مواد پر جائیں

پانچ نمازیں

سید منظور الحسن اردو

[ بخاری کی روایت، رقم 528 سے ماخوذ]

حدیثِ پیمبر سنو دوستو

یہ حکمت کے موتی چنو دوستو

روایت بخاری میں مرقوم ہے

بہت دل نشیں اِس کا مفہوم ہے

نبی نے صحابہ سے اک دن کہا:

”ذہن وا کرو اور سوچو ذرا!

کوئی شخص رہتا ہو ایسی جگہ

جہاں کا سماں ہو بہت پُر فضا

نہر گھر کے آگے ہو ایسی رواں

بہے جس میں پانی سدا بے کراں

اگر روز اپنا بنا لے شعار

نہر میں کرے غسل وہ پانچ بار

بدن پر رہے گی ذرا میل کیا؟

بتاؤ صحابۂ صدق و صفا!“

کہا سب صحابہ نے بے ساختہ:

”ملے گا نہ پھر میل کا کچھ پتا!“

یہ سن کر پیمبر نے اُن سے کہا:

”سنو، غور سے مژدۂ جاں فزا!

یہ پانچوں نمازوں کی تمثیل ہے

خفی اِس میں ایماں کی تفصیل ہے

گنہ کو نمازیں دھوئیں اِس طرح

نجاست کو آبِ رواں جس طرح“