یہ قارئین کے برقی خطوط اور پیغامات ہیں جو انھوں نے ہمیں ارسال کیے۔ قارئین و سامعین اس پتے پر اپنی آراء، تجاویز اور تحریریں اس برقی پتے پر بھیج سکتے ہیں۔ آپ چاہیں تو اپنی تصویر بھی بھیج سکتے ہیں۔
Salihaat@almawridus.org
سنگاپور سے عظمیٰ
لکھتی ہیں کہ میں برسوں سے اکیبانہ کے آرٹ سے لطف اندوز ہو رہی ہوں۔ ان کی خوبصورتی اور ان کی انفرادیت کی تعریف ایک لمحے میں کیسے کروں؟ وہ اپنے اندر جیسے ایک وسیع، معنی خیز احساس کو لیے ہوئے ہو۔ ثمین کے اس مضمون نے مجھے اکیبانہ کو ایک بہت ہی مختلف نقطۂ نظر سے دیکھنے پر مجبور کیا ہے۔ اس آرٹ میں بہت گہرائی اور روحانیت ہے۔
جنت، انسانی خواہش اور دنیا کی نمائندگی کرنے والے عناصر کے درمیان توازن، بامعنی خالی پن (شاید اس چیز کی عکاسی کرنا جو ہمارے پاس اس دنیا میں نہیں ہے)، سب ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی میں ہیں اور ایک خوبصورت مکمل بناتے ہیں۔
ہماری زندگیوں کی طرح ہمارے ہر چیلنج، ہماری صلاحیتیں اور ہماری خواہشات کی انفرادیت… کیا یہ توازن اور خوبصورتی ہماری زندگی میں بھی پیدا کرنا ممکن ہے؟ قرآن میں ہے: “اور اللہ خوبصورتی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔” (البقرہ: 195)
اکیبانہ ایک الہام ہے، ایک امید ہے کہ ہاں! ایک خوبصورت توازن پیدا کرنا ممکن ہے۔ شاید ہماری نامکمل ذاتیں، ہماری آرزوئیں اور یہاں تک کہ جو ہم سوچتے ہیں کہ ہماری زندگی میں غائب ہے، ہم سب مل کر اس اللہ کی اسکیم میں ایک مقصد پورا کرتے ہیں۔
اکیبانہ کی دنیا کے بارے میں اتنی خوبصورت اور فکر انگیز بصیرت کے لیے ثمین کا مکرر شکریہ۔
بحرین سے نزہت فاطمہ
لکھتی ہیں: محترمہ نور الہدیٰ شاہ کا تحریر کردہ مضمون “انوکھی معافی” نہ صرف ایک اثر انگیز تحریر ہے بلکہ اس میں ہر فرد کے لیے بہترین رہنمائی ہے۔ مصنفہ نے اپنے مشکل ترین حالات میں اپنے رب کو ہی یاد کیا، نماز میں اپنے رب سے ہی فریاد کرتی رہیں اور اس فکر و جستجو میں رہیں کہ ان سے کہاں غلطی ہوئی ہے۔ مومن کی پہچان یہی ہے کہ کوئی تکلیف اور پریشانی میں کسی اور سے گلے شکوے کے بجائے یہ غور کرے کہ کہیں وہ کوئی گناہ تو نہیں کر بیٹھا ہے۔
مصنفہ کے اس مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ کس طرح انہوں نے حالات کی ستائی ہوئی ایک لڑکی اور اس کے دو بچوں کی مدد کی۔ ان بچوں کے اچھے مستقبل کی خواہش میں اس طرح ذہنی اور قلبی طور پر محو ہو گئیں کہ نیکی کرتے کرتے ایک نیک صفت خاتون کی انجانے میں دل آزاری کر بیٹھیں۔
اس واقعے سے ایک بہت اہم سبق یہ ملتا ہے کہ بے شک نیکی کریں، لوگوں کے کام آنا ہے، ضرورت مندوں کی مدد کرنی ہے، لیکن یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ ایک فرد کی مدد کرتے ہوئے کسی دوسرے فرد کی حق تلفی نہ ہو جائے، کسی دوسرے پر ظلم نہ ہو جائے۔ عموماً ہوتا یہ ہے کہ ہم نیکی کر رہے ہوتے ہیں اور نیکی کے زعم میں یہ بھول جاتے ہیں کہ ایک کے ساتھ نیکی کرتے ہوئے دوسرے کی حق تلفی ہو رہی ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس لیے کہ نیکی کرتے ہوئے لاشعوری طور پر انسان کے اندر تکبر کا جذبہ پنپنے لگتا ہے اور یہ تکبر کی بدترین قسم ہے۔ اس واقعے سے
یہ رہنمائی ملتی ہے کہ جب کسی معاملے میں دو فریق ہوں تو دونوں فریقین کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے، لحاظ رکھنا ہے، بہت زیادہ محتاط رہنا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ مصنفہ کو جیسے ہی اپنی غلطی کا ادراک ہوا، انہوں نے پھر اس کی تلافی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس مقام پر پڑھنے والے پر بھی رقت سی طاری ہو جاتی ہے کہ اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے وہ سب کچھ انہوں نے کر لیا جو ان کی بساط میں تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بھی ان کا مان رکھا، نہ ان کی عزت و وقار میں کمی آنے دی اور نہ ہی انہیں مایوس کیا۔ اور مصنفہ کو ان خاتون سے بھی محبت اور عزت ملی۔
مصنفہ نے توجہ دلائی ہے کہ حقوق العباد کا معاملہ کتنا اہم ہے، اور غلطی ہو جائے تو معافی مانگنا اور اس کے تمام تقاضوں کو پورا کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ یہ نہیں کہ حج کی روانگی کے موقع پر ایک معافی کا پیغام سوشل میڈیا پر لگا دیا یا شبِ برات کے موقع پر معافی کا پیغام پوسٹ کر دیا۔ شبِ برات کی تو ویسے بھی دینی لحاظ سے کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اپنے برصغیر میں لوگوں نے شبِ قدر کی اہمیت اور فضیلت کو شبِ برات سے منسلک کر دیا ہے۔
بہرکیف، مصنفہ کے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ رسمی معافی تلافی ایک خوش فہمی ہے۔ معافی یہ ہے کہ انسان سب سے پہلے اپنے رب سے معافی طلب کرے، پھر اس بندے سے معافی مانگے جس کی کسی بھی لحاظ سے دل آزاری یا حق تلفی کی گئی ہو۔ اگر کسی کا مال کھایا ہو تو اس کا ازالہ کرنا ہوگا۔ آخر سطور میں مصنفہ نے ایک بہت اہم نکتے کی طرف توجہ دلائی ہے جو موتیوں سے تولنے کے لائق ہے۔
یعنی ان کا یہ جملہ انسان کو ہلا دینے کے لیے کافی ہے کہ: “نیکی کرنے کا تکبر انسان کو سزا کا مستحق بناتا ہے۔” اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ سے یہ دعا ہے کہ وہ ہم سب کو ایسی تمام باتوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائیں جو انسان کو سزا کا مستحق بناتی ہیں۔
محمد کامران خالد، میلسی (پاکستان) سے
لکھتے ہیں: نعیم بلوچ صاحب! آپ کا مضمون بڑی توجہ سے پڑھا، دل چسپ اور ادبی پیرائے میں لکھا گیا۔ آپ نے ملکہ سبا کا کردار نہایت اچھے انداز سے پیش کیا۔ میں نے اس سے قبل ملکہ سبا سے متعلق اس پہلو سے کوئی تحریر نہیں پڑھی۔ بلقیس نام کی وجہِ تسمیہ سے متعلق بھی پہلی بار کوئی ایسی بات نظر سے گزری۔
عامر یزدانی، ایم فل، اسلامی افکار و تہذیب، ڈیلس (امریکا) سے لکھتے ہیں:
صالحات کے مطالعے کا موقع ملا، جو ایک نہایت خوبصورتی سے ترتیب دیا گیا مجلہ ہے، جو ہر سہ ماہی شائع ہوتا ہے اور
جس کی بنیاد قرآنی اقدار پر رکھی گئی ہے۔ اس مجلے کی ادارت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین نہایت سنجیدگی اور فکری شعور کے ساتھ انجام دیتی ہیں۔ یہ ایک قابلِ تحسین کاوش ہے جو متنوع موضوعات کو یکجا کرتی ہے۔ قرآنِ مجید کی تعلیمات پر مبنی فکری نکات ہوں یا معاشرتی مسائل اور ذرائع ابلاغ میں معاشرے کی عکاسی پر بصیرت افروز مباحث، ہر پہلو کو نہایت سلیقے سے پیش کیا جاتا ہے۔ صالحات اس بات کی مستحق ہے کہ اس کا دائرۂ اشاعت اور حلقۂ قارئین مزید وسیع ہو، کیونکہ اس کے ذریعے خواتین کو اپنے اپنے شعبوں میں بامقصد کردار ادا کرنے اور فکری و عملی سطح پر مثبت حصہ ڈالنے کی تحریک ملتی ہے۔
میں دل کی گہرائیوں سے دعا گو ہوں کہ یہ مجلہ کامیابی کی نئی منزلیں طے کرے اور اس کے جملہ منصوبے بفضلِ خداوندی کامیاب ہوں۔
شمس سلیمان، پاکستان سے لکھتے ہیں:
یہ میگزین بہت پروڈکٹیو ہے۔ اللہ آپ لوگوں کو اجر عطا فرمائے۔ بہت متاثر کن کام ہے۔ میں انڈیا اور پاکستان کے بیشتر اداروں کے رسالے پڑھتا ہوں، لیکن کہیں بھی کوئی ایسا نہیں ہے جو خاص طور پر خواتین کے لیے وقف ہو۔
ثوبیہ نورین، حسن ابدال سے لکھتی ہیں:
زکوٰۃ کا مضمون مختصر مگر بہت جامع ہے۔ مختلف نقطۂ نظر کو اکٹھا کر کے خلاصہ بھی دے دیا اور اپنی آرا بھی۔ یہ اسلوب اچھا ہے کہ عام قارئین کو ٹھوس نصوص یا مختلف تعبیرات کے ساتھ ساتھ موجودہ مسائل کا حل بھی مل سکے۔ آج کے دور میں جب علمی شعور بہت پست ہو چکا ہے، وہاں سادہ اور عام فہم تحریر کی اشد ضرورت ہے۔
کراچی سے ثوبیہ شاہد زبیری لکھتی ہیں:
“کوڈنگ اور ڈیجیٹل اسکلز کے ذریعے امکانات کو کھولیے” آپ کا یہ آرٹیکل بہت ہی شاندار ہے۔ میں بھی یہ سمجھتی ہوں کہ آج کے دور میں ہر لڑکی اور ہر عورت کو کوئی نہ کوئی ڈیجیٹل اسکل ضرور آنی چاہیے، اور یہ تو اب سوشل میڈیا اور
آن لائن کورسز کی وجہ سے بہت آسان ہو گیا ہے کہ ہم اپنے موجودہ اسکلز کو انہانس کریں۔ آج ہر عورت اپنے آپ کو بااختیار بنا سکتی ہے۔ بہت ضروری ہے کہ یہ آرٹیکل سب لڑکیاں پڑھیں اور اس بات کو سمجھیں کہ آج یہ بہت اہم ہے کہ وہ بچوں اور گھر داری کے ساتھ ساتھ اپنے اسکلز کو بڑھائیں اور ایک بہتر زندگی گزاریں۔