ــــــ 1 ــــــ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ سورج گرہن ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نما ز ادا کی۔اُس موقع پر صحابہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔پھر آپ نماز سے فارغ ہوگئے۔ اُس وقت تک سورج بھی صاف ہوچکا تھا۔چنانچہ آپ نے خطبہ دیا اورفرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں،اِنھیں کسی کی موت و حیات کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا، لہٰذا اگر کبھی ایسا دیکھو تو اپنے رب کو یاد کیا کرو۔ صحابہ نے پوچھا: یارسول اللہ،نماز کے دوران میں ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنی اِس جگہ پر کھڑے کھڑے شاید کوئی چیز لینا چاہی تھی،پھر ہم نے دیکھا کہ آپ رک گئے ہیں۔ آپ نے فرمایا :میں نے جنت دیکھی تو اُس میں سے میووں کا ایک گچھا لینا چاہا۔ اگر میں اُس کو لے لیتا تو جب تک دنیا باقی ہے، تم اُس میں سے کھاتے رہتے۔ پھر میں نے دوزخ دیکھی تو اُس میں ایک ایسا منظر دکھائی دیا کہ آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ اُس میں زیادہ تعداد عورتوں کی تھی۔ لوگوں نے پوچھا: وہ کیوں، یارسول اللہ؟ آپ نے فرمایا: اِس لیے کہ ناشکری کرتی رہتی ہیں۔ لوگوں نے پوچھا: کیا اللہ کی ناشکری کرتی ہیں؟ آپ نے فرمایا :نہیں، اپنے شوہر کی ناشکری کرتی ہیں اور کسی کا احسان نہیں مانتیں۔تم نے کسی عورت کے ساتھ زندگی بھر احسان کیا ہو، پھر تم سے کوئی ایسی بات ہو جائے جو اُسے ناگوار ہو تو فوراً کہے گی: میں نے تم سے کبھی کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔
(موطا،رقم441)
ــــــ 2 ــــــ
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں عید کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں حاضر ہوا تو آپ نے نمازاذان اور اقامت کے بغیراور خطبے سے پہلے پڑھائی۔ اُس کے بعد آپ بلال کا سہارا لے کر کھڑے ہوئے اور لوگوں کو اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کے لیے کہا، اُس کی اطاعت کی ترغیب دی اور اُنھیں وعظ و نصیحت کی اور یاددہانی کرائی۔ پھر آگے بڑھے اور خواتین کے پاس آئے، اُن کو بھی اِسی طرح وعظ و تذکیر کی اور فرمایا: تم لوگ صدقہ کیا کرو، اِس لیے کہ جو لوگ دوزخ کا ایندھن بنیں گے، اُن میں زیادہ تعداد تمھاری ہو گی۔ آپ کی یہ بات سن کر عورتوں کے درمیان سے ایک عورت اٹھی جس کے گال سرخی مائل سیاہ تھے۔ اُس نے عرض کیا: وہ کیوں، یا رسول اللہ؟ آپ نے فرمایا: اِس لیے کہ تم لوگ شکایت بہت کرتی ہو اور شوہروں کی ناشکری کرتی ہو۔ جابر کہتے ہیں کہ یہ سن کر عورتیں اپنے زیورات صدقہ کرنے لگیں، وہ اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں اتار اتار کر اُس کپڑے میں ڈال رہی تھیں جو بلال رضی اللہ عنہ نے اِسی مقصد سے بچھا رکھا تھا۔ (مسلم، رقم1473)
ــــــ 3 ــــــ
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ عیدالاضحٰی یا عیدالفطر کے دن جاے نماز کی طرف جانے کے لیے نکلے تو آپ کا گزر عورتوں کے پاس سے ہوا۔ آپ نے فرمایا: بیبیو، صدقہ کیا کرو، اِس لیے کہ میں نے دوزخ میں تم کو زیادہ دیکھا ہے۔ اُن میں سے ایک عورت نے، جو دانش مند معلوم ہوتی تھی، پوچھا: ایسا کیوں ہو گا، یا رسول اللہ؟ آپ نے فرمایا: تم لوگ بہت زیادہ لعنتیں کرتی ہو اورشوہروں کی ناشکری کرتی ہو۔ میں نے تم سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا کہ اُس پر دینی اور عقلی، دونوں طرح کے معاملات کی ذمہ داری کم ڈالی گئی ہو اور وہ اچھے بھلے ہوشیار اور دانا مرد کو بے عقل بنا کر رکھ دے۔ عورتوں نے کہا: ہمارے اوپر دینی اور عقلی معاملات میں کیا کمی کی گئی ہے، یا رسول اللہ؟ آپ نے فرمایا: کیا تم پر گواہی کی ذمہ داری مردوں سے آدھی نہیں ہے؟ اُنھوں نے کہا: یقیناً۔ آپ نے فرمایا: یہی عقلی معاملات میں ذمہ داری کی کمی ہے۔ فرمایا: پھر کیا ایسا نہیں ہے کہ عورتیں ایام سے ہوتی ہیں تو نہ نماز پڑھتی ہیں اور نہ روزہ رکھتی ہیں؟ اُنھوں نے کہا: ایسا ہی ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ دینی معاملات میں ذمہ داری کی کمی ہے۔ ( بخاری، رقم296)