]’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس
میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[
نظم و ضبط ایک بہتر زندگی کے لیے ضروری ، اس میں حسن کاباعث اور کامیابی کی ضمانت ہے، مگر اس کی بے لچک پابندی اگراختیار کر لی جائے تو زندگی ایک زندان بن کر رہ جاتی ہے، جہاں فکر اور تخلیق گھٹ کر مر جاتے ہیں۔ اصول و قوانین انسانوں کی خدمت اور سہولت کے لیے وضع کیے جاتے ہیں، نہ کہ انسان کو ان کا غلام بنانے کے لیے۔ چنانچہ جہاں کہیں یہ انسان کے لیے کسی نقصان کا باعث بنیں ، انھیں تبدیل یا معطل کر دینا چاہیے، یا ان میں گنجایش پیدا کر دینی چاہیے۔
اللہ تعالی کا طریقہ یہی ہے۔ وہ چاہتا تو انسانوں پر لازم قرار دیتا کہ جو حکم اس نے دے دیے انھیں ہر حال میں بجا لایا جائے، مگر خدا صرف قادر ہی نہیں، حکیم بھی ہے۔ انسانوں کے مختلف حالات کی رعایت سے وہ اپنا حکم تبدیل کر دیتا ہے۔ معمول کی نماز ادا کرنے میں مشکل پیش آ جائے تو نمازوں کو قصر اور جمع کر لینے کی اجازت ہے،کھڑے،چلتے یا سواری پر بیٹھے بیٹھے نماز ادا کر لینے کی سہولت موجود ہے۔مشقت زیادہ محسوس ہو تو روزہ رکھنے سے استثنا دے دیاجاتا ہے۔ مجبوری میں حرام کھا لینے اور کلمۂ کفر کہہ کر جان بچا لینے کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ فرد قوانین پر قربان نہیں ہو گا۔قوانین اس کے لیے بدل دیے جائیں گے۔
زیادہ با صلاحیت اور ٹیلنٹد لوگ عموماً آزاد منش ہوتے ہیں۔ نظم و ضبط کی بے لچک پابندیاں ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ ایسے افراد میں ایک طرح کی خود پسندی، انانیت اور حساسیت بھی پائی جاتی ہے، جس کا پاس و لحاظ نہ رکھا جائے تو ٹیلنٹ ضائع ہو جاتے ہیں۔ دیکھا جا سکتا ہے کہ جن محکمہ جات میں نظم و ضبط پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جاتا وہ تما م تر سہولیات دستیاب ہونے کے باوجود کوئی اچھا کھلاڑی، ادیب یا ماہر فن پیدا نہیں کر پاتے۔
نظم و ضبط پر کوئی سمجھوتا نہ کرسکنا کم ذہنی کی علامت ہے۔ ایسا ذہن مخصوص ڈگر سے ہٹ کر سوچنے اور کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے نہ حوصلہ۔ روٹین اور معمول کا پجاری اینٹیں ڈھونے والے جانور کی طرح ایک ہی رستے پر ایک ہی کام بار بار کر لینے ہی کو سرمایۂ افتخار سمجھتا ہے۔ کاغذوں میں یہ لوگ کامیاب منتظم کہلاتے ہیں، مگر ان کے زیر سایہ کوئی تعمیری اور تخلیقی کام نہیں ہوسکتا۔ایسے لوگ جب کسی با ختیارمنصب پر فائز ہو جاتےہیں تو یہ ٹیلنٹ اور تخلیقی اذہان کے لیے موت کا اعلان ہوتا ہے۔
نہ جانے کتنے ہی بہترین کھلاڑی، علما ، محققین اور ماہرینِ فن نظم و ضبط کی بے لچک پابندیوں کے ہاتھوں ضائع ہو جاتے ہیں، حالاں کہ و ہ اس لائق ہوتے ہیں کہ اصول و قوانین ان کے لیے بدل دیے جائیں۔
قواعد و ضوابط خادم ہیں، خدا نہیں۔ ان پر عمل کیا جائے گا، ان کی عبادت نہ کی جائے گی ۔ ضرورت ہو تو انسانوں کے لیے انھیں بدل دیا جائے گا، مگر انسانوں کو ان کے استھان پر قربان نہیں کیا جا ئے گا۔