[’’غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ، امریکہ‘‘ کے ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ کمیونیکیشن اور ’’اشراق امریکہ‘‘ (آڈیو) کے مدیر محمد حسن الیاس صاحب گذشتہ دنوں پاکستان گئے تو ’’آف دا اسکول‘‘ پوڈ کاسٹ کے میزبان نجم سہروردی نے اُن کا ایک تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اِس انٹرویو میں اُن سے پاکستان اور مسلمانوں کو درپیش مختلف مسائل پرسوالات کیے گئے۔ حسن الیاس صاحب نے اُن کے جواب میں پوری وضاحت سے اپنے موقف کو پیش کیا۔ یہ انٹرویو غامدی سینٹر کے یو ٹیوب چینل پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ اِسے ضروری ترتیب و تدوین اور حک و اضافے کے بعد ’’اشراق امریکہ‘‘ کے قارئین کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔ ]
پاکستان اور امریکہ کے معاشی نظام کا فرق
سوال: ہمارے مشاہدے میں یہ چیز آتی ہے کہ امریکہ جیسے ترقی یافتہ معاشروں میں لوگ ٹیکسی چلانے یا الیکٹریشن اور پلمبرنگ جیسے ہنر مندی کے پیشوں کو معیوب خیال نہیں کرتے ، بلکہ وہاں وہ اس طرح کے پیشوں سے اتنا کماتے ہیں کہ بہ آسانی پوش علاقوں میں گھر خرید لیتے ہیں۔ اس کے برعکس، ہمارے معاشرے میں ایسے پیشوں کو کم تر سمجھا جاتا ہے ۔ ہمارے ہاں ہر کوئی دل میں بڑی ڈگری لینے کی خواہش لیے پھرتا ہے ،جب کہ اعلیٰ ڈگری لے کر حتیٰ کہ ڈاکٹر انجینئر بننے کے باوجود آمدن کی صورت حال یہ ہوتی ہے کہ کراچی جیسے شہر میں اپنا گھر لینا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ آپ کے نزدیک اس کی کیا وجہ ہے؟
جواب : دیکھیے ، اس میں دو پہلو ہیں : ایک پہلو ہمارے ہاں یہ المیہ ہے کہ پیشے کو عزت یا نفرت کے تعارف سے بچپن سے ہی ذہنوں میں بٹھا دیا جاتا ہے۔ والدین اپنے روز مرہ جملوں میں بچوں کو اس طرح کی باتیں کہتے ہیں کہ اگر نہیں پڑھو گے تو زندگی میں کیا کرو گے ، کیا ریڑھی لگاؤ گے؟ آپ دیکھیں، کس طرح حقارت اور کم تری سے ایک پیشہ کا تعارف ذہن میں بٹھایا جا رہا ہے۔ یعنی ایک طرف تعلیم کو شعور کے حصول کے بجاے محض روزگار کا ذریعہ بتایا جا رہا ہے اور دوسری طرف ریڑھی لگانے کو ایک حقیر روزگار کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس، اسی پیشے کو، یعنی ریڑھی لگانے کو امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملکوں میں سٹارٹ اپ کا نام دیا جاتا ہے اور اِسے ‘entrepreneurship’ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ریڑھی کے کاروبار اور ریڑھی لگانے والے کے بارے میں وہاں حقارت اور کم تری کا کوئی تصور نہیں ہے۔ چنانچہ اس صورت حال کی اصلاح کے لیے ہمیں اپنے معاشرے میں یہ عام کرنے کی ضرورت ہے کہ محنت کر کے جائز طریقے سے کمائی کے تمام پیشے باعزت ہیں۔
دوسرا پہلو اس میں مسابقت اور مقابلہ بازی (comparison) کے مسئلہ کا ہے۔ ہمارے ہاں اپنی صلاحیتوں، ترجیحات اور میسر مواقع کو بنیاد بنا کر پیشے کا انتخاب نہیں کیا جاتا، بلکہ دوسروں کے ساتھ خواہ مخواہ کی دوڑ کا رویہ ہے۔ یہ رویہ اپنی اصل میں مخاصمت اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی نفسیات پر مبنی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں لوگ اس نفسیات میں نہیں پڑتے، ہمارے ہاں اس چیز کی بھی اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔
سوال: امریکہ یا ایسے ترقی یافتہ معاشروں نے ایسا کیا طریقہ اختیار کیا جو ہم بھی اختیار کر کے بہتری لا سکیں اور ترقی کرسکیں ؟ کیا آپ ان معاشروں کا مطالعہ (study) کرنے کا مشورہ دیتے ہیں؟
جواب : دیکھیے، کسی سوسائٹی کا ایک مطالعہ خارج میں بیٹھ کر کیا جاتا ہے، جیسے کتابوں کے ذریعے سے ، فلموں کے ذریعے سے ، سفر ناموں کے ذریعے سے اور ایک مطالعہ وہاں جا کر براہ راست خود مشاہدہ کرنا ہے ۔ ان دونوں میں بہت فرق ہے۔ تاہم، بہتری کے لیے اس طرح کی کوشش سے یقیناً فائدہ ہو گا، لیکن میرے نزدیک اس مطالعہ کے نتیجے میں بھی اصلاحِ احوال اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم اپنے اندر اتنی برداشت پیدا کر لیں کہ جو تبدیلیاں دنیا میں ہو چکی ہیں یا ہو رہی ہیں، ہم ان پر کھل کر بات کر سکیں اور ناگزیر تبدیلیوں کے لیے اپنی قوم کو آمادہ کر سکیں۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے عدم برداشت اس قدر بڑھ چکا ہے کہ ہم اختلافی نظریات رکھنے والے کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینا چاہتے ہیں۔ اس میں غامدی صاحب اور میری مثال آپ کے سامنے ہے کہ کس طرح ہم اپنے نظریات کی وجہ سے ‘persecution’ کا شکار رہے۔ ہمیں آزادی کے ساتھ کام کرنے کا موقع نہیں دیا گیا، حتیٰ کی مجبوراً ہم ملائیشیا چلے گئے۔
برسبیل تنزل، میں یہاں ملائیشیا کی مثال دینا چاہوں گا۔ ملائیشیا ایک اسلامی ملک ہے اور ترقی یافتہ ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں دین ایک تہذیب اور روایت ہے۔ دین جو بنیادی اقدار پیدا کرتا ہے،وہ ان کے معاشرتی اقدار کے نظام (Social Value System) میں نظر آتی ہیں۔ وہاں کے لوگوں میں اچھی اخلاقیات ہیں، وہاں پر ہنر مندی کا جذبہ ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ ملائیشیا پہلے دن سے ایسا ملک نہیں تھا، اس ماڈرن ملائیشیا کے بانی مہاتیر محمد ہیں۔ ایک دفعہ میری ان سے ملاقات ہوئی تو میں نے اُن سے اِس ترقی کا راز پوچھا ۔ میں یہ راز اِس لیے بھی جاننا چاہتا تھا کہ ہم پاکستانی بھی اسلام کا بہت دم بھرتے ہیں اور ہمارے اندر ترقی کرنے کی خواہش بھی ہے۔ چنانچہ میں جاننا چاہتا تھا کہ راز کیا ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ میں نے اپنی قوم کی تعمیر و ترقی کا فارمولا یہ بنایا کہ ہمارے اندر جو دس سے بارہ فی صد صاحبِ بصیرت (intellectuals) ہیں ، ان میں یہ ہنر پیدا کر دیا جائے کہ وہ باقی نوے فی صد کو کام پر لگائیں۔ چنانچہ دس سے بارہ فی صد لوگ باقی نوے فی صد کو کا م کرنا سکھاتے ہیں۔ اس طریقے سے قوم ایک سمت (direction)پر چل پڑی۔
اب،اگر ہم اپنے ملک کو دیکھیں تو ایک سمت میں چلنے میں کئی طرح کے چیلنج درپیش ہیں۔ جیسے، ہمارے ہاں ریاست کے اندر ریاستیں نظر آتی ہیں ۔ مثال کے طورپر ایک ریاست’نامعلوم لوگوں‘کی ہے ، ایک ریاست’مذہبی لوگوں‘کی ہے، ان کی وجہ سے معاشرے کے لوگ ایک سمت میں چلنے کے بجاے آپس کی کشمکش میں مبتلا رہتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں ایک اور بڑا چیلنج عدم استحکام ہے۔ صورت حال یہ ہو چکی ہے کہ گھر سے لے کر معاشرے تک اور دکان سے لے کر ریاستی اداروں تک ، کہیں بھی استحکام نہیں ہے۔ لہٰذا جہاں استحکام کے بجاے تصادم (confrontation) ہو گا، وہاں انسان کبھی بھی اجتماعی طور پر نہیں سوچتا۔ وہ صرف اپنی ذات کے بارے میں سوچتا ہے۔ میں آپ کو روز مرہ مشاہدے کی مثال دیتا ہوں۔ کراچی کی سڑکوں پر ہر گاڑی والا، ہر موٹر سائیکل سوار اس بات کی پروا کیے بغیر کہ کہیں ٹریفک نہ پھنس جائے اس کوشش میں ہوتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح وہ نکل جائے، خواہ دوسرے بعد میں گھنٹوں خوار ہوتے رہیں۔ یہ رویہ اور یہ نفسیات اب ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے۔ ہم ہر معاملے میں ، اپنی قوم اپنے لوگوں کی پروا کیے بغیر صرف اپنی ذات کا سوچتے ہوئے دوسرے سے آگے نکلنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ ہماری اصلاح کے لیے یہ تبدیلی بہت ضروری ہے کہ جس طرح ملائیشیا کی قوم نے خود کو بہ حیثیت قوم پہچانا اور وہ ایک سمت میں چل پڑے ، ہم بھی اپنی ذات سے اوپر اٹھیں اور ایک قوم کی طرح سوچیں۔
جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے تو قوم کی ترقی اور خوش حالی کے اس معاملے میں امریکہ بہت سا سفر طے کر کے ایک مقام تک پہنچ چکا ہے۔ یہاں، اب صورت حال یہ ہے کہ ہر شخص اپنی صلاحیت کو بروے کار لا کر آگے بڑھ رہا ہے اور ریاست کا ایک ہی مقصد ہےاور وہ یہ ہے کہ اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرے۔ آپ دیکھیے، وہ اپنے شہریوں کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کو بھی پناہ اور تحفظ دیتے ہیں جن کے لیے اپنے مذہبی یا سیاسی نظریات کی وجہ سے اپنے ملکوں میں رہنا ممکن نہ رہے۔ ہم جیسے مذہبی لوگوں کے لیے جب اپنے ملک میں رہنا ممکن نہ رہے تو امریکہ ہی میں جگہ ملتی ہے۔ اس پر لوگوں کو یہ غور کرنا چاہیے کہ ملک میں عدم برداشت اور عدم تحفظ کی یہ صورت کیوں کر ہو گئی ہے، جب کہ لوگ اعتراض یہ کر رہے ہوتے ہیں کہ ہم لوگ یہود و ہنود کی گود میں جا بیٹھے ہیں۔
سوال: امریکہ کے معاشی نظام کی اگر بات کریں تو سرمایہ دارانہ نظام کا تصور ہمارے سامنے آتا ہے۔ اس پر مذہبی نقطۂ نظر سے بھی تنقید ہوتی ہے اور سماجی اور معاشی لحاظ سے بھی اعتراضات کیے جاتے ہیں ۔ آپ چونکہ اب وہاں مقیم ہیں اور چیزیں براہ راست آپ کے مشاہدے میں ہیں تو امریکی سرمایہ دارانہ نظام کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟
جواب : میرے ہاں کسی بھی بات کو سمجھنے کا عمل فطرت کے ان عوامل کے مطالعے سے شروع ہوتاہے جو اللہ نے انسان کی فطرت میں رکھے ہیں۔جہاں تک سرمایہ دارانہ نظام پر لوگوں کی تنقیدات ہیں، سچی بات ہے کہ وہ مجھے کبھی سمجھ میں نہیں آئیں۔ مجھے یاد ہے، ایک زمانے میں ہم کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ تصنیف و تالیف میں جاتے تھے۔ اور وہاں پر ایک بڑی اچھی بزم اور انجمن لگتی تھی۔ وہاں داخل ہو کر لگتا تھا کہ کسی دوسری دنیا میں آگئے ہیں، کیونکہ وہاں پر نئے نئے نظام اور افکار کی باتیں ہوتی تھیں۔ وہاں سرمایہ دارانہ نظام کی بیخ کنی اور اس کی ریشہ دوانیوں پر بات کرنے والے فلاسفر بھی بیٹھے ہوتے تھے۔ ایک بار مجھے ایک صاحب نے کہا یہ نظام لوگوں کے اندر حرص اور لالچ کی نفسیات پیدا کرتا ہے۔ انھیں نت نئی چیزیں دکھا کر اس کی خریداری پر راغب کرتا ہے ، اور پھر لوگ ان چیزوں کو خرید کر فخر کی نفسیات میں آ جاتے ہیں ۔یہ نظام اس فخر کی نفسیات کا فائدہ اٹھا کر انسان کی جیب میں سے آخری چونی تک کو اینٹھ لینے کی ایک پوری کی پوری منظم کاوش ہے …ان کی بات ابھی جاری تھی کہ ہم نے کھڑکی سے دیکھا کہ ایک شخص نئی گاڑی بڑے زور سے دوڑاتے ہوئے لے کر گیا۔ اِس پر اُنھوں نے کہا کہ یہ ہے سرمایہ دارانہ نظام کے مفاسد۔ اِس کو پہلے گاڑی کے اشتہار دکھا کر اس کے اندر حرص پیدا کی گئی، اب اِس نے گاڑی خریدی ہے اور یہ فخر سے اِس گاڑی کو کراچی یونیورسٹی کی سڑکوں پہ دوڑا رہا ہے۔ اِس پر میں نے پلٹ کر اُن سے کہا کہ یہ فخر تو گھوڑا خرید کر بھی محسوس ہوتا ہے۔ یعنی اگر میرے پاس نیا گھوڑا ہو اور میں اُس پر سوار ہو کر سڑک پر نکلوں تو میرے اندر یہ نفسیات پیدا ہو گی، کیونکہ برتری اور تفوق کا جذبہ اللہ نے انسان کی فطرت میں رکھا ہے۔ کیا آپ یہ کہتے ہیں کہ میرے اندر یہ جبلت نہیں ہونی چاہیے؟ نئی چیز لے کر خوشی نہیں ہونی چاہیے؟ اِسی طرح اللہ نے اگر مجھے کوئی صلاحیت دی ہے تو میں اس کے ذریعے سے لوگوں کو اُس پہ متوجہ نہ کروں؟یہ تو میں روز کررہا ہوتا ہوں، اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ہماری جبلت ہے ۔ اگر اس جبلت کو کسی معیشت نے اپنا لیا ہے تو بہ حیثیتِ نظام کیسے اس کو انسانی فطرت سے مزاحم قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ اپروچ میں کبھی سمجھ نہیں سکا۔
دوسری طرف جو لوگ نجی ملکیت کی مخالفت میں مشترکہ ملکیت کے نظام کی حمایت کرتے ہیں، وہاں پر بھی میں فلسفیوں کے تصورات میں جانے سے پہلے اپنی فطرت کو دیکھتا ہوں۔ بھئی!میری فطرت میں ملکیت کا تصور ہے۔ میں ownership’ ‘کے ساتھ attachment’‘ محسوس کرتا ہوں۔ جیسے ہمارے اندر مٹی کی’ ‘ownership ہے۔ مثلاً میں جب بھی امریکہ سے کراچی آتا ہوں تو میرے اندر ایک جذبۂ سپاس محسوس ہوتا ہے۔ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ ایسا کیوں ہے؟ تو میرا جواب یہی ہو گا کہ میں چونکہ یہاں سے مستفید ہو کر نکلا ہوں، اس مٹی سے تعلق رکھتا ہوں، اس لیے میرے یہ جذبات ہیں۔کیا ‘ownership’ کے جذبات غلط اور غیرفطری ہیں کہ جنھیں ختم کر دینا چاہیے؟
سرمایہ دارانہ نظام یا دنیا میں بنایا گیا کوئی بھی نظام جو انسان نے بنایاہے ، ان کے اندر مفاسد ہو سکتے ہیں ، دیکھنا یہ چاہیے کہ فوائد کیا ہیں اور کیا بہتری کے امکانات موجود ہیں ۔ اور اس سے پہلے اس نظام کو اپنی فطرت سے ہم آہنگی کے تصورات کے ساتھ دیکھیں۔
سرمایہ دارانہ نظام کی نفی کرتے ہوئے بعض لوگ اِس کے متبادل میں اسلامی نظام معیشت کا نام لیتے ہیں ۔ یہ اصل میں بارہ چودہ سو سال پہلے کی عرب معاشرت کے اندر پیدا ہونے والی ایک مخصوص دور کی فقہ ہے، اگرچہ لوگ اس کو اسلام کا نام دے دیتے ہیں اور اس سے ایک نظام پیش کرتے ہیں۔جب اس نظام پر بات کی جائے گی تو اس پر بھی کئی اعتراضات سامنے آ جائیں گے۔
امریکہ کے سرمایہ دارانہ نظام کے تناظر میں ، میں آپ کو بتاتا چلوں کہ وہاں پر ریاست اپنے شہریوں کو ایک خاص معیار زندگی تک لے جانا چاہتی ہے۔ جس میں ہر شہری کو تعلیم اور بنیادی صحت کی سہولت میسر ہو۔ اس کے بعد وہ شہریوں کے ہنر کو آزماتے ہیں۔ آپ سمجھیں جیسے اللہ تعالیٰ آپ کو آزمانے کے لیے ارادہ و اختیار کے شعور کے ساتھ دنیا میں بھیجتے ہیں ۔ ایسے ہی سرمایہ دارانہ نظام بھی آپ کو آزماتا ہے۔ اور اس آزمایش میں جو لوگ کم زور ہوتے ہیں ، وہ پیچھے رہ جاتے ہیں۔ یوں پیچھے رہنے والے یہ کہتے ہیں کہ یہ نظام ہمیں پیچھے چھوڑ کے چلا گیا ہے۔
سوال: تو کیا اس کو Survival of the fittest’ ‘کہنا بجا ہو گا؟
جواب : بالکل! ایسا ہی ہے۔ دنیا کا اصول اسی پر ہے۔ آپ یہ دیکھیے کہ آپ کے اس اسکول میں بھی ‘Survival of the fittest’ ہی کا قانون ہے۔ ایک ٹیچر آتا ہے اور اپنی پرفارمنس دیتا ہے، اگر وہ پرفارمنس آپ کے لیے قابل قبول ہوتی ہےتو وہ آگے ‘survive’ کرتا ہے، بہ صورتِ دیگر آپ اس کو تبدیل کر دیتے ہیں۔ دنیا کا نظام اِسی کے مطابق چل رہا ہے۔ تو سرمایہ دارانہ نظام کے مفاسد لوگ بیان کرتے ہیں، لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ فری مارکیٹ اکانومی میں جب آپ انسانوں کو ان کے اپنے داخلی شعور پہ چھوڑ دیتے ہیں تو بہت ساری چیزیں بہتر ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چیزوں کی تنقیح ہوتی ہے۔ اس معاملے میں بھی خود امریکہ میں اس میں تنقیح ہوئی۔ اب آپ دیکھیے کہ کارل مارکس کے نظریات پر مبنی نظام سے جو مفاسد سامنے آئے ــــ جو ظلم و استبداد پیدا ہوا ــــ اس پر آواز اٹھائی گئی ، جس پر اُس کی تنقیح کی گئی ،پھر یہیں سے بہتری پیدا ہوئی۔ اِس وقت جتنے قوانین (laws) نظر آتے ہیں جیسے ‘labour laws’ یا ‘human rights’وہ اِسی تنقیح کا نتیجہ ہیں۔ چنانچہ کسی نظام کے فوائد کو نظر انداز کر کے اس کے مفاسد کی وجہ سے رد کر دینا کوئی دانش مندی نہیں ، بلکہ اس میں بہتری کے امکانات کو دیکھا جائے اور مفاسد کو دور کیا جائے ۔