)حدیث وفقہ کی روشنی میں ایک تنقیدی وتجزیاتی مطالعہ(
(1)
[زیر نظر کتاب در اصل عربی زبان میں راقم الحروف کے تالیف کردہ ایک تحقیقی مقالہ کا اردو ترجمہ ہے، جس پر 2015ء میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ملائشیا کے شعبۂ قرآن و سنت اسٹڈیزنےمولف کو درجۂ امتیاز کے ساتھ ماسٹرز کی ڈگری ایوارڈ کی تھی۔ پھر 2019ء میں یہ مقالہ کتابی صورت میں دار الکتب العلمیہ بیروت، لبنان سے شائع ہوا تھا۔ اب مصنف کی طرف سے قارئین کی خدمت میں اِس کا اردو ترجمہ قسط وار پیش کیا جارہا ہے۔مصنف]
مقدمہ
نومولود کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہنے کا عمل مسلمانوں کے ہاں بالعموم معلوم ومعروف ہے۔ ہم اپنے نومولود بچوں کے کانوں میں اذان و اقامت کے لیے وہی کلمات ادا کرتے ہیں، جو عام طور پرنماز کی جماعت کے لیے اذان و اقامت میں ادا کیے جاتے ہیں۔ عصر حاضر کےعام مسلمانوں میں بالعموم یہی تصور رائج ہے کہ یہ ایک سنت عمل ہے، جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے لیے مشروع فرمایا ہے اور یہ کہ خود آپ نے اپنے حینِ حیات اِس پر عمل بھی کیا ہے اور مسلمانوں کو اِس کی ترغیب بھی دی ہے۔
ایک طرف جب ہم اِس عمل کو مسلمانوں کے اکثر معاشروں اور ملکوں میں عام طور پر رائج دیکھتے ہیں تو اِس عملی تناظر سے بہ ظاہر یوں معلوم ہوتا ہے، جیسے یہ عمل اسلامی شریعت میں ایک ثابت شدہ اور مسلّمہ سنت کے طور پر عہدِ رسالت سے جاری ہے اور گویا اِس کے بارے میں مسلمانوں کے ما بین کوئی اختلاف نہیں ہے۔
دوسری طرف جب ہم علمی لحاظ سے اِس عمل کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مصادرِ حدیث میں نومولود کی اذان واقامت کے اِس عمل کے بارے میں جو احادیث نقل ہوئی ہیں، اُن کے بہت سےراویوں کے بارے میں ائمۂ حدیث ورجال نے کلام کیا ہے۔ چنانچہ واضح ہوتا ہے کہ احادیثِ باب کے ردّ وقبول میں علماے محدثین کے مابین اختلاف ہے۔علاوہ ازیں، یہ بات بھی معلوم ہوتی کہ دینِ اسلام میں اِس عمل کی مشروعیت کے بارے میں علما وفقہا کے ما بین بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اِس عمل کے آج عمومی شیوع کے با وصف بعض فقہا ومحققین کہتے ہیں کہ یہ دینِ اسلام میں ایک غیر مشروع عمل ہے، اِس لیے کہ اِس کے بارےمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز صحت کے ساتھ ثابت نہیں ہے، جیسا کہ آگے اِس کی تفصیل بیان ہوگی۔غرض یہ کہ عملی تناظر سے قطع نظر، علم کی دنیا میں یہ عمل اور حدیث وسنت سے اِس کا ثبوت متفق علیہ نہیں، بلکہ ایک مختلف فیہ امر ہے۔
چنانچہ اِس تفصیل سے واضح ہوتا ہے کہ اذان واقامت کے اِس عمل کی دلیل، دین میں اِس کا ثبوت اور اِس کی مشروعیت محل نظر وتحقیق ہے، جو اِس بات کی متقاضی ہے کہ اِس مسئلے کا بالاستیعاب تحقیقی مطالعہ کیا جائے۔لہٰذا راقم السطور نے اِسی بنا پر اِس قضیے کومفصل تحقیق ومطالعہ کا موضوع بنایا ہے، تا کہ اِس کے تمام علمی پہلوؤں کا بالاستیعاب جائزہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اِس کے ثبوت اور اسلام میں اِس کی مشروعیت کے حوالے سے ایک متحقق اور صائب راے تک پہنچا جاسکے۔
یہ معلوم ہے کہ دینِ اسلام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآنِ مجید کے علاوہ جو کچھ نقل ہوا ہے، وہ یا اجماع و تواتر سے منقول ہے یا اخبارِ آحاد، یعنی راویوں کی انفرادی روایت کے ذریعے سے نقل ہوا ہے۔ آپ سے جو چیزیں اخبارِ آحاد کے ذریعے سے نقل ہوئی ہیں، وہ اپنے ثبوت وعدم ثبوت کے لحاظ سے اصلًا علماے محدثین کےنظر وتحقیق کا موضوع بنتی ہیں۔بعد ازاں، اِن احادیث سے علما وفقہا شرعی احکام کا استنباط کرتے ہیں۔
آج ایک محقق کے سامنے اِس مسئلے کا بنیادی اشکال یہ آتا ہے کہ اِس عمل کے دین میں ثبوت اور اِس کی مشروعیت کے بارے میں علما، فقا اور محدثین کی آرا میں اختلاف ہے۔ چنانچہ اِس باب میں اصحابِ علم کی یہ متناقض آرا تقاضا کرتی ہیں کہ اِس قضیے میں حق بات کو بغیرکسی تعصب کے ایک جامع علمی مطالعے اور دیانت دارانہ تحقیق واستدلال کے ذریعے سے دریافت کیا جائے۔راقم الحروف کے تتبع واستقصا کے مطابق علم کی دنیا میں اِس موضوع پر ماضی میں اردو، فارسی، عربی اور انگریزی زبانوں میں اِس طرز کی کوئی جامع تحقیق پیش نہیں کی گئی ہے جو اِس کتاب میں قارئین کو مطالعے کے لیے میسر ہوگی۔ یہ کتاب حدیث، فقہ، فتاویٰ اور تاریخ کی روشنی میں اِس مسئلے کا تنقیدی وتجزیاتی مطالعہ پیش کرتی ہے۔
اِس تحقیق میں جن اہداف کو حاصل کرنا مقالہ نگار کے پیش نظر ہے، وہ درجِِ ذیل ہیں:
1۔ سب سے پہلے نومولود کے کان میں اذان و اقامت کے عمل کا اُصولی تناظر میں ہر پہلو سے جائزہ لیا جائے۔
2۔ مصادرِ حدیث وفقہ کے متون کی روشنی میں اِس عمل کے آغازِ تاریخ کو بیان کیا جائے۔
3۔ متقدمین اور متاخرینِ فقہا ومحققین کی آرا کو پیش کیا جائے۔
4۔ فقہا، محدثین اور محققین کے ما بین اختلاف کے اسباب کو واضح کیا جائے۔
5۔ تمام احادیث و آثارِ باب کی مفصل تحقیق وتخریج پیش کی جائے، جس سے قواعدِ علمِ روایت کی روشنی میں روایاتِ باب کے مراتب اور ثبوت یا عدمِ صحت بھی پوری طرح واضح ہو جائے۔
6۔ اِس عمل کی حکمت کے بارے میں علما کی پیش کردہ آرا کا تنقیدی وتجزیاتی مطالعہ کیا جائے۔
7۔ علمی تحقیق اور تجزیاتی وتنقیدی مطالعہ کے نتیجے میں متحقق ہونے والی راے کو بالتفصیل بیان کیا جائے۔
مندرجہ بالا معروضات کی روشنی میں واضح ہے کہ نومولود کی اذان واقامت کا یہ مسئلہ علمی اور عملی، دونوں اعتبارات سے نہایت اہمیت کا حامل اور توجہ طلب علمی قضیہ ہے۔
علمی ونظری پہلو سےزیرِ بحث مسئلے کی اہمیت یہ ہے کہ نومولود کے کان میں اذان و اقامت کہنا اپنی نوعیت کے لحاظ سے ایک متعین ذکر ہے۔ لہٰذا اِس کی حیثیت ایک متعین قولی عبادت کی ہے۔ اور یہ معلوم ہے کہ تعبدی امور سر تا سر توقیفی ہوتے ہیں۔عبادات کے شعبے میں ایجاد و اختراع دین میں بالکل ممنوع ہے۔چنانچہ دین میں کوئی بھی قولی یا عملی عبادت اُس وقت تک اسلام میں مشروع نہیں سمجھی جاسکتی، جب تک اُس کے بارے میں قرآن وسنت کی کوئی صحیح دلیل موجود نہ ہو۔ عبادات کے باب میں علمی آرا، رسم ورواج اور ضعیف روایتوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ چنانچہ اِسی بنا پرموضوعِ بحث مسئلہ میں یہ دیکھنا ہوگا کہ حدیث وسنت میں اِس کے ثبوت کی کوئی صحیح دلیل موجود ہے یا نہیں۔1
جہاں تک عملی پہلو سے اِس قضیے کی اہمیت کا تعلق ہے تو یہ اِس بنا پر بالکل واضح ہے کہ نومولود بچوں اور بچیوں کے کانوں میں اِس اذان واقامت کا اہتمام دنیا کے اکثر مسلمان معاشروں میں بالعموم ایک شرعی حکم اور سنت عمل کے طور پر کیا جاتا ہے۔ چنانچہ عمومِ بلویٰ کے اِس تعبدی عمل کی تاریخ، اِس کے ثبوت اور اِس کی مشروعیت کے بارے میں مسلمانوں کو دین کا صحیح علم ہونا ایک نہایت ضروری امر ہے۔
پہلا باب: بنیادی مباحث
اِس باب میں مقالہ نگار موضوعِ بحث مسئلے کو اُصولی اور تاریخی تناظر میں زیرِ بحث لائے گا۔ چنانچہ اِس باب کے پہلے مبحث میں اذان واقامت کے اِس عمل کی اُصولی نوعیت کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا جائے گا۔ دوسرے مبحث میں متونِ حدیث وفقہ کی روشنی میں اِس عمل کے آغاز کی تاریخ پیش کی جائے گی۔ اور تیسرے مبحث میں اِس قضیے سے متعلق علما وفقہا کی آرا اور اُن کے مابین اختلاف کے اسباب کو بیان کیا جائے گا۔
پہلا مبحث: اصولی نوعیت کے تین پہلو
نو مولود کے کان میں اذان واقامت کہنے کے عمل کا اگر دقتِ نظر سے جائزہ لیاجائے تو واضح ہوتا ہے کہ اِس کے تین نہایت اہم اُصولی پہلو ہیں، جن سے صرف نظر کر کےاِس کے شرعی حکم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اِس کے ثبوت کو متحقق نہیں کیا جاسکتا۔وہ تین پہلو درجِ ذیل ہیں:
ایک یہ کہ اذان واقامت کا یہ عمل اپنی اصل اور نوعیت کے اعتبار سے معین دینی اذکار میں سے ایک ذکر اور ایک متعین صورت رکھنے والی ایک قولی عبادت ہے۔یعنی اپنی حقیقت میں یہ ایک تعبدی نوعیت کا عمل ہے۔ اور یہ ضابطہ معلوم ومسلم ہے کہ تعبدی امور سر تا سر توقیفی ہوتے ہیں۔اِن میں خود سے کوئی چیز ایجاد کرنا ہمارے دین میں بالکل ممنوع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دین میں کسی بھی قولی یا عملی عبادت کا تصور کرنا بھی اُس وقت تک جائز نہیں ہے، جب تک کہ وہ قرآن یاسنت سے ثابت نہ ہو۔ عبادات کےتمام احکام کا مدار دین وشریعت کی دلیل پر ہے۔کسی بھی تعبدی چیز کو دین میں ثابت کرنے کے لیے عقل، عرف، رسم ورواج،خواب اور کشف وغیرہ کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔چنانچہ دین میں عبادت صرف وہی قول یا عمل قرار پا سکتا ہے، جسے شارع نے خود دین میں بہ طور عبادت مقرر کیا ہو۔اور جس چیز کی تشریع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہ ہو، اُس کو اسلامی عبادات میں شامل کرنا قطعًا جائز نہیں ہے۔2چنانچہ اِس اُصولی پہلو کی روشنی میں زیرِ بحث مسئلے میں پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب نو مولود کے کان میں اذان و اقامت کہنا قولی عبادت کی نوعیت کا عمل ہے تو اسلامی شریعت میں اِس عبادت کے ثبوت کے لیے کیاکوئی مستند اور قابل اعتماد دلیل موجود ہے؟
دوسرا قابلِ تدبر اصولی تناظر یہ ہے کہ نومولود کے لیےیہ اذان واقامت اپنی نوعیت کے لحاظ سے اُن شرعی اعمال کے زمرے میں آتا ہے جو دین میں اپنی مستقل بالذات حیثیت رکھتے ہیں، جیسے مثال کے طور پر عیدین کے تہوار منانا، صدقۂ فطر دینا،ملاقات کے موقع پر سلام کرنا، لڑکوں کا ختنہ کرنا، مونچھیں پست رکھنا،زیر ناف کے بال کاٹنا،بغل کے بال صاف کرنا اور بڑھے ہوئے ناخن کاٹنا۔ یہ اسلامی شریعت کے مقرر کردہ سنت اعمال کی وہ مثالیں ہیں، جو اپنی حیثیت میں مستقل بالذات احکام ہیں۔یہ قرآن یا سنتِ ثابتہ کے کسی حکم کی فرع یا کسی سنت کے تابع تطوع اعمال نہیں ہیں۔علاوہ ازیں، یہ سب احکام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے ثبوت کے اعتبار سے بھی قطعی اور متفق علیہ ہیں۔ چنانچہ غور کیجیے کہ نومولود کی اذان و اقامت بھی اپنی نوعیت کے لحاظ سے ایک مستقل بالذات عمل ہے۔ اِس لیے کہ اِس کی کوئی اصل نہ قرآنِ کریم میں موجود ہے، نہ اِسے کسی سنتِ ثابتہ کی فرع یا اُس پر تطوع عمل کی حیثیت سےپیش کیا جا سکتا ہے۔ اسلامی شریعت کے مستقل بالذات سنن اور دین میں اِن کے ثبوت کےبارے میں استاذِ مکرم جاوید احمد غامدی لکھتے ہیں:
’’سنت کی حیثیت دین میں مستقل بالذات ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اِسے پورے اہتمام،پوری حفاظت اور پوری قطعیت کے ساتھ انسانوں تک پہنچانے کے مکلف تھے۔ اخبار آحاد کی طرح اِسے لوگوں کے فیصلے پر نہیں چھوڑا جا سکتا تھا کہ وہ چاہیں تو اِسے آگے منتقل کریں اور چاہیں تو نہ کریں۔ لہٰذا قرآن ہی کی طرح سنت کا ماخذ بھی امت کا اجماع ہے اور وہ جس طرح صحابہ کے اجماع اور قولی تواتر سے امت کو ملا ہے، اِسی طرح یہ اُن کے اجماع اور عملی تواتر سے ملی ہے۔‘‘(میزان 62)
چنانچہ شریعت کے مستقل بالذات اعمال دین میں ثابت ہی اُس وقت ہوتے ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کو عامۃ المسلمین کے لیے پوری قطعیت کے ساتھ خود مشروع فرمائیں اور پھر صحابۂ کرام اور اُن کے بعد کے مسلمان اُن اعمال کو اپنے اجماع و تواتر سے نقل الکافہ عن الکافہ کے طریقے پر دنیا کو منتقل کریں، لہٰذا اِس تحقیق میں نومولود کی اذان و اقامت کے عمل کا اِس اصولی تناظر میں بھی جائزہ لیا جائے گا کہ اِس مستقل بالذات نوعیت کے عمل کا ماخذِ ثبوت اور ذریعۂ انتقال کیا ہے۔کیا یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجماع وتواتر کے ساتھ منتقل ہوا ہے یا نہیں؟
اصولی تناظر میں زیرِ بحث قضیے کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ نومولود کی اذان واقامت کا عمل ’عمومِ بلویٰ‘3 کی نوعیت کا عمل بھی ہے۔یعنی یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے علم کی ضرورت ہر عام وخاص مسلمان کو ہوتی ہے، تا کہ وہ بچے کی پیدایش کے موقع پر اِس کو بجا لاسکے، اِس لیے کہ بچوں کی پیدایش کا عمل ہر زمانے اور خطۂ ارض میں ایک تسلسل اورتواتر کے ساتھ شب وروز رو نما ہونے والا واقعہ ہے، لہٰذا یہ ایک ایسا عمل ہے جس کا اہتمام مسلمانوں کے ہر گھرانے کو ہر زمانے، خطے اور معاشرے میں کرنا ہوگا۔چنانچہ یہ عمل اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مسلمانوں کے لیے بہ طور سنت مشروع کیا گیا ہے تو دین میں اِس کی مشروعیت کا علم پہلے دن سے لازماً سب مسلمانوں کے پاس پوری قطعیت کے ساتھ علی العموم ہونا چاہیے۔علاوہ ازیں، طبقۂ صحابہ میں بھی اِس کا علم و عمل شائع وذائع ہونا چاہیے اور نتیجتاً اِس حکم کی نقل و روایت امت میں خبرِ واحد کے ذریعے سے نہیں، بلکہ ’نقل العامہ عن العامہ‘ کے طریقے پر ہونی چاہیے۔اِس لیے کہ عمومِ بلویٰ کی نوعیت کے اعمال و احکام بالعموم اِسی طرح کثرت وشہرت سے نقل ہوتے ہیں اور اخبار آحاد بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اِسی ثبوت کو موکد کرتے ہیں۔
عمومِ بلویٰ کی نوعیت کے ایسے احکام اکثر فقہاے حنفیہ کے نزدیک، جیسا کہ اِن کے علماے اُصول کا موقف ہے؛ اخبارِ آحاد، یعنی چند افراد کی انفرادی روایت سے ثابت نہیں ہوتے،اِس لیے کہ عام طور پر اِس طرح کے احکام کے شہرت کے ساتھ نقل ہونے کے بہت سے داعیات موجود ہوتے ہیں، جو شہرت سے نقل وروایت کا تقاضا کرتے ہیں۔چنانچہ فقہاے حنفیہ کے نزدیک اِس طرح کے امور میں کسی چیز کا غیر مشہور طریقے سے اور انفرادی حیثیت میں نقل ہونا، اُس کے باطل ہونے کی دلیل ہوتی ہے۔4
علماے حنفیہ میں سے نظام الدین شاشی(متوفی:344ھ) اپنی کتاب ’’اُصول الشاشی‘‘ میں لکھتے ہیں کہ خبر واحد کے ذریعے سے سامنے آنے والا حکم جب ظاہر کے خلاف ہو تو اُس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔ اور ظاہر کے خلاف ہونے کی صورتوں میں سےایک صورت یہ ہے کہ عمومِ بلویٰ کی نوعیت کے کسی معاملے میں روایت صدِر اوّل اور ثانی میں غیر مشہور ہو۔ یعنی وہ انفرادی روایت کے طریقے پر نقل ہو،جب کہ عہدِ اوّل کے لوگوں کے بارے میں یہ بات مانی نہیں جاسکتی کہ سنت کی نقل وروایت میں وہ کوئی کوتاہی کریں گے۔ چنانچہ ایسے کسی مسئلے میں سخت ضرورت اور عمومِ بلویٰ کی نوعیت کے با وصف جب خبر کی روایت غیر مشہور ہو تو یہ اُس کے عدمِ ثبوت کی علامت ہے۔5چنانچہ اِسی بنا پر عمومِ بلویٰ کی نوعیت کے احکامِ شرعیہ کے ثبوت کےلیے اکثر کبارِ حنفیہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اُس حکم کے تواتر یا شہرت کے ساتھ روایت ہونے کی شرط عائد کی ہے۔6 اور یہی موقف امام ابو الحسن کرخی(متوفی: 340ھ)،7 امام بزدوی (متوفی: 459ھ)،8 امام سرخسی (متوفی: 500ھ)9 اور دوسرے اکابر فقہاے حنفیہ نے اختیار کیا ہے۔
تدبر کی نگاہ سے دیکھیے تو نو مولود کے کان میں اذان دینے کا عمل بھی چونکہ عمومِ بلویٰ ہی کی نوعیت کا ہے، لہٰذا اُصولِ حنفیہ کی رو سے اِس کے ثبوت کو جانچنے کے لیے حنفیہ کے مذکورہ بالا ضابطے کی روشنی میں بھی اِس کا دقتِ نظر سے مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے، تا کہ یہ واضح ہو کہ حنفیہ کے مقرر کردہ عمومِ بلویٰ کے قاعدہ کی رو سے دین میں اِس اذان واقامت کے ثبوت کی کیا حیثیت واضح ہوتی ہے۔
مندرجہ بالا تینوں اُصولی پہلو نو مولود کی اذان واقامت کے عمل کی بنیادی نوعیت اور علمی لحاظ سے اِس کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں۔مقالہ نگار یہ چاہتا ہے کہ زیرِ نظر تحقیق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اِس عمل کی تشریع اور اِس کے ثبوت کا اِن تینوں اُصولی پہلوؤں سے جائزہ لیا جائے۔
پہلے مبحث کا خلاصہ
دین میں اِس اذان و اقامت کے ثبوت وشرعیت کو علمی طور پرمندرجہ ذیل تین بنیادی معیارات کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے:
1۔ اذان واقامت کا یہ عمل جب ایک مستقل بالذات نوعیت کا عمل ہے تو کیا یہ اپنے ثبوت کے لیے اُس ضابطے پر پورا اترتا ہے، جس کو استاذ جاوید احمد غامدی صاحب نے مستقل بالذات احکام کے باب میں بہ طور اصول بیان کیا ہے؟ کیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل الکافہ عن الکافہ کے طریقے پر اور مسلمانوں کے اجماع وتواتر سے نقل ہونے والا عمل ہے یا اِس کا ماخذ محض اخبارِ آحاد ہیں؟
2۔ یہ جب عمومِ بلویٰ کی نوعیت کا عمل ہے تو کیا یہ عمومِ بلویٰ کے حنفی ضابطے کی روشنی میں درجۂ ثبوت کو پہنچتا ہے؟ کیا یہ ’متواتر‘ یا ’مشہور‘ قولی وفعلی ارشاداتِ نبوی سے نقل ہو کر ہم تک پہنچا ہے؟
3۔ اِس اذان واقامت کو اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عام ماثوراذکارواوراد کے زمرے میں شمار کر لیا جائے، جیسا کہ بعض علما نے اِس کو اذکارِ مسنونہ کی حیثیت سے ذکر کیا ہے10 تو اِس صورت میں کیا اخبارِ آحاد میں بھی کوئی ایسی قابلِ اعتبار دلیل موجود ہے، جس کی روشنی میں یہ کہا جا سکے کہ قواعدِ علمِ روایت کی رو سے اِس باب کی خبرِواحد ’صحیح‘ یا ’حسن‘ کے درجے میں ثابت ہے؟
[باقی]
- اِس کا ماخذ صرف حدیث وسنت میں تلاش کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ معلوم ہے کہ اِس اذان واقامت کا کوئی ماخذ قرآن مجید میں موجود نہیں ہے۔
- دیکھیے: القواعد الفقہیہ وتطبيقاتہا فی المذاہب الاربعہ، د. محمد مصطفى الزحيلی2/769۔ رسالۃ فی التفريق بين اصل العبادة ووصفہا، وليد بن راشد بن سعيدان3۔
- امیر صنعانی کی تعریف کے مطابق ’عمومِ بلویٰ‘ کی اصطلاح اُن امور کے لیے استعمال ہوتی ہے، جن میں سب یا اکثر لوگوں کو عمل کرنے کا حکم ہو۔ دیکھیے: اجابۃ السائل شرح بغيۃ الآمل، الامير الصنعانی 109۔
- دیکھیے: شرح مختصر الروضہ، الطوفی2/233۔
- دیکھیے: اصول الشاشی،الشاشی284۔
- دیکھیے: عموم البلوى دراسۃ نظریۃ تطبيقیہ، مسلم بن محمد الدوسری192-193۔
- دیکھیے: كشف الاسرار شرح اصول البزدوی، عبدالعزیز البخاری الحنفی3/16۔
- دیکھیے: اصول البزدوی مع شرحہ كشف الاسرار، البزدوی 3/19۔
- دیکھیے: اصول السرخسی، السرخسی 1/368۔
- دیکھیے: حليۃ الابرار وشعار الاخيار فی تلخيص الدعوات والاذكار المستحبۃ فی الليل والنہار، النووی 448۔ الكلم الطيب، ابن تیمیہ161، رقم211۔ الوابل الصيب من الكلم الطيب، ابن قيم الجوزیہ131۔