مواد پر جائیں

پتھر

جاوید احمد غامدی اردو

فلک مقام پہاڑوں میں ہر طرف پتھر

سپید و سرخ مثالِ وجود گونا گوں

یہ سب جمود و صلابت میں مثلِ چرخ بری

نہ اُن میں گرم نگاہی، نہ اُن میں سوزِ دروں

اِسی زمین پہ کھوئے ہوئے زمانوں میں

کیا ہے چشمِ فلک نے عجیب نظارہ

شہیدِ جلوۂ یزداں ہوا کوئی پتھر

کسی کے جسم سے پھوٹا ہوا ہے فوارہ

میں اپنی قوم سے پوچھوں کہ تیرے پہلو میں

یہ ایک دل ہے کہ نرم و گداز مثلِ حریر

میں پوچھتا ہوں کہ میری ہزار سالہ نوا

یہ کیا کہ اِس پہ ہمیشہ رہی ہے بے تاثیر

نوا کہ چاہے تو پتھر کو جوے آب کرے

غیابِ قدرتِ یزداں کو بے حجاب کرے