بعض محققین1 کا خیال ہے کہ قدیم تاریخی ادوار میں عرب میں پانی اور سبزے کی قلت نہ تھی بلکہ برفانی ادوار کے بعد (Post-Glacial Times) رفتہ رفتہ یہاں کی زمین سے نمی اُڑتی گئی اور خشک صحرا پھیلتے گئے۔2 بعض دوسرے محققین نے اس نظریے کو رد بھی کیا ہے۔3 اُن کی رائے میں جزیرہ نما کی آب و ہوا میں کوئی معتد بہ تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ ہاں انتظامی بے اعتنائی کے باعث صحرا کی وسعت میں اضافہ ضرور ہوا ہے۔ دونوں گروہوں کے دلائل پر زور اور قابلِ غور ہیں۔4 البتہ 1923ء میں جرمن مستشرق Bernard Moritz کی نباتی و حیوانی نوعیت کی تحقیق نے اول الذکر نظریے کو تقویت پہنچائی۔ اُس کے تحقیقی نتائج کے مطابق عرب کی نباتی و حیوانی زندگی دور بہ دور واضح انحطاط کا شکار ہوئی ہے جس کا سبب خشکی میں اضافہ اور قابل کاشت زمینوں تک صحرا کا پھیلتے چلے جانا ہے۔5 عرب کی نباتی و حیوانی زندگی کا جدید علمی سطح پر مطالعہ ہنوز تشنۂ تکمیل ہے۔ قدیم عربی ادب میں پودوں اور جانوروں کی ایک بہت طویل فہرست موجود ہے6 جس کے تفصیلی جائزے کے لیے الگ تحقیقی مطالعہ درکار ہے۔ بہت سے پودوں اور حیوانوں کے ساتھ مخصوص ادبی روایات و تلازمات بھی وابستہ ہیں جن کی طرف چند سرسری اشارے آیندہ صفحات میں ملیں گے۔
عرب کے نباتات و حیوانات کی بہت سی انواع اب معدوم ہو چکی ہیں، مثلاً : حیوانوں میں شتر مرغ (نعام: Ostrich) کا ذکر قدیم ادب میں عام ہے اور اسے سبک روی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ 1930ء تک یہ خاصی تعداد میں موجود تھا لیکن اس کے بعد اس کے پروں کے حصول کے لیے بڑے پیمانے پر اس کا شکار کیا جانے لگا حتیٰ کہ 1944ء کے لگ بھگ اس کی نسل ختم ہو گئی۔
نیل گائیں (بقر الوحش، مہا : Oryx)، جو قدیم قصائد کے حصۂ تشبیب کی ایک مستقل روایت ہیں اور جن کے غول محبوب کے اُجڑے ہوے دیار میں پھرتے دکھائے جاتے ہیں، شکار کے نتیجے میں شمالی صحرا یعنی نفود میں نا پید ہوگئی تھیں۔ الربع الخالی کے بعض حصوں میں البتہ کہیں کہیں ان کی نسل باقی رہ گئی تھی۔ 1961ء میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر ایک فنڈ مختص کیا گیا جس کے تحت عرب سے آخری تیسں نیل گایوں میں سے کچھ جوڑے اری زونا (Arizona) کے Zoo Phoenix بھجوا دیے گئے جہاں اُن کی نسل میں افزونی ہوئی اور اُنھیں دوبارہ دنیا میں پھیلانے کی مساعی کا آغاز ہوا۔7 عرب ممالک میں بھی ان کے تحفظ و افزایش کی مہم چلائی گئی چنانچہ 1979ء میں سلطان قابوس کے حکم سے عمان میں اس کام کے لیے ’’مشروع المہا العربیۃ‘‘ (The Arabian Oryx Project) کا منصوبہ بنایا گیا جو نیل گائے کے علاوہ بعض اور معدوم ہوتے ہوئے حیوانات کا بھی تحفظ کر رہا ہے۔ مثال کے طور پر عربی تیندوا (Arabian Leopard )۔ اسی طرح 1986ء میں سعودی عرب میں ’’الہیئۃ الوطنیۃ لحمایۃ الحیاۃ الفطریۃ‘‘(NCWCD- National Commission for Wild Life Conservation and Development) کا قیام عمل میں لایا گیا جو مسلسل اپنے منصوبوں پر عمل پیرا ہے۔8
مختلف نسلوں کے ہرن (ظبی، رئم وغیرہ )، جو غول در غول موجود تھے، رائفل کی آمد کے بعد سے تیزی کے ساتھ گھٹے ہیں۔
ببر شیر (اسد) بھی اب معدوم ہے۔ البتہ چیتے (نمر: Panther)، تیندوے (فہد: Leopard) کسی حد تک موجود ہیں۔ پہاڑی علاقوں میں جنگلی بلاؤ (Wildcat) بھی پایا جاتا ہے۔
پہاڑی بکرے (وعل: Ibex)، چرخ یا لگڑ بگڑ (ضبع، اُمِّ عامر: Hyena)، بھیڑیا ( ذئب)، لومڑی ( ثعلب)، بندر ( قرد )، گیدڑ ( ابنِ آویٰ ) ہنوز موجود ہیں۔
ظرِبان9 (Polecat/ Skunk) وبر10 (Cony or Hyrax)، خارمُوش (قُنفُذ: Hedgehog)، خرگوش (ارنب)، گوہ (ضب) اور جنگلی چوہوں میں یربوع اور جُراذ بھی بدستور موجود ہیں۔
پرندوں میں عقاب، باز، کوے، چڑیاں، اُلو، گدھ، چنڈول یا چکاوک (قُنبرة: Lark ) فاختہ، کبوتر، چکور، بٹیر، بلبل، ابابیل اور بھٹ تیتر ( قطاة : Sand-grouse )، ہدہد (جس کا ذکر قدیم عربی ادب میں عام ہے) قابل ذکر ہیں۔ بہت سے مہاجر پرندوں کی آمد و رفت بھی جاری رہتی ہے۔
حشرات میں مختلف قسم کے سانپ، بچھو، کنکھجورے، مکڑیاں، چیونٹیاں، شہد کی مکھیاں اور ٹڈی دل اہم ہیں۔ ٹڈیاں صحرانشینوں کے لیے پسندیدہ غذا کا درجہ رکھتی ہیں۔
پالتو جانوروں میں اونٹ، گھوڑا، بھیڑ بکریاں، خچر، گدھا، بلی، کتا (خصوصاً برق رفتار شکاری کتا ’’السّلوقی‘‘) اور گائے ہے جس کا قد عرب کی آب و ہوا میں پست رہ گیا ہے۔
ان جانوروں میں اونٹ کو عرب معاشرے میں ہزاروں سال سے مرکزی اہمیت حاصل رہی ہے جو صرف موجودہ دور کے مشینی وسائل کے مقابلے میں آکر ختم ہوئی ہے مگر آج بھی اندرونِ صحرا کا سفر اونٹ کے بغیر ممکن نہیں تاہم بدوی معیشت میں انقلاب کے باعث اب اونٹ کے مقابلے میں بھیڑ بکریاں زیادہ منافع بخش ہو گئی ہیں چنانچہ ان کی تعداد میں اضافہ اور اونٹوں کی تعداد میں کمی ہوتی چلی جارہی ہے ورنہ ماضیِ قدیم ہی نہیں ماضیِ قریب تک بھی بدوؤں کی زندگی میں اونٹ کی اہمیت کا کوئی اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ وہ اس پر سواری کرتے، خیمے لادتے، دودھ پیتے، گوشت کھاتے، اونٹ کی کھال اور اُون سے خیمے اور لباس بناتے اور مختلف کام نکالتے چلے آئے ہیں۔ اس کا فضلہ ایندھن کا کام دیتا رہا ہے۔ وہ لباس اور دیگر ضروریات خریدنے کے لیے اونٹ کو فروخت کر کے رقم حاصل کرتے رہے ہیں بلکہ ایک زمانے تک آپس کے لین دین میں خود اونٹ سکۂ رائج الوقت کا کام دیتا تھا۔ شدید پیاس اور پانی کی نایابی کے وقت بدو اونٹ کو ذبح کر کے اُس کی اوجھڑی سے پانی کا ذخیرہ نکال لیتا تھا۔ اسی سبب سے اونٹ کو ’’بدو کا ہمزاد‘‘ (The alter ego of the Bedouin) قرار دیا گیا ہے۔11 اسی طرح Sprenger نے بدو کو ’’camel The parasite of the ‘‘ (اونٹ پر پلنے والا کیڑا) قرار دیا ہے۔12 یہی وجہ ہے کہ اونٹ کے لیے عربی میں سینکڑوں نام ہیں اور قدیم شعری شہپارے اُس کے ذکر سے بھرے پڑے ہیں۔13 اونٹ کی مختلف نسلیں ہیں جن میں بہترین وہ مانی جاتی ہیں جو زیادہ عرصے تک پانی کے بغیر گزارا کر سکیں اور اچھی رفتار پر روزانہ طویل مسافتیں طے کر لیں۔ اچھی نسل کے اونٹ گرمیوں میں تین چار دن پانی پیے بغیر روزانہ پچیس میل اوسط سفر کر لیتے ہیں۔ موسم بہار میں، جب گھاس چارہ دستیاب ہو، وہ بعض اوقات مکمل ایک مہینہ پانی کے بغیر گزار سکتے ہیں اور پانی میسر آجانے پر تیسں گیلن تک پانی بیک وقت پی کر آیندہ کے لیے ذخیرہ کر سکتے ہیں۔14 اُونٹ کے انھی غیر معمولی اوصاف اور اسی سخت کوشی کے باعث اُسے ’’سفینۃ البرّ‘‘ The Ship of‘‘ ’’The Desert یعنی ’’سفینۂ صحرا‘‘ کا لقب ملا ہے۔15
اونٹ کے بعد جانوروں میں گھوڑا16 اہم رہا ہے۔ عربی ادب میں بھی اس کا ذکر عام ہے۔ عربی النسل گھوڑا اگرچہ دنیا بھر میں معروف ہے لیکن اپنی اصل کے اعتبار سے یہ عرب کا جانور نہیں بلکہ بہت قدیم زمانوں میں باہر سے یہاں پہنچا۔ ہاں یہاں آکر چونکہ اُس کا خون ملاوٹ سے پاک رہا اس لیے اُس کی نسل زیادہ اصیل رہی۔ چونکہ گھوڑا پیاس جلد محسوس کرتا ہے اور اچھے درجے کا چارہ چاہتا ہے اس لیے عربوں کے ہاں گھوڑا پالنا ہمیشہ ایک مہنگا شوق رہا ہے۔ بدو لوگ خود صرف اونٹ کے دودھ سے پیاس بجھا لیتے اور پانی بچا کر گھوڑے کو پلا دیتے تھے اور بعض اوقات تو گھوڑے کی پیاس کو خود اپنے بچوں کی پیاس پر بھی ترجیح دیتے تھے۔ گھوڑے کی پرورش کے لیے اس قدر تکلیف اُٹھانے کا باعث گھوڑے کی جنگی اہمیت رہی ہے۔ قبیلوں کی باہمی ماردھاڑ میں جارحیت اور مدافعت دونوں کے لیے گھوڑا اونٹ سے زیادہ کارآمد ہوتا ہے۔ گھوڑے کی دوسری اہمیت تجارتی نوعیت کی تھی۔ چنانچہ عربی گھوڑے ہندوستان، مصر اور مغربی ممالک کو برآمد کیے جاتے تھے۔ اب یہ دونوں حیثیتیں ختم ہو جانے کے باعث عربی گھوڑا معدوم ہوتا جارہا ہے۔ ایک طرف جدید اسلحے نے اس کی جنگی اہمیت پر قلم پھیر دیا اور دوسری طرف رفتہ رفتہ بیرونِ ملک بھی اس کی پہلی سی مانگ نہیں رہی۔ علاوہ ازیں پٹرول کی دریافت نے عربوں کی معیشت کا نقشہ ہی سرے سے بدل کر رکھ دیا چنانچہ صحرانشینوں میں گھوڑا پالنے کا رواج قریب قریب ختم ہو گیا اور صرف شاہی خاندان یا امیر زادوں کے ایک ذاتی شوق کی حیثیت میں باقی رہ گیا اور اب اغلب ہے کہ موٹر کاروں کی فراوانی کے سبب یہ بھی دم تو ڑ رہاہوگا۔
عرب کی نباتی زندگی کا خیال کیا جائے تو عموماً صرف کھجور کا تصور ذہن میں آتا ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ اپنی ہمہ گیر افادیت کی بنا پر کھجور ایک طرف اور عرب کا باقی سارا نباتی ذخیرہ ایک طرف رکھا جاسکتا ہے۔ تپتے ہوئے ریگزاروں کے تناظر میں ایک خوشنما تضاد پیش کرتے ہوئے نخلستان سچ مچ جنتِ ارضی کے نمونے ہیں۔ اہل حضر کے لیے کھجور وہی حیثیت رکھتی ہے جو بدویوں میں اونٹ کو حاصل رہی ہے۔ کھجور غذائیت سے بھر پور ایک بنا بنا یا کھاجا ہے جو دودھ کے ہمراہ ہزاروں سال تک عربوں کی مستقل روز مرہ غذا میں شامل رہا ہے۔ اُس کو سکھا لینے کے بعد تا دیر استعمال کے قابل بنایا جاسکتا ہے۔ ’’نبیذ‘‘ اسی سے تیار کی جاتی ہے۔ اس کی گٹھلیاں کوٹ کر اونٹوں کو کھلائی جاتی ہیں۔ اس کے تنے مکانات کی تعمیر میں کام آتے ہیں اور اگرچہ یہ لکڑی عمدہ نہیں ہوتی تاہم چھوٹا موٹا فرنیچر بنانے کے بھی کام آسکتی ہے۔ اس کی چھال اور شاخیں ایندھن مہیا کرنے کے علاوہ چھت ڈالنے، ٹوکریاں اور چٹائیاں بُننے اور دیگر ہزاروں مقاصد کے لیے کام آتی رہی ہیں۔ چونکہ کھجور کے درخت کو شدید گرمی راس ہے اور خراب اور کھاری پانی بھی اس کی نشو و نما کے لیے کافی ہے اس لیے یہ عرب کے صحرائی ماحول میں اونٹ کی طرح ایک کم خرچ بالا نشین قسم کا عطیۂ خداوندی ہے۔17 اہل حضر کے باغوں میں کھجوروں کی قطاروں کو وہی مالی اہمیت حاصل رہی ہے جو اہل بدو کے ہاں اونٹوں کے گلّوں کو حاصل تھی۔ یہی وجہ ہے کہ عربی زبان میں کھجور کے لیے بھی مترادفات کی کچھ ویسی ہی کثرت ہے جیسی اونٹ کے لیے ہے۔ کھجور کو مختلف مرحلوں پر مختلف نام دیے گئے ہیں، مثلاً : کچی کھجور ’’لون‘‘ ہے، اَدھ کچری ’’بُسر‘‘، پکی ہوئی تازہ کھجور ’’رُ طب‘‘ ہے اور خشک ہو جانے پر ’’تمر‘‘۔ کھجور کی ان گنت اقسام ہیں۔ صرف مدینہ منورہ میں ایک سو چالیس کے قریب اقسام شمار کی گئی ہیں۔ کھجور آج بھی زمزم کے ساتھ تحفۂ حرم شمار ہوتی ہے۔ کھجور کی یہ اہمیت اپنی جگہ مسلم لیکن عرب کی نباتی زندگی صرف کھجور تک محدود نہیں۔ درختوں میں جھاؤ کی دو قسمیں ’’غضا‘‘ اور ’’أثل‘‘ (Tamarisk) بہت معروف ہیں۔ ’’أثل‘‘ کو بستیوں اور کھیتوں کے گرد قطاروں میں لگا کر باڑ بنادی جاتی ہے جو ریتلی آندھیوں کو روکتی ہے۔ ’’غضا‘‘ کی لکڑی بڑی سخت ہوتی ہے اور اس کا کوئلہ دیر تک جلتا رہتا ہے اور بجھنے میں نہیں آتا چنانچہ ’’جمر الغضا‘‘ (غضا کے انگارے) کی ترکیب عربی ادب میں اکثر ملتی ہے۔18 ’’طلح‘‘، یعنی ببول یا کیکر کا درخت بھی عام ہے جس سے گوند نکلتا ہے۔19 ’’خروب‘‘ یا ’’خرنوب‘‘ (Carob) بھی قابل ذکر ہے۔ علاوہ ازیں ’’سدر‘‘، یعنی بیری بھی عام ہے۔ عرعر (Juniper) کا ذکر گزر چکا ہے۔20 ظفار اور بعض دوسرے مقامات پر کھجوروں کی بجائے یا اُن کے پہلو بہ پہلو ناریل کے درخت بھی پائے جاتے ہیں۔ بعض مقامات پر کھجور کی جگہ ’’مُقل‘‘ یا ’’دوم‘‘ (Gingerbread-tree) نے لے لی ہے21 جو بڑی حد تک کھجور کا ہم رشتہ ہے لیکن اس میں کھجور کی طرح ایک تنا نہیں ہوتا بلکہ متعدد شاخوں والا تنا ہوتا ہے۔ ان کے علاوہ بھی قدیم عربی ادب میں سینکڑوں درختوں اور پودوں کے نام ملتے ہیں۔ کچھ عرصے سے نیم کے درخت نے عرب میں خوب جڑ پکڑی ہے اور اسی نام سے معروف ہے۔ میدان عرفات میں بھی حاجیوں کی سہولت کے لیے قطار اندر قطار نیم لگا دیے گئے ہیں۔ سرزمین عرب پھولوں اور پھلوں سے بھی خالی نہیں جن میں گلاب، چنبیلی، ناز بو، پودینہ (نعناع)، صحرائی پودینہ (صعتر/ زعتر: Thyme)، خزامیٰ (Lavender) اور بعض دوسرے خوشبو دار پھول شامل ہیں۔22 اُقحوان (گلِ بابونہ Chamomile) سے دندانِ آبدار کو تشبیہ دی جاتی ہے۔ پھلوں میں انگور، انجیر، بادام، سنگترے، لیموں، خوبانی، آڑو، انار، سیب، تربوز، خربوزے، آلوچے، بیر، عنّاب،23 املی، بہی، اور کہیں کہیں آم اور کیلے بھی پائے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ پودے باہر سے درآمد کیے گئے ہیں جن میں سے خاصی تعداد غالباً قدیم نبطیوں اور یہودیوں نے شمالی علاقوں سے لاکر یہاں لگائی۔ پھل عموماً کھجوروں کے باغ میں کھجوروں کی قطاروں کے درمیان بچی ہوئی زمین میں بوئے جاتے ہیں۔
ترکاریوں میں خاص خاص مولی، کدو، کھیرا، پیاز اور گندنا ( کرّاث – Leek) ہیں۔
گیہوں، جو، مکئی، باجرہ، تمباکو، چاول اور مختصر سے پیمانے پر کپاس بھی کہیں کہیں کاشت کی جاتی ہے۔ چارے کے لیے برسیم کی کاشت بھی عام ہے۔
صحرائی نباتات میں ’’سنا‘‘، گھیکوار (Aloe)، ’’سمح‘‘، جس کے دانوں سے دلیہ تیار کیا جاتا ہے، اور ’’کمأۃ‘‘ ( سانپ چھتری : Truffle) زیادہ معروف ہیں۔ ”کمأۃ‘‘ بدوؤں کی خوراک میں شامل ہے اور اس کے کئی نام ہیں۔ درخت ’’اراک‘‘ ( پیلو) بھی قابل ذکر ہے جس کی ٹہنیاں مسواکوں کا کام دیتی ہیں اور اونٹوں کے لیے نہایت عمدہ چارہ ہیں۔24 اسی طرح ناگ پھنی (’’صبّیر‘‘ یا ’’ صبّار‘‘ : Cactus) بھی اونٹوں کا اچھا چارہ ہے حالانکہ یہ تلخ اور خار دار ہوتا ہے۔ اونٹ کی ایسی ہی سخت جانیاں اُسے صحرا کا خاص جانور بناتی ہیں۔ ناگ پھنی سے مشابہ تھوہڑ (Cactiform Euphorbia) بھی صحرا میں پایا جاتا ہے۔
حضر موت کے قریب ’’مہرۃ‘‘ کے علاقے میں قدیم زمانے سے لے کر اب تک لوبان بدستور ملتا ہے۔ لوبان کے ساتھ ساتھ ’’مُر “ (Myrrh) اور بلسم یا بام (Balsam or Balm) بھی قابل ذکر ہیں۔
رنگ دینے والے پودوں میں ’’ورس‘‘، مہندی (حناء ) اور نیل (Indigo) ہیں۔
ان سب کے علاوہ ’’قہوۃ‘‘یا ’’کافی‘‘ (Coffee) خاص طور پر قابل ذکر ہے جو یمن کی برآمدات میں سر فہرست ہے۔ قدیم تاریخی و ادبی مصادر میں اس کا ذکر موجود نہیں۔25 قیاس ہے کہ یہ پودا چودھویں صدی عیسوی میں حبشہ سے جنوبی عرب لایا گیا۔
پہلی مرتبہ اس کا ذکر سولھویں صدی کی تحریروں میں ملتا ہے۔ بہر حال آج عرب کی معاشرتی زندگی میں، جس میں بدو و حضر یکساں طور پر شامل ہیں، ’’قہوے‘‘ کو روز مرہ کے سامان تواضع میں اہم ترین حیثیت حاصل ہے۔ خورونوش کی محفل اس کے بغیر مکمل نہیں ہوتی اور قہوے کی تعریف میں صحرا نشینوں میں اُسی طرح کے اشعار رائج پائے گئے ہیں جیسے جاہلی ادب میں شراب کی تعریف میں نظم کیے جاتے تھے۔ اسی حیثیت کو مد نظر رکھتے ہوئے حِتّی نے اسے Wine of‘‘ ’’Islam کا نام دیا ہے۔
تفصیلات کے لیے دیکھیے :
(1) Enc. Brit., 2:175-76, Arabia; Fauna, Flora.
(2) Enc. Isl., 1:540-42, DJazirat-al-Arab, Flora & Fauna.
(3) Hitti, 18-22
(4) Geo. Fact., 55-88,103-106
[باقی]
ڈاکٹر خورشید رضوی
اب سوچتا ہوں اِس جسدِ خاک میں تھا کون
مٹی میں شب و روز، مرے ساتھ ملا کون
تازیست مرے واسطے دروازہ نہ کھولا
دروازے کے پیچھے مگر استادہ رہا کون
بجتی ہوئی مٹی سے قدم میں نے نکالا
اور کون کی دہلیز پہ اک شور اٹھا، کون
میں وسعتِ افلاک میں ہوں کس سے گریزاں
پیچھا مرا کرتا ہوا آئے گا بھلا کون
کرنا تھا اُسے یاد کہ لی درد نے کروٹ
میں کس کو جگاتا تھا یہاں، جاگ اٹھا کون
مجھ سے جو یہ کہتے ہو، مٹا دے گا تجھے عشق
کچھ یہ بھی تو فرما دیا ہوتا کہ رہا کون
خیال و خامہ
- ۔ مثلاً اطالوی محقق Prince Leone Caetani اور جرمن عالم Hugo Winckler ۔(دیکھیے: Geog. Fact, 24-30)
- ۔ چنانچہ عرب سے بیرون عرب مختلف سامی ہجرتوں کا سبب Winckler کے خیال میں یہی جغرافیائی تبدیلی تھی۔ یادر ہے کہ Winckler عرب کو سامیوں کا اصلی وطن قرار دیتا ہے۔
- ۔ مثلاً Alois Musil اور Pere Henri Lammens۔(دیکھیے : 28-27 ,Geog. Fact)
- ۔ ibid, 24-30
- ۔ ibid, 28-29
- ۔ مختلف پودوں اور جانوروں کے کئی کئی ناموں کا سلسلہ بھی دراز ہے۔ جانوروں کو ناموں کے علاوہ کنیتوں سے بھی یاد کیا جاتا ہے، مثلاً: ابو فراس یا ابوالحارث: شیر، ابو جعدۃ: بھیڑیا، ابوالحصین : لومڑی، ابو اليقظان: مرغ، اُمّ عامر: لگڑ بگڑ، اُم اَربع و اربعین: کنکھجورا، ابن آویٰ: گیدڑ، ابن عرس: نیولا، ابن بقیع: کتا، ابن دأیہ: کوا وغیرہ۔
- ۔ ’’Back from the Dead‘‘Time, Feb. 23, 1981,
- ۔ یہ معلومات جولائی 2003ء کے دوران انٹرنیٹ پر ’’Fauna & Flora of Arabia ‘‘ کے تحت بعض ویب سائٹوں سے لی گئی ہیں، مثلاً: 1) The Saudi Arabian Information Resource2) The Arbian Oryx Project 3) The Arabian Oryx Links
- ۔ بلی کی جسامت کا ایک گوشت خور جانور جس کا رنگ سیاہی مائل خاکستری ہوتا ہے اور جسم سے بڑی ناگوار بُو اٹھتی ہے۔
- ۔ سبزہ کھانے والا، بلی کے برابر تھوتھنی دار جانور جس کا گوشت لذیذ اور پوستین قیمتی ہوتی ہے۔
- ۔ 60-59,Geog. Fact بحوالہ Pere Lammens
- ۔ Hitti, 22
- ۔ Karl Brockelmann نے قدیم عربوں کی زندگی میں اونٹ کی اہمیت پر روشنی ڈالنے کے بعد کہا ہے کہ اونٹ عربوں کی فنی حس کو اُسی طرح بیدار کرتا تھا جس طرح ویدوں کے زمانے میں ہندوستان کے شعری تخیل کو ’’ گائے‘‘ نے برانگیختہ کیا۔ یہاں تک کہا جا سکتا ہے کہ رگ وید کی شاعری میں ’’بیل‘‘ کی روح جاری وساری ہے۔ (بروکلمان،1/56)
- ۔ Enc. Isl., 1/872; Badw۔ چنانچہ قدیم بدوی معاشرے میں پانی مل جانے پر اونٹوں کو زیادہ سے زیادہ پانی پلانے کے لیے یہ نفسیاتی طریقہ استعمال کیا جاتا تھا کہ دو دو اونٹوں کو پہلو بہ پہلو گھاٹ پر کھڑا کرتے تھے تا کہ ایک دوسرے کو پیتا دیکھ کر زیادہ سے زیادہ پانی پی لیں۔ اس پہلی مرتبہ کی سیرابی کو ’’نہل‘‘ کہتے تھے جس سے ’’منہل‘‘ بمعنی ’’گھاٹ‘‘ کا لفظ نکلا ہے۔ بعد ازاں جب آخری دو اونٹ پینا شروع کرتے تھے تو اولین دو اونٹوں میں سے ایک کو لا کر اُن کے درمیان کھڑا کر دیتے تھے۔ جب وہ اپنے دونوں طرف ایک ایک اونٹ کو پانی پیتے دیکھتا تو پھر سے پانی پینا شروع کر دیتا۔ اس دوسری مرتبہ کی سیرابی کو ’’علل‘‘ کہتے تھے۔ چنانچہ ’’نہل وعلّ‘‘ ” ایک بار پیا اور پھر دوبارہ پیا‘‘ ایک محاورے کی صورت اختیار کر گیا جس سے مراد ’’جی بھر لینا، خوب سیراب ہو جانا‘‘ ہے۔ مثلاً دیکھیے : الحماسۃ، باب المراثی، نظم 7:نهل الزمان وعلّ غير مصرّدمن آل عتّاب وآل الأسود’’زمانے نے آل عتاب اور آل اسود کا خون جی بھر کر پیا، بغیر اس کے کہ اس کی سیرابی میں کچھ کسر رکھی جاتی۔‘‘
- ۔ کشتیوں سے اونٹوں کی مشابہت کا ایک مبہم سا تصور پہلے پہل جاہلی دور میں طرفہ کے معلقے میں نظر آتا ہے (شعر 3۔ كأن حدوج المالكية۔ الخ)۔ قرآن پاک کی آیت ’وَ عَلَیۡہَا وَ عَلَی الۡفُلۡکِ تُحۡمَلُوۡنَ‘ (23/22) میں یہ موازنہ زیادہ وضاحت سے سامنے آتا ہے۔ گویا جانوروں کو خشکی میں وہی حیثیت دی گئی ہے جو پانی میں کشتیوں کو۔ قدیم ترین ماخذ، جس میں اونٹ کے لیے باقاعدہ ”سفینۂ صحرا‘‘ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، غالباً ذو الرمۃ ( ف 117 ھ/ 735ء) کا یہ مصرع ہے:سفينة برّ تحت خدّى زمامها(دیوان ذی الرمۃ، 638)
- ۔ Geog. Fact, 64-68
- ۔ پروفیسر حِتی کا قیاس ہے کہ کھجور سرزمین عرب کا اصل پودا نہیں بلکہ قدیم زمانے میں عراق سے یہاں لایا گیا۔ (20 Hitti, )
- ۔ ’’سيدُ الغَضا‘‘ یا ’’ذئبُ الغضا‘‘ (جھاؤ کا بھیڑیا) کی ترکیب بھی مستعمل ہے کیونکہ غضا کے جھنڈ میں رہنے والا بھیڑیا چالاک اور خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ (دیکھیے : معلقہ طرفہ، شعر 59)
- ۔ گوند ببول کا انگریزی نام ’’Gum-Arabic‘‘ عرب ہی سے منسوب ہے۔
- ۔ دیکھیے : ص 24 ح 1۔
- ۔ Enc. Isl., 1/540
- ۔ عربی ادب میں ایک خوشبودار گھاس ’’عرار‘‘ کا ذکر ملتا ہے چنانچہ الحماسۃ، باب النسیب نظم 13 کا یہ شعر ضرب المثل ہو گیا ہے:تمتّع من شمیم عرار نجدفما بعد العشية من عرار’’عرار نجد کی خوشبو سے جس قدر لطف اندوز ہو سکے ہو لے کہ آج شام کے بعد عرار کا کہیں نام نشان نہ مل سکے گا۔“
- ۔ امرؤ القیس نے عقاب کے شکار کیے ہوئے پرندوں کے تر و تازہ دلوں کو عناب سے تشبیہہ دی ہے:كأنّ قلوب الطير رطبًا ويابسًالدى وكرها العنّاب والحشف البالي’’اس کے گھونسلے کے آس پاس پرندوں کے تروتازہ اور سوکھے ہوئے دل یوں پڑے ہیں جیسے وہ (علی الترتیب) عناب اور سوکھی سڑی کھجوریں ہیں۔‘‘
- ۔ چنانچہ ’’اراک‘‘ پر پلے ہوئے اونٹوں کو ’’الاوارک‘‘ کہا جاتا ہے۔ (دیکھیے : الحماسۃ۔ باب الحماسۃ۔ نظم 13)أهزّ به في ندوة الحي عطفهكما هزّ عطفى بالهجان الأوارك’’میں قبیلے کی بھری بزم میں مدح کر کے اُس کے کاندھے کو جنبش دوں گا (یعنی اُسے کیفیتِ سرور و اہتزاز میں لاؤں گا ) جس طرح اُس نے اراک پر پلے ہوئے اعلیٰ نسل کے اونٹ عطا کر کے میرے کاندھے کو جنبش دی۔‘‘
- ۔ لفظ ’’قہوة‘‘ قدیم عربی ادب میں ملتا ہے لیکن ’’کافی‘‘ کے معنوں میں نہیں بلکہ ’’شراب‘‘ کے معنوں میں۔