لفظ “ملکہ”سے ذہن میں عام طور پر ایک ایسی خاتون کا تصّور اُبھرتا ہے جو کسی عالیشان محل میں اطلس و کم خواب کے لباس اورہیرے جواہرات کے زیورات تن زیب کیے شان و شوکت کے ساتھ شب وروز گزارنے کی عادی ہے، جو کبھی اپنے محل سرا میں ایک شاندار جڑاوں کرسی پر براجمان ہے اور اس کے سامنے کنیزوں کی ایک طویل قطار ہاتھ باندھےکھڑی ہے یا پھولوں سے لدے اپنے شاندار باغ میں چہل قدمی کر رہی ہے اور ملک ملک کے خوب صورت پرندوں سے دل بہلا رہی ہے۔کہانیوں میں تو کم از کم ایسی ہی ملکہ پڑھنے کو ملتی ہیں۔ تاہم تاریخ کی کتب میں ہمیں ایسی متحرک ملکہ بھی ملتی ہےجو کہیں اپنےجبر و ظلم سے رعایا کی نفرت کا نشانہ بنتی ہے تو کہیں اپنی دریا دلی اورخُدا ترسی کے بموجب رعایا کے دلوں پر راج کرتی ہے۔ آج ہم ایک ایسی ہی ملکہ کی بات کر رہے جس نے اپنی ذہانت و قابلیت،ریاستی معاملات میں اپنی فہم و فراست اور اپنے تدّبرومعاملہ فہمی سے نہ صرف سلطنت کو بہتر طور چلانے میں معاونت کی بلکہ اپنی ریاستی طاقت اور بے پناہ دولت کو عوامی فلاح کے لئےمختص کئے رکھا۔جس کی شخصیت بے پناہ صفات کا مرقع تھیں کہ وہ نہایت حلیم الطبع،سخی و فیاض،پارسا،دین دار، درد مند دل رکھنے والی اور فلاح عوام کی داعی تھی ،دنیا انہیں عباسی ملکہ زبیدہ خاتون کے نام سے جانتی ہے اور جو اپنے بے شمارفلاحی کاموں اور انسانیت کی بے مثال خدمات کے لیےایک عہد ساز شخصیت کہلائیں۔
زبیدہ 762عیسوی میں موصل میں عباسی خلیفہ منصور عباس کے بیٹے خلیفہ جعفر بن منصور کے ہاں پیدا ہوئیں۔اُس وقت ان کے والد جعفر بن منصور موصل کےگورنرتھے۔ ان کانام امتہ العزیز تھا مگر دادا ’زبیدہ‘ کہہ کر بلاتےتھے ۔عربی زبان کے اس لفظ کا ایک مفہوم’مکھن کا پیڑا‘ بھی ہے۔آپ چونکہ نہایت گوری رنگت والی حسین و جمیل بچی تھیں اسی بنا پر زبیدہ کہلائیں اور تا حیات اسی نام سے پکاری جاتی رہیں۔
ملکہ زبیدہ جب بیس برس کی ہوئیں تو ان کا نکاح اپنےچچا زاد ہارون الرشید سے ہوا۔تاریخ دان لکھتے ہیں کہ ہارون الرشید اس شادی پراسقدر خوش تھے کہ انہوں نے بلاتفریق ہرخاص وعام کوشادی کی تقریب میں مدعوکیا ۔شادی کےچار سال بعد وہ پانچویں عباسی خلیفہ بنے اور سنہ 786 سے 809 عیسوی تک حکمران رہے ۔
معروف تاریخ دان ہیو کینیڈی اپنی مشہور کتاب ” وین بغداد رولڈ دی مسلم ورلڈ ” میں ملکہ زبیدہ کے بارے میں رقم طراز ہیں کہ ’ملکہ زبیدہ ایک پڑھی لکھی اور نہایت قابل خاتون تھیں جو دربار میں اعلیٰ مقام رکھتی تھیں اورتقریباً تیس برس تک وہ دربار کے معاملات میں اپنااثر و رسوخ برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں۔
امام جلال الدین سیوطی کی کتاب’تاریخِ خلفاء‘ میں درج ہےکہ ملکہ زبیدہ نے اپنے والد جعفر بن منصور سے ورثے میں خوب دولت پائی تھی۔جس میں قیمتی جائیدادیں، پیسہ، زمینیں اورایک ہزار ملازمائیں شامل تھیں۔ ملکہ کے مال و دولت کا اندازہ اس بات سے بھی بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی ملازمائوں میں سے ہر ایک بہترین لباس پہنتی تھی۔ ملکہ زبیدہ اورہارون الرشید کی شادی کے بعد ان کی دولت میں اور بھی اضافہ ہوا ۔
’تاریخ بغداد ‘میں خطیب بغدادی لکھتے ہیں کہ
زبیدہ نے اپنی جائیدادوں اور متعدد کاروباری منصوبوں کے انتظام کے لیے معاونین مقرر کر رکھے تھے۔ ان کے اپنے محل کا انتظام بھی عالی شان طریقے سے کیا جاتا۔ کھانا سونے اور چاندی کی پلیٹوں میں پیش کیا جاتا تھا اوروہ اکثرچاندی، آبنوس اور ریشم سے بنی پالکی پر سفر کرتیں ۔دین سے محبت کا یہ عالم تھا کہ ان کے محل میں دیواروں پر قرآن کی آیات سنہری حروف میں کندہ تھیں ۔ ان کی تمام کنیزوں نے قرآن مجید حفظ کر رکھا تھا۔ایک دن میں ایک کنیز دن بھر قرآن پاک کی تلاوت کرتی رہتی تو دوسرے دن کوئی دوسری کنیز یہ مقدس فریضہ انجام دیتی۔ یوں ملکہ کے محل میں قرآن پاک کا کلام ہرسو سنائی دیتا۔
امریکی تاریخ دان رابرٹ جی ہولینڈ اپنی کتاب ’ان گاڈز پاتھ : دی عرب اینڈ دی کیرئشن آف این اسلامک ایمپائر (جو2014میں شائع ہوئی)میں لکھتے ہیں کہ ’زبیدہ کے پاس آمدنی کے اپنے وسیع ذرائع تھے، جس سے وہ خاطر خواہ خیرات و عطیات دیتیں اور اُنہیں فلاحی کاموں کے لئے سلطنت کے خزانے سے کچھ لینے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی”۔
جب ہم خلافت عباسیہ کے پانچویں خلیفہ ہارون الرشید کے دورخلافت پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں ان کی نیک نامی کے ساتھ کچھ نہ کچھ انتظامی خامیوں کا ذکر بھی تاریخ کی کتابوں میں ملتا ہے۔ تاہم وہ اس لحاظ سے خوش قسمت گردانے جائیں گے کہ ان کی شریک حیات ایک ایسی ذہین خاتون تھیں جن کی فہم و فراست اور سلطنت کے معاملات میں دلچسپی نے عباسی حکومت کی شان و شوکت کو گہنانے نہیں دیا۔ انہوں نے اقتدار میں رہ کر فلاحی کاموں میں حیرت انگیز طورپر حصّہ لیا۔
خلیفہ ہارون الرشید نے جو شاندار محلات، مساجد اورعوامی عمارتیں تعمیر کروائیں، ملکہ زبیدہ نے ان میں سے بہت سے منصوبوں کے لیے اپنی ذاتی دولت خرچ کی۔
جیسے کہ ہم ذکر کر چکے ہیں کہ ملکہ زبیدہ اپنے فلاحی کاموں کی وجہ سے تاریخ میں ایک خاص مقام رکھتی ہیں، کیونکہ اُن کی عوامی فلاح و بہبود میں شراکت نے عباسی سلطنت میں عوام الناس کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں مدد کی۔ وہ غریبوں اور ضرورت مندوں کے لئے خاص طور پر درد مند دل رکھتی تھیں۔ اپنی دولت کم نصیبوں میں تقسیم کرتیں ،ان کے لئے تمام ضروریات زندگی کا بندوبست کرنا ملکہ کی اولین ترجیح رہتی اور وہ عوامی ضروریات کی احسن طور فراہمی کو یقینی بنانے سے کبھی غافل نہ ہوتیں۔
ملکہ زبیدہ کو خلیفہ ہارون الرشید کے دور حکومت میں تعمیرات کے حوالے سے خصوصی طور پر یاد کیا جاتا ہے۔یہ تعمیرات خالصتاً فلاح انسانیت کے لیے کی گئی تھیں۔انہوں نے عراق سے مکّہ مکرّمہ تک حاجیوں کے قافلوں کے لیے ایک گزر گاہ بنوائی جسے ’درب زبیدہ‘ کہا جاتا ہے۔ اس گزرگاہ کے اطراف حاجیوں اور مسافروں کے لیے سرائیں تعمیر کروائی گئیں، کنویں کھدوائے گئے اور مساجد بنوائی گئیں۔
انسائیکلو پیڈیا برتانیکا ‘‘ کے مطابق مصرکا تاریخی شہراسکندریہ جو دوسری ہجری میں حادثات زمانہ کے ہاتھوں تقریباً اُجڑچکا تھا، ملکہ زبیدہ کی خصوصی دلچسپی اور خطیرمالی معاونت کے نتیجے میں ازسرِنو بحال کیا جانا ممکن ہو سکا۔عہد عباسی کے معروف مفسرمورخ الطبریاپنی معروف کتاب تاریخ الطبری میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ زبیدہ نے جزیرہ نما عرب میں بڑی تعداد میں کنوئیں اور واٹر چینلز تعمیر کروائے تاکہ مسافروں اور زائرین کو صاف پانی فراہم کیا جا سکے۔زبیدہ کو یتیم خانوں، ہسپتالوں اور دیگر خیراتی اداروں کی مدد کے لیے بھی جانا جاتا تھا۔ وہ ان اداروں کی مدد کے لیے بڑی بڑی رقوم عطیہکرتیں اور ذاتی طور پر رقوم کے استعمال کی نگرانی کرتی تھیں۔
یوں تو ملکہ زبیدہ کے رفاہی کاموں کی فہرست خاصی طویل ہے لیکن ملکہ کا ایک کارنامہ جورہتی دنیا تک یادکیا جاتا رہے گا، وہ “نہرزبیدہ ’’جیسے کٹھن اوربظاہر ناممکن منصوبے کی تکمیل تھی۔نہرزبیدہ کی تعمیر کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ صدیوں سے مکہ مکرمہ اوردیگر سعودی علاقوں میں پانی کی قلت کا مسئلہ درپیش رہا تھا۔ کہتے ہیں خلیفہ ہارون الرشید سے بہت پہلے بھی ایک دفعہ پانی کا اس قدر سنگین بحران پیدا ہوگیاتھا کہ محض ایک مشکیزہ دس درہم تک بکنے لگا تھا۔ ایک بار جب ملکہ زبیدہ حج کی غرض سے مکہ مکرمہ میں موجود تھیں تو انہوں نے اہل مکہ اورحجاج کرام کودرپیش پانی کی قلت کا خود مشاہدہ کیا۔یہی وہ لمحہ تھا جب انہوں نے مکہ مکرمہ میں پانی کی قلت پرقابو پانے کے لئے مستقل انتظام کرنے کا قصدِ مصمم کیا۔ ملکہ زبیدہ نے ہنگامی بنیادوں پردنیابھر سے ماہرِ تعمیرات کو مدعو کیا اور ان کویہ ذمہ داری سونپی کہ وہ سروے کر کے بتائیں کہ بغداد سے مکہ مکرمہ تک نہر کیسے بنائی جا سکتی ہے۔ طویل جدوجہد اور تحقیق کے بعدماہرین نے بتایا کہ انہیں دو جگہوں سے بہتے چشموں کا سراغ ملا ہے۔ ایک مکہ مکرمہ سے لگ بھگ پچیس میل کی دوری پر جبکہ دوسرا چشمہ کراکی پہاڑیوں میں نعمان نامی وادی کے دامن میں واقع ہے۔ان چشموں کے پانی کا مکہ مکرمہ تک پہنچنا بظاہرناممکن نظر آتا تھاکیونکہ درمیان میں جگہ جگہ پہاڑی سلسلوں کی رکاوٹیں کھڑی تھیں ۔ ملکہ چونکہ اس نیک کام کا تہیہ کرچکی تھیں، لہذا اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کےلیے انہوں نے جو حکم صادر فرمایا،وہ تاریخ میں سنہری حروف سے آج بھی محفوظ ہے: انہوں کا حکم تھا۔
“ان چشموں کا پانی مکہ تک پہنچانے کے لئے ہر قیمت پر نہر کھودو ۔۔۔ اس کام کے لئے جتنابھی خرچ آئے پرواہ نہ کرو، کہ اگر کوئی مزدور ایک کدال مارنے کی اُجرت ایک اشرفی بھی مانگے تو دے دو”۔
تین سال دن رات ہزاروں مزدور پہاڑیاں کاٹنے میں مشغول رہے۔ منصوبے کے تحت مکہ مکرمہ سے 35 کلو میٹر شمال مشرق میں وادی حنین کے ”جبال طاد ‘‘سے نہر نکالنے کا پروگرام بنایا گیا۔ ایک نہر جس کا پانی ”جبال قرا ‘‘ سے ” وادی نعمان ‘‘ کی طرف جاتا تھا اسے بھی نہر زبیدہ میں شامل کر لیا گیا۔ مصری ماہرین کی رپورٹ کے مطابق وادی نعمان سے پانی پہلے عرفات لے جایا گیا۔ اس کے لیے ڈھلوان کی شکل میں پختہ انڈر گراﺅنڈ واٹر بنایا گیا تاکہ پانی خود بخود بہتا ہوا جا ئے۔ کوپتھر اور چونے کی مدد سے پختہ کیا گیا تاکہ زمین سے حاصل ہونے والا پانی زمین ہی میں دوبارہ جذب نہ ہوجائے ۔اس نہر کے ساتھ جبل رحمہ پر ایک سبیل بنائی گئی۔ ہم اسے انجینئرنگ کا کمال ہی کہیں گے کہ نہر اتنے دُرست لیول پر تھی کہ سبیل میں پانی خود بخود بھرتا رہتا اور اس کا لیول ایسا تھا کہ لوگ باآسانی پانی پی سکتے تھے۔ یہ مقام عرفات سے 12 کلومیٹر جنوب مشرق کی جانب واقع تھا۔علاوہ ازیں منٰی کے جنوب میں صحرا کے مقام پر ایک تالاب تھا جس میں بارشوں کا پانی ذخیرہ کیا جاتا تھا۔چنانچہ اس تالاب سے سات کاریزوں کے ذریعہ پانی نہر تک لے جایا گیا۔ پھر وہاں سے ایک چھوٹی نہر مکہ مکرمہ اور ایک عرفات میں مسجد نمرہ تک لے جائی گئی۔ جہاں تک اس کی کُل لمبائی ۳۳ کلومیٹر تھی۔ نہر پر پانی کی تقسیم کے لئے جگہ جگہ حوض اور کنوئیں تعمیر کیے گئے ۔ملکہ کی خواہش تھی کہ اسے مکہ معّظمہ تک پہنچایا جائے لیکن کوئی ایسی روکاوٹ پیش آئی کہ اسے چاہ زبیدہ پر ہی ختم کرنا پڑا۔
یوں نہر کا یہ تاریخی منصوبہ پایہء تکمیل کو پہنچا۔ اس نہر کی تعمیر پر ستر لاکھ طلائی دینار خرچ ہوئے۔ ملکہ نے نہر کی تعمیر میں حصّہ لینے والے کاریگروں کو منہ مانگی اُجرت کے ساتھ ساتھ دل کھول کر انعام بھی دیا۔ نہر زبیدہ 1200 سال تک مکہ مکرمہ اور ملحقہ علاقوں تک فراہمی آب کا بڑا ذریعہ رہی۔ ایک اندازے کے مطابق نہر زبیدہ سے 600 سے 800 کیوبک میٹرپانی روزانہ مکہ مکرمہ آتا تھا۔
جب نہر زبیدہ تیار ہو گئی تو وہ انجینئر جو اس عظیم منصوبے کا ذمہ دار تھا، منصوبے کے اخراجات کی فائل تیارکر کے ملکہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔اس وقت ملکہ زبیدہ دریائے دجلہ کے کنارے تفریح کر رہی تھیں۔ اس نے ملکہ کی خدمت میں نہر زبیدہ کے حساب کی فائل پیش کر تے ہوئے کہا کہ آپ کے حکم کے مطابق مکہ مکرمہ کے گلی گلی کوچے کوچے میں پانی کا انتظام کر دیا گیا ہے۔ اب شہریوں کو ا ور حج و عمرہ کرنے والوں کو پانی کی قطعاً کوئی تکلیف نہیں ہو گی۔ یہ اس کا حساب ہے، آپ حساب لے لیجئے۔ ملکہ نے وہ فائل لی،اس پر دستخط کئے، اسےدرمیان سے چاک کر کے دریائے دجلہ کی نذر کر دیااور کہا:
’ہم نے آخرت کے حساب کے لئے اس کا حساب چھوڑ دیا۔‘‘
اور پھر کہا کہ: ’’ اگر ہماری طرف کوئی حساب ہے تو ہم سے لے لو اور اگر ہمارا تمہاری طرف کچھ ہے تو ہم نے معاف کر دیا۔ ملکہ زبیدہ نے اپنا آخری وقت بغداد میں بسر کیا ۔ 216ھ میں ان کا انتقال ہوا اور وہیں مدفون ہوئیں۔ لیکن اپنے فلاحی کاموں کے بموجب وہ تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔
1950 تک نہرزبیدہ چلتی رہی۔ آبادی بڑھی تو لوگوں کی پانی کی ضروریات بھی بڑھیں۔ انہوں نے پمپ لگا کر زمین سے پانی نکالنا شروع کیا۔ کئی مقامات پر پر پمپ لگا کر پانی کھینچا گیا۔ اس کے نتیجے میں زمین میں پانی کا لیول گرگیا اور یوں نہر خشک ہوگئی۔ اب وادی نعمان میں بھی پانی کا اتنازیادہ لیول نہیں رہا۔یوں یہ تاریخی ورثہ حالات کی نذر ہو گیا ۔ مگر اس کے آثار اور اس کا کچھ حصّہ ابھی بھی موجود ہے۔ جسے دیکھنے کے لیےسیّاح یہاں کا رُخ کرتے ہیں اور اپنے اپنے انداز میں ملکہ کو اس عظیم الشان کاوش کے لیے خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
ملکہ زبیدہ اپنے ان کارناموں کی وجہ سے بلاشبہ تاریخ میں یاد رکھی جاتی ہیں لیکن ان کے کردار کا ایک دوسرے پہلو سے بھی جائزہ لینا ضروری ہے ۔ اسلامی نقطہ نظر سے دیکھیں تو بادشاہت کا کوئی تصور ہمیں نہیں ملتا۔ خلفائے راشدین اور اس کے بعد بھی کئی مسلمان حکمرانوں نے ملکی خزانے کو عوام کی امانت سمجھا اور اسے ذاتی تصرف میں نہیں لائے ۔ ان کے ہاں عجمی روایت کے مطابق نہ ملکائیں تھیں نہ کنیزوں کی فوج ۔ لیکن اموی، عباسی اور عثمانی خلفاء کی کثیر اکثریت عجمی روایت کے مطابق ہی حکمرانی کرتی رہی ۔ ان حکمرانوں میں سے بہت ساروں نے اپنی عیش وعشرت کی زندگی کے ساتھ ساتھ عام ڈگر سے ہٹ کر “رعایا ” کا بھی خیال رکھا تو ہم اسے “اسلامی ” حکمران سمجھ لیتے ہیں ۔ حالانکہ ان کی حیثیت اندھوں میں کانا راجا ہی کی ہوتی ہے ۔ اس لیے انھیں اپنے دور کےصالح مسلمان حکمران کہنا چاہیے نہ کہ “اسلامی حکمران “۔ اگر وہ اسلامی حکمران ہوتے تو مملکت کے خزانے کو مکمل طور پر امانت سمجھتے ، اپنا معیار زندگی عام لوگوں کی سطح پر رکھتے ، عوامی بہبود کے کاموں کو احسان نہ سمجھتے بلکہ اپنا فرض منصبی قرار دیتے اورحکمرانی کا منصب موروثیت کے اصول کے بجائے اہل لوگوں کے لیے خالی کرتے اور قرآنی اصول ” مشورے سے حکمرانوں کا انتخاب ” کی پالیسی اپناتے ۔ اس لیے ہم ملکہ زبیدہ کوان کارناموں کے باوجود “اسلامی “نہیں بلکہ مسلمانوں کے عجمی طرز کےنظام بادشاہی کے اندر ایک خدا ترس ملکہ ہی قرار دے سکتے ہیں ۔