مواد پر جائیں

معارف نبوی

اردو

ــــــ 1 ــــــ

‏‏‏ ابو بردہ اپنے والد عبد اللہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یہ امت(جس میں میری بعثت ہوئی)، وہ امت ہے کہ اِس پر بڑی رحمت ہوئی ہے۔ اِس پر عذاب اِنھی کے ہاتھوں سے آئے گا۔ (پھر) جب قیامت کا دن ہو گا تو وہاں بھی اِن کے اہل ذمہ یا اہل شرک میں سے ہر شخص کو اِنھی میں سے کسی کے حوالے کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ جہنم سے تمھارا فدیہ ہے۔(مسند عبد بن حمید ، رقم 545)

ــــــ 2 ــــــ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مجھے قیامت سے پہلے تلوار دے کر بھیجا گیا ہے، (میں اِس کے ذریعے سے لڑوں گا)، یہاں تک کہ (اِس سرزمین میں)تنہا ایک خدا کی عبادت کی جائے، اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرایا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے میرا رزق میرے نیزے کے سایے میں رکھ دیا ہے اور جو میرے حکم کی خلاف ورزی کرے، اُس کے لیے ذلت اور محکومی کا فیصلہ فرمایا ہے۔ (یاد رکھو)، جو کسی قوم کی طرح ہو کر رہے گا، وہ پھر اُنھی میں شمار ہوگا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ، رقم18833)

ــــــ 3 ــــــ

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اِن لوگوں سے جنگ کروں، یہاں تک کہ یہ اِس بات کی شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں اور اِس بات کی شہادت دیں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، اور نماز کا اہتمام کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ پھرجب یہ کر لیں تو اِن کی جانیں اور اِن کے مال مجھ سے محفوظ ہو جائیں گے، الاّ یہ کہ اُن سے متعلق کسی حق کے تحت یہ لوگ اِس حفاظت سے محروم کر دیے جائیں۔ رہا اِن کا حساب تو وہ اللہ کے ذمے ہے۔(صحیح بخاری، رقم24)

مقامات