مواد پر جائیں

نامے جو میرے نام آئے!

مرتب : وجیہہ حسان واحدی اردو

یہ قارئین کے برقی خطوط اور پیغامات ہیں جو انھوں نے ہمیں ارسال کیے ۔ قارئین و سامعین اس پتے پر اپنی آراء ، تجاویز اور تحریریں بھیج سکتے ہیں : آپ چاہیں تو اپنی تصویر بھی بھیج سکتے ہیں ۔

فابیہ احسان

ثوبیہ نورین کے تربیت والدین کے مضمون پر اپنی رائے دیتے ہوئے لکھتی ہیں : رسالے میں آپ کی یہ تحریر پڑھی ہے، بہت عمدہ انداز میں آپ نے مثبت انداز فکر اپنانے کی مشق بتائی ہے ۔ اللہ آپ کو برکت دے ۔

تاثرات

ظفر شبیر

ثوبیہ نورین کے آر ٹیکل کے بارے میں لکھتے ہیں: ایک فکر انگیز تحریر۔ کانٹریبیوٹ کرتی رہیں۔ ڈھیرں دعائیں ۔

نادرہ زیدی

شفاء بنت کے بارے میں لکھتی ہیں: آپ نے موضوع کو بہت اچھی طرح سے لکھا ہے۔ شکریہ اس بات کا کہ آپ سب ایسے آرٹیکلز لکھ رہے ہیں جو اہم ہیں۔ خواتین لیڈرز پر آرٹیکل، پڑھنے والوں پر ایک مثبت احساس ڈالتا ہے۔

فوزیہ نورین

تربیت الدین کے مضمون بارے لکھتی ہیں کہ آپ نے سرکل آف انفلوئنس اور سرکل آف کنٹرول کو بہت اچھی طرح سمجھایا ہے۔ہم سب کو اپنے ریموٹ کنٹرول کو واپس اپنے ہاتھ میں لینا ہوگا۔

نزہت فاطمہ ( بحرین )

بچوں سے قرآن حفظ کرانا کے آرٹیکل پر لکھتی ہیں :

یہ ایک اہم مسئلہ ہے جس کا لوگوں کو اور خاص طور سے والدین کو ادراک نہیں ہے۔ اس اہم مسئلے کو عرفان شہزاد صاحب نے اپنے مضمون میں بہت اچھی طرح سے اجاگر کیا ہے۔

مصنف نے اپنے مضمون میں بچوں کی بے بسی اور بےکسی کو بھر پور طریقے سے نمایاں کیا ہے جس سے بڑی دلخراش حقیقت سامنے آتی ہے۔انہوں نے قرآنی آیات، مستند احادیث اور مضبوط دلائل سے اپنی بات کو واضح کیا ہے۔آخر کیا وجہ ہے کہ والدین اپنے جگر گوشوں کو اپنے سے دور کر کے مدرسوں میں بھیج دیتے ہیں؟وجہ یہ ہے کہ چند ضعیف احادیث سے یہ ترغیب ملتی ہے کہ اگر وہ اپنی اولاد کو حافظ قرآن بنا دیں گے تو ان کی اولاد اپنے والدین کو جنت میں لے جانے کا ذریعہ بن جائے گی۔دین اسلام سے ناواقفیت کی بنا پر جنت میں جانے کا یہ شارٹ کٹ بہت ہی پر کشش معلوم ہوتا ہے۔ والدین خود تو چند سورتیں بھی حفظ کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتےاور اپنے بچوں سے ان کی مرضی، صلاحیت اور شوق جانے بغیر مکمل قرآن حفظ کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

والدین اس بات سے بھی غفلت میں ہیں کہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں حافظ اس کو کہا جاتا تھا جس کے حافظے میں قرآن کے الفاظ کے ساتھ قرآن کا علم بھی حافظے میں محفوظ ہوتا تھا ۔وہاں ہر حافظ اس کامطلب جانتا تھا کیونکہ وہ عربی سے واقف تھا۔ اسی لیے قرآن کا عکس اس کی پوری زندگی کے عمل میں نمایاں ہوتا تھا ، وہ حافظ قرآن کہلاتا تھا ۔

میرا اس مضمون کے بارے میں اظہار خیال کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ میں حفظ کرنے کے خلاف ہوں ۔ میں ظلم و جبر کے خلاف ہوں ۔ بچوں کے حوالے سے میں زیادہ حساس اس لئے ہوں کہ وہ کمزور ہوتے ہیں اور اپنی بات بھی نہیں سمجھا سکتے اور نہ ہی اپنے اوپر ہونے والے ظلم و جبر کے خلاف آواز اٹھا سکتے ہیں ۔ اس لئے معاشرے میں اس شعور کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے اور مجھے امید ہے کہ ڈاکٹر عرفان شہزاد صاحب کا یہ مضمون اس سلسلے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ رہی بات حفظ قرآن کی تو یہ روایت تو مسلمانوں کا ایک غیر معمولی امتیاز ہے۔ اور حفظ کی اس روایت کو قائم رہنا چاہیے ۔ اللہ کی کتاب کا کچھ نہ کچھ حصہ تو حافظے میں محفوظ رہنا ہی چاہیے، کیونکہ فجر، مغرب اور عشا کی نمازوں میں جہری تلاوت ہوتی ہے اور ماہ رمضان میں تراویح کہ اندر طویل قرات کی جاتی ہے ۔ اس لیے حفظ کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے ۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ حفظ قرآن کے سلسلے میں توازن کیسے قائم کیا جائے اور بچوں پر مدرسوں میں جو ظلم و زیادتی ہوتی ہے۔ اس کا سد باب کیسے کیا جائے ؟ اس سلسلے میں میری گزارشات مندجہ ذیل ہیں۔

معاشرے کو شعور دینے کی ضرورت ہے ، تب ہی والدین کو بھی اس بات کا آگہی ہوگی کہ اپنی بخشش کے لئے بچے کو حفظ نہیں کروانا بلکہ اپنے بچے کا میلان دیکھنا ہے ، اس کے شوق اور صلاحیت کا جائزہ لینا ہے کہ کیا اس کے اندر اتنی استعداد موجود ہے کہ وہ مکمل قرآن حفظ کر سکے ۔

اس سلسلے میں تعلیمی نفسیات کے ماہرین سے ان کی خدمات لی جاسکتی ہے وہ بتا سکتے ہیں کہ بچے کا اہلیت ہے یا نہیں ؟ بچے کی عمر کا لحاظ رکھنا چاہیے ۔ بچہ بہت چھوٹا نہ ہو ،اس کی عمر 18 سال ہو اور وہ اسکول کی12 جماعتیں مکمل کر چکا ہو۔

اگر بچہ خود حفظ کا بہت زیادہ شوق رکھتا ہو تو اس کی کم از کم عمر 9 یا 10 سال ہونی چاہیے ۔ (اس سلسلے میں تعلیمی نفسیات کے ماہرین رہنمائی کر سکتے ہیں)

جس جگہ یا جس ادارے میں بچے کو حفظ کروانے کے لئے بھیجا جائے وہاں کا ماحول اچھا ہو، خوشگوار ہو اور اس کی حفاظت کے بارے میں پورا اطمینان ہو ۔ پڑھائی یا حفظ کا دورانیہ چند گھنٹوں سے زیادہ نہ ہو، بچے پر حفظ کے لیے کوئی دباؤ نہ ہو ورنہ اس کتاب سے روحانی تعلق کے بجائے اس میں بیزاری پیدا ہو سکتی ہے، اور وہ دین ہی سے متنفر ہو سکتا ہے ۔ اور یہ بات اس بچے کے مستقبل، دنیا اور آخرت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

قران کریم حفظ کرانے کے لیے ایسے مراکز کھولے جائیں جن کا معیار اعلیٰ ہو اور آج کل کے اچھے سکولوں کے ہم پلّہ ہو ۔ان تمام چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر بچہ اپنے شوق سے حفظ کرنے کو تیار ہے تب ہی اس کو حفظ قرآن کروانا چاہیے اور اس مقام پر اس کی حوصلہ افزائی ضرور کرنی چاہئے ۔قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ اس کو سکھانے اور حفظ کرانے کے لیے غیر معمولی اہتمام تو ہونا ہی چاہیے ۔

نشاط رحمان

نعیم بلوچ کے افسانے ” سوالوں کا جنگل” پر حلقہ ارباب ذوق انٹرنیشنل پر صدر محفل نے یہ تبصرہ لکھا :

افسانہ ” سوالوں کا جنگل ” ایک علامتی تحریر ہے جس کا بنیادی موضوع وہ سوالات ہیں جو جنت، دوزخ اور قرآن پاک میں بیان کردہ واقعات کے حوالے سے ہمارے ذہنوں میں پیدا ہوتے ہیں اور جن کے تشفی بخش جواب ہمیں نہیں ملتے تو ہم پراگندہ ذہنی اور پریشاں خیالی کا شکار رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ مصنف نے چند ضمنی موضوعات کو بھی چھواہے جیسے ماں کے لئے اولاد کی محبت ،اللہ کےنزدیک پسندیدگی صرف مذہبی وابستگی ہی نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت بھی ہے۔ایک موضوع بھی ہے لیکن ان معنوں میں نہیں کہ عورت کی آزادی، خود مختاری،بے جا پابندی وغیرہ بلکہ یہ ایک شکوے شکایت کی طرز کا ہے کہ عورت اتنی ذمہ داریاں ادا کرتی ہے،گھریلو مسائل کا سامنا کرتی ہے لیکن مرد کی طرف سے کوئی تعریف،توجہ یا حوصلہ افزائی نہیں ملتی۔ ایک اچھے افسانے کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کوئی لفظ، جملہ ، کردار ،وقوعہ اضافی یا غیر ضروری نہیں ہوتا۔ اس افسانے میں یہ خوبی موجود ہے۔مصنف نے جن موضوعات کو بیان کیا ہے انہیں استعاروں اور علامات کے ذریعے سے قاری تک پہنچایا ہے۔ کانٹے دار سوالات کے علاوہ ایک موضوع یہ بھی ہے کہ ہم اس جدید ٹیکنالوجی اور میڈیکل سائنس کے دور میں بھی اپنی پریشانیوں اور طبی مسائل کے حل کے لئے چلوں، وظیفوں اور تعویذ گنڈوں سے رجوع کرتے ہیں۔ افسانے کا مرکزی کردار ہے جو بنیادی طور پر ایک موڈی،روشن خیال،تفریح اور پارٹیوں کی شوقین لڑکی ہے لیکن اولاد کی خواہش اور اس کی سلامتی کی خاطر مذہبی بن جاتی ہے لیکن دل سے مذہبی نہیں ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ مذہب کے حوالے سے سوالات اسے پریشان رکھتے ہیں ۔ کے خسر اسے مذہب کی طرف راغب کرتے ہیں ان کا کردار کے سسرال کا مذہبی سوچ کا نمائندہ ہے۔ افسانے کی خوبی یہ ہے کہ مصنف نے بغیر کسی تفصیلی بیان کے محض کرداروں کے ذریعے اور علامتوں استعاروں کی مدد سے بہت سے موضوعات کو بیان کردیا ہے۔ افسانے کا سب سے دلچسپ کردار ڈنمارک سے آئی ہوئی اس لڑکی کا ہے جس نے درس قرآن کی محفل میں یہ چبھتے ہوئے سوال اٹھائے ہیں۔

اس بات کی بھی خواہش مند ہے کے اس کا شوہر اس کے مسائل اور اکلوتے بیٹے دانش کی سلامتی کے لئے کی جانے والی کوشش میں اس کا ساتھ دے اسے سپورٹ کرے اور اس کی حوصلہ افزائی کرے لیکن اس کا شوہر اس سے لا تعلق اور ناراض سا ہے اسے اس کے حال پر چھوڑ ہواہے۔

افسانے چار اور کردار رتھ فائو،میری کیوری،،مدر ٹریسا اور بلقیس ایدھی اس سوچ کی علامت کہ انسانیت کی خدمت اور انسانوں سے ہمدردی بھی اللہ کے نزدیک پسندیدہ عمل ہے۔ افسانے کا کلائمکس وہ ہے جب ب تھک کر سو جاتی ہے اور خواب میں رنگوں، خوشبوؤں، پھولوں کی ایک خوبصورت دنیا میں پہنچ جاتی ہے۔ جہاں سکون ہے،من پسند کھانے ہیں طمانیت ہے۔ افسانے کا اختتام بہت بھرپور علامتی اور پیغام رساں ہے۔ اس میں بستر کے قریب تپائی پر رکھا قرآن،شوہر راشد کا گرتے قرآن کو سنبھالنا اور چومنا اور کا اس ڈنمارک والی فرضی لڑکی پر ہاتھ اٹھانا اور کا یہ کہنا کہ میری آنکھیں کھل گئیں بہت معنی خیز ہے اور یہی اس افسانے کا موضوع بھی ہے۔یہاں دو اشارے اور بھی ہیں۔ ایک یہ کہ کے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالوں کے جواب قرآن ہی سے مل سکتے ہیں اگر دل اور خلوص نیت سے پڑھا جائے دوسرا یہ کہ کو اس کے شوہر کی سپورٹ بھی مل گئ۔ کا یہ کہنا کہ میری آنکھیں کھل گئیں بہت معنی خیز ہے۔ ۔۔۔۔اب چند نکات تحریر کے حوالے سے اول تو یہ کہ ایسے موضوعات پر بہت سوچ سمجھ کر قلم اٹھا نا چاہیے۔ یہ ایسے سوالات ہیں جن پر نجی محفل میں کسی عالم دین کے ساتھ تو گفتگو کی جاسکتی ہے لیکن ان پر عام قاری کو بحث کی دعوت دینا گویا متنازع مباحث کو جنم دینا ہے بلکہ کسی کی دل آزاری کا احتمال بھی ہے۔ تحریر میں چند باتیں محل نظر بھی ہیں جیسے جنت میں مردوں کے مشاغل کو عیاشیاں اور بد مستیاں کہنا۔ حضرت ابرہیم ،بی بی حاجرہ ، حضرت عیسی کے اسمائے گرامی احترام کے کسی لاحقے کے بغیر صرف نام لکھ کر ذکر کرنا۔ وغیرہ۔