مواد پر جائیں

پاکستان، امریکہ اور مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ جناب محمد حسن الیاس سے ایک انٹرویو (4)

گفتگو: محمد حسن الیاس / سوالات: نجم سہروردی / تدوین و ترتیب: رانا معظم صفدر اردو

[’’غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ، امریکہ‘‘ کے ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ کمیونیکیشن اور ’’اشراق امریکہ‘‘ (آڈیو) کے مدیر محمد حسن الیاس صاحب گذشتہ دنوں پاکستان گئے تو ’’آف دا اسکول‘‘ پوڈ کاسٹ کے میزبان نجم سہروردی نے اُن کا ایک تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اِس انٹرویو میں اُن سے پاکستان اور مسلمانوں کو درپیش مختلف مسائل پرسوالات کیے گئے۔ حسن الیاس صاحب نے اُن کے جواب میں پوری وضاحت سے اپنے موقف کو پیش کیا۔ یہ انٹرویو غامدی سینٹر کے یو ٹیوب چینل پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ اِسے ضروری ترتیب و تدوین اور حک و اضافے کے بعد ’’اشراق امریکہ‘‘ کے قارئین کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔ ]

مغرب اور ہمارا رویہ

سوال: فکرِ غامدی پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ آپ لوگ مذہب کو لے کر معذرت خواہانہ جگہ سے بات کرتے ہیں، جب کہ ہمارا مذہب سچا ہے اور اس نے ہمیں ہر طرح کے معاملات میں رہنمائی دی ہے، تو پھر ہمیں رہنمائی دینے کے بجاے معذرت خواہانہ جگہ پرکھڑے ہونے کی کیا ضرورت ہے؟

کیا آپ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم شکست خوردہ قوم ہیں، عالمی طاقتوں سے ہار گئے ہیں، لہٰذا جو دنیا کا بنایا ہوا ورلڈ آرڈر ہے، اسی کے اندر ایڈجسٹ ہو جائیں، اور اگر کہیں تھوڑی بہت گنجایش ملے تو دین کی بات بھی کہہ لیں، باقی جیسے تیسے ہو سکے وقت گزار لیں، جب کہ ہمارا دین الہامی ہے، ہمارا پیغام سچا ہے تو ہمیں عالمی طاقتوں سے ڈرنے کی کیا ضرورت ہے۔ آپ پر اعتراض کرنے والے لوگ اس حوالے سے علامہ اقبال کا حوالہ دیتے ہیں :

تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی

جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا

–

اور ان معترضین کا یہ بھی اصرار ہے کہ:

اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قومِ رَسولِ ہاشمی

جواب:آپ کے سوال کے دو حصے ہیں: پہلا حصہ ہم کیا سوچتے اور کیا کرتے ہیں، اس کی وضاحت میں بعد میں کرتا ہوں۔ دوسرا حصہ ان لوگوں کے بارے میں جو عالمی طاقتوں کے حوالے سے ایک خاص نظریہ رکھتے ہیں، جو آپ نے سوال میں بیان کیا۔ اس میں آپ دیکھیے کہ ایک طرف وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ’خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی‘ اور پھر کاسۂ گدائی لے کر بھیک مانگنے ان کے در پر چلے جاتے ہیں، جس کی بنیاد پر ہمارے ملک کی معیشت کا پہیہ چلتاہے۔ اسی طرح، اِس نظریے کو ماننے والے لوگ اُنھی ملکوں کی ٹیکنالوجی کو استعمال کر کے، اُنھی کے ایجاد کردہ کیمرے اور اُن کے پوڈ کاسٹ مائک کے سامنے بیٹھ کر لوگوں کے دلوں میں عالمی استعمار اور مغربی طاقتوں کے خلاف باتیں سناتے ہیں، اور اُنھیں کامیاب انقلاب کی نوید سناتے ہیں۔ اگر وہ اپنے نظریے کی سچائی پر کامل یقین رکھتے ہیں تو انھیں یہ چاہیے کہ وہ ان ملکوں کی چیزوں پر انحصار کرنے کے بجاے اپنی بنیاد پر کھڑے ہوں، پتھر کے دور میں لوٹ جائیں اور وہاں سے Do and Die والی صورت حال بنا کر انقلاب لائیں۔

اس میں جو سمجھنے کی بات ہے، وہ یہ ہے کہ یہ تہذیبوں کی جنگ ہے۔ اور تہذیبوں کی جنگ ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر نہیں لڑی جاتی۔ اس کے لیے پھر پہاڑوں پر جا کر لڑنا پڑے گا، جیسے طالبان نے لڑی۔ ــــــ جس کے بارے میں، میں ہمیشہ یہی کہتا ہوں کہ ان کی عقل پر ماتم اور جذبے پر رشک آتا ہے۔ ــــــ انھوں نے جو کہا، وہ اس پر عمل درآمد تو کرتے ہیں، جب کہ ہمارے لوگ یہاں محض کہانیاں سنا کر، غیر حقیقی اور جذباتی باتیں کر کے قوم کو بے وقوف بناتے ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اِن لوگوں نے قوم کو بے حد نقصان پہنچایا ہے۔ یہ محض ایک تجزیہ نہیں ہے، بلکہ حقیقت کی دنیا میں اسے دیکھا جا سکتا ہے کہ ہماری قوم آج کہاں کھڑی ہوئی ہے۔ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں ہمارے لوگ جو اس سے متاثر ہو رہے ہیں، انھیں جو نقصان پہنچ رہا ہے، وہ جس حال میں زندگی بسر کر رہے ہیں، وہ سب کے سامنے ہیں۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ انھیں حالات کی سنگینی کا اندازہ ہونے سے پہلے انھیں اس جگہ پہنچا دیا ہے کہ وہ بے چارے ان حالات کو اللہ کی طرف سے آزمایش سمجھ رہے ہیں، حالاں کہ یہ حالات ان تخریب کاروں کی کارستانی ہے، جب کہ ہمارے لوگ بے چارے اپنے پورے اخلاص کے ساتھ ان حالات کو سہ رہے ہیں، اور بدلے میں عالمی طاقتوں سے نفرت کر رہے ہیں۔

آپ دیکھیے، کس طرح ایک بیانیہ بنایا گیا، پھر اس بیانیے کو پوری سوسائٹی میں گلی،محلے کی سطح تک پہنچایا گیا، اور ایک پود تیار ہوئی، پھر اس کو عالمی استعمار سے نفرت سکھائی گئی۔ نتیجہ کیا نکلا ؟ ہماری ترقی ہوئی یا مزید حالات دگرگوں ہوئے۔ یہاں سوال بنتا ہے کہ کہاں ہے عظمت رفتہ کی باز یافت؟ مجھے یاد ہے، جب 11؍ستمبر کا واقعہ ہوا تو اس وقت ہمارے ’’دانش وروں‘‘ اور ’’مذہبی طبقوں‘‘کی خوشی دیدنی تھی۔ کیسے تفاخر سے کہتے تھے کہ یہ ہمارا خواب تھا جو شرمندۂ تعبیرہوا، بس اب دیکھیں امریکہ کہاں جاتا ہے اور ہم کہاں۔ اور آج دیکھ لیں، وہ کہاں ہے اور ہم آج بھی باج گزاری میں زندگی گزار رہے ہیں۔

جہاں تک آپ کے سوال کے پہلے حصے کا تعلق ہے، اس میں مختصر تفصیل کر دیتا ہوں۔ ہمارے نزدیک اہم بات یہ ہے کہ اسلام کیا کہتا ہے۔ ہم اللہ کو مانتے ہیں اور اس کے پیغمبر کو مانتے ہیں۔ اس کے بعد دنیا کے اندر جتنے بھی نظریات ہیں، چاہے وہ مسلم تہذیبی روایت نے پیدا کیے ہوں؛ چاہے وہ نظریات محرومی کی نفسیات سے پیدا ہوئے ہوں ؛ چاہے وہ نظریات عظمتِ رفتہ کی بازیافت میں ہوں، ہمارے لیے ان کی کوئی حیثیت نہیں۔ ہم سر تسلیم خم کرتے ہیں تو صرف اللہ اور اس کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے۔ ہمارا یہ ماننا ہے کہ خدا کا پیغمبر، اس کا منتخب فرستادہ روے زمین پر اس کے دین کا تنہا ماخذ ہے۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ دین کے بارے میں جو بھی بات ہوگی، اس کی سند محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آئے گی۔ ہمارا پورا دینی ڈسکورس اس Conservatism پہ کھڑا ہوا ہے۔ ہم خارج، سماج، معاشرہ، افادیت، عدم افادیت، تعمیر، تخریب، ان سب سے ماوراء ہیں۔ ہماری غرض صرف انsources سے ہے جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے ہمیں ملے ہیں۔

باقی رہی بات کہ ہمارا انداز معذرت خواہانہ ہے۔ ’من تشبہ بقوم فھو منہ‘ کی مثال سے میں آپ کو واضح کرتا ہوں کہ لوگ کیسے دلیل کے جواب میں دلیل دینے کے بجاے نتیجہ اخذ کر کے اس کی تشہیر کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں لوگوں کا ماننا ہے کہ اسلام ہمیں مغرب کے انداز اپنانے کے بجاے اس کی مخالفت کا کہتا ہے۔ اور اس میں وہ رسول اللہ کا قول نقل کرتے ہیں : ’من تشبہ بقوم فھو منہ‘،”جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی، وہ انھی میں سے ہے۔“اس پر ہمارا کہنا یہ ہے کہ کلام چونکہ اپنا contextرکھتا ہے، اس کے لیے اس کی تفہیم کے لیے ہمیں اسے دیکھنا چاہیے۔ اب اس مکمل حدیث کو دیکھیے: ’بعثت بين يدي الساعة بالسيف، حتى يعبد اللّٰه وحده، لا شريك له، وجعل رزقي تحت ظل رمحي، وجعل الذل والصغار على من خالف أمري، ومن تشبه بقوم فهو منهم‘، ’’اللہ نے قیامت تک مجھے تلوار دی ہے، حتیٰ کہ اکیلے اللہ کی عبادت ہونے لگے جس کا کوئی شریک نہیں اور میرا رزق میری تلوار کے سایے میں رکھا گیا ہے اور ذلت و رسوائی اس کا مقدر بنائی گئی ہے جو میرے طریقہ کی مخالفت کرے، اور جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی، وہ انھی میں سے ہے‘‘(شعب الایمان،رقم1199)۔

اس میں رسولوں کا خاص قانون ’’اتمام حجت‘‘ بیان ہوا ہے۔ اسی تناظر میں بات ہے، اللہ کہہ رہا ہے کہ تلواروں کے سایے میں تمھارا رزق رکھ دیا ہے، جو تمھاری مخالفت کرے گا، نیست و نابود ہو گا۔ چنانچہ اب خدا کے عذاب کا موقع آگیا ہے۔ جس نے جس قوم کے ساتھ ہونا ہے،الگ الگ ہو جاؤ، کیونکہ فیصلہ ہونے والا ہے۔

اب اس پر دلیل دینے کے بجاے آپ مجھے کہہ سکتے ہیں کہ آپ تو اصل میں Apologetic ہوگئے ہیں۔حدیث کے واضح حکم کے ہوتے ہوئے مغرب کو رد کرنے کے بجاے ان کے ساتھ ہوگئے ہیں۔ تو پھر میں پلٹ کے یہ کہوں گا کہ آپ اصل میں Islamism، اپنی سیاسی برتری کی بازیافت میں دین کے جو بنیادی مقدمات ہیں، ان کو براہ راست سمجھنے پر بھی آمادہ نہیں ہیں، آپ کا معاملہ دین سے دوری ہے، نہ کہ ہمارا معاملہ apology کا ہے۔

[باقی ]