میں دیکھتا ہوں فضا ہاے احمریں کی نمود
یہ وقتِ شام ہے اِس کو بروضِ گل کہیے
عجب نہیں کہ میسر ہوئی ہے اِس کے طفیل
متاعِ ذوقِ تماشا مرے جنوں کے لیے
بہ پاسِ خاطرِ احباب سوے مے خانہ
نکل پڑا ہوں تو جوشِ قدح ہوا ہے سوا
ہر ایک تارِ ربابِ نظر پکار اٹھا
مرے ورود پہ آئی سبو سبو سے صدا
ترا وجود قیامت ہے بزمِ مے کے لیے
رہی ہے تیرہ شبوں میں تجھے سحر کی تلاش
سنی یہ بات تو ساقی نے مجھ سے فرمایا
ترے لبوں سے نہ آئے لبِ سبو پہ خراش
میں جانتا ہوں کہ رندوں کی آرزو تو ہے