عرب معاشرہ قدیم ترین زمانوں سے دو واضح حصوں میں منقسم چلا آتا ہے: ’’اہل البدو‘‘ یعنی خانہ بدوش (Nomadic Bedouins) اور ’’اہل الحضر‘‘ یعنی مقیم لوگ (Settled Folk)۔ مختصراً انھیں صرف ’’بدو‘‘ اور ’’حضر‘‘ بھی کہہ لیتے ہیں۔1 علاوہ ازیں ’’اہل الوبر‘‘ (پشم والے) اور ’’اہلُ الَمدَر‘‘ (مٹی گارے والے) بھی، علی الترتیب، انھی کے لقب ہیں کیونکہ بدو پشم کے بنے ہوئے خیموں میں رہتے ہیں اور حضری مٹی گارے سے مکان بناتے ہیں۔ ان دونوں گروہوں کا ذکر نہایت قدیم بابلی، مصری اور اشوری مآخذ میں بھی ملتا ہے اور یونانی و رومی تاریخی مصادر میں بھی۔
یہ واضح کرنے کی ضرورت نہیں کہ بدو و حضرکی یہ تقسیم بنیادی طور پر نسلی نہیں بلکہ معاشی اور جغرافیائی ہے۔ جہاں جہاں کنووں، چشموں یا بارانی پانی سے کھیتی باڑی ممکن تھی یا کھجوروں کے جھنڈ معاشی کفالت کے ضامن تھے وہاں مستقل سکونت رکھنے والی آبادیاں وجود میں آگئیں لیکن سرزمین عرب کا تین چوتھائی حصہ چونکہ پانی کی شدید قلت کے سبب ناقابل کاشت ہے اور اسی نسبت سے حیوانی زندگی بھی کم ہے اور خالصتاً شکار کو وجہ معاش بنانا بھی ناممکن ہے لہٰذا صرف بداوت کا راستہ ہی باقی رہ جاتا ہے یعنی جانور پال کر گھاس چارے کی تلاش میں ایک مقام سے دوسرے کی طرف منتقل ہوتے رہنا۔
بدو و حضر کے بارے میں اکثر محققین کی رائے یہ ہے کہ ان میں اولیت بدوی زندگی کو حاصل ہے اور بدوؤں ہی میں سے بعض قبائل نے زرخیز مقامات پر سکونت اختیا ر کر کے اہلِ حضر کی شکل اختیار کر لی۔ چنانچہ اہل حضر اب تک قبیلوں کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں جو اُن کے بدوی ماضی کا سراغ مہیا کرتے ہیں۔ بداوت سے حضارت کی طرف اس سفر کی دلیل خود خانہ بدوش قبائل کے مختلف مدارج میں بھی ملتی ہے۔ چنانچہ بدو اور حضر کے بین بین بھی ایک طبقہ پایا جاتا ہے، مثلاً : وہ بد و جو جانور پالنے کے ساتھ ساتھ کھیتی باڑی بھی کر لیتے ہیں اور وہ جو صرف بھیڑ بکریاں پالتے ہیں لہٰذا شہری آبادی کے نزدیک قیام کرتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں اونٹ پالنے والے زیادہ آزاد، خود سر اور طاقتور ہوتے ہیں اور صحرا کے اندرون تک اُن کی رسائی ممکن ہوتی ہے۔ یہ لوگ زیادہ گہری بداوت کے حامل ہوتے ہیں۔ بداوت سے حضارت کی طرف یہ سفر آج بھی جاری ہے اور جدید دور میں اس کی رفتار تیز تر ہوگئی ہے چنانچہ شتر بانوں کا طبقہ روز بروز کم ہوتا جارہا ہے اور اہل بدو کی اکثریت صحرا کے بیرونی کناروں پر مرتکز ہوتی اور بھیڑ بکریاں پالنے والوں میں شامل ہوتی چلی جا رہی ہے۔
بدوی و حضری گروہوں کی یہ تقسیم اگر چہ اصولاً معاشی اور جغرافیائی بنیادوں پر استوار ہے تاہم دونوں کے طرز زندگی میں ایسا عنصری فرق ہے کہ دونوں کی ثقافت بالکل جدا گانہ خطوط پر آگے بڑھتی ہے اور دونوں کے مزاج، خیالات، طرز فکر غرض زندگی کے تمام تر سانچے ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں۔
اہل البدو کی نگاہ میں، جو اب کم سے کم تر ہوتے چلے جا رہے ہیں، حضری زندگی ایک ذلت آمیز بوجھ ہے جس سے وہ سخت گھبراتے ہیں اور صحرا کی وسعتوں میں آزادانہ بود و باش کے شیدائی ہیں۔2 دوسری طرف ’’اہل الحضر‘‘ کے لیے خانہ بدوشانہ زندگی کا تصور ہی جانکاہ ہے۔ وہ اہل البدو کو جاہل اور گنوار خیال کرتے ہیں۔ بدو آزاد منش ہوتے ہیں۔ اُن کے اپنے قبائلی قانون کے علاوہ کوئی اور قانون اُن پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ حضری آسانی سے مطیع فرمان بنائے جا سکتے ہیں اور اُن میں ریاست کی تشکیل کے بہتر امکانات پائے جاتے ہیں۔ صحرا نشینوں کی زندگی میں اولین حوالہ خون کا حوالہ ہے؛ زمین ثانوی حیثیت رکھتی ہے جس کی انفرادی ملکیت کا تصور اُن کے ہاں نہیں پایا جاتا بلکہ مخصوص چراگاہیں یا چشمے مخصوص قبائل کی اجتماعی ملکیت سمجھے جاتے ہیں جن کی خاطر پورا قبیلہ کٹ مرتا ہے۔3 اہل الحضر میں اگرچہ ماضی کی یادگار کے طور پر قبیلوں کی نسبتیں باقی رہتی ہیں تاہم اُن کے ہاں زمین کا حوالہ زیادہ نمایاں ہونے لگتا ہے اور زمین کی انفرادی ملکیت کا تصور بھی پایا جاتا ہے۔ بدو کی دولت کا شمار اونٹوں اور بھیڑ بکریوں کی صورت میں کیا جاتا ہے جب کہ حضری کے ہاں کھجور کے باغوں اور قابل کاشت زمینوں سے دولت کا اندازہ کیا جاتا ہے۔
اہل الحضر کی زندگی پر زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ لوگ زرعی معاشرے کے نمائندہ ہیں جس سے ہم بخوبی واقف ہیں البتہ بدوی زندگی کے چیدہ چیدہ خط و خال پر نگاہ ڈال لینا مناسب ہوگا کیونکہ قدیم عربی ادب کے بیشتر حصے کا پس منظر انھی بدویوں کی زندگی سے عبارت ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ بدو کے ہاں صحرائی بود و باش سے دلی ربط اور مدنیت سے بیزاری پائی جاتی ہے تاہم یہ خیال کرنا درست نہیں کہ وہ محض بے مقصد آوارگی کا خواہاں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اُس کا طرز حیات صحرائی تقاضوں کا نہایت منطقی رد عمل ہے۔ پروفیسر حِتی کے الفاظ میں:
‘‘Nomadism is as much a scientific mode of living in the Nufud as Industrialism is in Detroit or Manchester.’’ 4
لباس، ہتھیار5 اور بعض دیگر صنعتوں کے حوالے سے بداوت کو بہر حال حضارت سے تعلق رکھنا پڑتا ہے لیکن بدو نے زراعت اور دستکاری کو ہمیشہ حقارت کی نگاہ سے دیکھا ہے اور شیوۂ مردانگی سے بعید سمجھا ہے۔ اپنی ضروریات اہل حضر سے حاصل کرنے کے لیے وہ یا تو تبادلۂ جنس کرتا ہے یا پھر لوٹ مار۔ چنانچہ اُس کے ہاں تاجر اور قزاق کا ایک امتزاج پایا جاتا ہے۔ چڑھائی کرنا (غزو) اُس کی ضرورت بھی ہے اور دل پسند مشغلہ بھی۔ اسی لیے قبائل میں باہم مار دھاڑ کا بازار گرم رہتا ہے۔
بدو بیک وقت نہایت آزاد اور از حد پابند ہوتا ہے۔ انفرادی طور پر وہ تند خو، غیور، آزاده رو، منہ پھٹ اور جلد بھڑک اُٹھنے والا ہے۔ صحرا کی بود و باش نے اُسے کبھی محکوم نہیں بننے دیا لہٰذا اُس کے ہاں بے دھڑک اور بے جھجک زندگی بسر کرنے کا رحجان پایا جاتا ہے حتیٰ کہ قبیلے کے سردار (شیخ/ سید) سے ایک عام فردِ قبیلہ کی ملاقات بھی کسی قسم کے رسمی آداب کی پابند نہیں ہوتی لیکن دوسری طرف قبیلے کی وحدت اس قدر اہم ہے کہ شہد کے چھتے کی مانند اس میں فرد کے ذاتی رجحانات بے معنی ہیں۔ قبیلے سے الگ ہو کر صحرا میں زندگی بسر کرنا ناممکن ہے اس لیے بہر رنگ و بہر طور اسے قبیلے کے ہر فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہوتا ہے خواہ ذاتی طور پر اُسے اس فیصلے سے کتنا ہی سنگین اختلاف کیوں نہ ہو۔6 اگر قبیلہ کسی فرد کو عاق کر دے یا وہ قبیلے کے کسی فرد کا خون کر کے فرار ہو جائے تو زمین آسمان اُس کے لیے تنگ ہو جاتے ہیں۔ ایسا شخص ’’طرید‘‘ (دھتکارا ہوا) ہے۔ اُسے لامحالہ کسی دوسرے قبیلے کے ساتھ خود کو منسلک کرنا پڑتا ہے اور وہاں وہ ’’دخیل‘‘ (باہر سے آیا ہوا) ہوتا ہے۔ اگر کسی غلام کو آزاد کر دیا جائے تو وہ آزادی کے بعد بسا اوقات خود کو اُسی قبیلے سے منسلک کر لیتا ہے جس نے اُسے آزاد کیا ہو اور اُن کا ”مولیٰ“7 کہلاتا ہے اور اس تعلق کو ’’ولاء‘‘ کہتے ہیں۔ آزاد کردہ غلام کے علاوہ کوئی اور شخص بھی، جو نسباً کسی قبیلے سے تعلق نہ رکھتا ہو لیکن (کسی بھی وجہ سے ) اُن کے ساتھ منسلک ہو جائے، مولیٰ کہلاتا ہے۔ بعض اوقات پورے کا پورا قبیلہ خود کوکسی مضبوط تر قبیلے سے منسلک کر لیتا ہے اور اُن کا ’’حلیف‘‘ (ہم عہد ) کہلاتا ہے۔
بدو کے ہاں خون کا حوالہ اہم ترین حوالہ ہے اور دیگر سامی گروہوں کی طرح وہ شجرۂ نسب کو بے حد اہمیت دیتا ہے۔ ہر شخص کے نام کے ساتھ ’’ابن فلاں‘‘ کا ذکر ضروری سمجھا جاتا ہے اور قبیلے کا مجموعی نسب پشت در پشت یا درکھا جاتا ہے۔8 قبیلہ عموماً پدری نظام کے تحت چلتا ہے اور ’’بنو فلاں“ کے نام سے معروف ہوتا ہے تا ہم، پروفیسر حِتی کے خیال میں، بعض قبائل کی نسوانی ناموں سے نسبت قدیم مادری نظام کی بھی غمازی کرتی ہے۔9
نا مساعد حالات میں زندگی بسر کرنے کے باعث بدو کی طبیعت میں درشتی اور اکھڑپن پایا جاتا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ عہد کی پاسداری، مہمان نوازی اور عشق و محبت کے لطیف احساسات بھی اس کی سرشت میں شامل ہیں۔
جغرافیائی طور پر عرب کے انقطاعی پہلو کا ذکر گزشتہ صفحات میں ہوا جس کے باعث یہاں ہر قسم کے تغیرات کی رفتار نہ ہونے کے برابر رہی ہے۔ بدو کی زندگی کے مندرجہ بالا کوائف جاہلی ادب کے پس منظر میں بھی یہی کچھ نظر آتے ہیں اور اب سے نصف صدی پہلے تک بھی اُن میں سرمو فرق نہیں آیا تھا اور بدو کی معاشرت عین ویسی ہی تھی جیسی صدیوں پہلے تھی تاہم موجودہ دور کا اثر و نفوذ اپنے سائنسی ذرائع و وسائل کے باعث پوری تاریخ میں منفرد ہے۔ اگرچہ بدو و حضر کے قدیم خصائص کی نمایندگی صحرا کی وسعتوں اور چھوٹی بستیوں میں اب بھی کسی حد تک باقی ہے لیکن گزشتہ چالیس پچاس برس میں تغیر کی رفتارا چانک اتنی تیز ہو گئی ہے کہ جو کچھ صدیوں میں تبدیل نہ ہو سکا تھا وہ دیکھتے دیکھتے بدلتا چلا جا رہا ہے۔ پٹرول کی دریافت کے بعد سے دولت عام ہو گئی ہے اور شہروں میں پختہ سڑکوں، اعلیٰ سے اعلیٰ موٹر کاروں، ایر کنڈیشنڈ مکانوں، جدید ترین ہوٹلوں اور ہوائی جہاز، ٹیلی فون، ٹیلی ویژن جیسے جدید ذرائع کی فراوانی ہے۔ کھجور پر انحصار ختم ہو گیا ہے اور بند ڈبوں میں پھل، سبزیاں، دودھ اور گوشت اپنی بہار دکھا رہے ہیں۔
صحرا نشین بدو بھی، جنھیں بداوت سے اُنس اور حضارت سے نفرت تھی، مشینی دور کے آگے بے بس ہوتے جا رہے ہیں۔ بداوت کی روایات تیزی سے ٹوٹ پھوٹ رہی ہیں۔ بدو اپنے بچوں کو درس گاہوں میں بھیجنے لگے ہیں اور خود ٹرک، مشینیں اور تیل کمپنیوں کے جدید آلات چلانے میں خاصی مہارت کا ثبوت دے رہے ہیں نتیجتاً وہ شہروں کے قریب قریب کے صحرائی کناروں میں سمٹتے چلے آرہے ہیں اور جدید علاج اور بعض حالات میں ریفریجریٹر اور ٹیلی ویژن جیسی سہولتوں سے مستفید ہونے لگے ہیں۔ الغرض صحرا کی وہ سخت جان روایات، جو صدیوں اپنی اصل پر باقی رہیں اور جن کی مدد سے دور جدید میں بھی قدیم عربی ادب کو سمجھنا آسان تھا، اب کوئی دن کی مہمان نظر آتی ہیں۔
تفصیلات کے لیے دیکھیے :
(1) Enc.Isl., 1/872-892;Badw.
(2) Hitti, 23-29
(3) Geog.Fact.=38-54,123
(4)‘‘ The Nomadic life Dries up in Arabia’’ by Richard Covington, IHT, 22 March, 1997, still on the internet edited and distributed by HURINET (The Human Rights Information Network).
[باقی]
ڈاکٹر خورشید رضوی
بس اب یہی ہے کہ سب کچھ جلا کے رکھ دیا جائے
پھر اس کے بعد یہ دفتر اٹھا کے رکھ دیا جائے
تو کیا وہ گھر جسے ہم عمر بھر بناتے رہے
گرا کے رکھ دیا جائے، مٹا کے رکھ دیا جائے
وہی بہت ہے قیامت جو آ چکی ہے یہاں
بس اب یہ صور لبوں سے لگا کے رکھ دیا جائے
اگرچہ خانۂ دل میں نہیں ہے گنجایش
یہ غم بھی، اور کوئی غم ہٹا کے رکھ دیا جائے
وہ آفتاب سرِ بزم آ گیا خورشؔید
چراغ ایک طرف کو ہٹا کے رکھ دیا جائے
خیال و خامہ
- ۔ الحماسۃ، باب الا ضياف والمدائح۔نظم 15:دعاني فآسانى ولوضن لم ألُمعلىٰ حين لا بدو يُرجّٰي ولا حَضَر’’اس نے مجھے بلایا اور مال سے میری ہمدردی کی حالانکہ اگر وہ ہاتھ کھینچ لیتا تو بھی میں اُسے ملامت نہیں کر سکتا تھا/ ایسے وقت میں کہ جب نہ کسی بدوی سے کچھ امید کی جاسکتی تھی نہ کسی حضری سے۔‘‘
- ۔ یزید کی ماں، میسون بنت بحدل، ایک بدو عورت تھی۔ متمدن زندگی کی آسائشیں اُس کو کبھی نہ لبھا سکیں اور وہ بدستور صحرائی زندگی کو یاد کرتی رہی۔ اس ضمن میں اُس نے شعر بھی کہے، مثلاً :لبيت، تخفق الأرواح فيهأحبّ إليّ من قصر منيفوأكل كسيرة في كسر بيتيأحبّ إليّ من أكل الرغيف ولبس عباءة وتقرّ عينىاحبّ إلىّ من لبس الشفوف’’بالیقین ایسا خیمہ، جس میں ہوائیں آتی جاتی رہیں، مجھے سر بفلک محل سے زیادہ عزیز ہے/ اور اپنے خیمے کے ایک گوشے میں بیٹھ کر روٹی کا ٹکڑا کھانا مجھے پراٹھے کھانے سے زیادہ پسندیدہ ہے/ اور موٹی جھوٹی عبا پہن کر آنکھ کی ٹھنڈک پانا / مجھے بار یک پوشاکوں کے پہنچنے سے زیادہ عزیز ہے۔‘‘ اسی طرح القطامی کا یہ شعر مشہور ہے:فمن تكن الحضارة أعجبتهُفایّ رجال بادية ترانا’’جو کوئی حضارت پر فریفتہ ہے، ہوا کرے /مگر یہ تو بتا کہ تو ہم صحرانشینوں کو کیسا دکھتا ہے؟‘‘
- ۔ دیکھیے: الحماسۃ، باب الحماستہ۔ نظم 3۔
- ۔Hitti, 23۔
- ۔ خصوصاً اب جب کہ دفاعی ضرورتوں نے بدو کو جدید ہتھیار مثلاً رائفل وغیرہ کا محتاج کر دیا ہے جس کی خاطر متمدن علاقوں سے پیہم رابطہ نا گزیر ہے۔
- ۔ الحماسۃ، باب المراثی۔ نظم 10:وهل أنا الا من غزية ان غوتغويت و إن تر شد غزية أرشد’’اور میں تو محض قبیلۂ غزیہ کا ایک فرد ہوں۔ اگر وہ راہ سے بھٹکے تو مجھے بھی بھٹکنا ہو گا اور اگر وہ صحیح راستہ اختیار کر سکے تو میں بھی کر سکوں گا۔‘‘
- ۔ ’’مولیٰ‘‘ لغاتِ اضداد میں سے ہے۔ اس کا مطلب ’’آقا‘‘ بھی ہے اور ’’آزاد کردہ غلام‘‘ بھی۔ اس کےعلاوہ اس لفظ کے اور بھی مطالب ہیں۔ ( نیز دیکھیے : ص 158 ببعد )
- ۔ چنانچہ دور جاہلیت میں ’’علم الانساب‘‘ عربوں کے اسی خاص میلان کا مظہر تھا۔ دغفل بن حنظلۃ الشیبانی، زید بن الکیّس النّمری اور ابن لسان الحمّرة کو معرفتِ انساب میں خاص شہرت ہوئی۔ (الوسیط، 39)
- ۔Hitti, 26۔