ریاستِ پاکستان کے بارے میں غامدی صاحب کا موقف یہ ہے کہ یہ نہ اُس طرح کی مذہبی ریاست ہے، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے جزیرہ نماے عرب میں قائم کی تھی اور جس میں کسی غیر مسلم کو شہریت کا حق حاصل نہیں تھا اور نہ یہ کسی فرد یا گروہ کی مقبوضہ ریاست ہے، جس میں بادشاہ یا حکمران کا مذہب ہی ریاست کا مذہب قرار پاتا ہے۔ اِس کا شمار جدید دور کی قومی ریاستوں میں ہوتا ہے، جو بین الاقوامی معاہدوں کی بنا پر قائم ہوتی ہیں۔ اِن میں قومیت کی اساس رنگ و نسل یا نظریہ اور مذہب نہیں، بلکہ ملک ہوتا ہے۔ چنانچہ ہندوستان میں رہنے والے مسلمان ہندوستانی کہلاتے ہیں اور شہریت کے معاملے میں ہندوؤں کے مساوی حقوق کے حامل ہوتے ہیں اور پاکستان میں رہنے والے ہندو پاکستانی کہلاتے ہیں اور ملک کے مسلمان باشندوں کی طرح اول درجے کے شہریوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ہندوستانی ہونے سے نہ اُن کے مسلمان ہونے پر حرف آتا ہے اور نہ پاکستانی ہونے سے اِن کے ہندو ہونے پر۔ اُن کے نزدیک یہی وہ حقیقت ہے جسے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے پہلی دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اِن الفاظ میں بیان کیا تھا:
’’اب ہمیں اِس بات کو ایک نصب العین کے طور پر اپنے پیش نظر رکھنا چاہیے اور پھر آپ دیکھیں گے کہ جیسے جیسے زمانہ گزرتا جائے گا نہ ہندو ہندو رہے گا، نہ مسلمان مسلمان۔ مذہبی اعتبار سے نہیں، کیونکہ یہ ذاتی عقائد کا معاملہ ہے، بلکہ سیاسی اعتبار سے اور ایک مملکت کے شہری کی حیثیت سے۔‘‘ (قائد اعظم: تقاریر و بیانات 4/ 359)
اِس تفصیل سے واضح ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک مسلم تشخص اور پاکستانی تشخص نہ باہم مغائر ہیں اور نہ لازم و ملزوم۔ ایک مسلمان، مسلمان ہوتے ہوئے جس طرح عرب بھی ہو سکتا ہے اور امریکی، ایرانی اور افغانی بھی ہو سکتا ہے، اُسی طرح پاکستانی بھی ہو سکتا ہے، لیکن پاکستانی ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ لازماً مسلمان بھی ہو گا۔ پاکستان کے مسلمان مذہبی اعتبار سے تقسیم ہند سے پہلے بھی مسلمان تھے اور بعد میں بھی مسلمان رہے۔ تاہم، قومی اعتبار سے وہ پہلے ہندوستانی تھے اور بعد میں پاکستانی ہو گئے۔ چنانچہ غامدی صاحب کے موقف سے اِس طرح کا تاثر قائم کرنا صحیح نہیں ہے کہ وہ تحریکِ پاکستان کے تناظر میں دو قومی نظریے کو درست نہیں سمجھتے۔ ایسا ہر گز نہیں ہے، وہ مذہبی تشخص کی بنیاد پر جداگانہ قومیت کے تصور اور اُس کے نتیجے میں علیحدہ وطن کے مطالبے کو بالکل جائز قرار دیتے ہیں۔ البتہ، وہ اِسے ایک خالص سیاسی مطالبہ سمجھتے ہیں، جس کا دین و شریعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ چنانچہ اُن کے نزدیک یہی وجہ ہے کہ نہ بانی پاکستان نے اِسے دین کے مطالبے کے طور پر پیش کیا ہے اور نہ کانگرس کے مسلمان علما نے اِسے شریعت کے منافی قرار دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’… تحریکِ پاکستان کے زمانے میں اگر مسلمانوں کا اصرار تھا کہ وہ ہندوؤں کے مقابل میں الگ قوم ہیں اور اِسی بنیاد پر ہندوستان میں اپنے لیے الگ ملک کا مطالبہ کرتے ہیں تو اِس میں بھی کوئی غلطی نہیں تھی اور پاکستان بننے کے اگلے ہی دن اگر اُنھوں نے اپنے لیے پاکستانی قومیت کا اعلان کر دیا تو دین و شریعت کی رو سے اِس پر بھی کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔ سیاسی نقطۂ نظر سے تو کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ اُس کے نزدیک مولانا ابوالکلام آزاد اور قائداعظم محمد علی جناح میں سے ایک کا موقف صحیح اور دوسرے کا غلط تھا اور ہم اُس سے اتفاق یا اختلاف بھی کر سکتے ہیں، لیکن مذہبی نقطۂ نظر سے دونوں کے موقف پر کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ مولانا ابوالکلام آزاد کے موقف پر قائد اعظم نے بھی اِس لحاظ سے کبھی کوئی اعتراض نہیں کیا۔‘‘
(مقامات223)
یہ ریاست اور اُس کی قومی شہریت کے حوالے سے جناب جاوید احمد غامدی کا موقف ہے کہ اُن کو مذہبی تشخص کا حامل نہیں ہوناچاہیے، لیکن جہاں تک حکومت کا تعلق ہے تو اگر وہ مسلمانوں کی منتخب حکومت ہے تو وہ نہ صرف اسلامی تشخص کی آئینہ دارہے، بلکہ اُن تمام احکام کی پابندی کی مکلف ہے جنھیں شریعت نے اُس کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔ یعنی اُس کا نظام ’اَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ‘ کے اصول پر مبنی ہو گا۔ وہ اپنے مسلمان شہریوں سے نماز کا مطالبہ کرے گی اور جمعہ اور عیدین کی نمازوں کا خود اہتمام کرے گی، زکوٰۃ کا نظام قائم کرے گی، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ دار ہو گی اور اِس مقصد کے لیے ادارے قائم کرے گی، ریاست کے مسلمان شہریوں پر اسلام کے حدود و تعریزات کو نافذ کرے گی، اسلام کی دعوت دنیا تک پہنچانے کے لیے اپنے وسائل بروے کار لائے گی اور اگر اِس دعوت میں دنیا کی کوئی طاقت رکاوٹ پیدا کرے گی تواُس کو اپنی استطاعت کے مطابق دور کرے گی اور اِس مقصد کے لیے اگر جہاد و قتال کی ضرورت پیش آ جائے تو اُس سے بھی دریغ نہیں کرے گی۔ غامدی صاحب نے دین و شریعت کے اِن تمام نکات کو اپنے جوابی بیانیے میں پوری صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے اورتاکید کے طور پر سورۂ مائدہ کی یہ تنبیہ بھی نقل کی ہے کہ جو حکمران اِن شرعی احکام کو نافذ نہیں کریں گے، وہ اللہ کے حضور ظالم، فاسق اور کافر قرار پائیں گے۔ لکھتے ہیں:
’’نظم اجتماعی سے متعلق یہ شریعت کے احکام ہیں اور اِس تنبیہ و تہدید کے ساتھ دیے گئے ہیں کہ جو لوگ خدا کی کتاب کو مان کر اُس میں خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتے، قیامت کے دن وہ اُس کے حضور میں ظالم، فاسق اور کافر قرار پائیں گے۔‘‘(مقامات 208)