مواد پر جائیں

ٹیپو سلطان اور نظام حیدرآباد ـــــ دو کردار، دو رویے، دو نتائج ـــــ

محمد حسن الیاس اردو

برصغیر میں برطانوی غلبے کے آغاز پر مسلمانوں کے سامنے عملاً دو ہی راستے تھے: ایک مزاحمت کا راستہ اور دوسرا صبر کے ساتھ حالات کو تسلیم کر کے اپنی بقا، تعمیر اور مستقبل کی ازسرِنو تشکیل کا راستہ۔

یہ دونوں راستے کسی مجرد فکری مناقشے میں نہیں، بلکہ دو جیتے جاگتے تاریخی کرداروں میں مجسم ہو کر سامنے آتے ہیں:

ایک ٹیپو سلطان اور دوسرے نظام حیدرآباد۔

ایک نے شمشیر اٹھائی، براہِ راست ٹکراؤ کا عزم کیا اور انجام کار شکست سے دوچار ہوا۔ دوسرے نے بدلتی ہوئی حقیقت کو پہچانا، طاقت کے نئے توازن کو قبول کیا اور اداروں کی سطح پر مستقبل کی بنیادیں رکھیں۔ ان دونوں رویّوں کے تاریخی نتائج نے ہمیشہ یہ سوال اٹھایا ہے کہ قوموں کو عزت، جذباتی نعروں سے ملتی ہے یا حقیقت پسندانہ تدبیر اور طویل المیعاد حکمتِ عملی سے؟

سلطنتِ مغلیہ کے زوال اور طاقت کے خلا نے مسلمانوں کو انھی دو راستوں کے بیچ لا کھڑا کیا اور یہ دونوں شخصیات دراصل وہ پیمانہ بن گئیں، جن پر آنے والی صدیوں کی تاریخ لکھی جانی تھی۔

ٹیپو سلطان جرأت، غیرت اور بلند عزائم کی علامت تھے۔ انھوں نے آخری دم تک انگریزوں کے سامنے ہتھیار نہ ڈالے اور 1799ء میں سرنگاپٹم کے محاذ پر لڑتے ہوئے جان دے دی۔ ان سے منسوب جملہ کہ ’’شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے‘‘ آج بھی جذبات کو گرماتا اور غیرت کو مہمیز دیتا ہے۔ مگر حالات کا تلخ سوال یہ ہے کہ اس ایک دن کی شجاعت نے کس کی حفاظت کی؟ تاریخ کا بے رحم اور غیر جذباتی جواب یہ ہے کہ ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد جنوبی ہند میں انگریزی اقتدار مزید مضبوط ہوا، طاقت کا توازن مکمل طور پر بدل گیا اور مسلمان پہلے سے زیادہ کم زور پوزیشن میں چلے گئے۔ یوں یہ شکست شخصی عظمت اور شہادت کے رومان کی علامت تو بنی، مگر قومی بقا کا راستہ نہ بن سکی۔

یہی مزاحمتی ذہنیت بعد میں شمالی ہند کے مسلمانوں میں بھی مختلف صورتوں میں موجود رہی۔ براہِ راست ٹکراؤ کے ذریعے سے تقدیر کا دھارا موڑ دینے کی خواہش نے 1857ء میں آخری اور شدید اظہار پایا اور اس کا نتیجہ ایک ہمہ گیر شکست کی صورت میں نکلا۔ اس شکست نے مسلمانوں کو سیاسی، فوجی، معاشی اور تہذیبی، ہر سطح پر طویل محرومی میں مبتلا کر دیا۔ ایک دن کی یہ بہادری پوری نسل کو پسپائی کے ایسے زخم دے گئی، جن کا ازالہ دہائیوں تک ممکن نہ ہوا اور قوم کے اجتماعی مستقبل میں کوئی وزن پیدا نہ ہو سکا۔

اس کے بالمقابل نظام حیدرآباد نے طاقت کے توازن کو جذبات کے بجاے حقیقت کی نظر سے دیکھا۔ انھوں نے یہ تسلیم کیا کہ عسکری اور سیاسی اعتبار سے اب انگریز برتر قوت ہیں اور براہِ راست ٹکراؤ ایک عارضی جذبہ تو پیدا کر سکتا ہے، مگر دیرپا فائدہ نہیں دے سکتا۔ ان کے نزدیک طاقت کی اصل اکائی اب تلوار نہیں رہی تھی، بلکہ ادارہ، علم اور ذہنی تنظیم بن چکی تھی اور یہی شعور دکن میں تعمیر کے ایک مختلف راستے کا سبب بنا۔

نظام نے اپنی ریاست کو محفوظ رکھا، داخلی نظم و نسق کو مستحکم کیا، عدالتی نظام کا ڈھانچا بنایا، جدید بیوروکریسی کی بنیاد ڈالی، صنعت کو سہارا دیا، میڈیکل اور انجینئرنگ کے ادارے قائم کیے اور بالآخر 1918ء میں عثمانیہ یونیورسٹی کو وجود بخشا ، جو علوم و فنون کا عظیم سرچشمہ ثابت ہوئی۔

عثمانیہ یونیورسٹی نے اردو کو اعلیٰ تعلیم کی زبان بنایا، جدید علوم کو مادری لسانی ساخت میں ڈھالا اور ایک ایسی علمی فضا قائم کی جس میں مسلمان طلبہ سائنس، قانون، انجینئرنگ، سیاست اور سماجی علوم کے میدان میں نمایاں ہونے لگے۔ ’’دارالترجمہ‘‘ کی کاوشوں نے ذہنوں کو نئے افق دیے اور حیدرآباد کا علمی ماحول پورے برصغیر کے لیے ایک نمونہ بن گیا۔

یہی حقیقت پسندانہ رویہ علم و تہذیب کے ساتھ ساتھ سیاسی اور اجتماعی سطح پر بھی مسلمانوں کو ایسے امکانات دے گیا جن سے ان کی اجتماعی خودی ایک صدی تک قائم رہی۔ اقتدار سے محرومی کے باوجود مسلمان ایک نیم خودمختار ریاست میں نظم و نسق اور حکمرانی کے عملی تجربے سے جڑے رہے۔ جدید بیوروکریسی اور قانونی اداروں میں شرکت نے انھیں اقتدار کی زبان اور اس کے آداب سکھائے اور علمی اداروں نے ایسی قیادت پیدا کی جو بعد میں برصغیر کی سیاست اور نئی مسلم ریاستوں میں رہنمائی کے قابل ہوئی۔ اس پورے عمل نے مسلمانوں کو یہ شعور دیا کہ طاقت کا واحد راستہ شمشیر نہیں، بلکہ حقیقت کو تسلیم کر کے موجود امکانات میں امن کا وقفہ اپنی بقا کی فکر اور تعمیر علم ہے۔

اسی علمی فضا اور تہذیبی سرمایے نے آگے چل کر ایسے عبقری مفکرین کے لیے زمین ہموار کی، جنھوں نے برصغیر کی فکری تاریخ میں گہرے نقوش چھوڑے۔ سید سلیمان ندوی، شبلی نعمانی اور حیدرآباد سے فکری یا تعلیمی ربط رکھنے والی نسل اسی ماحول سے فیض یاب ہوئی۔ بعد کے دور میں ابوالاعلیٰ مودودی اور حمید الدین فراہی جیسے اہلِ فکر نے بھی اسی علمی روایت سے استفادہ کیا، جس کے پس منظر میں دکن کی علمی دنیا، ترجمے کی تحریک، جدید و قدیم کا امتزاج اور اردو کو علمی زبان بنانے کی شعوری کوششیں کارفرما تھیں۔ یوں حیدرآباد محض ایک سیاسی اکائی نہ رہا، بلکہ اسلام اور جدیدیت کے مکالمے کی ایک عملی تجربہ گاہ بن گیا، جہاں سے دین، فکر اور تہذیب کے نئے رخ متعین ہوئے۔

یہی حقیقت پسندانہ روش تھی، جسے بعد میں سرسید احمد خان نے بھی پوری وضاحت کے ساتھ پہچانا۔ انھوں نے 1857ء کی شکست کو محض عسکری یا سیاسی ناکامی نہیں سمجھا، بلکہ اسے ذہنی ساخت کے انہدام کے طور پر دیکھا اور اعلان کیا کہ قوم کی بقا تلوار میں نہیں، بلکہ علم، فکری تعمیر اور تہذیبی موافقت میں ہے۔ مگر مسلمانوں کی اکثریت نے دیر تک اس آواز کو قبول نہ کیا، کیونکہ حقیقت پسندی انھیں بزدلی محسوس ہوتی تھی۔ انھوں نے اقتدار میں جینا سیکھا تھا، مگر محکومی میں جینے کے آداب سے واقف نہیں تھے۔شکست کے بعد اٹھ کر تعمیر تک پہنچنے کا فن ان کے لیے اجنبی تھا، جب کہ سرسید اسی فن کی طرف بلاتے رہے۔

ایک طرف جذباتی مزاحمت 1857ء تک لے جا کر تاریخ کا ایک دروازہ بند کر گئی اور دوسری طرف حیدر آباد کے تدبر نے بیسویں صدی تک علمی اور تہذیبی امکانات کی نئی راہیں کھول دیں۔

ان دو طرز عمل میں اصل سوال یہی ہے کہ قوم کی بقا ایک دن جی کر شیر کی طرح مرنے میں ہے یا اس میں کہ وہ سو سال علم و ہنر اور اداروں کے سہارے زندہ رہے؟ مسئلہ یہ نہیں کہ شیر ایک دن میں کیسے مرا، اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس کے بعد قوم نے سو برس کیسے گزارے؟ اگر ایک دن کی بہادری کا نتیجہ طویل محرومی اور علمی پسماندگی ہو تو وہ جملہ دل کو گرما تو دیتا ہے، مگر قوم کا مستقبل نہیں بناتا۔ اگر وہ راستہ جسے لوگ بزدلی سمجھتے تھے بقا کی ضمانت بنے، امن کا وقفہ ہو، اداروں کو جنم دے، علمی روایت قائم کرے اور اسی فضا سے مفکرین پیدا ہوں تو پھر سوال یہ بنتا ہے کہ اصل میں شیر کون تھا؟

حقیقت یہی ہے کہ جذباتی نعرہ کسی فرد کو ایک دن کا وقار دے سکتا ہے، مگر قوم کو سو سال کی عزت نہیں دے سکتا، جب کہ حقیقت پسندی، تدبیر، ادارہ سازی اور مسلسل علمی محنت وہ سرمایہ ہے، جو قوم کو ایک صدی نہیں، بلکہ اس سے بھی آگے تک وقار اور قیادت عطا کرتا ہے۔ ٹیپو نے شمشیر کے زور پر عزت چاہی؛ وہ عزت ان کی ذات کے لیے شہادت کے رومان میں محفوظ رہی، مگر قوم کے اجتماعی مستقبل میں وزن نہ ڈال سکی۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ معاملہ جذبات کا نہیں، انجام کا ہے۔ غیرت ایک دن میں دکھائی جا سکتی ہے، مگر تاریخ قوموں سے یہ پوچھتی ہے کہ تم نے صدیوں میں کیا کیا؟ ٹیپو نے موت پائی، نظام نے زندگی دی۔ ایک نے مزاحمت کا باب بند کیا، دوسرے نے علم اور تعمیر کا باب کھولا۔ فیصلہ آج بھی وہی ہے: ایک دن کا فخر یا ایک صدی کی عزت؟ دلیل، نتائج اور تاریخ کے شواہد ساتھ رکھ کر سوچا جائے تو جواب خود سامنے آ جاتا ہے۔