نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت اور آپ کے ساتھ ہمارے تعلق کی نوعیت سے متعلق ہمارے اندر جو گم راہیاں آج پھیلی ہوئی ہیں ان میں سے ہم نے یہ چند بڑی بڑی گم راہیوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر معرفت ِ الٰہی کے حصول کا واحد راستہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہی ہے تو ان گم راہیوں کی موجودگی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہ تو ہمارا صحیح ربط ہی قائم ہو سکتا ہے اور نہ وہ چیز ہی ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کر سکتے ہیں جس کے حاصل ہونے کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم واحد ذریعہ ہیں۔ اس وجہ سے ضروری ہے کہ جن بنیادوں پر قرآن نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمیں اپنا تعلق استوار کرنے کی ہدایت کی ہے ہم وہ بنیادیں واضح کر دیں تاکہ جو شخص خدا تک پہنچنا چاہے وہ خدا تک پہنچنے کے واحد ذریعے کے ساتھ اپنی ٹھیک ٹھیک وابستگی قائم کر سکے۔
ہمارے نزدیک قرآن نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمارے تعلق کو مندرجہ ذیل چار بنیادوں پر قائم کیا ہے۔
ایمان
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمارے تعلق کی پہلی بنیاد ایمان ہے۔ ایمان کا مطلب صرف یہ مان لینا ہی نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری رسول ہیں، بلکہ اس ایمان کی اصل روح آپ کی ذات پر سچا اور پکا اعتماد ہے۔ اس بات پر اعتماد کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صادق اور امین ہیں۔ اس بات پر اعتماد کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر قول اور ہر فعل کے اندر گہری حکمت ہے اگرچہ وہ حکمت ہماری سمجھ میں نہ آ رہی ہو۔ اس بات پر اعتماد کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو راہ دکھائی ہے اگرچہ بظاہر اس میں کتنے ہی خطرات نظر آ رہے ہوں، لیکن نجات اور فلاح کی حقیقی راہ وہی ہے۔ اس بات پر اعتماد کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے جو اصول سکھائے ہیں وہ وقتی اور عارضی نہیں ہیں، بلکہ وہ دائمی اور ابدی ہیں۔ اور انسان ان سے کبھی بھی مستغنی نہیں ہو سکے گا اور سب سے بڑھ کر اس بات پر اعتماد کہ خدا کی معرفت کا جو طریقہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا اور سکھایا ہے، اس سے بڑھ کر نہ کوئی اور طریقہ ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔
جب تک آدمی کے اندر یہ اعتماد نہ پیدا ہو، مجرد اس تصدیق سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، آدمی ایمان کی حقیقی لذت سے آشنا نہیں ہوتا، اور نہ یہ ایمان اس معرفت کے نقطۂ نظر سے کچھ کارآمد ہوتا ہے جو اس ایمان کی حقیقی غایت ہے۔ اسی وجہ سے حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ:
ذاق طعم الایمان من رضی باللّٰہ ربا وبالاسلام دینا وبمحمد رسولاً.
(مسلم)
”ایمان کا مزا اس نے چکھا جو اللہ کے اپنا رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اپنا رسول ہونے پر مطمئن ہو گیا۔“
یہی اعتماد ہے جس کی تعلیم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دی۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم کبھی کبھی یہود سے ایسی باتیں سنتے ہیں جو بڑی اچھی معلوم ہوتی ہیں۔ کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ ”ہم ان میں سے بعض باتیں نوٹ کر لیا کریں؟“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس طرح یہود و نصاریٰ اپنے دین کے بارہ میں حیرانیوں میں پڑ گئے اسی طرح تم بھی حیرانیوں میں پڑنا چاہتے ہو، میں نے تمھارے سامنے اللہ کے دین کو بالکل روشن اور شفاف صورت میں رکھا ہے۔ اگر آج موسیٰ علیہ السلام بھی زندہ ہوتے تو ان کے لیے بھی میری پیروی کے سوا چارۂ کار نہ تھا۔ 1
یہی بات ایک دوسری روایت میں کچھ مختلف طریقہ پر وارد ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مذکورہ بالا سوال پر کچھ خفگی کا بھی اظہار فرمایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خفگی کا احساس ہوا تو وہ فوراً پکار اٹھے۔
رضیت باللّٰہ ربًا وبالاسلام دینًا وبحمد نبیًا.2
”میں اللہ کے اپنا رب ہونے پر، اسلام کے اپنا دین ہونے پر اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اپنا نبی ہونے پر پوری طرح مطمئن ہوں۔“
ان حدیثوں سے صاف واضح ہے کہ جہاں تک اللہ کی معرفت کا راستہ دکھانے اور خدا کی صراط مستقیم کو واضح کرنے کا تعلق ہے، یہ کام بہتر سے بہتر طریق پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انجام دے دیا ہے۔ یہاں تک کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے جلیل القدر پیغمبر بھی اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہوتے تو اسی طریقہ کی پیروی کرتے۔ ظاہر ہے کہ حق کی رہنمائی کے نقطۂ نظر سے جب آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی لائی ہوئی شریعت کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی شریعت کی بھی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی تو دوسرے اشخاص اور ان کے علوم و افکار اور نظریات و تجربات کی کیا وقعت باقی رہتی؟ دوسرے علوم و افکار اگر کچھ قابل لحاظ ہو سکتے ہیں تو صرف اس حد تک ہو سکتے ہیں جہاں تک وہ کتاب و سنت کے موافق و موید ہوں۔ اگر کوئی شخص اس حد سے بڑھ کر کسی فکر و فلسفہ کو یا کسی وجدان و کشف کو یا کسی طریقہ اور تجربہ کو نبی کے علم و عمل پر ترجیح دے یا اس کے برابر ہی ٹھیرائے یا اس کسوٹی پر چانچے بغیر ہی اس کو تسلیم کرے اوراس کے ساتھ ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان کا دعویٰ بھی کرے تو اس کا دعواے ایمان محض ایک فریب نفس ہے کیونکہ اس کا ایمان اس اعتماد سے بالکل خالی ہے جو اس ایمان کی اصل روح ہے۔
اطاعت
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمارے تعلق کی دوسری شرط آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اطاعت ہے۔ دنیا کا کوئی نبی اور رسول بھی اس لیے نہیں بھیجا گیا کہ بس اس کو مان لینے کی حد تک لوگ اس کو نبی اور رسول مان لیں، بلکہ اس کے بھیجے جانے سے اصل شے جو مقصود رہی ہے وہ یہ ہے کہ اسی کی اطاعت بھی کی جائے اورزندگی کے معاملات میں جو احکام و ہدایات وہ دے اس کی بے چون و چرا تعمیل کی جائے۔ اس حقیقت کو قرآن نے ان الفاظ میں واضح فرمایا ہے:
وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذۡنِ اللّٰہِ. (النسا4: 64)
”ہم نے نہیں بھیجا کوئی رسول، مگر اس لیے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے۔“
دوسری جگہ ہے کہ آدمی کے نیک اعمال کی قبولیت کا انحصار ہی اس بات پر ہے کہ وہ اللہ کے رسول کی اطاعت کرے۔ اگر وہ اطاعت نہ کرے تو اس کے تمام اعمال رائیگاں ہو جاتے ہیں:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ لَا تُبۡطِلُوۡۤا اَعۡمَالَکُمۡ.(سورۂ محمد47: 33)
”اے ایمان والو، اللہ کی اطاعت کرو اوراس کے رسول کی اطاعت کرو، اور اپنے اعمال کو رائیگاں نہ کرو۔“
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے مطالبہ کی وجہ یہ ہے کہ خدا کی اطاعت جو اصل مقصود ہے اس کا راستہ ہی یہ ہے کہ اس کے رسول کی اطاعت کی جائے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ براہ راست معاملہ نہیں کرتا، بلکہ اپنے رسول کے واسطہ سے کرتا ہے۔ رسول ہی لوگوں کو اس کی ہدایات اور اس کے احکام سے آگاہ کرتا ہے۔ اس وجہ سے جو اللہ کی اطاعت کرنا چاہتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ رسول کی اطاعت کرے۔ رسول کی یہ اطاعت ہی درحقیقت اللہ کی اطاعت ہے۔
من یطع الرسول فقد اطاع اللّٰہ.
”جس نے رسول کی اطاعت کی تو اس نے اللہ کی اطاعت کی۔“
رسول کا ہاتھ لوگوں کے لیے اللہ کے ہاتھ کا قائم مقام ہوتا ہے، جو لوگ رسول کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں وہ گویا بالواسطہ اللہ ہی کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں:
اِنَّ الَّذِیۡنَ یُبَایِعُوۡنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوۡنَ اللّٰہَ ؕ یَدُ اللّٰہِ فَوۡقَ اَیۡدِیۡہِمۡ.
(الفتح48: 10)
”جو لوگ تم سے بیعت کر رہے ہیں، وہ درحقیقت اللہ ہی سے بیعت کر رہے ہیں اللہ ہی کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے۔“
خود احادیث میں بھی اس حقیقت کو واضح فرمایا گیا ہے کہ اللہ کی اطاعت کا راستہ یہی ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کی جائے۔ مثلاً:
من اطاع محمدًا فقد اطاع اللّٰہ ومن عصی محمدًا فقد عصی اللّٰہ ومحمد فرق بین الناس. (بخاری)
”جس نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی، اللہ کے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کے درمیان محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہی نشان امتیاز ہیں۔“
قرآن مجید میں یہ حقیقت بھی واضح کر دی گئی ہے کہ یہ اطاعت محض ظاہری اور رسمی قسم کی مطلوب نہیں ہے، بلکہ ضروری ہے کہ آدمی پورے طور پر اپنے آپ کو خدا کی کتاب اور پیغمبر کی سنت کے تابع کر دے، آپس میں جتنے قضیے اور مسئلے بھی پیدا ہوں، ان سب کے طے کرنے کے لیے کتاب و سنت ہی کی طرف رجوع کیا جائے، اور پھر کتاب و سنت کے فیصلوں کو دل کے پورے اطمینان اور طبیعت کی پوری رضا مندی کے ساتھ قبول کیا جائے، ان کے خلاف دل کے اندر کسی قسم کی بدگمانی یا شکایت نہ رہے، فرمایا ہے:
فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوۡکَ فِیۡمَا شَجَرَ بَیۡنَہُمۡ ثُمَّ لَا یَجِدُوۡا فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیۡتَ وَ یُسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا. (النسا 4: 65)
”پس نہیں، تیرے رب کی قسم وہ مومن نہیں ہیں جب کہ ان تمام معاملات میں جو ان کے درمیان پیدا ہوں وہ تم کو حکم نہ بنائیں اور پھر تمھارے فیصلہ سے اپنے دلوں کے اندر کوئی تنگی بھی محسوس نہ کریں اور وہ پورے طور پر اپنے آپ کو تمھارے تابع نہ بنائیں۔“
ان آیات و احادیث کے ظاہری الفاظ سے کسی کو یہ دھوکا نہ ہو کہ ان کا تعلق صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ خاص ہمارے درمیان موجود نہیں رہی تو اس اطاعت کا سوال بھی باقی نہیں رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اللہ کی کتاب اور آپ کی سنت امت کے اندر آپ کے قائم مقام ہے، اس وجہ سے اب انھی دو چیزوں کی اطاعت آپ کی اطاعت ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے پہلے خود اس کی وصیت بھی فرما دی تھی:
قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ترکت فیکم امرین لن تضلوا ما تمسکم بہما کتاب اللّٰہ وسنۃ رسولہ.3
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ میں نے تم میں دو چیزیں چھوڑی ہیں جب تک تم ان دونوں پر مضبوطی سے قائم رہو گے، اس وقت تک تم گم راہ نہ ہو گے۔“
علاوہ ازیں ایک اسلامی حکومت کے وہ امرا اور حکام بھی اسی حکم میں داخل ہیں جو زمین میں خدا کی کتاب اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے نافذ کرنے والے ہوں۔ اس کی تصریح بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دی ہے:
قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من اطاعنی فقد اطاع اللّٰہ ومن اطاع الامام فقد اطاعنی ومن عصانی فقد عصی اللّٰہ ومن عصی الامام فقد عصانی.4
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے امام کی اطاعت کی تو اس نے میری اطاعت کی، اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے امام کی نافرمانی کی تو اس نے میری نافرمانی کی۔“
اس تفصیل سے یہ بات اچھی طرح واضح ہو گئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول ماننے کی اصلی حقیقت یہ ہے کہ ہم اس کتاب و سنت کی پیروی کریں جن کے ذریعے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی مرضیات اور اس کے احکام سے ہمیں آگاہ فرمایا ہے۔ اگر محض زبان سے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار کیا جاتا رہے، اور اطاعت اپنی ہواے نفس کی یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کے خلاف دوسروں کی کی جاتی رہے تو اس طرح رسول کو رسول ماننا وہ ماننا نہیں ہے جس سے معرفت الٰہی کے دروازے کھلیں، بلکہ اس طرح کا ماننا الٹا آدمی کے خسران اور اس کی بدبختی میں اضافہ کا باعث ہوتا ہے۔
اتباع
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمارے تعلق کی تیسری بنیاد اتباع ہے۔ اتباع کا دائرہ اطاعت سے زیادہ وسیع ہے۔ اطاعت کے دائرہ میں تو عموماً وہی باتیں آتی ہیں جن کی حیثیت احکام و واجبات اور اوامر و نواہی کی ہو، لیکن اتباع کے دائرہ میں مستحبات و نوافل بھی آ جاتے ہیں۔ پھر اطاعت بعض حالات میں محض ظاہری اور رسمی بھی ہو سکتی ہے۔ آدمی ایک شخص کی اطاعت کرتا ہے، لیکن اس کی اطاعت میں اخلاص اور محبت کا جذبہ ذرا بھی شامل نہیں ہوتا، لیکن اتباع میں متبوع کے لیے عقیدت و احترام کا جذبہ پایا جانا بھی شرط ہے۔
صحابہ رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صرف اطاعت ہی نہیں کرتے تھے، بلکہ آپ کی اتباع بھی کرتے تھے، وہ صرف یہی نہیں کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی بات کا حکم دیں تو اس کی تعمیل کر دیں یا کسی بات سے روکیں تو اس سے رک جائیں، بلکہ وہ آپ کی ایک ایک ادا کو دیکھتے، اس کو نگاہوں میں رکھتے اور پھر اس کی تقلید کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح اٹھتے ہیں، کس طرح بیٹھتے ہیں، کس طرح سوتے ہیں، کس طرح جاگتے ہیں، کس طرح چلتے ہیں، کس طرح گفتگو کرتے ہیں، کس طرح کھانا کھاتے ہیں، کس طرح ہاتھ دھوتے ہیں،کس طرح وضو کرتے ہیں، کس طرح نماز پڑھتے ہیں؟ غرض وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام حرکات و سکنات پوری نظر میں رکھتے اور پھر ان میں سے ہر شخص کی یہ دلی خواہش ہوتی کہ وہ اپنی زندگی کو زیادہ سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے سانچے میں ڈھالے اور یہ اہتمام کسی خارجی دباؤ کے تحت نہیں، بلکہ محبت و عقیدت کے جذبہ سے سرشار ہو کر کرتے تھے۔
اتباع رسول میں صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس ذوق و شوق کی وجہ یہ تھی کہ خدا کی محبت اور محبوبیت کا درجہ صرف اطاعت ِ رسول سے نہیں، بلکہ درحقیقت اتباع رسول سے حاصل ہوتا ہے۔ رسول خدا کی معرفت کا مظہر کامل ہوتا ہے، اس کی ایک ایک ادا معرفت الٰہی کا نشان ہوتی ہے، اس وجہ سے جو لوگ خدا سے محبت رکھتے ہیں وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایک ادا سے محبت رکھتے ہیں، وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر وہ علم دیکھتے ہیں جو خدا کی معرفت سے حاصل ہوتا ہے، وہ عمل دیکھتے ہیں جو خدا کی معرفت سے پیدا ہوتا ہے، وہ عادات دیکھتے ہیں جو خدا کو پسند ہیں، وہ صفات دیکھتے ہیں جو خدا کو محبوب ہیں، وہ جمال دیکھتے ہیں جس پر جمالِ خداوندی کا پرتو ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ایک نقش کو تلاش کر کر کے اس کی پیروی کرتے ہیں اور چونکہ یہ سب کچھ خدا کی محبت میں کرتے ہیں، اس وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا صلہ یہ پاتے ہیں کہ وہ اللہ کے محبوب بن جاتے ہیں۔ یہی حقیقت قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیت میں بیان کی گئی ہے:
قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ. (آل عمران3: 31)
”کہہ دو اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔“
درحقیقت رسول کی بعثت کا سب سے بڑا مقصد ہوتا ہی یہی ہے کہ معرفت الٰہی کا جو عکس انسان کی زندگی پر پڑنا چاہیے اس کو رسول کی روز مرہ زندگی میں مشاہدہ کروایا جائے۔ اگر باطن میں معرفت کا نور جلوہ گر ہو تو ظاہر کی ایک ایک چیز میں جو نورانیت ہونی چاہیے، پیغمبر کی زندگی اس کا کامل نمونہ ہوتی ہے اس وجہ سے اس کی زندگی کی ایک ایک ادا کو پیروی کے لیے اسوۂ حسنہ کی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے، او رجو اس اسوۂ حسنہ کی پیروی میں جتنی ہی ترقی کرتا ہے، وہ خدا کی محبت اور اس کی محبوبیت میں اتنی ہی ترقی کرتا ہے۔
لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ. (الاحزاب 33: 21)
”تمھارے لیے رسول اللہ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔“
[باقی]
- ۔ مشکوٰۃ، باب الاعتصام بالکتاب والسنہ۔
- ۔ مشکوٰۃ، باب مذکور۔
- ۔ بخاری،کتاب الاحکام۔
- ۔ مشکوٰۃ، باب الاعتصام۔