مواد پر جائیں

معجزۂ فن

جاوید احمد غامدی اردو

حسن فروغ شمع سخن دور ہے اسد

پہلے دل گداختہ پیدا کرے کوئی

میں جس محلہ میں رہتا ہوں، اُس کی جامع مسجد کی پیش گاہ پچھلے کئی مہینوں سے زیرتعمیر ہے۔ پہلے برآمدے میں بس کچھ سادہ در بنے ہوئے تھے جن سے گزر کر مسجد کے دالان میں داخل ہوتے تھے۔ اب اُنھیں محرابوں میں بدل کر سامنے کنگنی اور تاج بنانے کا فیصلہ ہوا تو تین چار ماہ پہلے تعمیر شروع کر دی گئی۔ میں نے دیکھا کہ برآمدے کی دیوار دنوں میں منہدم ہوئی اور ہفتے عشرے ہی میں نئی تعمیر نیو سے چھت تک کھڑی ہو گئی۔ میرا خیال تھا کہ اب مسجد کا صحن غالباً دو تین ہفتوں میں اینٹ گارے سے خالی ہو جائے گا، لیکن جب معاملہ تاج کی برجیوں اور مناروں تک پہنچا تو معلوم ہوا کہ وقت کی رفتار تھم گئی اور معماروں کے ہاتھ کام سے رک گئے ہیں۔ پہلے بنا پڑتی نہ تھی کہ دیوار بام تک پہنچ جاتی تھی، اب ایک ایک برجی کے کلس اور کنگروں کی تعمیر میں مہینے گزرتے ہیں۔ یہ میرے محلے کی چھوٹی سی مسجد ہے۔ معلوم نہیں، مسجد عالمگیری، قلعۂ معلی اور تاج محل کی محرابوں اور برجیوں پر اُن کے معماروں نے کتنی مرتبہ آفتاب صبح کو افق پر تیرہ ہوتے دیکھا ہو گا۔ کوئی معمار لب لعلیں تراشنے کے لیے بیٹھ جائے تو جب تک دن مہینوں میں نہ بدلیں، کنج دہن بھی نمایاں نہیں ہوتا:

سو بار جب عقیق کٹا تب نگیں ہوا

ہر تخلیق اِسی طرح مرتبۂ کمال کو پہنچتی ہے۔ شعر وہ بھی ہوتے ہیں کہ ردیف و قافیہ میسر ہوتے رہے تو ہر دوسرے مہینے ایک دیوان کی ترتیب سے فارغ ہو گئے، اور وہ بھی جن کے بارے میں کہا گیا کہ:

براے پاکی لفظے شبے بروز آرد

کہ مرغ و ماہی باشند خفتہ او بیدار

پہلی صورت میں اینٹ مسالا کم نہ پڑے تو نتیجہ دنوں میں سامنے آ جاتا ہے۔ دوسری صورت میں نتیجہ اینٹ مسالے سے نہیں، خون جگر سے پیدا ہوتا ہے:

رنگ ہو یا خشت و سنگ، چنگ ہو یا حرف وصوت

معجزۂ فن کی ہے خون جگر سے نمود

یہ حادثہ اِس زمانے میں پہلی بار نہیں ہوا کہ لوگ اِن دونوں کے نتائج میں فرق کرنے سے قاصر رہے۔ بنی آدم کی تاریخ بیش تر اِنھی حوادث کا دفتر ہے۔ اِس دنیا میں، اِس سے پہلے بھی بارہا یہ ہو چکا کہ لوگوں نے جعفر زٹلی اور غالب کا مرتبہ اُن کے دیوان میں شعر گن کر طے کرنے کی کوشش کی اور یوحنا و مسیح کے زمانے میں اُن کا مقام اُن کے معتقدین کی تعداد سے متعین کرنا چاہا۔ اِس طرح کے لوگوں سے کون کہے کہ:

نگاہ تیری فرومایہ، ہاتھ ہے کوتاہ

ترا گنہ کہ نخیل بلند کا ہے گناہ

[1989ء]