا شکار ہے، اس کے لیے گھر والوں کا رونا دھونا اور مبالغہ آمیز توصیف مزید سختی کا موجب بن جاتی ہے۔ تو حدیث کا اصل پس منظر تو یہی درست معلوم ہوتا ہے، لیکن شاید حضرت عمر رضی اللہ عنہ شدت احتیاط کی وجہ سے اس سے گریز چاہتے تھے کہ کہیں ایک مسلمان کے لیے بھی گھر والوں کا رونا قبر میں سختی کا سبب نہ بن جائے۔

مطیع سید: اس واقعے میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا تبصرہ بیان کیا تو اس پر عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا کوئی جواب منقول نہیں۔ کیا انھوں نے اس توجیہ سے اتفاق کر لیا؟

عمار ناصر: ضروری نہیں کہ اتفاق کر لیا ہو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی بات کے جواب میں ادباً‌ خاموشی اختیار کی ہو تو یہ بھی قرین قیاس ہے۔

مطیع سید: حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ہشام بن حکیم کو نماز میں سورۂ فرقان پڑھتے ہوئے سنا تو وہ بہت سے الفاظ ایسے طریقے پر پڑھ رہے تھے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نہیں پڑھائے تھے۔ میں نے ہشام سے پوچھا تو انھوں نے کہا کہ یہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ہشام کو آپ کے پاس لے گیا اور معاملہ بیان کیا۔ آپ نے ہشام سے پڑھنے کو کہا اور انھوں نے ویسے ہی پڑھا، جیسے پہلے پڑھ رہے تھے تو آپ نے ان کی تصویب فرمائی۔ پھر مجھ سے پڑھنے کے لیے کہا تو میں نے جیسے آپ سے سیکھا تھا، ویسے پڑھا۔ آپ نے میری بھی تصویب فرمائی۔ پھر فرمایا کہ یہ قرآن سات احرف پر نازل کیا گیا ہے (رقم 158)۔ غامدی صاحب نے تو اس روایت پر سخت اعتراضات کیے ہیں۔

عمار ناصر: جی، ان کے بڑے اعتراض دو ہیں: ایک تو یہ کہ اگر قرآن سات مختلف طریقوں سے پڑھا جا سکتا ہے تو اتنی اہم بات سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے صحابی فتح مکہ کے بعد کے زمانے تک واقف نہیں تھے، کیونکہ ہشام بن حکیم فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئے تھے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ نے اتنی اہم بات حضرت عمررضی اللہ عنہ کو نہ بتائی ہو۔ دوسرا اعتراض یہ ہے کہ سات حروف سے مراد اگر سات عرب قبائل کی لغات یا لہجے لیے جائیں، جو غامدی صاحب کی راے میں سب سے زیادہ معقول توجیہ ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ہشام بن حکیم تو دونوں قریش سے تھے۔ ان کی زبان یا لہجے میں تو کوئی فرق نہیں تھا تو آپ نے ہشام کو کسی دوسرے قبیلے کی زبان کے مطابق کیوں قرآن سکھایا؟

مطیع سید: یہ دونوں اعتراض تو کافی وزنی لگتے ہیں۔ آپ کی کیا راے ہے؟

عمار ناصر: سبعۂ احرف کی بحث ایک کافی مشکل بحث ہے۔ غامدی صاحب نے ایک خاص زاویے سے جو سوالات اٹھائے ہیں، ان میں وزن تو ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اس روایت میں اصل میں اسں کی کوئی مثال نقل نہیں ہوئی کہ ہشام بن حکیم کون سے مختلف حروف پڑھ رہے تھے۔ اگر کوئی مثال ہوتی تو شاید ہم بہتر سمجھ سکتے۔ لیکن علماے قراءت نے سورۂ فرقان میں اختلاف قراءت کی جو مثالیں نقل کی ہیں، ان سے میرے خیال میں کافی حد تک نوعیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ ابن عبد البر نے ’’التمہید‘‘ میں اس روایت کی شرح میں وہ سارے اختلافات یکجا بیان کر دیے ہیں۔

مطیع سید: آپ کچھ وضاحت فرما سکتے ہیں کہ وہ کیا مثالیں ہیں اور ان سے کیا نوعیت سمجھ میں آتی ہے؟

عمار ناصر: ان مثالوں کو اگر دیکھیں تو زیادہ تر اختلافات اس طرح کے ہیں کہ آیت میں غائب کا صیغہ ہے تو اس کو متکلم یا مخاطب کے صیغے سے بھی پڑھا گیا ہے، جیسے ’وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ وَمَا يَعْبُدُوْنَ‘(آیت 17) کو ’وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ‘ پڑھا گیا ہے۔ اسی طرح ’فَمَا تَسْتَطِيْعُوْنَ صَرْفًا‘ (آیت 19) کو ’فَمَا یَسْتَطِيعُونَ صَرْفًا‘ پڑھا گیا ہے۔ بعض مثالوں میں مجہول اور معروف کے صیغوں کا فرق ہے، جیسے ’وَنُزِّلَ الْمَلَآئِكَةُ تَنْزِيْلًا‘ (آیت 25) کو ’ونَزَّل الملائكةَ‘ پڑھا گیا ہے۔ بعض مثالوں میں افعال کے باب تبدیل ہو گئے ہیں۔ جیسے ’لِمَنْ اَرَادَ أَنْ يَّذَّكَّرَ‘ (آیت 62) کو ’أَنْ يَذْكُرَ یا وَنُسْقِيَهُ مِمَّا خَلَقْنَا اَنْعَامًا‘ (آیت 49) کو ’وَنَسْقِيَهُ‘ پڑھا گیا ہے۔ اسی طرح ’وَيُلَقَّوْنَ فِيهَا تَحِيَّةً وَسَلَامًا‘ (آیت 75) کو ’وَيَلْقَوْنَ فِيهَا تَحِيَّةً وَسَلَامًا‘ پڑھا گیا ہے۔ بعض مثالوں میں مفرد کی جگہ جمع اور جمع کی جگہ مفرد کے صیغوں کا فرق ہے، جیسے ’أَرْسَلَ الرِّيَاحَ بُشْرًا‘ (آیت 48) کو ’أَرْسَلَ الرِّيحَ بُشْرًا‘ اور ’هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا‘ (آیت 74) کو ’أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنا‘ پڑھا گیا ہے۔

اب ان مثالوں کو اگر سامنے رکھا جائے اور یہ قیاس کیا جائے کہ ہشام بن حکیم اسی طرح کے مختلف حروف کے ساتھ قراءت کر رہے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کی تصویب فرمائی تو اس سے ذہن سبعۂ احرف کے ایک خاص مفہوم کی طرف متوجہ ہوتا ہے، جو اگر درست ہے تو اس سے اس بحث کی الجھن بڑی حد تک دور ہو جاتی ہے۔ میرے ذہن میں یہ آتا ہے کہ ان مثالوں میں جو اختلافات ہیں، وہ دراصل قرآن مجید میں ہی دوسرے مقامات پر اس مضمون کی آیتوں میں اختیار کی گئی تعبیرات ہیں۔ یعنی کئی جگہ اللہ تعالیٰ نے ’يَحْشُرُهُمْ‘ کہا ہے اور کئی جگہ ’نَحْشُرُهُمْ‘ کا صیغہ استعمال کیا ہے۔ اسی طرح فرشتوں کو اتارنے کے لیے ’نَزَّلَ‘ اور ’نُزِّلَ‘، یعنی معروف اور مجہول، دونوں تعبیریں قرآن میں اختیار کی گئی ہیں۔ ہواؤں کا ذکر ’رِيَاح‘ اور ’ريح‘، دونوں صیغوں کے ساتھ ہوا ہے اور اولاد کے لیے بھی ’ذُرِّيَّات‘ اور ’ذُرِّيَّة‘ کی دونوں تعبیریں قرآن میں موجود ہیں۔ اس سے یہ خیال ہوتا ہے کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے سات حروف پر نازل کیے جانے کی بات اس مفہوم میں فرما رہے ہیں کہ قرآن نے خود ایک مضمون کی تعبیر کے لیے مختلف جگہوں پر کئی طرح کے اسالیب اختیار کیے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اس کی اجازت دی ہے کہ اگر ایک لفظ کی جگہ دوسرا لفظ پڑھ لیا جائے جو قرآن میں ہی دوسری جگہ آیا ہے، مثلاً‌ ’يَحْشُرُهُمْ‘ کو ’نَحْشُرُهُمْ‘ یا ’تَسْتَطِيْعُوْنَ‘ کو ’یَسْتَطِيعُونَ‘ یا ’يُلَقَّوْنَ‘ کو ’يَلْقَوْنَ‘پڑھ لیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ یہ ساری تعبیریں اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ہی نازل کی ہوئی ہیں۔

مطیع سید: لیکن اس سوال کے متعلق آپ کیا کہیں گے کہ اتنی اہم بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے آدمی کو بھی فتح مکہ کے بعد تک نہیں بتائی اور انھوں نے اتفاق سے ایک آدمی سے مختلف قراء ت سنی تو پھر انھیں اس کا پتا چلا؟

عمار ناصر: جی بالکل، یہ اہم سوال ہے۔ اصل میں آپ ان تمام روایات کو دیکھیں جن میں قراءت کے اختلاف کا ذکر آیا ہے تو ایک بڑی اہم بات یہ سامنے آتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازوں میں یا خطبوں اور مجالس میں یا لوگوں کو عمومی طور پر قرآن سکھاتے ہوئے خود کبھی مختلف طریقوں سے قراءت نہیں کی۔ ان مواقع پر آپ کی زبان سے ہمیشہ ایک ہی قراءت سنی گئی۔ اسی لیے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ حیران ہوئے کہ کیا قرآن کے الفاظ کسی دوسرے طریقے سے بھی پڑھے جا سکتے ہیں۔ ایسا کوئی واقعہ موجود نہیں کہ آپ نے کسی موقع پر نماز یا خطبے میں مختلف طریقے سے قراءت کی ہو اور لوگوں نے کہا ہو کہ پہلے تو آپ نے ہمیں یہ آیت اس طرح سکھائی تھی۔ اس کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں قرآن کی تعلیم کے باقاعدہ حلقے قائم کیے جاتے تھے اور قراء صحابہ لوگوں کو قرآن سکھانے پر مامور ہوتے تھے۔ ان حلقوں میں بھی اس کی کوئی مثال نہیں ملتی کہ قرآن سیکھتے سکھاتے ہوئے یہ بات سامنے آئی ہو کہ قرآن کو مختلف طریقوں سے پڑھا جا سکتا ہے۔ کسی کو مختلف الفاظ میں قراءت سکھانے کے جتنے بھی واقعات نقل ہوئے ہیں، وہ سب انفرادی سطح کے ہیں۔

دوسری بڑی اہم بات جو روایات میں صراحت سے بیان ہوئی ہے، وہ یہ کہ قراءت کے اختلاف کی گنجایش بالکل ابتدا سے نہیں تھی، بلکہ یہ ہجرت مدینہ کے بعد کسی خاص مرحلے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی درخواست پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی۔ آپ کو امت کی سہولت کے لیے اس کی ضرورت محسوس ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے یہ رخصت دے دی۔ اگر ہشام بن حکیم کے واقعے سے یہ اندازہ کیا جائے کہ یہ اجازت مدنی دور کے آخر میں، شاید فتح مکہ سے کچھ پہلے یا بعد حاصل کی گئی تو اس کی وجہ بھی سمجھ میں آتی ہے، کیونکہ فتح مکہ کے بعد بہت بڑے پیمانے پر عرب قبائل نے اسلام قبول کرنا شروع کر دیا تھا اور اصل میں انھی کی سہولت کے لیے یہ اجازت حاصل کی گئی تھی۔ جو صحابہ مستقل طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے اور جیسے جیسے قرآن نازل ہو رہا تھا، شروع سے ہی آپ سے سیکھ رہے تھے، ان کے لیے اس کی ضرورت نہیں تھی۔ گنجایش کی ضرورت بنیادی طور پر نئے لوگوں کے لیے تھی، جو اب قرآن کے تقریباً‌ مکمل ہو جانے کے مرحلے پر مسلمان ہو رہے تھے۔ ان کو اس کا پابند کرنا بہت دشواری کا موجب ہوتا کہ وہ قرآن سیکھیں اور ہر جگہ بعینہٖ انھی الفاظ کی پابندی کے ساتھ سیکھیں جو کسی آیت میں اللہ تعالیٰ نے نازل کیے ہیں۔

تیسری اہم بات یہ سامنے آتی ہے کہ کسی واقعے میں آپ نے اکابر صحابہ کو بھی یہ بات ابتداءً‌ یا یوں کہہ لیجیے کہ باقاعدہ موضوع بنا کر نہیں بتائی کہ اب اللہ نے مختلف طریقوں سے قرآن کو پڑھنے کی اجازت دے دی ہے۔ جیسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس واقعے میں انھوں نے ہشام بن حکیم سے قراءت سنی اور تحقیق کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے گئے، اسی طرح کے واقعات عبد اللہ بن مسعود اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہما اور کچھ دوسرے صحابہ کے متعلق بھی نقل ہوئے ہیں۔ کسی کو بھی آپ نے ابتداءً‌ اس کی اطلاع نہیں دی، بلکہ سب کے ساتھ یہی معاملہ ہوا کہ انھوں نے کسی دوسرے صحابی سے کچھ مختلف قراءت سنی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تحقیق کرنے کے لیے چلے گئے اور پھر انھیں پتا چلا کہ کئی الفاظ کو مختلف طریقے سے پڑھنے کی بھی گنجایش ہے۔

مطیع سید: آپ کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس لیے فتح مکہ کے بعد تک اس سے واقف نہیں تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بتانے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی؟

عمار ناصر: جی، معاملے کی جو نوعیت دکھائی دیتی ہے، وہ یہ ہے کہ نہ تو قرآن کو ابتدا سے مختلف طریقوں سے پڑھنے کی اجازت تھی، نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مختلف طریقوں سے قراءت کی اور نہ عمومی طور پر صحابہ کو اس کی تعلیم دی، اور نہ حاضر باش صحابہ کو اس کی ضرورت تھی۔ لیکن جب بڑے پیمانے پر پورے عرب سے لوگ اسلام قبول کرنے لگے اور کچھ دنوں کے لیے مدینہ آکر قرآن کے تھوڑے بہت حصے سیکھنے لگے تو ان کو پابند کرنا کہ وہ واپس جا کر قرآن کے سیکھے ہوئے الفاظ کو بعینہٖ یاد رکھیں اور عین اسی کےمطابق قراءت کریں، یہ ممکن نہیں تھا۔ یہ ناگزیر تھا کہ یہ نئے لوگ جتنا بھی قرآن سیکھیں گے، اس میں بعینہٖ اصل الفاظ کی پابندی نہیں کر سکیں گے۔ اس مرحلے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے اس رخصت کا تقاضا کیا کہ اس طرح کے لوگ اپنی یادداشت یا سہولت کے مطابق قرآن کے الفاظ کے قریب رہتے ہوئے قراءت کر لیا کریں تو وہ قرآن ہی کی قراءت سمجھی جائے، کیونکہ خود قرآن میں یہ وسعت موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک بات کو مختلف جگہوں پر بیان کرتے ہوئے کہیں مفرد کے اور کہیں جمع کے صیغے استعمال کیے ہیں۔ کہیں غائب کا اسلوب اور کہیں مخاطب کا اسلوب اختیار کیا ہے اور اسی طرح ایک ہی مادے سے بننے والے قریب المعنی افعال کے استعمال سے بھی تنوع پیدا کیا ہے۔

اب اس رخصت کا تعلق ہی چونکہ ایک خاص ضرورت سے تھا، اور یہ قرآن کا کوئی مستقل وصف نہیں تھا، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو اس کی عام تعلیم کا اہتمام کیا اور نہ اکابر صحابہ کو اہتمام سے اس سے مطلع کرنے کی ضرورت سمجھی، بلکہ یہ طریقہ اختیار فرمایا کہ انفرادی طور پر بعض نئے مسلمانوں کو یا بعض ایسے صحابہ، مثلاً‌ ابی بن کعب اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کو جو لوگوں کو قرآن سکھانے پر مامور تھے، اس طرح کے کچھ حروف کے مطابق قراءت سکھا دی جائے اور موقع پیدا ہونے پر اکابر صحابہ کو بھی اس رخصت کی اطلاع دے دی جائے۔ اس طرح قرآن کی عمومی تعلیم تو اسی قراءت کے مطابق جاری رہی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم شروع سے کرتے چلے آ رہے تھے، لیکن قراء صحابہ اور اکابر صحابہ کو مناسب مواقع پر بتا دیا گیا کہ یہ گنجایش موجود ہے تاکہ وہ نئے سیکھنے والوں کے باب میں اس کی رعایت کر سکیں اور کوئی الجھن پیش آئے تو لوگوں کی بھی رہنمائی کر سکیں۔

مطیع سید: یہ تفصیل جو آپ نے بتائی ہے، یہ تو بڑی منطقی اور قابل فہم لگ رہی ہے، لیکن اب ہمارے پاس اختلاف قراءت کا جتنا بڑا ذخیرہ موجود ہے، وہ تو بہت وسیع ہے۔ یہ سارا اختلاف کہاں سے آیا ہے؟

عمار ناصر: یہ اب اس کے بعد ایک الگ اور مستقل سوال ہے، جس میں کافی پیچیدگیاں ہیں، لیکن سبعۂ احرف پر نازل ہونے کا مفہوم اصل کے لحاظ سے اگر سمجھ لیا جائے تو میرے خیال میں بنیادی الجھن کافی حد تک حل ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد یہ دیکھاجا سکتا ہے کہ اس گنجایش کا دائرہ پھر کیسے اور کن اسباب سے پھیلتا چلا گیا۔ دو تین بڑے اسباب کے شواہد تو روایات میں بہت واضح ہیں۔ مثلاً‌ بعض صحابہ کے متعلق آتا ہے کہ وہ قرآن کی بعض آیات میں وہ الفاظ بھی پڑھتے اور لوگوں کو سکھاتے رہے جو بعد میں منسوخ کر دیے گئے تھے۔ صحیح بخاری میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ تبصرہ منقول ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے جو الفاظ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنے ہیں، ان کو ترک نہیں کروں گا، حالاں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں نسخ کا بھی ذکر کیا ہے( بخاری، رقم 4481)۔ مطلب یہ کہ بعد میں کئی آیات یا ان کے کچھ الفاظ اللہ نے منسوخ بھی کیے ہے۔

اسی طرح اس کے شواہد موجود ہیں کہ بعض صحابہ نے قرآن کی کسی آیت کے الفاظ براہ راست نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنے تھے، لیکن کسی صحابی سے جو الفاظ سنے، اس پر انھیں مفہوم کے لحاظ سے کوئی اشکال پیدا ہوا تو انھوں نے یہ قیاس کر لیا کہ درست الفاظ یوں ہیں۔ بخاری میں ہی اس کی بڑی مشہور مثال ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ قرآن میں جو یہ آیت ہے: ’حَتّٰۤی اِذَا اسۡتَیۡـَٔسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوۡۤا اَنَّہُمۡ قَدۡ کُذِبُوۡا‘ ( یوسف 12: 110)، اس کی درست قراءت ’كُذِبُوۡا‘ نہیں، بلکہ ’كُذِّبُوۡا‘ ہے۔ وہ کہتی تھیں کہ ’كُذِبُوا‘ کا مطلب یہ بنتا ہے کہ رسولوں کو یہ گمان ہونے لگا کہ ان کے ساتھ اللہ کی طرف سے جو وعدہ کیا گیا، وہ سچا نہیں تھا، لیکن معاذ اللہ، اللہ کے رسول ایسا نہیں سوچ سکتے۔ تو سیدہ کہتی تھیں کہ اس کی درست قراءت ’كُذِّبُوا‘ ہے اور مطلب یہ ہے کہ رسولوں کو اپنی امت کی طرف سے یہ یقین ہو گیا کہ انھیں جھٹلا دیا گیا ہے، یعنی اب یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے( بخاری، رقم 3389)۔ پھر قراء ت کے ذخیرے کو دیکھیں تو بہت سی مثالوں کے متعلق صاف سمجھ میں آتا ہے کہ قرآن میں موجود نظائر کی روشنی میں ایسی قراءت کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس کا تحمل مصحف عثمانی کا رسم الخط کر سکتا ہو۔ تو یہ کچھ بڑے اسباب ہیں، ان کے علاوہ اور بھی ہیں جن سے پھر اختلافات کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا۔

مطیع سید: حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے قبول اسلام کا سبب یہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ انھوں نے بیت اللہ کے قریب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سورۂ حاقہ کی تلاوت کرتے ہوئے سنا تو اسلام نے میرے دل میں گھر کر لیا (رقم 107)۔ عام طور پر تو اس کا واقعہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ ان کو اپنی بہن اور بہنوئی کے قبول اسلام کی اطلاع ملی اور وہ ان کو سمجھانے کے لیے ان کے گھر گئے تو وہاں ان سے سورۂ طٰہٰ کی آیات سن کر اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کیا۔

عمار ناصر: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کے مختلف واقعات روایات میں نقل ہوئے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ سارے واقعات ان کے دل میں اسلام کی طرف میلان پیدا کرنے میں تھوڑا تھوڑا کردار ادا کرتے رہے ہوں اور پھر آخر میں بہن اور بہنوئی والے واقعے کے بعد ان کا دل اس پر پوری طرح مطمئن ہو گیا ہو۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ راویوں نے ان کے بیان کردہ واقعات میں اپنے قیاسات شامل کر کے انھیں بیان کر دیا ہو۔ تاریخی روایات میں اس طرح کی صورت حال بہت عام دکھائی دیتی ہے۔ حتمی طور پر کچھ کہنا مشکل ہوتا ہے۔

مطیع سید: عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نافع کہتے ہیں کہ جب انھوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے تصدیق کر لی کہ موزوں پر مسح کرنے کی اجازت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے تو پھر اس کے بعد وہ جب تک موزے پہنے رکھتے، مسح کرتے رہتے تھے اور کسی خاص مدت کی پابندی نہیں کرتے تھے(رقم 237)۔ لیکن احادیث میں تو مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات اور مسافر کے لیے تین دن اور تین راتوں کی مدت کا ذکر آتا ہے۔ ہو سکتا ہے، ابن عمر رضی اللہ عنہ کو جیسے پہلے اس رخصت کا علم نہیں تھا، ان احادیث کا بھی نہ ہو؟

عمار ناصر: جی، یہ بھی قرین قیاس ہے کہ ان کے علم میں نہ ہوں، لیکن بعض احادیث میں یہ بھی ذکر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض صحابہ کے استفسار پر اس سے زیادہ دنوں تک بھی مسح کرنے کی اجازت دی (ابوداؤد، رقم 158)۔ بعض روایات میں صحابی بیان کرتے ہیں کہ آپ نے تین دن کی مدت بیان کی، لیکن انداز سے معلوم ہوتا تھا کہ اگر ہم زیادہ دن کی اجازت مانگیں تو آپ دے دیں گے(ابن ماجہ، رقم 553)۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی یہ منقول ہے کہ ایک آدمی نے انھیں بتایا کہ میں سفر میں سات دن تک موزوں پر مسح کرتا رہا ہوں تو انھوں نے فرمایا کہ تم نے سنت کے مطابق عمل کیا ہے(المستدرک علی الصحیحین، رقم 600)۔ اسی سے فقہا میں ایک مسلک یہ ہے کہ ایک دن اور تین دن کی پابندی مستحب ہے، واجب نہیں۔ تو ہو سکتا ہے کہ مدت بیان کرنے والی احادیث ابن عمر رضی اللہ عنہ کے علم میں نہ ہوں، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ دوسری احادیث ان کے سامنے ہوں جن سے عدم وجوب کا پتا چلتا ہے۔

[باقی]