مواد پر جائیں

معارف نبوی

اردو

ــــــ 1 ــــــ

معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، ہم جاہلیت کے زمانے میں بعض کام کیا کرتے تھے۔(اُنھی میں سے یہ بھی تھا کہ) ہم کاہنوں کے پاس جایاکرتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’لیکن اب کاہنوں کے پاس مت جایا کرو۔“ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: ہم برا شگون بھی لیا کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: یہ ایک خیال ہی ہوتا ہے جو تم میں سے کسی کے دل میں گزرتا ہے، مگر تمھیں یہ کسی کام سے روکے نہیں۔میں نے عرض کیا: ہم میں سے کچھ لوگ خط بھی کھینچتےتھے۔ اِس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک نبی بھی خط کھینچا کرتےتھے۔جس کا خط اُس کے موافق ہوجائے، وہ یہ خط کھینچ لے۔ (مسلم،رقم 4140)

ــــــ 2 ــــــ

زہری روایت کرتے ہیں کہ مجھے یحییٰ بن عروہ نے بتایا کہ اُنھوں نے عروہ سے سنا ،وہ کہتے تھے کہ سیدہ عائشہ کا بیان ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےکاہنوں کے بارے میں پوچھاتو آپ نے اُن سے کہا: ’’وہ کچھ نہیں ہیں‘‘۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول، بعض اوقات وہ ایسی بات بھی تو کہہ دیتے ہیں جو سچی ثابت ہوتی ہے۔آپ نے وضاحت فرمائی: یہ ایک سچاکلمہ ہوتا ہے، جس کو جن اچک لیتا ہے اور اپنے دوست کے کان میں مرغ کی طرح قر قر کر کے ڈال دیتا ہے۔ اِس کے بعد یہ کاہن لوگ اُس میں سو سے زیادہ جھوٹ ملا دیتے ہیں۔

(مسلم،رقم 4142)

ــــــ 3 ــــــ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ ام المومنین سیدہ عائشہ روایت کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے فرمایا: فرشتے عنان میں اترتے ہیں،اور عنان ایک بادل ہے۔ پھر وہ اُن کاموں کا ذکر کرتے ہیں، جن کا فیصلہ آسمان میں ہوچکا ہوتا ہے۔ یہی موقع ہے، جب شیاطین اُدھر کان لگاتے اور اُسے سن لیتے ہیں۔ پھریہ شیاطین کاہنوں کو الہام کر دیتے اور وہ اپنی طرف سے اُس کے ساتھ ملا کر سو جھوٹ مزید بولتے ہیں۔ ( بخاری،رقم 2989)

مقامات