مواد پر جائیں

معارف نبوی

اردو

ــــــ 1 ــــــ

’’ابن محیریز نے بیان کیا کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ موجود ہیں۔ میں اُن کے پاس بیٹھ گیا اور اُن سے عزل کے متعلق سوال کیا۔ اُنھوں نے بتایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوۂ بنی المصطلق کے لیے نکلے۔ اِس غزوے میں ہمیں اہل عرب کے کچھ قیدی ملے۔ اُس وقت ہمیں عورتوں کی خواہش ہو رہی تھی اور اُن کے بغیر رہنا سخت مشکل ہو گیا تھا۔ اِس طرح کی صورت حال میں ہم عزل کو پسند کرتے تھے۔ چنانچہ اب بھی یہی ارادہ ہوا کہ عزل کر لیں گے۔ لیکن پھر خیال ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہیں تو آپ سے پوچھے بغیر عزل کر لیں؟اِس پر ہم نے آپ سے اِس کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا:  تم نہ کرو تو پھر بھی کچھ حرج نہیں، اِس لیے کہ قیامت تک جو جان بھی پیدا ہونے والی ہے، وہ ضرور پیدا ہو کر رہے گی۔‘‘

(صحیح بخاری،رقم 3848)

ــــــ 2 ــــــ

’’ ‏‏‏‏ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عزل کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا: تم یہ کیوں کرتے ہو؟صحابہ نے عرض کیا: آدمی کے پاس ایسی عورت بھی ہوتی ہے جو دودھ پلاتی ہے۔ وہ اُس سے صحبت کرلیتا ہے تو ڈرتا ہے کہ اُسے حمل نہ ٹھیر جائے۔ اِسی طرح  کسی کے پاس کوئی لونڈی ہو اور وہ اُس سے صحبت کرلے  تو وہ بھی نہیں چاہتا کہ اُسے  حمل ٹھیرے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس پر فرمایا: تم نہ کرو تو اِس میں بھی کوئی مضایقہ نہیں، اِس لیے کہ یہ سب تو تقدیر کے معاملات ہیں۔ ‘‘(مسلم،رقم 2611)

ــــــ 3 ــــــ

’’عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیان کیا ــــــ اور آپ صادق بھی تھے اور مصدوق بھی ــــــ آپ نے فرمایا:یہ حقیقت ہے کہ تم میں سے ہر آدمی کی خِلقت اُس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفے کی صورت میں جمع رہتی ہے۔ پھر اتنی ہی مدت میں لہو کی پھٹکی ہو جاتی ہے، پھر اتنی ہی مدت میں گوشت کی بوٹی بن جاتی ہے۔ اِس کے بعد فرشتہ بھیجا جاتا ہے اور وہ اُس میں روح پھونکتا ہے۔ اُسے چار چیزوں کا حکم دیا جاتا ہے،یعنی اِس کا کہ اُس کی روزی لکھے، اُس کی عمر لکھے، اُس کا عمل لکھے اور یہ لکھے کہ وہ نیک بخت ہو گا یا بدبخت۔ سو میں قسم کھاتا ہوں اُس کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ لاریب، تم میں سے کو ئی جنتیوں کے کام کرتا ہے، یہاں تک کہ اُس میں اور جنت میں ہاتھ بھر کا فرق رہ جاتا ہے، لیکن پھر یہی نوشتہ اُس پر غالب آجاتا ہے اور وہ دوزخیوں کے کام کرنے لگتا ہے، لہٰذا دوزخ میں داخل ہو جاتا ہے۔ اِسی طرح تم میں سے کوئی عمر بھر دوزخیوں کے کام کرتا ہے، یہاں تک کہ اُس میں اور دوزخ میں ہاتھ بھر سے زیادہ کا فرق نہیں رہ جاتا،  لیکن پھر یہی نوشتہ غالب آ جاتا ہے، اور وہ جنتیوں کے کام کرنے لگتا ہے، لہٰذا جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ ‘‘(بخاری، رقم 6133)

مقامات