مواد پر جائیں

نیا فتنہ

جاوید احمد غامدی اردو

مغرب میں قافلۂ سیاست و معیشت نے اپنے سفر کی ابتدا دریاؤں کے کنارے آباد نئے تجارتی شہروں سے کی تھی۔ یہ شہر اُن دیہات سے زیادہ دور نہیں تھے، جہاں ازمنۂ وسطیٰ کے جاگیردار داد عیش دیتے اور ارباب کلیسا کی پناہ گاہوں کے کلس فلک الافلاک کی خبر لاتے تھے۔ یہ سترھویں صدی کا آغاز تھا اور اب بیسویں صدی اپنے ربع آخر میں ہے۔ اِس سفر میں بعض بڑے سخت مقام آئے ہیں۔ روح اہرمن نے نئے قالب تلاش کرنے کے لیے بڑی جدوجہد کی ہے۔ قرون مظلمہ کے قبا پوش جاگیردار اب دور حاضر کے سگار بدست تاجر اور صنعت کار ہیں۔ سرمایہ کے خلاف محنت کی جدوجہد تاریخ کے عجائب گھر میں عبرت کا مجسمہ بن چکی ہے۔ یہ کارواں اِس صدی کی ابتدا میں جس منزل تک پہنچا تھا، وہاں آدم کا بیٹا دونیم ہو گیا ہے۔ اُس کا دماغ کریملن کے حفاظت خانوں میں محفوظ کر دیا گیا ہے اور اُس کا جسم ریاست کے لنگر خانوں میں ارتقا کے منازل طے کر رہا ہے۔ دوسری طرف یورپ کے تجارتی شہر وجود بشر کے دل و دماغ بن گئے ہیں۔ زمانۂ قدیم کے دیہات کی دولت بادشاہ کو وجود میں لاتی تھی، اور بادشاہ دہ خداؤں کی پشت پناہی کرتا تھا۔ نئے شہروں کا سرمایہ پارلیمان کو جنم دیتا ہے اور پارلیمان اُس کی حفاظت کرتی ہے۔ ارتکاز دولت کی کرشمہ سازیاں جسد انسانیت میں بدروح کی طرح حلول کر گئی ہیں۔ کریملن کی سنگین دیواروں اور نیویارک کی فلک بوس عمارتوں پر اِسی آسیب کا قبضہ ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہاں اِس نے اپنی حکمرانی کا اعلان کر دیا اور یہاں کے حکمرانوں کی زبان پر اِس کا حکم جاری ہے۔ پوپ اطالیہ کے گوشۂ عافیت میں آرام کر رہا ہے۔ اُس کے محل کا کلس اب بھی فلک آشنا ہے، لیکن مغرب جدید کے بلاد عالیہ میں:

گرجوں سے کہیں بڑھ کے ہیں بنکوں کی عمارات

مشرق ایک طویل عرصے تک اِس سیلاب کی گذر گاہ رہا ہے۔ ہمالہ کی چوٹی پر کھڑے ہو کر دیکھا جائے تو مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک اُس کی تباہ کاریوں کے آثار نمایاں ہیں۔ پانی اتر چکا ہے، لیکن اپنے پیچھے نشیب و فراز چھوڑ گیاہے۔ مورخ کا قلم اِس کی داستان سفر رقم کرے گا تو عبرت و حیرت کا ایک جہان وجود میں آئے گا۔ تین صدیوں کے ہمہ گیر غلبہ و استیلا کے بعد یہ عفریت اپنے گھر لوٹ آیا ہے، لیکن اِس کے پہلو سے ایک نیا فتنہ جنم لے چکا ہے۔ ہمالہ کی دیوار کو یاجوج و ماجوج چاٹ رہے ہیں، اور خدا کے بندے ایک مرتبہ پھر تاریخ کے محشر میں کھڑے ہیں۔

[1979ء]