ــــــ 1 ــــــ
عیاض بن حمار مجاشعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا :لوگو، سنو، میرے رب نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ آج جو باتیں اُس نے مجھے سکھائی ہیں اور جن سے تم ناواقف ہو، وہ میں تمھیں سکھا دوں۔میرے رب نے فرمایا ہے کہ ہر وہ مال جو میں نے اپنے کسی بندے کو دے دیا ہے، وہ اُس کے لیے حلال ہے۔ اور میں نے اپنے سب بندوں کو حق کی طرف رجوع کرنے والا بنا کر پیدا کیا ہے، لیکن پھر شیاطین نے اُن کے پاس آکر اُن کے دین سے اُنھیں پھیردیا۔ اور میں نے اپنے بندوں کے لیے جن چیزوں کو حلال کیا ہے، اُنھوں نے وہ اُن کے لیے حرام کر دیں اور اُن کوترغیب دی کہ میرے ساتھ اُن کو شریک ٹھیرائیں جن کے لیے میں نے کوئی دلیل نہیں اتاری ہے اور ترغیب دی کہ میری بنائی ہوئی ساخت کو تبدیل کر دیں۔ اور مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ نے زمین والوں پر نظر ڈالی تو اہل کتاب کے کچھ بچے ہوئے لوگوں کے سوا وہ اُن کے سب عرب و عجم سے ناراض ہوا اور فرمایا:اے محمد،میں نے تمھیں اِس لیے بھیجا ہے کہ تم کو آزماؤں اور تمھارے ذریعے سے دوسروں کو بھی آزماؤں۔ اور میں نے تم پر ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جسے کوئی پانی نہیں دھو سکے گا اور تم سوتے جاگتے اِس کتاب کو پڑھو گے، اور کوئی شبہ نہیں کہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں قریش کو جلا ڈالوں۔ اِس پر میں نے عرض کیا کہ پروردگار، میں یہ کر وں تو قریش کے لوگ تو میرا سر پھاڑ کر اُسے کھائی ہوئی روٹی بنا دیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:تم اُن کو نکلنے کے لیے کہنا، جس طرح اُنھوں نے تمھیں نکلنے کے لیے کہا ہے اور اُن سے جنگ کرنا، ہم بھی تمھارے ساتھ ہو کر جنگ کریں گے اور تم اپنے مجاہدین پر خرچ کرنا، عنقریب ہم بھی تم پر عنایت فرمائیں گے، اور اپنا لشکر روانہ کرنا، ہم اُس کے ساتھ پانچ گنا لشکر مزید روانہ کر دیں گے،اورتم یہ قتال اپنے فرماں برداروں کو لے کر اُن کے ذریعے سے اپنے نافرمانوں کے ساتھ کرنا۔ (مسلم، رقم5113)
ــــــ 2 ــــــ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوئے اور آپ کے بعد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کے جانشین بنائے گئے اور عربوں میں سے جنھوں نے انکار کرنا تھا، اُنھوں نے انکار کر دیا تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر سے کہا:آپ اِن لوگوں سے کس طرح لڑیں گے، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیان کر چکے ہیں کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اِن لوگوں سے جنگ کروں، یہاں تک کہ یہ لا الٰہ الا اللہ کہہ دیں،پھر جس نے لا الٰہ الا اللہ کہہ دیا، اُس نے اپنا مال اور اپنی جان مجھ سے محفوظ کر لی، الاّ یہ کہ اُن سے متعلق کوئی حق اُس پر قائم ہو جائے، اور اُس کا حساب اللہ کے ذمے ہے؟ سیدنا ابوبکر نے یہ سنا تو فرمایا: خدا کی قسم، میں اُن لوگوں سے ضرور لڑوں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرتے ہیں،اِس لیے کہ زکوٰۃ مال کا حق ہے۔ خدا کی قسم، جانور کو باندھنے کی ایک رسی بھی اُنھوں نے مجھ سے روکی جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے تو میں اِس روکنے پر اُن سے لڑوں گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بخدا، بات یہ تھی کہ ابوبکر کو اللہ نے اِس جنگ کے لیے شرح صدر عطا کر دیا تھا، سو میں سمجھ گیا کہ یہی حق ہے۔( السنن الصغریٰ، نسائی،رقم3059)
ــــــ 3 ــــــ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اِن لوگوں سے جنگ کروں، یہاں تک کہ وہ اِس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور اِس بات کی گواہی دیں کہ محمد اُس کے بندے اور رسول ہیں،اور وہ ہمارے قبلے کا رخ کریں اور ہمارا ذبیحہ کھائیں اور ہمارے طریقے پر نماز پڑھیں۔ پھر جب وہ یہ شرطیں پوری کر دیں تو اُن کے خون اور اُن کے اموال ہم پر حرام ہوں گے، الاّ یہ کہ اُن سے متعلق کسی حق کے تحت یہ حرمت اٹھالی جائے۔ اُن کے وہی حقوق ہوں گے جو مسلمانوں کے ہیں اور اُن پر وہی ذمہ داری ڈالی جائے گی جو مسلمانوں پر ڈالی جاتی ہے۔ ( ترمذی،رقم2550)