مواد پر جائیں

پاکستانی معاشرتی رویے برداشت، اختلاف اور انتہا پسندی

ثاقب علی اردو

پاکستانی معاشرہ تاریخی، ثقافتی اور مذہبی بنیادوں پر تشکیل پایا ہے، جس میں پولیس، فوج اور مذہبی طبقے کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ یہ ادارے عوام کی زندگی کے اہم پہلووں کی نمایندگی کرتے ہیں، لیکن ان کے ساتھ اختلاف کی صورت میں جو رویے سامنے آتے ہیں، وہ ہمارے معاشرے میں برداشت کی کمی اور انتہا پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو واضح کرتے ہیں۔ یہ مضمون انسانی نفسیات، تاریخی مثالوں اور موجودہ حقائق کی روشنی میں ان رویوں کا جائزہ لیتا اور ان کے معاشرتی اثرات کو بیان کرتا ہے۔

پاکستانی معاشرے میں پولیس کا کردار عوامی تحفظ اور قانون کا نفاذ ہے، لیکن بدعنوانی اور نااہلی کے الزامات اس ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچا چکے ہیں۔ جب کوئی فرد پولیس سے اختلاف کرتا ہے یا اس کے رویے پر سوال اٹھاتا ہے تو عمومی طور پر نتائج رشوت، دھمکی یا قانونی مسائل کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ پولیس کے ادارے میں ایک غیر منظم اور محدود طاقت کے استعمال کی وجہ سے عوام کو جسمانی خطرے کا سامنا کم ہوتا ہے۔ یہ رویہ اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ قانون کے نفاذ کے لیے موجود اس ادارے میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے تاکہ عوامی اعتماد بحال ہو سکے۔

فوج کا کردار نہ صرف ملکی دفاع، بلکہ سیاسی اور معاشی میدان میں بھی بہت زیادہ اہم ہے۔ پاکستانی فوج کو عوام کے دلوں میں احترام اور خوف، دونوں حاصل ہیں، جو اکثر سماجی استحکام میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ تاہم، فوج کے ساتھ اختلاف یا اس پر تنقید ایک حساس معاملہ ہے۔ اس کے نتائج میں دباؤ ڈالنا، نظر بندی یا بعض اوقات نوکری سے برطرفی شامل ہو سکتی ہے، لیکن انسانی زندگی کو فوری خطرہ لاحق ہونے کے امکانات کم ہی ہوتے ہیں، کیونکہ فوج کے اندر ایک منظم ڈھانچہ اور ضابطے موجود ہیں، جو طاقت کے بے جا استعمال کو محدود کرتے ہیں۔

مذہبی طبقے سے اختلاف کی صورت میں صورت حال بالکل مختلف اور خطرناک رخ اختیار کر لیتی ہے۔ مذہبی رہنما عوام کے روحانی رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بڑی سماجی طاقت بھی رکھتے ہیں۔ اگر ان کے نظریات کو تسلیم کیا جائے تو وہ جنت کی بشارتیں دیتے ہیں اور دعاؤں میں برکت کی یقین دہانی کراتے ہیں، لیکن جیسے ہی کوئی ان کے نظریات پر سوال اٹھائے یا ان سے اختلاف کرے تو وہ شخص کافر، گستاخ یا دشمن اسلام قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد عوامی جذبات کو بھڑکایا جاتا ہے، جو اکثر تشدد اور انتہا پسندی کا باعث بنتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں، جہاں مذہبی اختلافات نے جان لیوا صورت حال پیدا کی ہے۔ یہ رویہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں اختلاف کو دبانے کے لیے مذہب کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

ان رویوں کی جڑیں معاشرتی اور تعلیمی نظام میں پیوست ہیں۔ ہمارا تعلیمی نظام تنقیدی سوچ کو فروغ دینے کے بجاے اندھی تقلید کی حمایت کرتا ہے۔ مدارس اور دیگر تعلیمی ادارے طلبہ کو سوال کرنے کے بجاے صرف روایتی علم کی پیروی سکھاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نئی نسل اختلاف کو دشمنی یا گستاخی کے طور پر دیکھتی ہے۔ انسانی نفسیات کے مطابق، جب کسی معاشرے میں خوف کا غلبہ ہو تو وہ معاشرہ فکری جمود کا شکار ہو جاتا ہے اور اس میں ترقی کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔

تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ وہ اقوام جو اختلاف کو دبانے کے بجاے مکالمے کو فروغ دیتی ہیں، وہی ترقی کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر یورپ نے قرون وسطیٰ کے دورِ جمود سے نکل کر روشن خیالی کا راستہ اس وقت اپنایا جب مکالمے کی آزادی دی گئی۔ دوسری جانب، انکوائزیشن کے دوران میں کلیسا کی جانب سے اختلاف کو دبانے کی روش نے یورپ کو صدیوں تک تاریکی میں رکھا۔ اسی طرح، اسلامی تاریخ کے ابتدائی دور میں اختلافِ راے کو برداشت کیا جاتا تھا اور علمی ترقی اپنے عروج پر تھی، لیکن جب رواداری ختم ہوئی اور اختلاف کو دبایا گیا تو امت مسلمہ زوال کا شکار ہو گئی۔

پاکستانی معاشرہ اس وقت اسی طرح کے دوراہے پر کھڑا ہے۔ ہمارے یہاں برداشت کی کمی اور انتہا پسندی نہ صرف معاشرتی امن کو خطرے میں ڈال رہی ہے، بلکہ فکری ترقی کی راہیں بھی بند کر رہی ہے۔ اگر ہم اپنے معاشرے کو اس دلدل سے نکالنا چاہتے ہیں تو ہمیں برداشت، مکالمے اور رواداری کو فروغ دینا ہوگا۔

ریاست کو چاہیے کہ وہ ایسے قوانین نافذ کرے جو اختلاف کو دبانے کے بجاے اسے سماجی ترقی کے ایک عنصر کے طور پر تسلیم کریں۔ تعلیمی نظام کو اس طرح سے ڈھالنا ہوگا کہ طلبہ میں تنقیدی سوچ اور اختلافِ راے کو برداشت کرنے کی صلاحیت پیدا ہو۔ عوام کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ اختلاف دشمنی نہیں، بلکہ ایک مہذب مکالمے کا آغاز ہے۔

اختلاف راے کسی بھی مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہے۔ ہمیں اپنی اجتماعی سوچ کو تبدیل کرنے اور برداشت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ہم ایک پرامن اور ترقی یافتہ معاشرہ بنا سکیں۔ تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ وہ اقوام جو اختلاف کو ایک نعمت کے طور پر اپناتی ہیں، وہی اپنے مستقبل کو روشن بناتی ہیں۔ یہی سبق ہمارے لیے بھی ضروری ہے۔