جامع مسجد کے بارے میں غامدی صاحب کا موقف ہے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں جمعہ اور عیدین کی نمازوں کا اہتمام ہوتا ہے۔ اِن نمازوں کا انتظام و انصرام چونکہ حکومت کی ذمہ داری ہے، اِس لیے اِن مساجد کے معاملات کو حکومت کے کنٹرول میں ہونا چاہیے۔ چنانچہ اُنھوں نے لکھا ہے:
’’نماز جمعہ اور نماز عیدین کا اہتمام حکومت کرے گی۔ یہ نمازیں صرف اُنھی مقامات پر ادا کی جائیں گی جو حکومت کی طرف سے اُن کے لیے مقرر کر دیے جائیں گے۔ اِن کا منبر حکمرانوں کے لیے خاص ہو گا۔ وہ خود اِن نمازوں کا خطبہ دیں گے اور اِن کی امامت کریں گے یااُن کی طرف سے اُن کا کوئی نمایندہ یہ ذمہ داری ادا کرے گا۔ ریاست کے حدود میں کوئی شخص اپنے طور پر اِن نمازوں کا اہتمام نہیں کر سکے گا۔‘‘(مقامات206)
اِس سے واضح ہے کہ غامدی صاحب شریعت کی رو سے تین باتوں کو ضروری قرار دیتے ہیں:
اول یہ کہ جمعہ اور عیدین کی نمازوں کا اہتمام حکومت کی ذمہ داری ہے۔
دوم یہ کہ یہ نمازیں حکومت کے زیرِ انتظام جامع مساجد میں یا دیگر مقررہ مقامات ہی پر ادا ہونی چاہییں۔
سوم یہ کہ ان نمازوں میں خطبے کا فریضہ حکمران یا اُن کا نمایندہ انجام دے۔
جمعہ مصر جامع میں منعقد ہو گا اور اُس کا منبر حکمرانوں کے لیے خاص ہو گا، یہ فقط غامدی صاحب کا موقف نہیں ہے، امام ابو حنیفہ اوردیگر ائمۂ احناف اِسی موقف کے قائل ہیں۔ اُنھوں نے اِسے جمعے کے لازمی شرائط میں شامل کیا ہے۔ ائمۂ ثلاثہ تو اِس معاملے میں مختلف راے رکھتے ہیں، مگر فقہ حنفی کا معلوم و معروف اور مسلمہ موقف یہی ہے۔ اِس بات کا اندازہ فقہ حنفی کے ایک جید عالم مولانا زاہد الراشدی کے درجِ ذیل اقتباس سے کیا جا سکتا ہے۔ یہ اقتباس ’’برصغیر کے فقہی اور اجتہادی رجحانات کا ایک جائزہ‘‘ کے زیرِ عنوان اُن کے ایک مفصل مضمون سے اخذ کیا گیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’1857ء کے بعد ایک علمی مسئلہ یہ درپیش ہوا کہ حنفی فقہ میں جمعہ کی نماز اجتماعی طور پر ادا کرنے کے لیے یہ شرط ہے کہ امام حکومت کی طرف سے مقرر کردہ ہو،جب کہ دہلی کے اقتدار پر تاج برطانیہ کا قبضہ ہو جانے کے بعد کوئی مجاز حکومت موجود نہیں رہی تھی، جو امام و خطیب کا تقرر کر سکے یا جس کا باضابطہ نمائندہ نمازِ جمعہ میں خطبہ و امامت کا فریضہ سرانجام دے سکے تو اب نمازِ جمعہ کی ادائیگی کیسے ہو گی؟ اِس پر علماے کرام نے اجتماعی طور پر یہ راستہ اختیار کیا کہ کسی امام پر مسلمانوں کی اکثریت کی رضا مندی کو اسلامی حکومت کی طرف سے تقرری کا قائم مقام قرار دیتے ہوئے اِس شرط میں لچک پیدا کی اور جمعۃ المبارک کو ساقط کرنے کے بجائے اُس کا تسلسل باقی رہنے دیا۔ یہ بلاشبہ ایک اجتہادی عمل تھا، جو 1857ء کے بعد سامنے آیا، جب کہ بعض حلقوں میں اِس صورت میں جمعہ کی ادائیگی کے ساتھ احتیاطاً ظہر کی نماز کی ادائیگی کو بھی ضروری سمجھا جاتا ہے۔‘‘
(ماہنامہ الشریعہ، اکتوبر2013ء)