مواد پر جائیں

معارف نبوی

اردو

ــــــ 1 ــــــ

صفیہ بنت ابو عبید سے روایت ہے،وہ کہتی ہیں :میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ اُنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے فرمایا:جو شخص کسی نجومی کے پاس جائےکہ اُس سے کوئی سوال پوچھے، اُس کی چالیس شب و روز کی نمازیں قبول نہیں کی جاتیں۔ (المعجم الاوسط،طبرانی،رقم9405)

ــــــ 2 ــــــ

زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں ہمیں صبح کی نماز پڑھائی۔اُسی رات بارش ہوئی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہو گئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم جانتے ہو کہ تمھارے پروردگار نے کیا کہا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اُس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: (اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ) میرے بندوں میں سے کچھ نے میرے اوپرایمان کے ساتھ صبح کی ہے اور بعض نے کفر کی حالت میں۔ سوجس شخص نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اُس کی رحمت سے ہم پر بارش برسی،وہ میرے اوپر ایمان لایا اور تاروں کا انکار کیا۔ اور جس نے کہا کہ فلاں تارے کی وجہ سے ہمارےاو پر بارش برسی، اُس نے میرے ساتھ کفر کیا اور وہ تاروں پر ایمان لایا۔(بخاری،رقم 804)

ــــــ 3 ــــــ

عکرمہ کہتے ہیں، میں نے ابو ہریرہ سے سنا، وہ بیان کرتے ہیں كہ اللہ کےنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جب آسمان پر کسی چیز کا فیصلہ کرتا ہےتو فرشتےاُس کی بات کے امتثال میں سراپا عاجزی ہو کر اپنے پر مارتے ہیں۔ یہ اُس طرح کی آواز ہوتی ہے، جس طرح چکنے پتھر پر کوئی زنجیر کھینچی جائے۔ پھر جب اُن کے دلوں کی گھبراہٹ دور ہو جاتی ہے تو ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں: تمھارے پروردگار نے ابھی کیا فرمایا ہے؟وہ جواب میں کہتے ہیں: اُس نے حق ہی فرمایا ہے اور وہ بلند مرتبہ ہے، بڑی شان والا ہے۔ پھر کوئی چھپ کر سننے والا اِس کو سن لیتا ہے اور یہ چھپ کر سننے والے اوپر نیچے ہوتے ہیںــــــسفیان نے اِس کی صورت اپنے ہاتھ سے اِس طرح سمجھائی کہ اُس کو جھکایا اور اُس کی انگلیاں پھیلا دیں ــــــ (فرمایا):وہ ایک اُس بات کو سنتا ہے اور سن کر نیچے والے کو القا کرتا ہے۔ پھر نیچے والا اُس سے نیچے والے کو، یہاں تک کہ وہ اُسے ساحر یا کاہن کی زبان پر القا کردیتا ہے۔ اِس میں بارہا یہ بھی ہوتا ہے کہ القا سے پہلے ہی شہاب ثاقب اُسے پالیتا ہے اور یہ بھی ہوتا ہے کہ اُس کے پہنچنے سے پہلے وہ اُسے القا کر دیتا ہے۔پھر وہ کاہن اُس کے ساتھ سو جھوٹ خود بولتا ہے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ کیا فلاں فلاں دن اُس نےہمیں اِس اور اِس طرح کی بات نہیں کہی تھی۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو بات اُس نے آسمان سے سنی تھی، اُس کی وجہ سے اُس کی تصدیق ہو جاتی ہے۔ ( بخاری،رقم 4451)