ــــــ 1 ــــــ
ابو قتادہ بیان کرتے ہیں کہ اُنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے فرمایا: اچھا خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے،لہٰذا اُس میں بشارت ہوتی ہے۔ سو تم میں سے کوئی شخص جب ایسی چیز خواب میں دیکھے جو اُسے اچھی لگ رہی ہو تو اُس کا ذکر صرف اُسی سے کرے جو اُسے عزیز ہو۔ اِسی طرح برا خواب شیطان کی طرف سے ہے۔ چنانچہ تم میں سے کوئی شخص جب ایسی چیز خواب میں دیکھے جو اُسے بری لگ رہی ہو تو اُس کا ذکرکسی سے نہ کرے۔ تاہم اٹھنے کے بعدشیطان کے شر سے پناہ مانگتے ہوئے تین مرتبہ اپنے بائیں جانب تھوتھو کر دے، اور مطمئن رہے، وہ اُس کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ (جامع معمر بن راشد،رقم 965)
ــــــ 2 ــــــ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خواب تین قسم کے ہوتے ہیں: اللہ کی طرف سے خوش خبری، نفس انسانی کے مکالمات اور شیطان کے ڈراوے۔ پھر تم میں سے کوئی اچھا خواب دیکھے تو اُسے،اگر چاہے تو بیان کر سکتا ہے، لیکن کوئی ایسا خواب دیکھے جو اُسے اچھا نہ لگے تو کسی سے بیان نہ کرے، بلکہ اٹھ کر نماز پڑھے۔
(مصنف ابن ابی شیبہ،رقم 29917)
ــــــ 3 ــــــ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دروازے کا ) پردہ اٹھایا تو لوگ ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف بستہ تھے۔ آپ نے یہ دیکھا تو فرمایا : لوگو، نبوت کی بشارتوں میں سے اب سچے خواب ہی باقی رہ گئے ہیں۔ اِنھیں مسلمان خود بھی دیکھیں گے اور اُن کے لیے یہ دوسروں کو بھی دکھائے جائیں گے۔ خبردار رہو! مجھے رکوع اور سجدے کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے۔ سو جہاں تک رکوع کا تعلق ہے تو اُس میں اپنے پروردگار کی کبریائی بیان کرو،اور جہاں تک سجدے کا تعلق ہے تو اُس میں خوب دعا کیا کرو، اِس لیے کہ تمھاری دعاؤں کی قبولیت کے لیے یہ موقع بہت ہی موزوں ہے۔
(صحیح مسلم،رقم743)