ــــــ 1 ــــــ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جس بیماری سے جان بر نہیں ہوسکے،اُس میں آپ نےفرمایا: اللہ نے یہود و نصاریٰ پر لعنت کی ہے، اِس لیے کہ اُنھوں نے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ اِس کے بعد سیدہ نے کہا: چنانچہ اگر یہ بات نہ ہوتی تو آپ کی قبر کو کھلا رہنے دیا جاتا،مگر اِس کا اندیشہ تھا کہ اُس کو بھی اِسی طرح سجدہ گاہ بنا لیا جائے گا۔
(مسلم،رقم 828)
ــــــ 2 ــــــ
عبد اللہ بن حارث نجرانی، جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ اُنھوں نے بتایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات سے پانچ روز قبل یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں اللہ کے حضور اِس چیز سے براءت کا اظہار کرتا ہوں کہ تم میں سے کوئی میرا خلیل ہو ،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اُسی طرح اپنا خلیل بنا لیا ہے، جس طرح اُس نے ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا تھا۔ اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا توابو بکر ہی کو خلیل بناتا ۔تم خبردار رہو، تم سے پہلے لوگ اپنے پیغمبروں اور نیک لوگوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیتے تھے، کہیں تم اِن قبروں کو عبادت گاہ نہ بنا بیٹھنا، میں تم لوگوں کو اِس بات سے منع کرتا ہوں۔ (مسلم،رقم 832)
ــــــ 3 ــــــ
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر پر چونا لگانے، اُس پر بیٹھنے اور عمارت بنانے سے منع فرمایا۔ (مسلم،رقم 1616)