اسلام کے حوالے سے غلط طور پر سمجھا جاتا ہے کہ اس میں عورت کو ایک کم تر انسان قرار دیا جاتا ہے ۔ اسے زندگی کے چند شعبوں ہی میں قابل قبول کارکردگی کا اہل جانا جاتا ہے ۔ لیکن یہ تصور ناقص فہم دین ، قلتِ تدبر اور قلتِ مطالعہ کی وجہ سے ہے ۔ قرآن مجید ساڑھے نو سو برس قبل از مسیح میں ایک ایسی خاتون حکمران کا تفصیلی ذکر کرتا ہے جس سے ان سارے خیالات و تصورات کی نفی ہوتی ہے ۔وہ ملکہ سبا کو ایک محیرالعقول حکمت اور دانائی کی حامل خاتون کے طور پر پیش کرتا ہے ۔ ملکہ سبا کے بارے یہ مضمون قرآن مجید ، بائبل اور تاریخ کے غیر مذہبی ذرائع کی مدد سے لکھا گیا ہے۔
یہ 965 قبل مسیح کا زمانہ ہے۔فلسطین اور شرق اردن سے لے کر شام تک پھیلی ہوئی سلطنت کو دنیا میں سپر پاور کی حیثیت حاصل تھی۔اس کے حکمران حضرت داؤد علیہ السلام کے بیٹے حضرت سلیمان تھے۔ انہیں یہ سلطنت اس وقت ملی جب وہ اللہ تعالی کی طرف سے ایک سخت آزمایش میں پورا اترے۔
نامور خواتین
یہ آزمایش اس وقت پیش آئی جب ان کی سلطنت کا ایک حصہ دشمنوں کے قبضے میں چلا گیا۔ لیکن حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے سلطنت کا یہ حصہ واپس حاصل کر لیا۔ اس کے بعد انھوں نے اللہ تعالی سے دعا کی کہ ان کی سلطنت کو پوری دنیا میں بے مثال بنا دے۔ اور یہ سلطنت اپنی طاقت اور
شان و شوکت میں ایسی منفرد ہو کہ اپنے زمانے میں اس کی کوئی مثال نہ ہو۔ سلیمان علیہ السلام کی یہ دعا قرآن مجید میں ان الفاظ میں آئی ہے:
“اے میرے پروردگار مجھے معاف فرما دے اور مجھ کو ایک ایسی مضبوط اور عالی شان سلطنت عطا فرما جو میرے سوا کسی کو نہ جچتی ہو۔ بے شک تو بڑا ہی عطا کرنے والا ہے۔”
حضرت سلیمان علیہ السلام کی یہ دعا اس شان سے پوری ہوئی کہ اللہ تعالی نے اس حوالے سے سورہ سبا میں ان کی سلطنت کی جو خصوصیات بتائی ہیں ، اس کے مطابق تیز ہوا ؤں کو ان کے لیے مسخر کر دیا گیا ۔ یعنی حضرت سلیمان کو ایسا علم اور ایسی مہارتیں میسر آئیں ان کے جہاز تیز ہواؤں سے سازگار ہو کر چلتے ۔ جہاں کہیں کا وہ قصد کرتے یہ ہوائیں ان کے جہازوں کو مہینوں کا سفر دنوں میں کراتیں ۔ اور انھیں تانبے کی صنعت کا علم بھی ہو گیا تھا۔
ان کے پاس ایسے ماہرین تھے جو تانبے کو پگھلانے اور اسے ڈھالنے کا فن جانتے تھے ۔ ان کے لیے ایسے جنات بھی مسخر کر دیے جو ان کے لیے کام کرتے ۔ ان جنات کی دو قسمیں تھیں ایک وہ جو خوش دلی سے آپ کا حکم مانتے اور کچھ جنات وہ تھے جو آپ کی اطاعت پر مجبور ہوگئے تھے ۔ ان میں اگر کوئی ان کے حکم سے سرتابی کرتا تو سزا پاتا۔ یہ جن ماہر معمار ، خوطہ خور اور کئی فنون کے ماہر تھے ۔
حضرت سلیمان کی ایک اور طاقت جانوروں کی بولی جاننا تھا ۔ وہ پرندوں ، جانوروں حتیٰ کہ حشرات کی حرکات وسکنات سے ان کا مدعا جان لیتے اور ان سے ابلاغ بھی کرتے تھے ۔ گمان غالب ہے کہ ان میں اکثر علوم بابل شہر میں اترنے والے دو فرشتوں ہاروت و ماروت کے ذریعے سے اس زمانے میں لوگوں کی دسترس میں آئے تھے ۔
ایک دن ایسا ہوا کہ جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے سارے لشکر جنگی مشقوں اور معائنے کے لیے حضرت سلیمان کے سامنے جمع ہوئے ۔ اس” پریڈ” کے دوران میں حضرت سلیمان علیہ السلام نے یہ بات نوٹ کی کہ ایک ہدہد ابھی تک حاضر نہیں ہوا ۔ یاد رہے ہد ہد تمام پرندوں میں واحد پرندہ ہے جو پیغام رسانی ، بلندی سے دیکھنے اور چیزوں کو سمجھنے کی خاص صلاحیت رکھتا ہے۔ جدید زبان میں یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ حضرت سلیمان کے لیے ” ڈرون ” کا کام کرتا تھا۔
اسے غائب پاکر حضرت سلیمان علیہ السلام نے ناراضی کا اظہار کیا لیکن وہ جلد ہی آن موجود ہوا ۔ اس نے پریڈ میں دیر سے آنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ مجھے وہ بات معلوم ہوئی ہے جو آ پ کے علم میں نہیں ہے ۔ میں سبا کے علاقے سے ایک سچی خبر آپ کے پاس لایا ہوں۔
سبا کا ملک آج” یمن” کہلاتا ہے اور اس زمانے میں اس کے دارالسلطنت کا نام ” مارب ” کہلاتا تھا ۔ یہ یروشلم سے ڈھائی ہزار میل کے فاصلے پر تھا۔
ہد ہد نے بتا یا کہ میں نے دیکھا ہے کہ ایک عورت اس ملک پر حکمرانی کر رہی ہے اور اسے ہر طرح کا ساز و سامان میسر ہے اور اس کا بہت بڑا تخت بھی ہے۔ میں نے اس کو اور اس کی قوم کو دیکھا کہ وہ اللہ کے بجائے سورج کو سجدہ کرتی ہے ۔
ہد ہد کی تقریر سن کر حضرت سلیمان کو لگا کہ وہ شاید اپنے غائب ہونے کے لیے کوئی بہانہ گھڑ رہا ہے ۔ اس کی خبر کی تصدیق کرنے کے لیے یا اپنے ذرائع سے معلوم ہونے کے بعد انھوں نے اسے ایک خط دیا اور ملکہ سبا کی طرف بھیج دیا اور کہا کہ خط دے کر وہاں سے ہٹ جانا اور پھر دیکھنا کہ ملکہ اس پر کیا رد عمل ظاہر کرتی ہے ۔
ہدہد نے ایسا ہی کیا ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جو خط ملکہ سبا کو بھیجا اس کے بارے میں قرآ ن مجید میں آیا ہے کہ اس کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے کیا گیا اور ملکہ سبا کو حکم دیا گیا کہ وہ حضرت سلیمان کی سلطنت کی اطاعت قبول کرتے ہوئے ان کے دربار میں حاضر ہو۔
اس زمانے میں رعایا چونکہ اپنے بادشاہ ہی کے مذہب پر ہوتی تھی ، اس لیے یہ ضروری تھا کہ ملکہ سبا خود اسلام قبول کرتیں اور حضرت سلیمان کی اطاعت کرتے ہوئے ان کی بالادستی تسلیم کرتیں ۔ یہ ویسا ہی حکم تھا جیسا کہ سورۃ توبہ میں بیان ہوا ہے کہ رسول کریم حضرت محمد ﷺ کو فرمایا گیا تھا کہ وہ معاصر ریاستوں کو مدینہ کی ریاست کی اطاعت کرنے کا حکم دیں اور ان پر واضح کریں کہ انھیں اپنی حکمرانی قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے وہ اسلامی ریاست کی بالا دستی تسلیم کریں ۔
ملکہ سبا نے خط سن کر درباریوں سے مشورہ کیا اور کہا کہ میں اس معاملے میں مجھے رائے دو ۔ کیونکہ تم جانتے ہو کہ میں کسی معاملے کا فیصلہ نہیں کرتی جب تک کہ تم لوگوں کا فیصلہ ساتھ شامل نہ ہو ۔
قرآن مجید میں موجود اس ایک جملے سے واضح ہوتا ہے کہ ملکہ ہر گز کوئی مطلق العنان حکمران نہ تھی بلکہ وہ اہل رائے وزیروں مشیروں کے مشورے سے حکومت چلاتی تھیں ۔ یہ خوبی انھیں اپنے وقت کے حکمرانوں سے بہت ممتاز کرتی ہے ۔
درباریوں نے جواب دیا کہ ہم طاقتور بھی ہیں اور اعلی جنگی صلاحیت رکھنے والے بھی ہیں۔ یعنی اگر آپ اطاعت کے بجائے مقابلے کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں تو ہم آپ کے ساتھ ہیں ۔
درباریوں کا یہ جواب عام روایات کے مطابق تھا۔ وہ ہر حالت میں اپنے آپ کو فرماں بردار اور جاں نثار ثابت کرنے پر تلے ہوتے ہیں ۔ لیکن ملکہ نے جہاں دیدہ ہونے کا ثبوت دیا اور اس زمانے میں طاقت ور بادشاہوں کا وطیرہ بتاتے ہوئے کہا کہ جب وہ کسی شہر کو فتح کر کے اس میں داخل ہوتے ہیں تو اس کو درہم برہم کر دیتے ہیں اور اس کے اشرافیہ کو ذلیل کر دیتے ہیں ۔ اگر سلیمان بھی ایسے ہی حکمران ہوئے تو ان سے ہمیں اپنے اس کوخوش حال ملک کو محفوظ رکھنے کے لیے مقابلے سے پہلے صلح کی طرف آنا چاہیے ۔ اس لیے میری رائے یہ ہے کہ میں اپنے سفیر ان کی طرف ہدیہ کے ساتھ بھیجتی ہوں پھر دیکھتی ہوں کہ میرے سفیر کیا جواب لاتے ہیں۔ یوں ملکہ نے ایک درمیانی راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی ۔
اس احتیاط کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ سبا کی یہ ریاست مصر کے زیر اثر تھی اور حضرت سلیمان کی بالادستی تسلیم کرکے وہ اپنے لیے مشکلات پیدا کر سکتی تھیں ۔ اس لیے ملکہ ایسا سوچنے میں حق بجانب تھی جبکہ حضرت سلیمان کا یہ عمل حکمِ الٰہی کے تحت تھا۔
ملکہ کی سفارت حضرت سلیمان کے پاس پہنچی تو ان کا جواب سورۃ النمل میں ان الفاظ میں نقل ہوا ہے :
“کیا تم لوگ مجھے یہ مال پیش کر کے ( اپنے باطل دین پر قائم رہنے میں )تعاون چاہتے ہو ؟ لیکن جو کچھ اللہ نے مجھے دے رکھا ہے وہ اس سے کہیں بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے ۔ یہ تمہی لوگ ہو جو اپنے ہدیوں سے خوش ہوتے ہو۔ ہم ان پر راضی ہونے والے نہیں ہیں ۔ اس لیے اب تم اپنی قوم میں( ان تحفوں سمیت )واپس جاؤ۔ اب ہم ان کے خلاف ضرور ایسے لشکر لے کر آ ئیں گے کہ وہ ان کے مقابلے کی تاب نہ لا سکیں گے۔ اور ہم انہیں وہاں سے مغلوب کر کے نکال دیں گے یاوہ ہمارے زیردست بن جائیں گے ۔ “
اس جواب میں ملکہ کو اچھی طرح اندازہ ہو گیا کہ سلیمان کوئی عام فرماں روا نہیں ہیں ۔ اس کی دانش نے اسے یہی سمجھایا کہ اسے سلیمان کا اصل مطالبہ پورا کرنا چاہیے ۔ اس نے پیغام بھیجا کہ اس نے سلیمان سے ملنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ وہ جلد خود حاضر ہو گی ۔
یہ اطلاع حضرت سلیمان تک پہنچی تو انھوں نے ملکہ کے سب سے بڑے فخر یعنی اس کے تخت کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔یاد رہے کہ اس زمانے میں کسی بادشاہ یا ملکہ کی شان و شوکت کا اندازہ اس کے عالی شان تخت سے بھی لگایا جا تا تھا۔ چنانچہ حضرت سلیمان نے اپنے دربار کے طاقت ور لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ کون ملکہ سبا کا تخت اس کے آنے سے بھی پہلے مجھے لا کر دے سکتا ہے ۔
جنوں میں سے ایک طاقت ور جن نے کہا کہ میں یہ تخت اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے پہلے حاضر کر دوں گا ۔ اور میں اس کام پر قدرت رکھنے والا ہوں۔
پھر ایک ماہر فن شخص نے کہا کہ اتنی دیر بھی نہیں لگے گی ۔ میں اس تخت کوپلک سے پہلے حاضر کر دوں گا ۔ اتنا کہہ کر اس نے تخت حاضر بھی کر دیا ۔ روایات میں اس کا نام ” آصف برخیا ” آتا ہے ۔ گمان غالب ہے کہ یہ ہا روت و ماروت کے سکھائے گئے علم کا بہت بڑا ماہر تھا۔ شاید اس کا علم اسی طرح کا تھا جس طرح کے علم و مہارت کے مظاہرے مصر کے اہرام ، انگلستان کے سٹون اور دیگر پرانی تاریخوں کی پر اسرار عمارتوں کو بنانے میں دکھائی دیتے ہیں ۔ یعنی اس علم کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں تھا یہ ایک مادی علم ہی تھا۔ آج ہم ہزاروں کلو میٹر دور کے مناظر کو سامنے دکھا سکتے ہیں لیکن اس ماہر نے مادی طور پر ہی اس تخت کو سلیمان علیہ السلام کے سامنے لا حاضر کیا۔
انھوں نے تخت کو جب اپنے پاس موجود پایا تو فرمایا کہ یہ میرے رب کا فضل ہے کہ ایسے ماہرینِ فن اور میرے حکم کے تابع اور ایمان دار لوگ میری سلطنت میں موجود ہیں ۔ یقیناً اس میں میرا کوئی کمال نہیں بلکہ یہ میرا امتحان ہے کہ میں شکر گزار بنتا ہوں یا ناشکری کا رویہ اختیار کرتا ہوں ۔
حضرت سلیمان نے حکم دیا کہ اس تخت کی شکل میں تھوڑی بہت تبدیلی کر دی جائے ۔ حضرت سلیمان نے فرمایا کہ وہ ملکہ کی بصیرت کا امتحان لینا چاہتے ہیں ۔ یعنی کیا اسے احساس ہوتا ہے کہ اس سے بڑھ کر بھی کوئی شان وشوکت کا مالک ہو سکتا ہے یا وہ اپنے تکبر میں مبتلا ہے ۔ حضرت سلیمان کی بات کو ہم فرعون کے رویے سے سمجھ سکتے ہیں جس نے حضرت موسیٰ کے عصا اور ید بیضا کو پہچاننے کے بجائے اسے ایک حقیر قسم کا جادوئی کرتب قرار دیا اور مقابلے پر آگیا۔
اب ملکہ سبا پوری شان سے حضرت سلیمان کے دربا ر میں حاضر ہوئیں ۔ ظاہر ہے کہ سب سے پہلے ان کی نظر تخت ہی پر پڑی اور حضرت سلیمان نے بھی اس کی آنکھوں کی حیرت کو بھانپ لیا ہو گا اور تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوئے سوال کیا کہ کیا آپ کا تخت بھی ایسا ہی ہے ؟
ملکہ نے بھی رمز شناسی کا مظاہرہ کیا اور یہ نہیں کہا کہ حضور یہ آپ میرا ہی تخت اٹھا لائے ہیں بلکہ حیرت و مرعوب ہو کر کہا کہ تقریباً ویسا ہی ہے لیکن یہ وہ نہیں ہے بلکہ اس سے بڑھ کر ہے ۔ ظاہر ہے ملکہ نے اپنا تخت یقیناً پہچان لیا ہوگا لیکن انھوں نے اسے اپنا قرار دے کر حضرت سلیمان کو غاصب قرار نہیں دیا۔ یقیناً ملکہ اس تخت کو دیکھ کر یہ سوچنے پر مجبور ہوئی ہوں گی یہ تخت بلاشبہ انھی کا ہے لیکن یہ ان کے آنے سے پہلے یہاں کیسے پہنچ گیا اور اس کے اندر دکھائی دینے والی تبدیلیاں کیسے کر دی گئیں ؟ اور مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ تبدیلیاں اس تخت کی خوب صورتی اور شان کو مزید بڑھانے کا باعث بنی ہیں ۔
تخت کے علاوہ ملکہ نے دربار کی ساخت ، اس کی شان و شوکت اور جنوں کے سردار اور آصف برخیا جیسے بہت سے درباریوں کا رعب ودبدبہ دیکھا ہو گا تو اس کی مرعوبیت کا اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے ۔ ملکہ کی حیرتوں کا سلسلہ اسی پر ہی نہیں رکا بلکہ جب سیر دیکھتے ہوئے وہ کسی دوسرے ہال میں داخل ہونے لگیں تو انھیں محسوس ہوا کہ فرش پر پانی ہے ۔ حضرت سلیمان نے بھی انھیں آگے چلنے کے لیے کہا تاکہ وہ ان سے پہلے فرش پر پاؤں رکھیں ۔ اس کا نتیجہ وہی نکلا جو حضرت سلیمان چاہتے تھے ۔ ملکہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے مجبور ہوئیں کہ اپنے قیمتی لباس کو گیلا ہونے سے بچانے کے لیے اسے ذرا اٹھا لیں ۔ اب وہ اپنا لباس اٹھائے ہوئے حضرت سلیمان کی طرف متوجہ ہوئیں تو ان کی حیرتوں کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔
حضرت سلیمان تو فرش پر خراماں خراماں چل رہے تھے ۔ تب انھوں نے یقیناً مسکراتے ہوئے کہا ہو گا کہ یہ شیشوں سے بنا ہوا فرش ہے۔اور پانی شیشے کے نیچے ہے ۔ اب ملکہ سبا کو تسلیم کر لینے میں کوئی مانع نہ رہا کہ اس کا محل سلیمان کے اس ” شیش محل ” کے مقابلے میں کچھ نہیں ۔ اور اپنے ملک کو وہ دنیا کا سب سے خوشحال ملک سمجھتی تھی لیکن وہ سلیمان کے مقابلے میں ایک دیہاتی ہے ا ور اس کا سلیمان سے کوئی مقابلہ نہیں ۔
وہ بے ساختہ پکار اٹھیں کہ اے میرے رب میں نے اپنی جان پر ظلم ڈھایا اور اب میں سلیمان کے ساتھ اپنے آپ کو اللہ رب العین کے حوالے کرتی ہوں ۔
ظاہر ہے اس سے پہلے یا بعد میں حضرت سلیمان نے انھیں ان کے ” بدلے ہوئے تخت ” کا راز بھی بتا دیا ہو گا۔ انھیں اپنے لشکروں سے ” گارڈ آف آنر ” کی طرح کی سلامی بھی دلائی ہوگی ۔ اپنے خزانوں اور ترقی کی کچھ جھلک بھی دکھائی ہوگی ۔ ہو سکتا ہے اس ” ہد ہد ” سے بھی ملاقات کرائی ہو جو ان کی ساری خبریں ان تک پہچاتا رہا تھا۔
ملکہ سبا کا یہ جملہ اس کی فطرت سلیم کی گواہی دیتا ہے ۔ وہ نہ فرعون و نمرود کی طرح اکڑیں اور نہ انھوں نے وہ رویہ اختیار کیا جو قیصر ِروم نے اختیار کیا تھا کہ حقیقت واضح ہونے کے باوجود اسے تسلیم کرنے سے انکار کیا۔
بلکہ ان کا رویہ حبشہ کے نجاشی جیسا تھا کہ حق اب واضح ہے اس لیے اسے تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارا نہیں ۔
حضرت سلیمان کی حکمت عملی کی بھی تصدیق ہوئی کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ ملکہ جب تک اس بات کو دل و دماغ سے مان نہیں لیتی کہ یہ شان و شوکت کسی انسان کی پیدا کردہ نہیں ہو سکتی، اس وقت تک وہ ملکہ ہوتے ہوئے کسی اور کی بالادستی تسلیم نہیں کر سکے گی۔اور حضرت سلیمان نے ملکہ سبا کو مرعوب کرنے کے لیے جو طریقہ اپنایا وہ زمانے کے تقاضوں کے عین مطابق تھا۔ جیسے فرعون کے زمانے میں مبہوت کر دینے والی مہارتوں کا غُلغلہ تھا تو اسی لحاظ سے حضرت موسیٰ کو معجزے دیے گئے ۔ اسی طرح ملکہ سبا کا زمانہ فن تعمیرات ، نئی صنعت اور طاقت ور لشکروں کا زمانہ تھا۔اور اسی پہلو سے انھیں مرعوب کیا گیا۔
آج کے دور میں اگر کسی قوم نے ایک سوپر پاور پر اپنی برتری دکھانی ہو تو اسے ثابت کرنا ہو گا کہ اس کے پاس اس سے زیادہ جدید ٹکنالوجی، زیادہ طاقتور فوج اور زیادہ طاقت ور کرنسی ہے ۔ ایک سوپر پاور کا صدر اگر مقابلے کے کسی ایسے ملک کا دورہ کرے گا تو اس کے ساتھ فلسفیانہ مباحث ، تبلیغی گفتگو اور علمی محاضرات نہیں کیے جائیں گے بلکہ اس کو دکھایا جائے گا ہمارے پاس ایسی قوتیں ، ایسی صنعتیں ، ایسی ایجادات و اختراعات ہیں جن کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں۔ اور اگر یہ مقابلہ جنگ کے بغیر ہو تو وہی کچھ کرنا ہو گا جو حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ سبا کے مقابلے میں کیا تھا۔ انھوں نے ملکہ کو، کے کرم اور عنایت سے، اپنے مقابلے میں دیہاتی اور بہت کمزور ثابت کر دیا تھا۔
چنانچہ ملکہ سبا نے سورج پرستی کو ترک کر کے اسلام قبول کرنے کے ساتھ ساتھ حضرت سلیمان کی سیاسی بالا دستی بھی قبول کر لی ۔ اور حضرت سلیمان نے اسے اپنی مملکت کی ملکہ برقرار رکھا ۔ اسے ناقص العقل اور حکومت کے لیے ناموزوں قرار دے کر اقتدار چھوڑنے کا حکم نہیں دیا۔ نہ ہی جھوٹی روایات کے مطابق ان سے شادی رچائی بلکہ تاریخی حقائق تصدیق کرتے ہیں ملکہ نے اس کے بعد کئی برسوں تک حکمرانی کی۔ ایک روایت کے مطابق چار برس اور دوسری روایت کے مطابق کئی برس ۔ اور اس دوران ملکہ کو کئی نئی صنعتوں اور کاشت کے مفید طریقوں سے آگاہی دی ۔
ملکہ سبا کا اصل نام تاریخ میں بیان نہیں ہوا۔ بعض مفسرین نے ان کا نام ” بلقیس ” بیان کیا ہے لیکن یہ صریحاً غلط ہے ۔ اس کی تفصیل بی بی سی اردو کے مقالہ نگار وقار مصطفیٰ نے “انفارگیٹ ایبل کوینز آف اسلام ” کے حوالے یہ بتائی ہے کہ تورات کا یونانی زبان میں ترجمہ ہوا تو مترجم نے ملکہ سبا کے حضرت سلیمان کے سامنے پیش ہونے اور ان کے مرعوبانہ اور عقیدت مندانہ گفتگو کے انداز کو پسند نہیں کیا ۔ اس کے خیال میں ان کا رویہ ایک ملکہ کے شایان شان نہیں تھا بلکہ کسی بے کردار اور غلام عورت کا سا تھا۔ اس لیے اس احمق نے ان کے لیے یونانی لفظ ” پلاکیس ” استعمال کیا جس کے لغوی معنی ” فاحشہ اور بد کردار عورت “کے ہیں۔ یونانی لفظ کا عربی میں ترجمہ ہوا تو عربی مترجم نے خیال کیا کہ یہ ملکہ کا نام یعنی اسم معرفہ ہے اور لفظ کو معرب کرتے ہوئے ” بلقیس” بنا دیا۔ اور یہیں سے تمام مفسرین نے ان کی تقلید کی ۔ نہ صرف عربی میں بلکہ فارسی اور اردو میں بھی یہ نام عام ہو گیا۔ ظلم تو یہ ہے کہ برصغیر میں لوگ بے دھڑک اپنی بچیوں کا نام بلقیس رکھ دیتے ہیں جو بہت ہی نامناسب ہے ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہد ہد کے بطور قاصد کا ذکر قرآن میں تو موجود ہے لیکن بائبل، عہد عتیق ، سلاطین ، تواریخ اور تالمود میں اس پرندے کا بطور قاصد ذکر موجود نہیں ہے۔ اس کے باوجود ہدہد اسرائیل کا قومی پرندہ ہے اور اسے یہودیوں میں بہت عزت و توقیر کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔اس کا گوشت کھانا اور شکار حرام سمجھا جاتا ہے ۔