(مسندِ احمد کی احادیث سے متعلق استفسارات اور ان کا جواب)
(9)
مسند عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ
مطیع سید: حضرت عثمان تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کافی عرصہ تک زندہ رہے ہیں، لیکن روایات کی تعداد اس لحاظ سے بہت کم ہے۔ ایک روایت میں وہ فرماتے ہیں کہ یہ بات نہیں کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں اپنے دوسرے ساتھیوں سے زیادہ یاد نہیں، لیکن میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے میری طرف ایسی بات منسوب کی جو میں نے نہیں کہی، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے (رقم 469)۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ وہ کثرت روایت کے قائل نہیں تھے۔
عمارناصر: جی، حضرت عثمان تو واضح طور پر قلتِ روایت کے قائل تھے اور دوسرے اکابر صحابہ کی طرح ان کے ہاں بھی کثرت گریز سے اجتناب کی ایک بڑی وجہ یہی تھی کہ کہیں نادانستہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی غلط بات منسوب نہ ہو جائے۔
مطیع سید: حمران کہتے ہیں کہ حضرت عثمان ہر روز غسل کیا کرتے تھے۔ ایک دن میں نے ان کے وضو کے لیے پانی رکھا تو انھوں نے فرمایا کہ میرا ارادہ ہے کہ تمھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سناؤں۔ پھر کہنے لگے کہ میرا ارادہ بدل گیا ہے اور وہ حدیث نہیں سناؤں گا۔ اس پر حکم بن العاص نے کہا کہ امیر المومنین، آپ وہ حدیث سنا دیں۔ اگر خیر کی بات ہو گی تو ہم اس پر عمل کر لیں گے اور اگر کوئی بری بات ہوگی تو اس سے بچ جائیں گے۔ چنانچہ حضرت عثمان نے یہ حدیث بیان کی کہ جو شخص وضو کر کے نفل نماز پڑھے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں(رقم 484)۔ اگر کوئی حدیث صحابی کے علم میں ہو تو کیا یہ اس کی صواب دید ہے کہ چاہے تو اسے بیان کرے اور چاہے تو نہ کرے؟
عمارناصر: جی ایسا ہی ہے۔ دینی شرائع واحکام کے متعلق تو یہ اصول نہیں ہے۔ وہ تو جس کے علم میں ہوں، موقع پیدا ہونے پر اسے بیان کرنے چاہییں۔ لیکن ترغیب وترہیب اور مستحبات سے متعلق کوئی بات بیان کرنا یا نہ کرنا ، یہ صحابی کی صواب دید ہے۔ اگر کسی حدیث کو بیان کرنا دینی مصلحت سے ہم آہنگ نہ ہو تو صحابہ بیان نہیں کرتے تھے۔ حضرت عمر کا واقعہ تو مشہور ہےکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہی گزارش کرتے تھے کہ لوگوں کو یہ بشارت نہ سنائی جائے کہ جس کے دل میں توحید کی سچی گواہی ہوگی، اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کر دے گا۔ حضرت عمر کہتے تھے کہ یا رسول اللہ، اس سے لوگ عمل سے بے پروا ہو جائیں گے، آپ لوگوں کو عمل کرنے دیں (صحیح مسلم، رقم 52)۔
مطیع سید: ایک اور حدیث کے متعلق بھی حضرت عثمان نے یہی بات فرمائی۔ جہاد کی فضیلت سے متعلق ایک حدیث بیان کر کے انھوں نے کہا کہ میں نے یہ حدیث تم سے چھپائے رکھی تھی، تاکہ تم مجھ سے جدا نہ ہو جاؤ، لیکن اب مجھے مناسب لگ رہا ہے کہ وہ تمھیں بتا دوں تاکہ تم جو بھی فیصلہ کرنا چاہو، کر لو۔ جدا ہونے سے یہاں کیا مراد ہے؟
عمارناصر: مطلب یہ ہے کہ میں یہ چاہتا تھا کہ لوگ یہاں میرے پاس مدینہ میں موجود رہیں تاکہ میں ان سے رہنمائی اور امور سلطنت کو چلانے میں مشورہ لیتا رہوں۔ اگر میں یہ حدیث بیان کرتا تو بہت سے لوگ اس فضیلت کو حاصل کرنے کے لیے جہاد پر چلے جاتے اور میں ان کی صحبت سے محروم ہو جاتا۔
مطیع سید: وضو والی حدیث کے متعلق ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عثمان نے کہا کہ اگر یہ بات اللہ کی کتاب میں نہ ہوتی تو میں تمھارے سامنے بیان نہ کرتا (رقم 400)۔ یہ حدیث تو انھوں نے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سنی ہوئی تھی تو وہ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں کہ اللہ کی کتاب میں نہ ہوتی تو میں بیان نہ کرتا؟
عمارناصر: یہ وہ اس پہلو سے کہہ رہے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے جو بات بیان کی جائے، اس کی تصدیق کا کوئی نہ کوئی ذریعہ ہونا چاہیے تاکہ کوئی غیر مستند اور بے بنیاد بات آپ کی طرف منسوب نہ کی جا سکے۔ حضرت عثمان اسی پہلو سے کہہ رہے ہیں کہ یہ حدیث جو میں بیان کر رہا ہوں، اس کے مضمون کی تائید اللہ کی کتاب میں موجود ہے۔ یعنی یہ کوئی غیر مصدقہ بات نہیں اور کوئی تصدیق کرنا چاہے تو اللہ کی کتاب سے تصدیق کر سکتا ہے۔ بنیادی مقصد یہی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب بات کسی بھی آدمی کے شخصی بیان پر قبول نہ کی جائے، بلکہ اس کی تصدیق کا اہتمام کیا جائے۔
مطیع سید: ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عثمان نے یہ حدیث بیان کر کے اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چار صحابہ سے گواہی لی (رقم 486)۔ کیا یہ وہی واقعہ ہے یا کسی دوسرے موقع پر انھوں نے دوبارہ یہ حدیث بیان کی؟
عمارناصر: دونوں امکان ہیں۔ ایک واقعہ بھی ہو سکتا ہے اور کوئی دوسرا موقع بھی ہو سکتا ہے۔ یہ بھی اکابر صحابہ کا معروف طریقہ ہے کہ وہ حدیث بیان کرتے ہوئے تصدیق کے لیے یا تو قسم کھاتے تھے یا دوسرے صحابہ کی گواہی ساتھ پیش کرتے تھے۔ اسی طرح کسی سے حدیث سنتے تو عام طور پر اس سے بھی حلف لیتے یا کوئی دوسرا گواہ طلب کرتے تھے۔ یعنی تصدیق کا کوئی نہ کوئی طریقہ ضرور اختیار کرتے تھے تاکہ ایک مصدقہ بات ہی آپ کی طرف منسوب کی جائے۔
مطیع سید: میں نے یہ بھی پڑھا ہے کہ حضرت عثمان لوگوں کو منع فرماتے تھے کہ ایسی حدیث بیان نہ کی جائے جو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کےدور میں لوگوں کو معلوم نہیں تھی۔ یہ بھی اسی احتیاط کے پہلو سے تھا؟
عمارناصر: جی، اس میں بھی یہی احتیاط ملحوظ تھی کہ وہی احادیث بیان کی جائیں جن سے اکابر صحابہ واقف تھے اور جو ان کے سامنے بیان ہوئی ہوں اور انھوں نے ان کی تصدیق کی ہو۔
مطیع سید:حضرت عثمان فرماتے ہیں کہ جب قرآنِ مجید نازل ہو رہاتھا تو بعض دفعہ مختلف سورتوں کی آیات ایک ہی وقت میں نازل ہو رہی ہوتی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لکھنے والے کو فرمادیتے تھے کہ یہ آیات فلاں سورہ میں فلاں جگہ اور یہ آیات فلاں سورہ میں فلاں جگہ رکھ دی جائیں (رقم399)۔ اس سے ایک سوال یہ پیداہوتاہے کہ کاتبین جب لکھ رہے تھے تو کیا وہ درمیان میں جگہ چھوڑ دیتے تھے کہ بعد میں اگر کوئی آیات آئیں گی تو انھیں یہاں لکھ لیں گے؟ بہ ظاہر تو ایسے لگتا ہے کہ جو آیات نازل ہوتی تھیں، وہ انھیں مسلسل لکھ دیتے ہوں گے۔ تو پھر بعد میں نازل ہونے والی آیات کو کسی سورہ کے درمیان وہ کیسے لکھتے تھے؟
عمارناصر: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورمیں تو ایسا نہیں تھا کہ آپ نے کوئی مصحف یا دفتر بنوایا ہو اور اس میں آیات کو لکھواتے ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں قرآن یکجا ایک مصحف میں لکھا ہوا نہیں تھا۔ مختلف اجزا ہوتے تھے اور جو معروف روایت ہے، اس کے مطابق جو بھی لکھنے کی چیز اس وقت دستیاب ہوتی تھی، اس پر قرآن کو لکھ لیا جاتا تھا۔ آیات کی ترتیب بنیادی طور پر قاریوں کے علم میں یاذہن میں ہوتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذہن میں بھی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کے مطابق تہجد کی نماز میں بھی قرآن کو پڑھتے تھے اور سال کے بعد رمضان میں جبریل کے ساتھ دورہ بھی فرماتے تھے۔آیات کی ترتیب تو اصل میں لوگوں کے حافظے میں تھی، ایک جگہ کوئی مرتب نسخہ لکھا ہوا نہیں تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مصحف میں نہ لکھنے کی وجہ بھی اہل علم یہی بیان کرتے ہیں کہ قرآن کا نزول مکمل نہیں ہوا تھا اور اس سے پہلے اسے یکجا لکھنا ممکن ہی نہیں تھا۔ مصحف میں ایک جگہ اصل میں اسے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں جمع کیا گیا۔
مطیع سید: علامہ تمنا عمادی نے تو ایک پوری کتاب لکھی ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ حضور کے زمانے میں ہی قرآن ایک مصحف میں جمع کر دیا گیا تھا۔
عمارناصر:جی، ان کا یہی دعویٰ ہے۔ کچھ اور اہل علم نے بھی یہ بات کہی ہے، لیکن اس کے تاریخی شواہد نہیں ہیں۔ بہت ہی کم زور استنباطات ان حضرات نے پیش کیے ہیں۔ اصل میں قرآن کو لکھا بھی جاتا تھا، یہ تو بالکل واضح ہے۔ قرآن خود اپنے لیے کتاب کا لفظ استعمال کرتا ہے۔ اسی طرح وہ ایک مرتب صحیفہ ہے، جس کی الگ الگ سورتیں ہیں، یہ بھی قرآن سے ہی واضح ہے۔ لیکن یہ تعبیرات تو قرآن پہلے دن سے ہی استعمال کر رہا ہے، جب ابھی کچھ ہی سورتیں نازل ہوئی تھیں۔ ان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ ایک مصحف میں اول سے آخر ترتیب کے ساتھ یکجا لکھا ہوا بھی موجود تھا۔ اس کا الگ تاریخی ثبوت ہونا چاہیے۔
مطیع سید: اسی روایت میں حضرت عثمان فرماتے ہیں کہ سورۂ انفال مدنی دور کے اوائل میں نازل ہوئی اور سورۂ براءت آخری دور میں نازل ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے اور وضاحت نہیں فرمائی کہ اس سورہ کو کہاں رکھیں تو ہم نے مضمون کی مشابہت کی بنیاد پر الانفال اور براء ت کو اکٹھا رکھ دیا (رقم 399)۔ یہ تو ایک طرح سے ا ن کا اجتہاد ہی تھا۔
عمارناصر: جی، حضرت عثمان کی اس روایت کے مطابق علما کے ایک بڑے گروہ کا رجحان یہی ہے کہ باقی سورتوں کی ترتیب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےبتادی تھی، لیکن سورۂ براءت کے متعلق آپ نے واضح نہیں کیا کہ اس کو کہاں رکھنا ہے تو پھر صحابہ نے اجتہاداً اس کو اس جگہ رکھ دیا۔
مطیع سید: جب حضرت ابو بکر صدیق نے قرآن کو ایک جگہ جمع کیا تو کیا اس وقت یہ سوال سامنے نہیں آیاتھا؟
عمارناصر: حضرت ابو بکر کے مصحف جمع کرنے کا جو محرک بتایاگیا ہے، وہ تویہ تھا کہ قرآن کا سارا متن ایک جگہ جمع کر دیا جائے تاکہ وہ کہیں ضائع نہ ہو جائے۔اب وہ سورتوں کے لحاظ سے مرتب تھا یا غیر مرتب،اور وہ ترتیب یہی تھی جو آج ہمارے سامنے ہے،اس کے بارے میں میرے مطالعے کی حد تک روایات میں کوئی واضح بات بیان نہیں ہوئی۔ البتہ روایات میں دوسرے صحابہ کے مصاحف کے بارے میں یہ آتا ہے کہ ان میں سورتوں کی ترتیب میں کچھ فرق تھا۔ مثلاً حضرت ابن مسعود کے مصحف میں سورۂ نساء آل عمران سے پہلے تھی۔ بعض روایات میں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی یہ نقل ہوا ہے کہ آپ نے تہجد میں تلاوت کرتے ہوئے سورۂ نساء پہلے اور آل عمران اس کے بعد پڑھی، لیکن اس کا تعلق تو تلاوت سے ہے اور تلاوت میں ترتیب سے سورتیں پڑھنا ضروری نہیں۔ حضرت عائشہ سے کوئی شخص یہ پوچھنے کے لیے آیا کہ آپ مجھے قرآن کی سورتوں کی ترتیب لکھوا دیں تاکہ میں اسے اسی ترتیب سے پڑھا کروں تو انھوں نے فرمایا کہ تلاوت میں ترتیب کو ملحوظ رکھنا ضروری نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے تو لوگ قرآن کی سورتوں کو کسی ترتیب کے بغیر ہی پڑھا کرتے تھے، اس لیے تم جہاں سے چاہو،پڑھ لیا کرو (بخاری، رقم 4993)۔
مطیع سید: لیکن اس وقت تو ایک ترتیب پوری امت میں رائج ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اگر یہ اجتہادی چیز تھی اور صحابہ نے بعد میں سورتوں کو ترتیب دیا تو اس اتفاق کی کیا وجہ ہے؟
عمارناصر: اس کی وجہ تو مصحف عثمانی پر امت کا متفق ہو جانا ہے۔ جیسےآپ دیکھیں، صحابہ میں مختلف قراءتیں رائج تھیں۔ بعض صحابہ کے مصاحف میں کچھ سورتوں کے کم یا زیادہ ہونے کا ذکر بھی ملتا ہے،لیکن جب حضرت عثمان کے اقدام سے ایک مصحف پر امت کا عمومی اتفاق ہوگیا تو پھر جو ترتیب اس میں اختیار کی گئی، اس پر بھی اتفاق ہو گیا۔شاید حضرت عثمان نے جو کوشش کی، اس میں یہ بھی ملحوظ ہوگا کہ اگر بعض لوگوں کے ہاں سورتوں کی ترتیب کا کوئی مسئلہ ہے اور سورتیں ترتیب میں آگے پیچھے ہیں تو اس کو بھی ہم طے کردیں۔اب تو ہمارے پاس اصل میں قراءت کے لحاظ سے بھی اور سورتوں کی ترتیب کے لحاظ سے بھی مصحف ِ عثمانی ہی ہے جس پر امت متفق ہے۔
مطیع سید: فراہی مکتب ِ فکر کے ہاں تو نظم کی پوری عمارت اسی ترتیب پر کھڑی کی جاتی ہے ۔ کیا اس پر سوال نہیں کھڑا ہو جاتا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ترتیب قائم ہی نہیں کی تو آپ اس میں نظم کس بنیاد پر تلاش کرتے ہیں؟
عمارناصر: مکتب فراہی کا نظریہ تو دراصل اس موقف پر مبنی ہے کہ قرآن کی سورتوں کی ترتیب توقیفی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں ہی قرآن کی تمام سورتوں کو موجودہ ترتیب کے ساتھ مرتب فرما دیا تھا۔ وہ ترتیب کو اجتہادی نہیں مانتے۔ مکتب فراہی سے پہلے بھی علما کی ایک جماعت کا یہی نقطۂ نظر رہا ہے۔ یہ حضرات ان روایات سے استدلال کرتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی سورتوں کی موجودہ ترتیب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہی معروف تھی۔ مثلاً قرآن کی سورتوں کو چار بڑے گروپس، یعنی سبع طوال، مئین، مثانی اور مفصل میں تقسیم کیا جاتا تھا اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ذکر فرمایا (مسند احمد، رقم 16675)۔ ایک حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو قرآن کی پہلی سات سورتیں سیکھ لے، وہ ایک بڑا عالم ہے(مسند احمد، رقم 24009)۔ اسی طرح صحابہ کے حوالے سے روایات میں آتا ہے کہ انھوں نے ہفتے میں پورے قرآن کی تلاوت مکمل کرنے کے لیے قرآن کی سورتوں کو مختلف گروپس میں تقسیم کیا ہوا تھا اور ہر روز ایک گروپ کی تلاوت کیا کرتے تھے (مسند احمد، رقم 15865)۔
فراہی مکتب فکر تو خاص طور پر قرآن کی جمع وترتیب کے حوالے سے ایک اہم استدلال خود قرآن کے اندر سے پیش کرتا ہے۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ قیامہ میں قرآن کے نزول اور اس کی جمع وتدوین کے متعلق اپنی پوری اسکیم بیان فرمائی ہے۔ مولانا فراہی کہتے ہیں کہ ’اِنَّ عَلَینَا جَمعَہ وَقُراٰنَہ‘ (76:17- 18) کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے متن کو جمع اور مرتب کرنا بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمے لیا ہے۔ اس کی رو سے قرآن کے متن کی جمع و ترتیب کے تمام مراحل کا خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں مکمل ہونا ضروری تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ جبریل علیہ السلام نے آپ کی زندگی کے آخری رمضان میں دو مرتبہ آپ کو قرآن جس ترتیب کے مطابق پڑھ کر سنایا، وہی قرآن کا حتمی متن تھا اور اللہ کی ہدایت کے مطابق آپ قرآن کے متن کو بالکل مرتب صورت میں صحابہ کے سپرد کر کے دنیا سے تشریف لے گئے تھے۔
مطیع سید: حضرت عثمان کی اس روایت کا پھر وہ کیا جواب دیتے ہیں؟
عمارناصر: فراہی مکتب فکر کے نزدیک تو یہ بس ایک روایت ہے جس کو وہ قرآن کے خلاف ہونے کی وجہ سے رد کر دیتے ہیں۔ دوسرے اہل علم بھی مختلف حوالوں سے اس روایت پر تنقید کرتے ہیں۔ مثلاً امام طحاوی اور قاضی ابوبکر الباقلانی کہتے ہیں کہ سورۂ انفال اور سورۂ براءت کا الگ الگ سورتیں ہونا تو ان کے ناموں سے ہی واضح ہے۔ پھر دونوں کے زمانۂ نزول میں سات آٹھ سال کا فرق ہے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ یہ بات ہی مشتبہ رہ گئی ہو کہ یہ دو سورتیں ہیں یا ایک سورت ہے۔ جدید دور میں استاذ احمد محمد شاکر اور علامہ البانی جیسے علماے حدیث نے سند کے حوالے سے بھی اس پر تنقید کی ہے۔