مواد پر جائیں

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی (2)

سید ابو الحسن علی حسنی ندوی اردو

اگلے سال 1941ء میں غالباً جماعت کی خواہش پر جو لکھنؤ میں قائم ہو چکی تھی اور جس کا میں ذمہ دار تھا ، وہ دوبارہ تشریف لائے۔ آنے سے پہلے حسب معمول انھوں نے مجھے خط لکھا۔ میں نے غالباً ان سے لکھنؤ یو نیورسٹی میں پڑھنے کے لیے ایک مقالہ تیار کرنے کی فرمایش کی تھی۔ ان کا یہ خط جو 29 ستمبر 1941 کا لکھا ہوا ہے، اس کے جواب میں ہے۔

’’مبارک پارک، پونچھ روڈ ، لاہور ۔ 29 ستمبر1941

محترمی و مکرمی۔ السلام علیکم

آپ کے پہلے عنایت نامہ کا جواب پہلے دے چکا ہوں، بعد میں کارڈ ملا، خطبہ کے لیے ’’نیا نظام عالم‘‘ کوئی نیا موضوع نہیں، نہایت پامال چیز ہے، اور آج کل کچھ فیشن ہو گیا ہے کہ ہر ایک اس پر کچھ نہ کچھ بولے۔ اس بنا پر نہ میرے خطبہ کی کوئی خصوصیت ہوگی اور نہ اس کی طرف کوئی توجہ کرے گا، اس کے بجاے خطبہ کا یہ عنوان بہتر ہے ’’نوع انسانی کا معاشی (یا اقتصادی) مسئلہ اور اس کا اسلامی حل“ آپ یو نیورسٹی کے سیکریٹری صاحب کو اطلاع دے دیجئے۔

خاکسار

ابوالاعلیٰ‘‘

مولانا لکھنؤ تشریف لائے اور نو جوانوں نے پروانہ وار ہجوم کیا۔ انھوں نے لکھنؤ یونیورسٹی یونین میں عنوان بالا کے تحت اپنا فاضلانہ خطبہ پڑھا، جو ان کے مضامین میں شائع ہو گیا ہے، اسی کے ساتھ وہ دار العلوم ندوۃ العلما کے لیے ایک مقالہ ’’نیا تعلیمی نظام‘‘ کے عنوان سے میری فرمایش پر لکھ کر لائے تھے، جو طلبا کی انجمن ’’الاصلاح‘‘ میں پڑھا گیا۔ میرا رابطہ مولانا سے اور جماعت سے برابر قائم رہا۔ میں نے جماعت کی اس مجلس عاملہ کے جلسہ میں شرکت کی جو فروری 1942 کولاہور میں منعقد ہوا تھا اور جس میں مولانا کی تحریروں اور بعض خیالات کی اس مخالفت کی بنا پر جو ہندوستان کے بعض مشاہیر فضلا اور اہل قلم نے شروع کر رکھی تھی، یہ مسئلہ در پیش تھا کہ مولانا فی الحال جماعت کی امارت سے سبکدوشی اختیار کر لیں، اور مولانا امین احسن صاحب اصلاحی کو امیر منتخب کیا جائے۔ جماعت کی زندگی اور تاریخ میں یہ مرحلہ بہت اہم تھا، میرا ووٹ اس میں مولانا کے حق میں تھا اور اس کی بنیاد یہ تھی کہ یہ ایک مصنوعی رد و بدل ہوگا، جس سے کوئی بڑا فائدہ حاصل نہ ہوگا۔ جماعت کا وجود مولانا کی تحریروں کے اثر سے عمل میں آیا ہے اور اس کی وابستگی اور انتساب بدستور انھیں کی طرف رہے گا۔ اسی پر فیصلہ ہوا اور جماعت کا نظام وہی رہا۔ جماعت کی دوسری مجلس انتظامیہ میں میری شرکت اکتوبر 1942 میں دہلی میں ہوئی، اس موقع پر میں مولانا کے ساتھ علی گڑھ بھی گیا اور ایک دو دن اولڈ بوائز لاج میں ہم دونوں کا قیام رہا۔ میں نے یونیورسٹی کے حلقہ میں مولانا کی مقبولیت کا اندازہ کیا۔

اس زمانہ میں مولانا کو عربی میں ایک ایسے رسالہ کے اجرا کا بڑا تقاضا تھا، جو دعوت و جماعت کا ترجمان بن سکے۔ میں نے اس سلسلہ کی مشکلات کا ذکر کیا اور اس پر اتفاق ہوا کہ فی الحال عربی میں مضامین کے ترجمے کا سلسلہ شروع کر دیا جائے اور ان کو عالم عربی کے موقر مجلات و رسائل میں بھیجا جائے۔ مولانا یہ خدمت میرے سپرد کرنا چاہتے تھے، میں نے اس کے لیے رفیق محترم مولانا مسعود عالم صاحب ندوی کا نام تجویز کیا جو مولانا نے منظور کیا، اور اس کے نتیجہ میں پہلے مشرقی پنجاب جالندھر میں پھر مغربی پنجاب گجراں والہ میں ’’دارالعروبہ‘‘ کے نام سے ادارہ قائم ہوا، اور مولانا مسعود عالم صاحب مرحوم نے اس سلسلہ کو اس قابلیت و خوبی سے انجام دیا کہ عالم عربی میں مولانا کا اور ان کی دعوت و تحریک کا ایسا تعارف ہوا کہ اگر مولانا کا خود بھی عربی میں لکھنے کا معمول اور تجربہ ہوتا تو اس سے زیادہ ممکن نہ تھا۔ عالم عربی میں مولانا کی مقبولیت اور تعارف کا یہ کتابیں سنگ بنیاد ثابت ہوئیں اور انھوں نے اس کے لیے راہ ہموار کر دی، جس سے بعد میں پورا فائدہ اٹھایا گیا۔ جماعت و تحریک کی تاریخ میں مولانا مسعود عالم صاحب ندوی مرحوم کی اس خدمت کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

مارچ 1944 میں صوبہ سرحد و پنجاب کے ایک سفر کے دوران میں مجھے دار الاسلام پٹھان کوٹ (جہاں مولانا مستقل طور سے مقیم تھے اور جس کو تحریک کا مرکز بنانا تجویز ہوا تھا ) جانے کا اتفاق ہوا اور کچھ دن ان کا مہمان بننے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اس کے بعد عرصہ تک ذاتی ملاقات کی نوبت نہیں آئی۔ 1954ء میں جب تقسیم کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان جانا ہوا تولا ہور کے قیام کے دوران میں مولانا سے لاہور سینٹرل جیل میں ملاقات ہوئی، اس ملاقات میں ملک نصر اللہ خاں عزیز میرے رفیق ورہبر تھے، مولانا مسعود عالم صاحب مرحوم کا قریبی زمانہ میں انتقال ہوا تھا، ہم دونوں نے ایک دوسرے سے تعزیت کی۔

اس کے بعد جون 1956 میں ان سے ملنا ہوا جب وہ ہمارے دوست ڈاکٹر سعید رمضان کی دعوت پر ان کی منعقد کی ہوئی مؤتمر اسلامی کے اجلاس میں شرکت کے لیے دمشق آئے۔ میں ایک دو مہینا پہلے سے دمشق یونیورسٹی کی دعوت پر وہاں گیا ہوا تھا، اس موقع پر پاکستان سے مولانا مفتی محمد شفیع صاحب مرحوم اور مولانا ظفر احمد صاحب انصاری بھی آئے ہوئے تھے۔ کانفرنس میں ڈاکٹرمحمد ناصر سابق وزیر اعظم انڈو نیشیا کو صدر اور مولانا کو اور مجھے نائب صدر منتخب کیا گیا تھا۔ اس کا نفرنس کا سلسلہ کئی روز جاری رہا اور دو مرتبہ مجھے مولانا کی خواہش اور اصرار پر ان کی تقریر کا عربی میں ترجمہ کرنے کا اتفاق ہوا۔ اس کے بعد 1962ء میں جب مدینہ طیبہ میں جامعۂ اسلامیہ کا قیام عمل میں آیا اور ہم دونوں اس کی مجلس شوریٰ کے رکن منتخب ہوئے تو مسلسل کئی روز ملنے اور اس کمیٹی میں شرکت کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔ اسی سال حج کے موقع پر رابطۂ عالم اسلامی کا قیام عمل میں آیا اور ہم دونوں اس کی مجلس تاسیسی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس سلسلہ سے کئی مرتبہ اس کے سالانہ اجلاس کے موقع پر مولانا سے ملنے اور رابطہ کے جلسوں میں قریب بیٹھنے کا موقع ملا، یہاں تک کہ گھٹنوں کی تکلیف کی وجہ سے مولانا کے سفر کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ غالباً آخری اجلاس جس میں ہم دونوں نے شرکت کی 1967ء کا اجلاس تھا۔

آخری ملاقات جولائی 1978 کی کسی تاریخ کو لاہور میں مولانا کے دولت خانہ پر ہوئی ۔ مولانا بڑے اخلاق اور تپاک سے ملے، پاکستان کے موجودہ حالات پر تبصرہ ہوا۔ میں کراچی میں رابطہ کی طرف سے ہونے والی پہلی اسلامی ایشیائی کا نفرنس میں شرکت اور پاکستان کا ایک مختصر دورہ کر کے لاہور پہنچا تھا۔ ہم دونوں اس پر متفق تھے کہ موجودہ انقلاب ایک خوش آئند اور مبارک انقلاب ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ یہ بات واضح ہے کہ اس کے دین پسند سر برا ہوں اور قائدین کی مدد کرنی چاہیے اور ان کو نا کام نہیں ہونے دینا چاہیے۔یہ ہماری آخری ملاقات تھی۔

1943ء میں میرا ضابطہ سے جماعت سے تعلق نہیں رہا تھا، لیکن مولانا سے اور پیشتر رفقاے جماعت سے دوستانہ اور عزیزانہ تعلقات تھے، اور ایک دوسرے کے احترام اور اعتراف میں کوئی فرق نہیں آیا تھا۔ مارچ 1944 میں جب میں دار الاسلام میں ان کا مہمان ہوا تو وہ میری اس ذہنی تبدیلی اور جماعت کی فکر سے میری بے اطمینانی سے واقف ہو چکے تھے، لیکن اس کا تعلقات اور باہمی ربط و ضبط پر کوئی اثر نہ تھا۔ عربی دعوتی لٹریچر کے بارے میں تبادلۂ خیال بھی ہوا اور مولانا نے میرا ایک عربی مضمون جو ’’دعوتان متنافستان‘‘ (دو حریف اور مد مقابل دعوتیں) کے عنوان سے تھا،1 ملاحظہ فرمایا اور پسند کیا۔ وہ مع تمام رفقا کے اسٹیشن مجھے رخصت کرنے کے لیے تشریف لائے۔

میرے مولانا کی تحریروں اور جماعت کے لٹریچر سے تاثر اور وابستگی کی بنیاد مولانا کے وہ فاضلانہ تنقیدی مضامین تھے، جو انھوں نے مغربی تہذیب اور اس کے فلسفۂ حیات اور موجودہ مادی نقطۂ نظر کے خلاف لکھے تھے، اور جن کا بڑا حصہ ان کے مجموعۂ مضامین ’’تنقیحات‘‘ میں شامل ہے۔ یہاں میرے اور مولانا کے خیال میں وہی تو ار د تھا، جو ایک چھوٹے اور بڑے نو مشق و کہنہ مشق مصنفوں کے درمیان ہوسکتا ہے۔ دین کی اس جدید تفہیم و تشریح سے نہ مجھے کچھ زیادہ دل چسپی تھی نہ ضرورت، جو مولانا کی دوسری کتابوں مثلاً ’’قرآن مجید کی چار بنیادی اصطلاحیں‘‘، ’’تفہیمات‘‘ اور ’’رسائل ومسائل‘‘ میں پائی جاتی ہے، اس لیے کہ اس بارے میں میرا معاملہ کسی ایسے انگریزی تعلیم یافتہ نوجوان سے بالکل مختلف تھا، جو دین کا تصور اور اس کا فہم اس کے اصل سرچشموں (کتاب وسنت اور دینی ماحول و تربیت) کے بجاے کلیۃً مولانا یا کسی دوسرے مسلمان مفکر و مصنف کی کتابوں سے حاصل کرتا ہے۔ میں اپنے براہ راست دینی مطالعہ اور ان متقدمین اور بعض متاخرین کی کتابوں سے استفادہ کرنے کی بنا پر جو کتاب وسنت کا وسیع و عمیق علم رکھتے تھے، اور ان کے یہاں مجتہدانہ فکر ونظر اور نمایاں گہرائی ملتی ہے، مولانا کو ایسا یگانۂ روزگار مفکر اسلام سمجھنے سے قاصر تھا، جس کی نظیر صدیوں میں نہیں ملتی۔ میں ان کا اصل امتیاز وجو ہر ذہانت، ذہن کی صفائی و ر سائی اور نئے انداز میں تحریر و تفہیم کی امتیازی قوت و قدرت سمجھتا تھا اور اب بھی سمجھتا ہوں۔ لیکن کچھ عرصہ کے بعد مجھے یہ محسوس ہونے لگا کہ جماعت کے اس علمی اور تنقیدی حصہ کو جو مغربی تہذیب اور موجودہ مادی فلسفوں اور نظام ہاے حیات سے متعلق تھا، دین کی اس تفہیم و تشریح سے الگ نہیں کیا جا سکتا جو خود مولانا اور جماعت کے قائدین کی نظر میں بنیاد اور سرچشمہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ میرا شعور جس قدر پختہ اور میرا مطالعہ اور تجربہ جتنا وسیع ہوتا گیا، میری ذہنی کشمکش میں اضافہ ہوتا گیا، اس کا نقطۂ ارتقا وہ تھا، جب میری ہندوستان کے مشہور تبلیغی تحریک کے داعی و بانی مولانا محمد الیاس صاحب کی خدمت میں آمد و رفت زیادہ ہوئی۔ میں جب ان کی زندگی ، ان کی باطنی کیفیات اور ان کی ایمان واحتساب کی دعوت سے گہرے طور سے متاثر ہوا تو یہ ذہنی خلیج عمیق اور وسیع ہونے لگی اور مجھے احساس ہوا کہ دعوتِ نبوت اور اس کے حامل کا مزاج اور اس کی خصوصیات کیا ہوتی ہیں، اور وہ ایک ایسی تحریک و دعوت سے کتنی مختلف ہوتی ہیں، جس کی بنیاد خالص مطالعہ ، ذہانت اور کسی فلسفہ و نظام کے رد عمل پر ہوتی ہے . . . میں نے ایک بارلکھنؤ سے جب مولانا مودودی کو اپنی اس ذہنی کشمکش کا حال لکھا اور ان کو مولانا محمد الیاس صاحب سے میرے گہرے تاثر اور تبلیغی کام میں روز افزوں انہماک کا حال بطور خود بھی معلوم ہوا تو انھوں نے مجھے اس بارے میں یکسو ہو جانے کی اجازت، بلکہ مشورہ دیا۔

میں نے جماعت سے اپنی بے اطمینانی اور اس کے اسباب کا اظہار کرنے میں ہمیشہ احتیاط سے کام لیا اور جماعت کے موافقین یا مخالفین نے جب خط و کتابت کے ذریعے سے مجھ سے میری علیحدگی کے اسباب اور مولانا یا جماعت کے بارے میں میری راے دریافت کی تو میں نے اس کا ایسا جواب دینے سے ہمیشہ احتراز کیا جس کو اشاعت میں لا کر غلط مقاصد حاصل کیے جاسکتے تھے۔ بے اطمینانی کے اسباب ریاضی و اقلیدس کے قواعد کی طرح چند بندھے ٹکے لفظوں اور ضابطوں کی شکل میں بیان نہیں کیے جاسکتے۔ اس کے اسباب مختلف النوع ہو سکتے ہیں، ان کا تعلق تعلیم و تربیت، ماحول کے اختلاف، وہ شخصیتیں جن سے آدمی متاثر ہوتا ہے، ان کی رنگارنگی، ذاتی تجربات، موروثی و خاندانی اثرات، ذہنی ارتقا اور مطالعہ کے نتائج سے بھی ہوسکتا ہے۔ اور ان سب کا الفاظ کی گرفت میں (خاص طور سے مختصر خطوط کی شکل میں ) آنا مشکل ہوتا ہے۔ میں عام طور پر اس کے جواب میں لکھ دیتا تھا کہ اس کے سمجھنے کے لیے آپ میری کتاب ’’ارکان اربعہ‘‘، ’’منصب نبوت اور اس کے عالی مقام حاملین‘‘، ’’تاریخ دعوت و عزیمت‘‘ اور عربی ’’ربانية لا رهبانية ‘‘2 کا مطالعہ کیجئے۔

یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا ، جب تک کہ میں دیانت کے ساتھ اس نتیجہ پر نہیں پہنچ گیا کہ اب مجھے مولانا کے دین کی اس تفہیم و تشریح کے متعلق کچھ لکھنا چاہیے جس کی بنیاد ان کی کتاب ”قرآن مجید کی چار بنیادی اصطلاحیں“ ہے، اور جو اقلیدس کے اصول موضوعہ کی طرح ان کی فکر و دعوت میں جاری وساری ہے۔ اور میں نے اس تفہیم و تشریح کا اثر بر صغیر اور ممالک عربیہ کے ان نوجوانوں کی فکر و تحریر میں نمایاں طریقہ پر دیکھا، جنھوں نے دین کو مولانا اور ان کے نام ور عرب خوشہ چیں اور میرے عزیز ومحبوب دوست سید قطب شہید کی دینی ترجمانی اور تفہیم سے اخذ کیا تھا اور انھوں نے دینی حقائق و مقاصد کو انھی کے ذریعے سے سمجھا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ فکر و عمل اور سعی و جہد کی پٹڑی بدلتی جارہی ہے اور اندیشہ ہے کہ رفتہ رفتہ وہ ایک خالص مادی سیاسی و تنظیمی تحریک کی شکل نہ اختیار کرے جو کسی نیک اور بلند مقصد کے لیے وجود میں آسکتی ہے۔ میں نے سب سے پہلے اپنی عربی کتاب ’’النبوة والأنبياء فی ضوء القرآن“ کے تیسرے اور اس کے اردو ترجمہ ’’منصب نبوت اور اس کے عالی مقام حاملین‘‘ کے دوسرے ایڈیشن میں اس پر مختصراً ایک نوٹ لکھا۔ پھر بڑے فکرو تامل اور دعا و استخارہ کے بعد ایک دینی فریضہ سمجھتے ہوئے رمضان 1398ھ اگست 1977میں اس موضوع پر مستقلاً قلم اٹھایا، اور ایک شاہد عینی اور مستفید کی حیثیت سے اس کو ضروری سمجھا کہ مولانا کی خدمات اور ان کی تصنیفی انفرادیت کا پورا پورا اعتراف کرتے ہوئے اپنے خدشات اور اندیشوں کو ظاہر کیا جائے کہ جماعت میں شریک ہونے والوں کی ایک بڑی تعداد بلاشبہ دین کی طالب اور خدمت دین اور اعلاء کلمتہ اللہ کی حریص و خواہش مند ہے، اور اس کو جب کتاب وسنت کی روشنی میں مخلصانہ مشورہ دیا جائے گا، تو اس سے وہ ضرور فائدہ اٹھائے گی، اس لیے کہ اس کے دستور نے یہ کہہ کر کہ ’’رسول خدا کے سوا کسی انسان کو معیار حق نہ بنائے، کسی کو تنقید سے بالا تر نہ سمجھے اور کسی کی ذہنی غلامی میں مبتلا نہ ہو‘‘۔ نیز مولانا کے لٹریچر نے جو اسی اصول پر مبنی ہے، اس کے ذہن کی وہ تربیت کی ہے، جو عصر حاضر میں کم جماعتوں کی گئی ہوگی۔ میں نے کتاب کے مسودہ کو بار بار اس خیال سے پڑھا کہ اس میں کوئی طنز یہ جملہ یا تیز لفظ ایسا نہ ہو جو اس مقصد کے لیے مضر ہو اور جہاں کوئی جملہ یا لفظ زور قلم میں اتفاقاً نکل گیا تھا اس کو حذف کر دیا۔

میرا ارادہ تھا کہ کتاب کے چھپنے کے بعد اس کا پہلا نسخہ اپنے خط کے ساتھ مولانا کی خدمت میں بھیجوں۔ میں نے یہ خط احمد نگر سے 30 اکتوبر 1978 کو لکھا، لیکن جن صاحب کے ساتھ اس کتاب اور خط کو بھیجنا تھا، ان کا سفر ملتوی ہو گیا اور کتاب قدرے تاخیر سے ان کو ملی۔ اس کتاب پر مولانا کا ردعمل اس ردعمل سے بہت مختلف تھا جو ہندوستان میں جماعت کے حلقہ کے عام ہم دردوں اور متفقین میں دیکھا گیا۔ میری کتاب غالباً مولانا کو وسط جنوری 1979 میں ملی ، انھوں نے 23 جنوری کو اس کی رسید دیتے ہوئے حسب ذیل گرامی نامہ تحریر کیا۔

’’اے، ذیل دار پارک اچھرہ، لاہور پاکستان

محترمی و مکر می۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

عنایت نامہ مورخہ 5 / صفر 99 ھ ملا، اور اس کے ساتھ آپ کی تازہ کتاب ’’عصر حاضر میں دین کی تفہیم و تشریح“ کا ایک نسخہ بھی موصول ہوا۔ میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ میری جس چیز کو آپ نے خدشات کا موجب سمجھا اس پر تنقید فرمائی ، مزید میری جن چیزوں کو آپ دین اور اہل دین کے لیے مضرت رساں یا موجب خطر رکھتے ہوں ان پر بھی آپ بلا تکلف تنقید فرما ئیں، میں نے کبھی اپنے کو تنقید سے بالاتر نہیں سمجھا، نہ میں اس پر بر امانتا ہوں۔ البتہ یہ ضروری نہیں ہے کہ میں ہر تنقید کو برحق مان لوں اور ناقدین کے بیان کردہ خدشات اور اندیشوں کو صحیح تسلیم کرلوں۔

خاکسار

ابوالاعلیٰ‘‘

اب وہ اس دنیا میں نہیں ہیں، میں اظہار خیال، دینی صلاح و مشورہ اور فکر و فہم کے اس قدرتی تنوع کے حق کو محفوظ رکھتے ہوئے (جو ہر صاحب فکر، بلکہ طالب علم کا حق ہے اور جس کا اظہار تاریخ اسلام کے ہر دور میں ہوتا رہا ہے ) بحیثیت مصنف، متکلم، مفکر اور داعی کے ان کی امتیازی و انفرادی خصوصیات اور بڑائی کا نہ صرف فراخ دلی، بلکہ مسرت اور بہت سے مشترک روابط و خصوصیات کی بنا پر ایک گونہ فخر کے ساتھ اعتراف کرتا ہوں، اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالی ان کو ان کی اسلامی خدمات کا پورا صلہ عطا فرمائے ، ان کی ان لغزشوں سے جن سے نبی معصوم کے سوا کوئی فرد بشر خالی نہیں، درگزر فرمائے ، اور امت مسلمہ کی صحیح رہنمائی اور دست گیری فرمائے۔

اللهم اغفر له ولا تفتنا بعده

  1. ۔ مشمولہ مجموعۂ مضامین (الی الاسلام من جدید ) اس سے مراد اسلام اور مغربی تہذیب اور مادی فلسفۂ حیات ہے۔
  2. ۔ اب اس کا اردو ترجمہ ’’ تزکیہ واحسان یا تصوف و سلوک‘‘ کے نام سے مجلس تحقیقات و نشریات اسلام کی طرف سے شائع ہو گیا ہے۔