مواد پر جائیں

نومولود کے کان میں اذان و اقامت کہنے کی شرعی حیثیت

تحقیق و تالیف:ڈاکٹرمحمدعامر گزدر اردو

)حدیث وفقہ کی روشنی میں ایک تنقیدی وتجزیاتی مطالعہ(

(2)

دوسرا مبحث: نومولود کی اذان کی تاریخ –– متونِ حدیث وفقہ کی روشنی میں

اسلامی تراث میں مصادرِحدیث وآثار اور مراجعِ فقہ کے تحقیقی مطالعے کے نتیجے میں نومولود کی اذان کا نقطۂ آغاز اور اِس کی جو تاریخ واضح ہوتی ہے، قارئین کی خدمت میں اُس کا خلاصہ درجِ ذیل ہے:

1۔نومولود کی اذان واقامت کے بارے میں فقہا ومحدثین میں سے تاریخی اعتبار سے سب سے پہلے جس شخص نے کلام کیا ہے، وہ دوسری صدی ہجری میں امام مالک(متوفٰی: 179ھ) ہیں۔ اُنھوں نے اِس اذان کو مکروہ قرار دیا اور دین میں اِس کی مشروعیت کی نفی کی ہے۔1اُن سے پہلے امت میں اِس اذان واقامت کے بارے میں کسی فقیہ ومحدث کا کوئی کلام اسلامی تراث میں دستیاب نہیں ہے۔

2۔امام مالک کے سوا باقی تین فقہا، یعنی امام ابو حنیفہ، امام شافعی اور امام احمد نے اِس اذان و اقامت کے بارے میں کبھی کوئی کلام کیا ہو؛ اِس حوالے سے اِن ائمہ کے مصادرِ علم بالکل خاموش ہیں۔

3۔ اِس مسئلے سے متعلق ائمۂ اربعہ کے تلامذہ کے بھی کوئی نصوص مراجعِ فقہ میں کہیں دستیاب نہیں ہیں۔

4۔ جہاں تک اِس باب میں حدیثِ نبوی کی نقل وروایت کا تعلق ہے تو تاریخی اعتبار سے راقم السطور کی تحقیق کے مطابق اِس موضوع پر سب سے پہلے دوسری صدی ہجری کے اواخر میں امام طیالسی (متوفٰی: 204ھ)نے اپنی ’’مسند‘‘ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب ایک فعلی روایت نقل کی ہے۔2 اُن سے قبل کسی محدث نے اِس باب میں کبھی کوئی قولی یا فعلی روایت اپنی کسی کتاب میں درج نہیں کی۔

5۔اِس کے بعد امام عبد الرزاق (متوفٰی: 211ھ) نے اپنی ’’مصنف‘‘ میں حضرت عمر بن عبد العزیز (متوفٰی: 101ھ) کا ایک اثر نقل کیا ہے، جس میں نو مولود کی اذان واقامت پر اُن کے عمل کا ذکر ہے۔3

6۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب اِس باب کی اولین قولی حدیث تیسری صدی ہجری میں امام ابو یعلیٰ (متوفٰی: 307ھ) نے اپنی ’’مسند‘‘ میں نقل کی ہے۔4

7۔ روایات ِ باب کو مجموعی تناظر میں دیکھا جائے تو تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ متعدد محدثین نے اِس باب کی مرفوع قولی وفعلی احادیث اپنی مولفات میں درج کی ہیں۔5تاریخی ترتیب کے ساتھ دوسری صدی ہجری سے پانچویں صدی ہجری تک کے اُن سب علماے حدیث کے نام یہ ہیں: طیالسی، عبد الرزاق، احمد، ابو داؤد، ترمذی، ابن ابی الدنیا، بزار، ابو یعلیٰ، رویانی، طبرانی، ابن سُنی، حاکم، تمام رازی، ابو نعیم، ابن بشران اور بیہقی۔

8۔دوسری طرف یہ بھی واقعہ ہے کہ اکثرائمۂ محدثین نے اپنی مولفاتِ حدیث میں نومولود کی اذان واقامت سے متعلق کوئی ایک روایت بھی نقل نہیں کی ہے۔ اصلی مصادر میں سے ایسی کتبِ حدیث و آثار اپنی تاریخی ترتیب کے ساتھ درجِ ذیل ہیں:

1۔ جامع معمر بن راشد (153ھ)۔ 2۔ موطا مالک (179ھ)۔ 3۔ احاديث اسمٰعيل بن جعفر مدنی (180 ھ)۔ 4۔ جامع ابن وہب (197ھ)۔ 5۔ الآثار، ابو یوسف(182ھ)۔ الآثار، محمد بن الحسن، (189ھ)۔ مسند شافعی (204ھ)۔ 6۔ مسند حمیدی (219ھ)۔ 7۔ سنن سعید بن منصور (227ھ)۔ 8۔ مسند ابن جعد (230ھ)۔ 9۔ مصنف ابن ابی شیبہ (235ھ)۔ 10۔ مسند اسحاق بن راہویہ (238ھ)۔11۔ الزہد،ہناد بن سری (243ھ)۔ 12۔ مسند عبد بن حمید (249ھ)۔ 13۔سنن دارمی (255ھ)۔ 14۔ صحیح بخاری (256ھ)۔ 15۔ الادب المفرد، بخاری، (256ھ)۔ 16۔صحیح مسلم (261ھ)۔ 17۔سنن ابن ماجہ (273ھ)۔18۔ مسند حارث (282ھ)۔ 19۔ السنہ، ابن ابی عاصم (287ھ)۔ 20۔ الآحاد والمثانی، ابن ابی عاصم (287ھ)۔ 21۔ السنہ، عبد اللہ بن احمد (290ھ)۔22۔ السنن الصغریٰ، نسائی (303ھ)۔ 23۔ السنن الکبریٰ، نسائی (303ھ)۔24۔ منتقی ابن جارود (307ھ)۔ 25۔ تہذیب الآثار، طبری (310ھ)۔ 26۔ صحیح ابن خزیمہ (311ھ)۔ 27۔مسند سرّاج (313ھ)۔ 28۔ مستخرج ابی عوانہ (316ھ)۔29۔ شرح معانی الآثار، طحاوی (321ھ)۔ 30۔شرح مشکل الآثار،طحاوی (321ھ)۔ 31۔امالی المحاملی (330ھ)۔ 32۔ مسند شاشی (335ھ)۔ 33۔ معجم ابن اعرابی (340ھ)۔ 34۔ معجم الصحابہ، ابن قانع (351ھ)۔ 35۔ صحیح ابن حبان (354ھ)۔ 36۔ الشریعہ، آجری (360ھ)۔ 37۔سنن دارقطنی (385ھ)۔ 38۔مسند شہاب (454ھ)۔

سو یہ بات یہاں ذہن نشین رہے کہ دوسری صدی ہجری سے پانچویں صدی ہجری تک حدیث و آثار کے مندرجہ بالا اکثرمصادرِ اصلیہ نو مولود کی اذان واقامت کے ذکر سے بالکل خاموش ہیں۔ اور اِن میں موطا مالک، الآثار، ابو یوسف، الآثار، محمد بن الحسن، مسند شافعی، مسند حمیدی، مصنف ابن ابی شیبہ، مسند اسحاق، سنن دارمی،صحیح بخاری، صحیح مسلم،سنن ابن ماجہ، سنن النسائی الصغریٰ، سنن النسائی الکبریٰ، صحیح ابن خزیمہ، مستخرج ابی عوانہ، شرح معانی الآثار، طحاوی، شرح مشکل الآثار، طحاوی، صحیح ابن حبان اور سنن دارقطنی جیسی مقبول ومعتمد کتب بھی شامل ہیں۔ اِس سے یہاں ایک نہایت اہم علمی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ اِن اکثر محدثینِ کبار نے اپنی اِن مولفات میں اِس اذان کا ذکر اور اِس کے ثبوت کی کسی بھی روایت کی تخریج آخر کیوں نہیں کی؟

ظاہر ہے کہ اِس کی دو میں سے ایک ہی وجہ ہوسکتی ہے:ایک یہ کہ اِن اصحابِ حدیث کو اِس باب کی کوئی روایت اپنے کسی شیخ کے یہاں سے نہیں ملی تھی، لہٰذا درج کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ دوسرے یہ کہ اِس اذان واقامت کی روایات تو اِن علماے محدثین کے علم میں بھی آئی تھیں، لیکن قواعدِ فنِ حدیث کی رو سے اِن کے نزدیک یہ درجۂ صحت کو نہیں پہنچتی تھیں، اِس لیے اِن میں سے کسی نے اُن کو قابلِ اعتنا نہیں سمجھا،ورنہ یہ ممکن نہیں تھا کہ صحت کے ساتھ نقل ہونے والا ایک ایسا مستقل بالذات مشروع عمل، جس کا علم ہر مسلمان گھرانے کی دینی وعملی ضرورت ہے، یہ اکابر علماے حدیث اِس سے صرفِ نظر کرجائیں۔

اِس تفصیل سے یہ متحقق ہوتا ہے کہ مندرجہ بالا علماے حدیث کے نزدیک نو مولود کی اذان سے متعلق کوئی حدیث ’صحیح‘ اور قابلِ اعتبار نہیں تھی اور اِسی بنا پر اِنھوں نے اپنی اِن مدونات میں اِس باب کی کسی روایت کو درج کرنا قبول نہیں کیا۔

9۔ وہ فقہا جو نو مولود کے کان میں اذان و اقامت کو دین میں مشروع سمجھتے ہیں، اُن کے بارے میں یہ جاننا چاہیے کہ وہ پانچویں صدی ہجری اور اِس کے بعد کے زمانے کے اہلِ علم ہیں، جیسے مثال کے طور پر شافعیہ میں سب سے پہلے فقیہ ابو اسحاق شيرازی ہیں؛ حنابلہ میں ابن قدامہ مقدسی ہیں؛ مالکیہ میں ابو عبد الله عبدری ہیں اور حنفیہ میں ملا علی قاری ہیں۔ اِس موقف کو اختیار کرنے والے علما میں سے بعض نے نو مولود کےصرف دائیں کان میں اذان دینے کو سنت قرار دیا ہے اور بائیں کان میں اقامت کا ذکر نہیں کیا، جب کہ اِن فقہا کی اکثریت نے دائیں کان میں اذان کے علاوہ بائیں کان میں اقامت کہنے کو بھی مسنون قرار دیا ہے۔اِس عمل کی مشروعیت کی دلیل کے طور یہ حضرات اِس باب میں وارد بعض قولی وفعلی احادیث اور حضرت عمر بن عبد العزیز کا ایک اثر پیش کرتے ہیں۔ اِن کے سوا اِس عمل کی تشریع کی کوئی دلیل اِن علما نے پیش نہیں کی۔

10۔فقہاے شافعیہ میں اولین فقیہ جس نے نومولود کے کان میں اذان کہنے کو مستحب قرار دیا ہے، وہ ابو اسحاق الشیرازی (متوفٰی 476ھ) ہیں، جنھوں نے پانچویں صدی ہجری میں اپنی کتاب ’’المہذب فی فقہ الامام الشافعی‘‘میں اِس کا ذکر کیا ہے۔6اِس سے پہلے کے تمام مراجعِ فقہِ شافعی میں اِس اذان کا کہیں کوئی ذکر دستیاب نہیں ہے۔

11۔فقہاے حنابلہ میں اولین فقیہ جس نے اِس اذان کے استحباب کا ذکر کیا ہے، وہ ابن قدامہ مقدسی (متوفٰی 620ھ) ہیں، جنھوں نے چھٹی صدی ہجری کے اواخر میں اپنی کتاب ’’المغنی فی فقہ الامام احمد بن حنبل الشيبانی‘‘ میں اِسے بیان کیا ہے۔7 اِس سے پہلے کے تمام مراجعِ فقہِ حنبلی اِس اذان کےذکر سے بالکل خاموش ہیں۔

12۔فقہاے مالکیہ میں اولین فقیہ جس نے نومولود کے کان میں اذان کے سنت ہونے کا ذکر کیا ہے، وہ محمد بن یوسف عبدری (متوفٰی 897ھ) ہیں، جنھوں نے نویں صدی ہجری میں اپنی کتاب ’’التاج والاكليل لمختصر خلیل‘‘ میں اس کو بیان کیا ہے۔8 اِس سے پہلے کے تمام مراجعِ فقہِ مالکی میں اِس اذان کا کہیں کوئی ذکرموجود نہیں ہے۔

13۔فقہاے حنفیہ میں اولین فقیہ جس نے اِس اذان کی مشروعیت کا قول اختیار کیا ہے، وہ ملا علی قاری (وفات 1014ھ) ہیں، جنھوں نے دسویں صدی ہجری میں یہ قول اپنی کتاب ’’مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح‘‘ میں احادیثِ باب شرح ووضاحت کرتے ہوئے بیان کیا ہے۔9 اِس سے پہلے کے تمام مراجعِ فقہِ حنفی میں اِس اذان کا کہیں کوئی ذکر دستیاب نہیں ہے۔

دوسرے مبحث کا خلاصہ

اِس بحث سے جو امور واضح ہوئے ہیں، وہ یہ ہیں:

* نو مولود کے کان میں اذان و اقامت کہنے کی مشروعیت کا قول ائمہ و فقہا اور محدثین کے نزدیک کوئی متفق علیہ دینی حکم نہیں ہے۔بلکہ یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے۔

* اِس اذان کا ذکر ایک طرف متعدد مصادرِ حدیث وآثار اور مراجعِ فقہ میں پایا جاتا ہے اور دوسری طرف حدیث وآثار کے اکثر مصادرِ اصلیہ میں اِس اذان کا سرے سے کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔

* فقہا ومحدثین کی جماعت میں امت کے اولین شخص امام مالک ہیں، جنھوں نےاِس اذان و اقامت پر نہ صرف یہ کہ کلام کیا ہے،بلکہ اِس عمل کے دین میں غیر مشروع ہونے کی صراحت کی ہے۔

* پانچویں صدی ہجری سے پہلے کے تمام مراجعِ فقہِ اسلامی اِس اذان کی مشروعیت کے ذکر سے بالکل ساکت ہیں۔

جن علماے فقہ نے اِس عمل کو دین میں مشروع سمجھا اور بیان کیا ہے، وہ پانچویں صدی ہجری اور اِس کے بعد کے علما میں سے ہیں۔ اور وہ اِس کی مشروعیت کے اثبات کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی بعض اخبارِ آحاد پیش کرتے ہیں۔

[باقی]

  1. دیکھیے: ابو زيد القيروانی، النوادر والزيادات على ما فی المدوّنہ من غيرہا من الامہات4/337۔ محمد بن عبدالرحمٰن المغربی، مواہب الجليل لشرح مختصر خليل3/257۔
  2. دیکھیے: المسند، ابو داؤد الطيالسی،رقم970۔اِس روایت کی مفصل تحقیق وتخریج اِس کتاب میں آگے بیان ہوگی۔
  3. دیکھیے: المصنف، عبد الرزاق4/336، رقم7985۔ اِس اثر کی تحقیق وتخریج بھی آگے بیان ہوگی۔
  4. دیکھیے: المسند، ابو يعلىٰ الموصلی، رقم6780۔ اِس حدیث کی تحقیق وتخریج بھی آگے اپنے مقام پر پیش کی جائے گی۔
  5. تمام احادیثِ باب کا تحقیقی مطالعہ آگے بالتفصیل پیش کیا جائے گا۔
  6. دیکھیے: المہذب فی فقہ الامام الشافعی، ابو اسحاق الشيرازی 1/ 241-242۔
  7. دیکھیے: المغنی فی فقہ الامام احمد بن حنبل الشيبانی، ابن قدامہ المقدسی 11/120۔
  8. دیکھیے: التاج والاكليل لمختصر خليل، العبدری 4/391۔
  9. دیکھیے: مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، علی القاری7/2691، رقم4157۔