مواد پر جائیں

معارف نبوی

اردو

ــــــ 1 ــــــ

حضرت ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ جب کسی کی تخلیق کا ارادہ کرتا ہے تو ایک فرشتہ بھیجتا ہے۔ وہ فرشتہ رحم میں داخل ہوتا اور کہتا ہے: پروردگار، یہ کیا ہے؟اللہ بتاتا ہے کہ لڑکا ہو گا یا لڑکی یا پھر جو کچھ اللہ رحم میں تخلیق کرنا چاہتا ہے۔ پھر فرشتہ پوچھتا ہے: پروردگار، یہ بدبخت ہوگا یا خوش بخت؟اِس پر بھی اللہ بتا دیتا ہے کہ وہ کیا ہو گا، بدبخت یا خوش بخت؟پھر وہ پوچھتا ہے:پروردگار، اِس کا رزق کیا ہوگا؟ اللہ وہ بھی بتا دیتا ہے کہ اتنا اور اتنا۔ پھر پوچھتا ہے: پروردگار، اِس کی موت کا وقت کیا ہے؟اللہ اِس کا جواب بھی دے دیتا ہے کہ فلاں اور فلاں۔ اِس کے بعد فرشتہ پوچھتا ہے کہ پروردگار، اِس کی فطرت کیا ہو گی؟ اِس کے جواب میں اللہ فرماتا ہے: وہی جو اِس کے ساتھ رحم میں بنا دی جائے گی۔(مشکل الآثار،طحاوی،رقم 3278)

ــــــ 2 ــــــ

ابوطفیل بیان کرتے ہیں کہ میں ابو سریحہ حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا تو اُنھوں نے کہا : میں نے اپنے اِن دونوں کانوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: نطفہ چالیس راتیں رحم میں رہتا ہے، پھر فرشتہ اُس کی صورت گری شروع کرتا ہے۔ زہیر کہتے ہیں: میرا گمان ہے کہ اُنھوں نے کہا : وہی فرشتہ جو اُس کی تخلیق پر مقرر ہے، اور کہتا ہے : اے میرے رب، عورت ہو گی یا مرد ہو گا؟ پھر اللہ تعالیٰ اُس کے مردیا عورت ہونے کا فیصلہ کر دیتا ہے۔ پھر وہ کہتا ہے: اے میرے رب، یہ ہر لحاظ سے درست ہو گا یا ناقص رہ جائے گا؟ پھر اللہ تعالیٰ اُس کے درست یا ناقص رہ جانے کا بھی فیصلہ کر دیتا ہے ، پھر وہ کہتا ہے: اے میرے پروردگار، اِس کا رزق کتنا ہو گا؟ اِس کی مدت حیات کتنی ہو گی اور اِس کا اخلاق کیسا ہو گا؟ اِس کے جواب میں اللہ تعالیٰ اُس کے بدبخت یا خوش بخت ہونے کے بارے میں بھی طے کردیتے ہیں۔(صحيح مسلم،رقم 4790)

ــــــ 3 ــــــ

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ جب کسی نفس کو تخلیق کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو رحم میں موجود فرشتہ سوال کے بعد سوال پوچھتا ہے، یعنی پروردگار، یہ مرد ہے یا عورت؟سو اللہ اُس کے جواب میں اِس کا فیصلہ کر دیتا ہے۔ پھر وہ پوچھتا ہے کہ اے میرے رب، یہ نیک بخت ہوگا یا بد بخت؟ اللہ اِس کا بھی فیصلہ کر دیتا ہے۔ اِس کے بعد وہ اُس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ہر وہ چیز لکھ دیتا ہے جو اُس کو پیش آئے گی، یہاں تک کہ وہ مصیبت بھی جو اُسے لاحق ہوگی۔ (صحیح ابن حبان، رقم6312)

مقامات