ــــــ 1 ــــــ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سب سے پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہو گا، اُن کی صورتیں ایسی روشن ہوں گی، جیسے چودھویں کا چاند روشن ہوتا ہے، پھر اُن کے بعد جو لوگ داخل ہوں گے، وہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح چمکتے ہوں گے۔وہ نہ تھوکیں گے، نہ اُن کی ناک سے رطوبت نکلے گی اور نہ بول و براز کی ضرورت لاحق ہوگی۔ اُن کے برتن سونے کے ہوں گے، یہاں تک کہ کنگھے بھی سونے چاندی کے ہوں گے۔ اُن کی انگیٹھیوں میں نہایت پاکیزہ اورخوشبودار عود سلگتا ہوگا اور اُن کا پسینہ مشک کی طرح ہوگا۔ اُن میں سے ہر ایک کی دو،دو بیویاں ہوں گی،آہو چشم گوریوں میں سے، جن کی پنڈلیوں کا گودا اُن کے حُسن کی وجہ سے گوشت کے اوپر ایسا دکھائی دے گا، جیسے سفید پیمانے میں سرخ شراب دکھائی دے۔ جنت میں کوئی بھی کنوارا نہ ہوگا۔ اُن کا آپس میں کوئی اختلاف نہ ہو گا اور نہ بغض و عناد، اُن کے دل بالکل ایک ہوں گے۔ وہ صبح و شام وہاں اللہ کی تسبیح و تہلیل میں مشغول رہیں گے۔ (صحیح بخاری،رقم 3024)
ــــــ 2 ــــــ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ایک صبح یا ایک شام کا سفر، دنیا اور اُس کی ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔ جنت میں تمھارے کسی شخص کی ایک کمان کے برابر یا ایک قدم جتنے فاصلے کی جگہ،دنیا اور اُس کی ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔ جنت کی عورتوں میں سے کوئی عورت اگر روے زمین کی طرف جھانک کر دیکھ لے تو آسمان سے لے کر زمین تک، ہر چیز کو روشن کر دے اور ہر چیز کو خوشبو سے بھر دے۔ اُس کی تو اوڑھنی تک دنیا اور جو کچھ اُس میں ہے، اُس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ (صحیح بخاری،رقم 6111)
ــــــ 3 ــــــ
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب کوئی عورت دنیا میں اپنے شوہر کو تکلیف دیتی ہے تو آہو چشم گوریوں میں سے اُس کی بیوی کہتی ہے: اللہ تجھے ہلاک کرے، اِس کو تکلیف نہ دے، یہ تو تیرے پاس مہمان ہے، قریب ہے کہ یہ تجھے چھوڑ کر ہمارے پاس آ جائے گا۔ (مسند احمد،رقم 21528)