(مسندِ احمد کی احادیث سے متعلق استفسارات اور ان کا جواب)
(1)
مطیع سید:مسند احمد حدیث کی بہت بڑی کتاب ہے۔ بہت جامع بھی ہے۔ اس کی تالیف میں امام احمدبن حنبل کے پیش نظر کیا تھا؟
عما رناصر: ان کے پیش نظر یہ تھا کہ یہ احادیث کا ایک جامع مجموعہ ہو اور اہل علم کے لیے ماخذ کا کام دے۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے بہت سے مراکز حدیث کے اسفار کیے اور پھر عین جوانی میں مسند کا مواد مرتب کرنے کا کام شروع کیا، جو ان کی وفات تک جاری رہا۔ ان کے اپنے بیان کے مطابق ان کے پاس ساڑھے سات لاکھ روایات کا ذخیرہ تھا، جس میں سے انھوں نے مسند کی روایات کا انتخاب کیا ۔ لیکن وہ اس کام کو پورا نہیں کر سکے اور حسب منشا کتاب کو حتمی شکل نہیں دے سکے، اس سے پہلے ہی وفات پا گئے۔ بعد میں ان کے بیٹے عبد اللہ بن احمد نے اس کو ترتیب دی ہے۔ اسی لیے کتاب میں احادیث کا تکرار بھی کافی ہے، اور ترتیب میں بھی کئی جگہ اضطراب ہے۔ بہت سے صحابہ کی روایات دوسرے صحابہ کی روایات کے تحت درج ہیں۔
مطیع سید: علامہ تمنا عمادی نے مسند احمد کے بارے میں اپنی تحقیق یہ بیان کی ہے کہ اس کی نسبت ہی امام احمد کی طرف درست نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ بعد میں جمع کر کے ان کی طرف منسوب کر دی گئی۔ 1 اس کے بارے میں آپ کی کیا راے ہے؟
عمار ناصر : اصل میں تمنا عمادی صاحب کے نقطۂ نظر پر ذخیرۂ حدیث کے حوالے سے سازشی نظریے کا بہت غلبہ ہے۔ پھر مزاج میں بہت مبالغہ ہے اور وہ جو تحقیق بھی کرتے ہیں، اس میں مبالغہ کرنے اور کم شوا ہد پر بڑے نتیجے اخذ کرنے کا عنصر غالب ہوتا ہے۔ جب طبیعت پر کوئی رجحان غالب آجائے اور ایک ردعمل پیداہوجائے تو پھر استدلال بھی جذبات کے یا پسندیدہ نتائج کے تابع ہو جاتا ہے اور اس طرح کے مبالغہ آمیز نتیجے نکل آتے ہیں۔ مسند احمد کے بارے میں بھی ان کی تحقیق ایسی ہی ہے۔ مولانا عبد القدوس ہاشمی نے بھی غالباً انھی سے متاثر ہو کر اپنی ایک تحریر میں اس قسم کا نقطۂ نظر پیش کیا تھا،2 جس کے جواب میں علامہ البانی نے اپنی تصنیف ’’الذب الاحمد عن مسند احمد‘‘ لکھی اور اس کی کم زوری بہت تفصیل سے واضح کی ہے۔
مطیع سید: آپ کے خیال میں ان کے استدلال میں بنیادی کم زوری کیا ہے؟ کس چیز سے ان کو مغالطہ ہوا ہے؟
عمار ناصر: اصل میں تاریخی صورت حال یہ ہے کہ امام صاحب سے مسند کی روایت صرف ان کے بیٹے عبد اللہ بن احمد نے کی ہے، جن کے پاس ان کے سارے مسودات تھے۔ پھر عبد اللہ بن احمد سے مسند کا مسودہ ابوبکر القطیعی نے روایت کیا ہے اور ابوبکر القطیعی سے پھر اسے ابو علی التمیمی نے روایت کیا ہے جو ابن المُذہب کے نام سے معروف ہیں۔ ابن المُذہب سے اسے پھر ابو القاسم ہبۃ اللہ ابن الحصین روایت کرتے ہیں۔ یہ ساری سند آپ کو مسند احمد کے بالکل شروع میں لکھی ہوئی مل جائے گی۔ اب امام احمد سے اس کو صرف عبد اللہ نے روایت کیا ، اس کی وجہ تو تاریخی طور پر یہ سمجھ میں آتی ہے کہ امام احمد نے مسند کی روایات کسی عمومی حلقۂ درس میں بیان نہیں کیں۔ خلق قرآن کے مسئلے کی وجہ سے عباسی خلفا نے ان پر پابندی لگا دی تھی کہ وہ اپنے گھر تک محدود رہیں گے اور عمومی مجالس میں لوگوں سے گفتگو نہیں کریں گے۔ اس لیے زندگی کے آخری تیرہ چودہ سال امام احمد گھر میں ہی اپنے مسودات پر کام کرتے رہتے تھے اور مسند کے اجزا اپنے بیٹے عبداللہ کے سپرد کر دیتے تھے۔ اسی لیے ان سے مسند کی روایات کو براہ راست سننے یا انھیں پڑھ کر سنانے کا موقع بھی عبد اللہ بن احمد کو اور ان کے ساتھ ان کے بھائی اور ایک چچا زاد بھائی کو ہی ملا۔
لیکن عبد اللہ بن احمد کے بعد یہ مسئلہ سامنے آتا ہے کہ عبد اللہ سے مسند کو روایت کرنے والے ابوبکر القطیعی اور پھر ان سے نقل کرنے والے ابن المُذہب اور پھر ان سے روایت کرنے والے ابو القاسم ہبۃ اللہ، ان سب کی عمریں مسند کے سماع کے وقت بارہ پندرہ سال سے زیادہ نہیں بنتیں۔ یعنی جب عبد اللہ بن احمد کا انتقال ہوا تو ابوبکر القطیعی چودہ پندرہ سال کے تھے، پھر القطیعی کا انتقال ہوا تو ابن المُذہب کی عمر بارہ تیرہ سال تھی اور اسی طرح ابن المُذہب کے انتقال کے وقت ابو القاسم ہبۃ اللہ کی عمر بھی اسی کے لگ بھگ تھی۔ یعنی تینوں کڑیوں میں بالکل نوخیز راوی مسند کا سماع اور روایت کر رہے ہیں۔ اب یہ بات قابل تعجب ہے اور محدثین بھی اس کو محسوس کرتے ہیں۔ مثلاً آپ علامہ کوثری کو دیکھیں تو وہ اسی پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے بتاتے ہیں کہ مسند احمد کیوں استناد کے لحاظ سے صحاح ستہ کے برابر نہیں ہو سکتی۔3
پھر القطیعی اور ابن المُذہب کے بارے میں یہ بات بھی محدثین تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی علم حدیث میں کوئی خاص مہارت نہیں تھی ، یعنی آپ کہہ سکتے ہیں کہ بنیادی طور پر یہ محدث یا علم حدیث کے ماہر نہیں تھے۔ علامہ ذہبی نے یہ بھی لکھا ہے کہ چونکہ یہ متقن اور ماہر نہیں تھے، اس لیے ان کی ناتجربہ کاری یا کم علمی کی وجہ سے کئی جگہ مسند کی احادیث کے متون اور اسانید میں غلطیاں شامل ہو گئی ہیں۔ 4 اس طرح کی کچھ اور کم زوریاں بھی ان دونوں کے متعلق محدثین ذکر کرتے ہیں ۔ تو ان ساری معلومات کی روشنی میں تمنا عمادی یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر مسند احمد کا کوئی مسودہ واقعی موجود تھا تو عبد اللہ بن احمد کے دوسرے بہت سے پختہ کار شاگردوں کو چھوڑ کر اسے ایک نوجوان ابوبکر القطیعی ہی کیوں روایت کرتا ہے؟ پھر آگے القطیعی سے یہ مسودہ ابن المُذہب نے اور پھر ابن المُذہب سے ابو القاسم نے ہی کیوں روایت کیا ہے، جب کہ دونوں اس وقت لڑکپن کی عمر میں تھے؟ تو تمنا عمادی صاحب کی الجھن یہ ہے کہ اتنے اہم مجموعے کی روایت میں ’’چھوکرے “ہی کیوں پیش پیش نظر آتے ہیں؟
مطیع سید: تو کیا ان کے استدلال میں وزن نہیں ہے؟ بہ ظاہر تو کافی وزنی اعتراض معلوم ہوتا ہے۔
عمار ناصر: نہیں، یہ سوال تو کافی غور طلب ہے اور اس کے تاریخی اسباب تلاش کیے جا سکتے ہیں، لیکن تمنا عمادی اس سے جتنا بڑا نتیجہ اخذ کرتے ہیں، وہ بہت کم زور ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نہ امام احمد نے کوئی مسند مرتب کی تھی اور نہ عبد اللہ بن احمد نے اس کا کوئی مسودہ روایت کیا ۔ یہ سارا کچھ بعد میں اکٹھا کر کے ان کی طرف منسوب کر دیا گیا اور دو تین نسلوں تک اسے چھپ چھپا کر نقل کیا جاتا رہا۔ پھر محدثین نے اور مختلف فقہی وکلامی گروہوں نے دیکھا کہ اس میں تو سب کے مطلب کی روایات موجود ہیں تو سب گروہوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لینا شروع کر دیا۔ یہ تمنا عمادی کا قائم کردہ مفروضہ ہے۔ لیکن اس مفروضے پر سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنا بڑا مجموعہ جو تیس ہزار روایات پر مشتمل ہے، آخر کس نے اور کب وضع کر دیا؟ ابوبکر القطیعی اور ابن المُذہب تو کوئی ماہر محدث یا کوئی بڑے عالم تھے ہی نہیں کہ یہ کام کر سکیں، تو پھر ساری روایات کس نے وضع کیں؟ تمنا عمادی صاحب نے اس کا جواب یہ ڈھونڈا ہے کہ اصل میں ابوبکر القطیعی کو یہ سارا مواد ابوبکر الشافعی نام کے ایک شخص نے دیا، جو حقیقت میں شیعہ تھا اور بہ ظاہر اس نے سنیت کا لبادہ اوڑھا ہوا تھا۔ القطیعی نے اس کی نسبت عبد اللہ بن احمد کی طرف کر کے اسے آگے ابن المُذہب کو منتقل کر دیا۔ لیکن یہ محض ایک مفروضہ ہے، اس کا کوئی ٹھوس تاریخی ثبوت تمنا عمادی پیش نہیں کرتے۔ ابوبکر الشافعی کے متعلق ان کی ساری باتیں اٹکل پچو اور نرے قیاسات ہیں۔
مطیع سید: کیا مسند احمد کے مسودے کے علاوہ کچھ اور ایسے تاریخی شواہد موجود ہیں جن سے پتا چلتا ہو کہ امام احمد نے کوئی مسند مرتب کیا تھا یا نہیں؟
عمار ناصر: جی، بہت شواہد ہیں۔ امام احمد سے اور ان کے بیٹے عبد اللہ بن احمد سے بہت سے بیانات تاریخی مآخذ میں منقول ہیں، جن سے مسند کی موجودگی کا پتا چلتا ہے۔ مثلاً امام احمد سے منقول ہے کہ میں نے یہ مسند اس لیے جمع کیا ہے تاکہ یہ اہل علم کے لیے ایک مرجع کا کام دے اور احادیث کے متعلق کوئی اختلاف ہو تو اس کی طرف رجوع کیا جا سکے۔ پھر یہ بھی ذکر ملتا ہے کہ انھوں نے سات یا ساڑھے سات لاکھ روایات میں سے اس کا انتخاب کیا۔ یہ ذکر بھی ملتا ہے کہ وہ اس کے اجزا عبد اللہ کے سپرد کرتے رہتے تھے اور انھیں بتاتے تھے کہ اسے فلاں مسند میں شامل کر لو۔ امام احمد کا یہ بیان بھی منقول ہے کہ انھوں نے عبد اللہ سےکہا کہ اگر میں اس میں صرف وہ روایات درج کرتا جو میرے نزدیک صحیح ہیں تو یہ بہت مختصر ہوتا۔ میں نے اس میں کم زور روایات بھی درج کر دی ہیں، کیونکہ میرا مذہب یہ ہے کہ ضعیف روایت اگر کسی قوی دلیل سے ٹکرا نہ رہی ہو تو میں اسی کو ترجیح دیتا ہوں۔
امام احمد کے بعض معاصرین کے بیانات میں بھی مسند کا ذکر ملتا ہے، اور ان کے بیٹے عبد اللہ بن احمد بھی اپنی تصانیف میں کئی جگہ اس کا ذکر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ان مختلف محدثین کا تذکرہ بھی ملتا ہے جنھوں نے عبد اللہ بن احمد سے اور اسی طرح ان کے بعد القطیعی سے مسند کا سماع کیا یا ان سے روایت کی اجازت حاصل کی۔ اب ان سب لوگوں نے مسند کا کوئی نسخہ تو اپنی سند سے روایت نہیں کیا، لیکن تاریخی معلومات سے یہ پتا چل جاتا ہے کہ عبد اللہ اور القطیعی کے پاس امام احمد کی روایات کا ایک مجموعہ موجود تھا اور اہل علم ان سے اس مجموعے کے سماع یا روایت کے لیے رجوع کرتے تھے۔5 مطلب یہ کہ ایسا نہیں ہے کہ محدثین کو ایک دو صدی کے بعد کسی گم نام سے مسودے کی موجودگی سے یہ پتا چلا کہ امام احمد نے کوئی مسند مرتب کیا تھا۔ مستقل تاریخی بیانات بھی اس کی موجودگی پر شاہد ہیں۔
مطیع سید: یہ دونوں نکات بہت اہم ہیں اور ان سے بات کافی واضح ہو جاتی ہے۔ اگر مسودے کی موجودگی تاریخی طور پر ثابت ہے اور اتنے بڑے مجموعے کے متعلق یہ نشان دہی بھی نہیں کی جا سکتی کہ اسے کس نے کب وضع کیا تھا تو پھر جو نتیجہ تمنا عمادی بیان کر رہے ہیں، اس کو قبول کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
عمار ناصر: صرف یہی نہیں، ایک اور سوال بھی بہت بنیادی ہے کہ اگر کسی نے ان ساری احادیث کے متن وضع کیے ہیں جو مسند احمد میں درج ہیں تو یہ احادیث تو متعدد دیگر محدثین نے بھی اپنی اپنی سندوں سے نقل کی ہیں۔ اگر آپ تلاش کریں تو گنتی کی چند روایات ہوں گی یا بالکل نہیں ہوں گی جو صرف مسند احمد میں ہوں اور حدیث کے دوسرے مصادر میں محدثین نے اپنی سندوں سے بیان نہ کی ہوں۔ صحاح ستہ کی احادیث تو تقریباً ساری کی ساری مسند احمد میں موجود ہیں، لیکن صحاح کے مصنفین نے انھیں اپنی سندوں سے روایت کیا ہے۔ صحاح ستہ سے زائد جو روایات مسند میں ہیں، ان کی محدثین نے الگ سے نشان دہی کی ہے اور وہ سب دوسرے محدثین کے مرتب کردہ مجموعوں میں بھی ملتی ہیں۔ تو اگر مسند احمد کی تیس ہزار روایات کسی ایک یا زیادہ افراد نے امام احمد کی سند سے وضع کی ہیں تو پھر یہ ماننا پڑے گا کہ انھی لوگوں نے باقی سارے محدثین کے نام سے بھی الگ الگ سندیں بنا کر یہی حدیثیں ان کی کتابوں میں شامل کر دیں۔ یہ تو ایک بہت ہی جناتی قسم کا مفروضہ بن جاتا ہے۔
مطیع سید: ایک بحث یہ دیکھنے میں آئی کہ مسند احمد کو امام احمد سے ان کے بیٹے عبد اللہ بن احمد نے نقل کیا ہے، لیکن انھوں نے اس میں اپنی طرف سے بھی بہت سی روایات کا اضافہ کر دیا ہے۔ بعض محدثین کہتے ہیں کہ تقریباً ایک چوتھائی روایتیں مسند میں عبد اللہ بن احمد کی اضافہ کر دہ ہیں۔ تو کیا ان اضافوں سے مسند احمد کی استنادی حیثیت میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا ؟
عمار ناصر : امام احمد کے بیٹے نے مسند کے نسخے میں اپنی مرویات کا اضافہ کیا ہے،یہ بات محدثین کے ہاں مسلم ہے۔ لیکن ان کی تعداد کے متعلق عموماً بغیر تحقیق کے اندازے سے یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ وہ مسند کا ایک چوتھائی روایات ہیں۔ یہ تخمینہ درست نہیں ہے۔ معاصر محققین نے ان زیادات پر باقاعدہ کام کر کے دکھایا ہے کہ یہ اتنی زیادہ نہیں ہیں۔ کل تیرہ سو کے لگ بھگ روایات ہیں۔ پھر ان میں مزید تقسیم ہے۔ تمام روایات متن کے لحاظ سے زوائد نہیں ہیں، بلکہ ایک ہزار کے قریب روایات ایسی ہیں جن میں عبد اللہ بن احمد نے اسی روایت کو جو امام احمد نے بیان کی ہے، کسی دوسری سند سے بھی ذکر کر دیا ہے۔ صرف دو سے ڈھائی سو کے درمیان روایات ایسی ہیں جن کا متن نیا ہے اور عبد اللہ بن احمد نے اپنی سند سے ان کو مسند میں شامل کیا ہے۔6 ان زیادات سے مسند احمد کی استنادی حیثیت متاثر ہونے کا سوال اس لیے پیدا نہیں ہوتا کہ ایک تو عبداللہ بن احمد کی زیادات واضح طور پر متعین ہیں۔ دونوں طرح کی مرویات میں کوئی اختلاط نہیں ہوا۔ دوسرا یہ کہ کسی حدیث کی صحت وضعف کا مدار سند پر ہے، اور یہ اصول امام احمد کی اپنی مرویات پر بھی لاگو ہوتا ہے اور عبد اللہ بن احمد کی زیادات پر بھی۔ گویا محدثانہ نقطۂ نظر سے ان زیادات کو مسند میں درج کرنے سے کوئی الجھن پیدا نہیں ہوتی۔
[باقی]
- ۔ تمنا عمادی، اعجاز القرآن واختلاف قراءت، ص 273 – 309۔ الرحمٰن پبلشنگ ٹرسٹ، کراچی، 1993ء۔
- ۔ ’’معتبر اور غیر معتبر روایات“، مشمولہ ’’مقالات ہاشمی“، مرتب: ثناء الحق صدیقی، دار التذکیر لاہور، 1993ء۔
- ۔ علامہ کوثری کا یہ تبصرہ الشیخ عبد الفتاح ابوغدہ نے ’الاجوبة الفاضلة للاسئلة العشرة الکاملة لعبد الحی اللکنوی‘ پر اپنی تعلیقات میں نقل کیا ہے (ص 97)۔
- ۔ میزان الاعتدال 1/512۔
- ۔ ان روایات کے لیے دیکھیے: ابو موسیٰ المدینی، خصائص مسند الامام احمد۔ الالبانی، الذب الاحمد عن مسند احمد۔
- ۔ دیکھیے ، الدکتور عامر حسن صبری کی کتاب: زوائد عبد اللہ بن احمد بن حنبل فی المسند، دار البشائر الاسلامیہ بیروت، طبع 1990ء۔