مواد پر جائیں

پاکستان، امریکہ اور مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ جناب محمد حسن الیاس سے ایک انٹرویو (3)

گفتگو: محمد حسن الیاس / سوالات: نجم سہروردی / تدوین و ترتیب: رانا معظم صفدر اردو

[’’غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ، امریکہ‘‘ کے ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ کمیونیکیشن اور ’’اشراق امریکہ‘‘ (آڈیو) کے مدیر محمد حسن الیاس صاحب گذشتہ دنوں پاکستان گئے تو ’’آف دا اسکول‘‘ پوڈ کاسٹ کے میزبان نجم سہروردی نے اُن کا ایک تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اِس انٹرویو میں اُن سے پاکستان اور مسلمانوں کو درپیش مختلف مسائل پرسوالات کیے گئے۔ حسن الیاس صاحب نے اُن کے جواب میں پوری وضاحت سے اپنے موقف کو پیش کیا۔ یہ انٹرویو غامدی سینٹر کے یو ٹیوب چینل پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ اِسے ضروری ترتیب و تدوین اور حک و اضافے کے بعد ’’اشراق امریکہ‘‘ کے قارئین کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔ ]

پاکستان اور امریکہ کے ‘Dream’کا فرق

سوال: پاکستان کو اگر ہم امریکہ کے تناظر میں دیکھیں تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ‘American Dream’ کی طرح ‘Pakistani Dream’بھی کوئی حقیقت رکھتا ہے؟

جواب:اس میں تو کوئی شبہ ہی نہیں کہ ‘Pakistani Dream’ موجود ہے، اور نہ صرف موجود ہے، اسے جان کر آپ کوAmerican Dream’ ‘ اس کے سامنے ہیچ لگے گا۔آپ میری بات پر حیران نہ ہوں، میں آپ کو اس کے حوالے سے کچھ دل چسپ بات بتاتا ہوں جو ہمارے ایک دوست نے ہمیں بتائی۔ وہ ایک مشہور مذہبی اسکالر ہیں، اور دنیابھر میں ان کا رابطہ رہتا ہے۔ انٹرنیٹ کی کچھ بڑی کمپنیوں کے CEOsکے ساتھ ان کی ملاقات ہوئی۔ انھوں نے ہمارے دوست کو بتایا کہ اسلامی ورلڈ،بالخصوص ہمارے اس خطے کے لوگ انٹرنیٹ پر جو چیز سب سے زیادہ searchکرتے ہیں، وہ علاماتِ قیامت ہیں اور نزول مسیح اور امام مہدی کی آمد ہے۔ اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ہمارے ہاں جو ‘Dream’ پایا جاتا ہے، ایسا تو پوری دنیا میں کہیں نہیں ہے۔ پوری دنیا پر غلبے کا خواب؛ وہ بھی پوری آب و تاب کے ساتھ۔

سوال: اس طرح کی نوید اور انتظار کی امید تو ہمیں دوسرے مذاہب میں بھی ملتی ہے۔ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو بالکل اسی طرح کسی مسیحا کے منتظر ہیں اور پھر دنیا بھر پر حکومت کے ارادے میں ہیں۔آپ اس میں کیا فرق دیکھتے ہیں؟

جواب:بالکل ایسا ہے، لیکن ایک واضح فرق کے ساتھ۔ وہ فرق یہ ہے کہ وہ لوگ اس انتظار میں اپنا آج برباد نہیں کر رہے، جب کہ ہمارے ہاں محض انتظار ہے، اور اس انتظار میں ہم لوگ اپنا آج ہر ہر سطح پر قربان کر رہے ہیں۔ ہمارے لوگ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ ہم دنیا کے ذہین ترین لوگ ہیں۔ اور فخر کی اس نفسیات میں جی رہے ہیں کہ اس وقت دنیا نے جتنی بھی ترقی کی ہے اور جتنی بھی ایجادات کی ہیں،وہ سب ہمارے بزرگوں کی کتابوں سے علم چرا کر کی ہے۔ ہم کوئی عام قوم نہیں ہیں ،ہم وہ لوگ ہیں جنھوں نے پہلے بھی ہزار سال دنیا پر حکومت کی ہے، اب دوبارہ دنیا کے اسٹیج پر ہمیں ہی قابض ہونا ہے، اور باقی دنیا ہمارے باج گزار بن کر رہیں گے۔یہ ہے وہ خواب جو پاکستان میں دکھایا جاتا ہے۔

یہ الگ بات ہے کہ یہ خواب دنیا، حقیقت، فطرت کے مسلمات اور مسلمہ تاریخی حقائق کے برخلاف ہے۔ ہم لوگ مفتوح قوم ہیں ، اور اس درجے میں مغلوب ہیں کہ عالمی طاقتوں نے ہمیں بس زندہ رہنے کی اجازت دی ہے۔ ساتھ میں وہ طاقتیں ہمیں گاہے گاہے یہ احساس بھی دلاتی رہتی ہیں کہ تم غلام ہو اور غلامی میں جینے کے آداب سیکھ لو۔

سوال: جو کرب ناک صورت آپ نے بیان کی ہے، اس میں زندہ رہنے کے لیے اپنی امیدوں اور شان دار ماضی کی یاد کو ملا کر ایسے فلسفے گھڑنا تو پھر مجبوری ہےجن سے نشاطیہ کیفیات میسر رہیں۔ کیا آپ کو نہیں لگتا ہے کہ ہم لوگ اس کیفیت میں جی رہے ہیں اور ایسے فلسفوں میں الجھے ہوئے ہیں؟ عین ممکن ہے یہیں سے نشاۃ ثانیہ کے دور کا آغاز ہو جائے۔

جواب: اس پر کیا روک لگائی جا سکتی ہے کہ اگر لوگ اپنے نشاط کے لیے موہوم خیالات میں رہنا چاہیں، بے شک رہیں، لیکن اس سے عملا ً کیا حاصل ہو گا؟ اس کے بجاے اگر وہ حقائق کی دنیا میں آئیں، اپنی منزل کا تعین کریں اور اس کی طرف سفر کا آغاز کریں۔ لاحاصل نشاط کے بجاے اُس نشاط کی طرف بڑھیں جس میں کچھ حاصل بھی ہو، ورنہ کیا ہو گا، وہ ہمیشہ دائرے کا سفر کرتے رہیں گے اور غلامی کی چکی میں پستے رہیں گے۔

اس کی عملی مثال میں،آپ ملائیشیا اور ترکی کو دیکھ سکتے ہیں۔ کبھی یہ ملک بھی وہیں کھڑے تھے جہاں آج پاکستان کھڑا ہے، لیکن انھوں نے اپنے حالات پر غور کیا اور اپنی داخلی تعمیر و ترقی کو ٹارگٹ کیا اور نتیجتاً وہ غلامی سے نکل گئے، اور بہتر حالات میں آ گئے، جب کہ ہم لوگ کیا کر رہے ہیں، اپنے نشاط کے لیے خواب دیکھ رہے ہیں، اور وہ خواب بھی تعمیر اور ترقی کے نہیں، بلکہ جامع مسجد دہلی اور لال قلعے پر پرچم لہرانے کے؛ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد گرم پانیوں سے گزر کر امریکہ پر قبضے کے ؛ اور پھر خلافت کے احیا کے خواب۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ نشاط کے لیے کیا حسین خواب ہیں۔

سوال: اس صورت حال سے تو ایسا لگ رہا ہے کہ یہ شعر ہمارے لیے کہا گیا ہے :

مسئلے زیست کے ایسے بھی تھے جو حل نہ ہوئے

نیند پوری نہ ہوئی، خواب مکمل نہ ہوئے

ایک طرف یہ صورت حال ہے اور دوسری طرف لوگ ہم سے خفا ہوتے ہیں کہ آپ پاکستان پر بہت تنقید کرتے ہیں، اور امید کی کوئی بات نہیں کرتے، مثبت باتوں کا ذکر نہیں کرتے؟ اس پر آپ کیا کہیں گے؟

جواب: دیکھیے، ڈاکٹر جب کسی مریض کو دیکھے گااور اس کے مرض کی سنگینی سے آگاہ ہونے کے بعد اگر اس کو غلط امید دے گا تو ایسا کر کے وہ مریض کے ساتھ زیادتی کرے گا۔ ایسے میں اس کا فرض یہی ہے کہ مریض کو مرض کی سنگینی سے آگاہ کرے تا کہ وہ اس مرض سے چھٹکارا پا سکے۔ بالکل اسی طرح،کسی قوم میں پائے جانے والے امراض کی اگر نشان دہی نہیں کی جائے گی، اور اس کے لحاظ سے اس کا علاج تجویز کر کے اس پر عمل نہیں کیا جائے گا تو کیا یہ قوم کے ساتھ ہم دردی ہو گی یا دشمنی ؟ اب اگر ہم اپنی قوم کی بات کریں تو ہماری قومی تعمیر کے اندر کچھ خرابیاں مضمر ہیں۔ ان خرابیوں کو ٹھیک کرنے کے لیے ہمیں پہلا قدم اٹھانا ہے۔ اور وہ تبدیلی کا قدم ہے، اس کے بعد ہی ہماری ترقی کے سفر کا آغاز ہو گا۔

آپ ذرا ہمارے المیے کا اندازہ کیجیے کہ ہمارے ہاں لوگ آج بھی اس بحث میں پڑے ہوئے ہیں کہ پاکستان کیوں بنا؟ بننے کے بعد سے آج ستر سال ہو گئے ہیں، تعمیر و ترقی اور لائحۂ عمل تو ایک طرف لوگ اسی بحث سے آگے نہیں بڑھتے کہ ہم بنے کیوں تھے؟ کچھ زور لگا کر اس طرف کھینچ رہے ہوتے ہیں کہ ’پاکستان کا مطلب کیا: لا الٰہ الاّ اللہ‘ اور کچھ زور لگا کر اس کے مقابل میں قائد اعظم کی تقریر پیش کرتے ہیں کہ ہم تو ایک سیکولر اسٹیٹ بنے تھے۔ اور دل چسپ بات یہ ہے کہ دونوں اپنی اپنی طرف کے دلائل رکھتے ہیں ،اور دوسرے موقف کو نہ ماننے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ یعنی پاکستان ایک مذہبی اسٹیٹ ہے یا قومی اسٹیٹ؟ یہ ایک دائرہ ہے، جس کا لوگ مسلسل سفر کر رہے ہیں۔

اسی طرح اور ایک دائرہ جس میں لوگ محوِ سفر ہیں، وہ ہے سول ملٹری کشمکش کا۔ ہمارے ہاں سیاست دان موجود ہیں، انتخابات کا طریقہ موجود ہے، جمہوریت موجود ہے، لیکن اس سارے کو جس طریقے سے چلنا چاہیے، ویسے نہیں چل رہا۔ اس میں ایک موقف تو واضح ہے کہ جمہوریت ہو اور وہ سادہ طریقے سے چلتی رہی اور حکمران لوگوں کی راے اور مرضی سے بدلتے رہیں، لیکن دوسری طرف ایسا طبقہ موجود ہے جو کہتا ہےکہ ملک ان لوگوں کے حوالے کر دیں جو سورۂ اخلاص نہیں پڑھ سکتے، جن کو اسمبلی میں تقریر کرنا نہیں آتی، یہاں سے ملٹری اسٹبلشمنٹ کی مداخلت ہوتی ہے۔ آپ دیکھیے، دنیا جن معاملات میں ایک سفر طے کر چکی ہے، تجربات سے گزر چکی ہے، وہ ہمارے لیے لائق اعتنا ہی نہیں ہیں۔

ان حالات میں کیا امید کی بات کریں۔ کیا یہ کہ پاکستان اگلے چند سالوں میں ایشین ٹائیگر بن جائے گا، یہ عالم اسلام کا قلعہ ہو گا، اور یہاں سے خلافت کا احیا ہو گا۔ میں سچائی کا طالب علم ہوں، اور ہمارے ملک کو جس قدر گہرے اور بڑے امراض لا حق ہیں، اس کے لیے Cosmetic change کی نہیں، بلکہ treatment کی ضرورت ہے۔ یہ تو آپ بھی جانتے ہیں کہ گٹر کے اوپر مخمل کا کپڑا رکھ دینے سے وہ بظاہر چھپ سکتا ہے، لیکن اس کی گندگی اور تعفن موجود رہتا ہے۔

سوال: اگلے سوال سے پہلے، یہاں میں موضوع سے ہٹ کر ایک چیز پوچھنا چاہوں گا کہ ہمارے اس پروگرام میں ایسے مہمان بھی آتے ہیں جن کے پاس بہت نالج ہوتا ہے، لیکن وہ گفتگو میں ادھر ادھر نکل جاتے ہیں، آپ کی گفتگو بہت مرتب اور مربوط ہوتی ہے، کیاآپ تقریری مقابلوں میں حصہ لیتے رہے ہیں؟

جواب: میں سمجھتا ہوں کہ گفتگو کا تعلق ہمیشہ ہمارے خیالات کی clarity کے ساتھ ہوتا ہے۔ میں نے جن لوگوں کے ساتھ وقت گزارا، انھوں نے جو ایک چیز ہمیں سکھائی ہے،وہ یہ ہے کہ اپنے خیالات کو بہتر کریں۔ خیالات جتنے واضح ہوں گے، اظہار اتنا ہی سدید ہوجائے گا۔ ایک پہلو تو یہ ہے۔ دوسرا پہلو ہے زبان۔ زبان سے ہمیں محبت ہے۔ اردو زبان کے ساتھ ہم جیتے مرتے ہیں۔ زبان اصل میں ہمارے خیالات کا قالب بنتا ہے۔

[باقی ]