]اگست کی13 (بروز اتوا ر)کوپروفیسرالطاف احمداعظمی بھی اللہ کوپیارے ہوگئے۔
اناللہ واناالیہ راجعون۔
ڈاکٹرالطاف احمداعظمی کی وفات پر فیس بک پرایک پوسٹ راقم نے لکھ دی تھی،
لیکن احباب کا تقاضاہوا کہ ایک مکمل مضمون ان پر لکھاجائے۔
اے روشنیِ طبع توبرمن بلاشدی[
یادش بخیرالطاف احمد اعظمی صاحب کا نام پہلی بار اُس وقت سنا جب راقم جامعۃ الفلاح میں فضیلت دوم کا طالب علم تھا۔ مدرسۃ الاصلاح میں علامہ فراہی پر 1991ء میں ایک کل ہند سیمینار ہوا تھا جس میں راقم اپنی ناسازیِ طبع کی بنا پر شریک نہیں ہو پایا تھا۔ البتہ سیمینار میں شریک علما و دانش وروں میں سے دو نام طلبا کے مابین بحث وگفتگوکا موضوع بنے؛ ان میں سے ایک مولانا سلطان احمد اصلاحی تھے اور دوسرے الطاف احمداعظمی۔صدحیف کہ اب دونوں ہی رحلت کر گئے ہیں۔
مؤخرالذکرکے خیالات پر استادمحترم مولاناعنایت اللہ سبحانی نے کلاس میں یہ تبصرہ کیا کہ ”علامہ فراہی کی طرف انھوں نے بعض وہ خیالات منسوب کردیے ہیں جو ان کی عبارتوں سے نہیں نکلتے“۔اس کے کچھ عرصہ بعد 1999ء میں مدرسۃ الاصلاح ہی میں مولانا امین احسن اصلاحی پر سیمینارہواجس میں راقم بہ طورمقالہ نگارکے شریک ہوا،اسی سیمینارمیں شرکت کے لیے پاکستان سے مولانا اصلاحی کے تلمیذ رشید جناب خالد مسعود صاحب کا ورود مسعود ہوا تھا اور راقم کو ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔اس سیمینارمیں دونوں بزرگوں مولانا سبحانی اور الطاف احمد اعظمی کے مابین تلخ علمی نوک جھونک کا مشاہدہ ہوا۔ بہرحال اس کے بعد راقم مزیدتعلیم اورغم روزگار میں ایساالجھارہاکہ دہلی میں رہتے ہوئے بھی الطاف اعظمی صاحب سے ملاقات کا خیال بہت دنوں تک نہیں آیا،جو مدت سے دہلی میں ہی رہتے تھے۔دہلی میں جامعۂ اسلامیہ سنابل (جہاں سے راقم نے عالمیت کی ہے) نے علما کی ایک کل ہند ورکشاپ جامعۂ محمدسعود الاسلامیہ سعودی عرب کے تعاون سے منعقدکی تو اس کی افتتاحی تقریب میں دوسرے اہم علما کے ساتھ ڈاکٹرالطاف اعظمی نے بھی خطاب کیاتھا۔ وہ اس وقت جامعہ کے بانی مولانا عبدالحمید رحمانی مرحوم کے قریب تھے۔اب خطاب کے مندرجات تویادنہیں، البتہ عقیدہ کے تحت انھوں نے تمام علما کے سامنے تصوف کے نظریاتی پہلوؤں پر شدیدتنقیدکی تھی۔ کچھ عرصہ بعد اسی جامعہ کے آرگن”التوعیہ“ میں ڈاکٹر اعظمی کے کئی تفسیری مقالات شائع ہوئے اوربعض مقالات پرسلفی علما کے استدراک بھی آئے تو ان سے دیدوشنیدکی تقریب پیداہوئی۔
حکیم الطاف احمد اعظمی شمالی ہندکے مشہورضلع اعظم گڑھ کے ایک گاؤں بھاٹن پارہ میں 2 جولائی 1942کوپیداہوئے۔قریب کے گاؤں سکرورمیں درجۂ سوم تک پڑھنے کے بعدمزید تعلیم کے لیے1955ء میں مدرسۃ الاصلا ح سراے میر میں داخلہ لیا، جہاں انھوں نے 1962ء تک پڑھا۔1 پرائمری،ثانوی اورتین سال عربی یعنی سات سال مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعدعربیِ سوم کے بعد مدرسی تعلیم بیچ میں ہی چھوڑکروہ عصری تعلیم کی طرف چلے گئے۔یہ تونہیں معلوم ہو سکاکہ کس وجہ سے دینی روایتی تعلیم ادھوری چھوڑی، لیکن بعدمیں ان کی یہ راے سامنے آئی کہ”مدارس کا نصاب جس میں مدرسۃ الاصلاح بھی شامل ہے، غیر قرآنی ہے“۔ بہرحال پرائیویٹ امتحانات دے کرلکھنؤ کے اسٹیٹ تکمیل الطب کالج میں ایک سال پڑھا۔ وہاں کے روایتی طرزتعلیم سے اکتا کر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں داخلہ لیا،جہاں سے1969ء میں بی یو ایم ایس کیا۔ علی گڑھ میں انھوں نے بہت متحرک زندگی گزاری،اسٹوڈنٹس پالیٹکس میں حصہ لیایہاں تک کہ اسٹوڈنٹس یونین کے صدربھی رہے۔
واضح رہے کہ علی گڑھ کی اسٹوڈنٹس سیاست مسلمانان ہندکی زندگی میں بڑا اہم رول اداکرتی رہی ہے۔ ماضی میں یہیں کی سیاست سے نکل کر بہت سے مسلمان لیڈر وجود میں آئے۔ آج بھی ہندکی مسلم سیاسی وملی لیڈرشپ میں ان کا بڑاحصہ ہے۔تاہم علی گڑھ میں جس جذباتیت کا دوردورہ تھا اورآج بھی ہے، نوجوان الطاف احمد جوسرسیدکی تحریریں پڑھنے کی وجہ سے ایک خالص عقلی اور ریشنل مائنڈسیٹ کے آدمی بن گئے تھے، وہ اس جذباتی ملی سیاست میں کھپ نہ سکتے تھے۔وہ بہت جلدی یہاں کی سیاست سے توبہ کرکے واپس وطن آ گئے۔اوروطن کے قریب جون پور میں مطب کرنے لگے۔یہاں 1984ء تک مطب کرتے رہے۔واضح رہے کہ یہ وہی جون پورہے جس کوشرقی سلاطین کے زمانہ میں شیراز ِہند کہا جاتا تھا۔
انھوں نے ایک انٹریومیں بتایاکہ جون پورمیں مطب کے زمانہ میں وہ موجودہ فکراسلامی سے سخت بیزارہوگئے تھے۔ علماکی تحریریں عقلی طور پر ان کومطمئن نہیں کرتی تھیں۔ کچھ دنوں الحاد بھی ان پر طاری رہا اور روزہ نماز بھی چھوٹ گیا۔پھرانھوں نے طے کیا کہ خودسے دین کوسمجھنے کی کوشش کریں گے۔بنیادی عربی آتی تھی، اس کو مزید بڑھایا اور پانچ سال تک راتوں کو جاگ کر انھوں نے عربی زبان پڑھی ا وردینی علوم، خاص طور پر قرآن کا خودمطالعہ کیا۔قرآن کا مطالعہ بقول ان کے بغیرکسی تفسیرکے کیا۔ اس کے بعد اپنی پہلی کتاب ”وجودِخداکا اثبات قرآن و سائنس کی روشنی میں“لکھی۔2
اس کے بعدجامعۂ ہمدردکے بلندنگاہ بانی حکیم عبدالحمیدنے الطاف احمداعظمی کودہلی بلایا۔حکیم صاحب کو طب میں ان کی تحقیقی صلاحیتوں کا اندازہ تھا چنانچہ ان کی تحریک پر انھوں نے Indian Institute of History on Medicine and medical Research کو بہ طور سینئرمحقق کے جوائن کیا، جوبعدمیں جامعۂ ہمدردمیں تبدیل ہوا اور وہ 2004ء میں یہیں سے ریٹائرہوئے۔سروس کے دوران میں ہی انھوں نے جامعۂ ہمدرد سے ’یونانی میڈیسن میں‘ پی ایچ ڈی بھی کی۔یہاں وہ تدریس کے علاوہ شعبۂ تاریخِ طب وسائنس کے صدربھی رہے۔قرآن مجید اور تاریخ طب، دونوں ان کی دل چسپی کے میدان تھے۔ جامعۂ ہمدرد سے ریٹائرہونے کے بعدوہ 2005ء میں کالی کٹ یونیورسٹی میں اسلامک اسٹڈیز کے وزٹنگ پروفیسربھی رہے۔3
بعد ازاں کچھ عرصہ کے لیے دہلی اردو اکیڈمی کے چیئرمین بھی بنائے گئے جوایک سرکاری منصب ہے۔ یاد رہے کہ الطاف احمد اعظمی اردوکے باذوق شاعربھی تھے۔اوران کادیوان بھی شائع ہواجس کا نام ہے ’’فغان نیم شب“۔ ایک ملاقات میں انھوں نے اپنادیوان اورایک مجموعۂ مقالات راقم کو دیا تھا اور اس پر اپنے ہاتھ سے لکھاتھا:’’محب گرامی ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی کے لیے‘‘۔ کچھ عرصہ بعد ان کا دوسرامجموعۂ کلام ’’چراغ شب گزیدہ‘‘کے نام سے دہلی سے شائع ہوا۔ ان کے ادبی مقالات کا مجموعہ ”سخن ہاے گفتنی“کے نام سے شائع ہوا۔جس میں شبلی، اقبال، اکبر الٰہ آبادی پر مختلف و متنوع پہلؤوں سے گفتگوکی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایک مقالہ ”اردو شاعری پر ایک اجمالی نظرادبی تحریکات کے حوالہ سے “لکھاہے۔4
علم کی دنیامیں الطاف احمداعظمی پوری طرح سیلف میڈآدمی تھے۔مزاج میں تیزی اور طبیعت میں جدت تھی۔ ذہن تحقیق کا جویا۔ روایتی نقطۂ نظرسے، وہ چاہے اسلامیات میں ہو یا طب کی دنیا، میں ان کی نبھ نہیں پاتی تھی۔ اس لیے روایتی اطبا سے بھی ان کی ٹھنی رہتی اورروایتی علما سے بھی۔ حالانکہ اعلیٰ درجہ کے نباض تھے۔ سوچنا اور سوال اٹھانا فطرت میں شامل تھا اور بے لاگ انداز میں جو سمجھتے تھے اس کا اظہارکردیتے۔ اور غالباً یہی چیز ہے جس کی وجہ سے ان میں علمی تواضع و انکساری کم اورحد درجہ خود اعتمادی وبے پناہ جرأت ِاظہارپائی جاتی تھی۔بعض لوگ شاید اس کوادعا وتعلیٰ کی سی کیفیت سے تعبیرکریں۔
کہتاہوں وہی بات سمجھتاہوں جسے حق
نے آبلۂ مسجد ہوں نہ تہذیب کا فرزند
اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی ناخوش
میں زہرہلاہل کوکبھی کہہ نہ سکاقند
الطاف احمداعظمی صاحب کاایک اہم کارنامہ ان کی تفسیر ’’میزان ا لقرآن‘‘ ہے جوتین جلدوں میں مع مقدمۂ تفسیرکے مکتبۃ الحسنات، دہلی سے شائع ہوئی ہے۔وہ موجودہ دورکی اہم تفاسیرمیں شمارکی جانی چاہیے۔اس میں مفسرنے متنِ قرآن،ترجمہ اورپھرحواشی دے کرتفسیری نوٹ لکھے ہیں۔ انھوں نے لغتِ عربی اورنظمِ قرآن کی رعایت کی ہے۔وہ سابقہ مفسرین کی آرا کی پابندی نہیں کرتے، حتیٰ کہ مکتب فراہی کے علما سے بھی خو ب اختلاف کرتے ہیں، مثال کے طورپر، سورۂ فیل کی تفسیرمیں انھوں نے علامہ فراہی سے بالکل الگ ہٹ کرتفسیرکی ہے۔5 (وہ کہتے ہیں کہ مولانا فراہی کی تفسیرنئی ہے اور اس لحاظ سے قابل ِتحسین ہے، مگروہ قرآنی نظائرکے بالکل خلاف ہے۔ دیکھیے ’’میزان القرآن‘‘ تیسری جلد،سورۂ فیل کی تفسیر۔ ان کی راے میں ابرہہ کے لشکر کی ہلاکت کا سبب چیچک تھی۔ اسی کو ’طیراً ابابیل‘ سے تعبیرکیاگیاہے۔ ابابیل سنگ ریزے نہیں پھینک رہے تھے)۔ اورواقعہ یہ ہے کہ اختلاف کی گنجایش کو تسلیم کرتے ہوئے یہ کہناپڑتاہے کہ جہاں بھی انھوں نے دوسرے مترجموں اورمفسروں سے اختلاف کیاہے وہا ں اکثرجگہوں پران کی راے دل کولگتی اوراپیل کرتی ہے۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ تفسیر بڑی عام فہم ہے۔
ڈاکٹراعظمی کہتے تھے کہ ”قرآن مجیدمتن بھی ہے اورشرح بھی۔علما نے قرآن کو جو مجمل قرار دیا جسے حدیث کھولتی ہے، وہ بالکل غلط ہے۔“
ایک انٹرویومیں انھوں نے بتایا کہ”میں شاہ ولی اللہ محقق سے متاثرہوا۔ شاہ ولی اللہ صوفی نہیں، اس کے بعدسر سید اور مولانا فراہی سے۔سرسید برصغیرکے سب سے بڑے مفسرِقرآن ہیں۔ اردو میں ان کی تفسیرسے بڑھ کرکوئی تفسیرنہیں لکھی گئی۔ اگر سرسید نہ ہوتے تومولانافراہی بھی نہ ہوتے،مولاناآزادبھی نہ ہوتے۔“6
قرآن کے ترجمہ کے بارے میں ایک سوا ل کے جواب میں انھوں نے کہاکہ ’’مولانامودودی کی تفسیرمیں انشا پردازی ہے،بڑ ی معلومات ہیں، لیکن ترجمہ آزادکیاہے اور اس وجہ سے بے شمار غلطیاں کی ہیں۔ اگران کی غلطیوں کوجمع کیاجائے توکئی جلدیں بن جائیں۔‘‘7 (یادر ہے کہ والد ماجد علامہ شبیر احمد ازہر میرٹھی رحمہ اللہ کی تفسیر ’’مفتاح القرآن‘‘ میں جگہ جگہ مولانا مودودی کی تفسیری غلطیوں پر گرفت کی گئی ہے۔کیونکہ وہ برصغیرمیں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی تفسیر ہے۔)
ڈاکٹراعظمی مدرسۂ فراہی کی ترجمان اہم تفسیر ’’تدبرقرآن‘‘ کے بارے میں بھی الگ ہی خیال رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دوسری تفاسیرکے مقابلے میں بہت بلند اور منفرد ہے، لیکن خود مولانا فراہی کے اصولوں کی روشنی میں کمزورہے۔مولانااصلاحی ابتدائی دوجلدوں میں تو اپنے استادکے اصولوں کوبرت سکے، اس کے بعد وہ اس معیارکوبرقرارنہ رکھ سکے۔ہاں، اس میں اطناب اور انشا پردازی بہت ہے۔ اسی طرح تدبر کا ترجمہ بھی بہت رواں اوراچھانہیں ہے۔ مفردات کی تحقیق اچھی کی ہے، لیکن بہت سے موضوعات پر تحقیق نہیں ہے۔8 مولانافراہی کا اصل کارنامہ تاصیل (اصول سازی)ہے۔ اب اس پرمزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔
تفسیرکے علاوہ بھی اعظمی صاحب کی بہت سی کتابیں ہیں جوان کی بصیرت ونکتہ رسی اور ناقدانہ صلاحیتوں کی گواہی دیتی ہیں۔جن میں ایک اہم کتاب ”احیاے ملت اور دینی جماعتیں“ ہے۔ بلکہ یہی کتاب ہے جو راقم نے سب سے پہلے پڑھی اورپھران کا نیاز مند ہوگیا۔ اورجب تک دہلی میں رہاگاہے بگاہے ان کے ہاں حاضری ہوتی رہی۔اس کتاب میں اعظمی صاحب نے مولانا ابو الکلام آزاد، مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی اورعلماے دیو بند و جمعیت علماے ہند نیز تبلیغی جماعت ان سب کی فکر اور علمی وعملی کاموں کا گہرائی کے ساتھ قرآن کی روشنی میں ناقدانہ جائزہ لیا ہے۔ مولانا مودودی اور جماعت اسلامی کی فکر پر ان کی تنقیدمولانا وحید الدین خاں کے نقد سے ملتی جلتی، بلکہ مستعارہے۔(اگرچہ اس کا حوالہ کہیں نہیں دیاہے) لیکن امام الہند مولانا آزاداورجمعیت علماے ہند پر ان کی تنقیدجرأتِ رندانہ سے کم نہیں۔ اس کتاب میں وہ بجاطور پر ایک بت شکن کے طور پر سامنے آتے ہیں۔لیکن کسی اچھے ادارے سے شائع نہ ہو سکنے کی بنا پر یہ کتاب اُس توجہ اور بحث و مباحثہ کا موضوع نہ بن سکی جو اس کا حق تھا۔ تیسری اہم کتاب”خطباتِ اقبال، ایک مطالعہ“ ہے۔ اس میں انھوں نے قرآن کی روشنی میں اقبال کے افکار و خیالات کاناقدانہ مطالعہ کیاہے۔یہی نہیں، بلکہ ان کی بیش ترتنقیدیں قرآن کی روشنی میں ہی ہوتی تھیں۔چنانچہ جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ قرآن کی روشنی میں ہی انھوں نے برصغیرکی بڑی شخصیات آزاد،اقبال اورموددوی کامطالعہ کیا۔ آزاد کا تو کوئی مکتبِ فکرنہیں، مگراقبال کے مریدان باصفانے ان کی تنقیدوں کابرامانا۔جب ان کی خطبات اقبال چھپی تو اقبال اکیڈمی، اسلام آباد پاکستان کے رکن جناب خرم علی شفیق صاحب نے کتاب پرتبصرہ کرتے ہوئے اس کویوں کہتے ہوئے مستردکردیاکہ ”اقبال کوپڑھنے اور نقد کرنے کے لیے فلسفہ جاننابے حدضروری ہے اور اعظمی صاحب فلسفہ سے واقف نہیں، لہٰذا ان کی تنقید القط“۔ راقم نے اقبال ریویومیں یہ تبصرہ پڑھ کر اس کی فوٹو کاپی لی اور اس کولے کراعظمی صاحب کے پاس حاضر ہوا۔ انھوں نے غالباً اس کا جواب لکھا ہو گا، مگر راقم کو اس بارے میں معلوم نہ ہو سکا کہ وہ کہیں چھپایانہیں۔
پروفیسر الطاف احمد اعظمی کی چوتھی اہم کتاب ”تفہیم سرسید“ہے۔ اس میں انھوں نے علما کے اس رویہ پرتنقیدکی ہے کہ انھوں نے سرسید کو بالکل ہی مسترد کر دیا۔ حالانکہ سرسید کی تفسیر اور دوسری نگارشات میں بہت کچھ روشنی موجودہے جس سے استفادہ کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے مدلل انداز میں علما کے سرسید پر تمام اعتراضات کا جواب دیا ہے۔ اعظمی صاحب نے اس کتاب میں سرسید کی کمزوریوں اورغلطیوں کابھی جائزہ لیاہے، ساتھ ہی ان کے اجتہادات اور تجدیدی آرا کا بھی تذکرہ کیا اور ان کو سراہا ہے۔ یہ کتاب سرسید اکیڈمی سے چھپی ہے اور مطالعاتِ سرسیدی میں بہت کچھ اضافہ کرتی ہے۔ اس کتاب سے اور ان کی دوسری تحریروں سے ظاہرہوتاہے کہ الطاف صاحب سرسید کے تو بہت قائل ہیں، مگر مولانا آزاد کے شدید ناقد۔
’’جادہ ومنزل‘‘:یہ کتاب اعظمی صاحب کے علمی مقالات کا مجموعہ ہے جومختلف اوقات میں بعض شخصیات پر لکھے گئے ہیں اور کچھ موضوعاتی قسم کے ہیں۔ یہ ابن رشد، شاہ ولی اللہ، سید احمد شہیدکی تحریک، سرسید، شبلی، مولانا آزاد، مولانا امین احسن اصلاحی،مولانا منت اللہ رحمانی اور قاری محمدطیب کے اجتہادکے اوپر ہیں۔ مولانا امین احسن اصلاحی پرلکھتے ہوئے انھوں نے یہ خیال ظاہرکیاہے کہ مولانا کا تصور سنت و حدیث اپنے استاد مولانافراہی کے تصورسے بالکل الگ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ”مولانااصلاحی سنت بول رہے ہوتے ہیں، مگر ان کے ذہن میں حدیث ہوتی ہے، اس لیے بہ ظاہر سنت و حدیث کو الگ الگ قرار دینے کے باوجود وہ عملاً دونوں میں فرق کوملحوظ نہیں رکھ سکے ہیں“۔9
اس کے علاوہ تصوف کے ناقدانہ مطالعہ کے ضمن میں ”وحدت الوجودایک غیراسلامی نظریہ“ ہے جوکافی دقیق بحثوں پرمشتمل ہے اوروحدت الوجودکے تاروپودبکھیردیتی ہے۔
’’توحید کا قرآنی تصور‘‘ اور ’’ایمان و عمل کا قرآنی تصور‘‘، یہ دونوں کتابیں بھی بنیادی نوعیت کی ہیں اوراصلاحی نقطۂ نظررکھتی ہیں۔ان تینوں کتابوں میں ڈاکٹراعظمی بجاطورپر توحیدکے بارے میں بہت حساس نظرآتے ہیں اورامت مسلمہ میں بڑی شدت کے ساتھ پائی جانے والی اولیا پرستی اور شرک کی دوسری صورتوں کے خلاف شمشیربراں ہے۔
ان کی ایک اہم کتاب”مولاناحمیدالدین فراہی کے بنیادی افکار“ نئی دہلی سے شائع ہوئی۔ اس کتاب میں ان تحریروں کوجمع کیا گیاہے جو انھوں نے وقتاً فوقتاً مولانا فراہی کے افکار پر لکھی ہیں۔ چند مقالات کے عنوان یہ ہیں:حدیث کے بارے میں مولانافراہی کا نقطۂ نظر،فی ملکوت اللہ مولانا فراہی کی ایک اہم تصنیف،تفہیم انجیل اورمولانافراہی۔نظریۂ نظم قرآن اورمولانافراہی۔
ڈاکٹراعظمی نے شبلی پر کئی جہتوں سے لکھاہے۔شبلی کی تنقید، انشا پردازی، ندوۃالعلما اورعلما سے ان کا تعامل وغیرہ۔ اس کے علاوہ انھوں نے ایک کتاب سیرت النبی کے علمی جائزہ پر بھی لکھی ہے جس میں ان کا کہناہے کہ ”شبلی کی سیرت النبی اردوکی سب سے عظیم سیرت ہے۔ مگر اس میں بھی کمیاں رہ گئی ہیں۔ یہ زیر تصنیف تھی، شبلی اس پر نظرثانی نہیں کر سکے تھے۔ اور مولانا سید سلیمان ندوی نے افسوس کہ اپنے استادکے ساتھ وفانہیں کی۔ شبلی کے معمولی اعتزال کو انھوں نے اپنی اہل حدیثیت سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی۔ شبلی کی بہت سی عبارتیں بدلیں۔ مقدمہ میں اپنی طرف سے بہت کچھ بڑھا دیا۔ میں نے اس سب کا جائزہ لیاہے۔“10
بنیادی طور پر ڈاکٹرالطاف اعظمی مدرسۂ فراہی سے ہی وابستہ خیال کیے جاتے ہیں، مگریہ بات بڑی عجیب ہے کہ اپنی تحقیقا ت اور فکر و خیال کے لیے وہ کسی بھی شخصیت کا حوالہ دینا پسند نہیں کرتے تھے۔ انھوں نے حج کاسفرنامہ بھی لکھا۔
ان کے علاوہ بھی اعظمی صاحب کی متعددکتابیں ہیں۔ کئی ابھی شائع بھی نہیں ہوسکی ہیں۔ وہ معارف،ترجمانِ دار العلوم، التوعیہ، التبیان وغیرہ رسالوں میں برابر چھپا کرتے۔ وہ بہترین مقرر اور مشاقTable talker تھے جوگھنٹوں اپنے موضوع پرگفتگوکاملکہ رکھتے تھے۔ گفتگو مدلل اور منطقی ہوتی۔ عرصہ دراز سے خانہ نشین تھے اور بہت کم لوگوں سے خلا ملا رکھتے۔ جلسوں، مذاکروں اور سیمیناروں میں جانا انھوں نے بالکل چھوڑ دیا تھا۔ یہاں تک کہ فون کا استعمال بھی بہت کم کرتے تھے۔
اعظمی صاحب کوکروناکی عالمی وباکے دوران میں کرونا ہو گیا تھا اور وہ خاصے دنوں تک اس سے متاثر رہے، بعد میں کچھ افاقہ تو ہو گیا تاہم ان کی صحت کافی متاثر ہو گئی تھی۔ اس کے بعد ان میں کینسر کی بھی تشخیص ہوئی اور ان کی طویل علالت کی خبریں برابر آ رہی تھیں۔ ان کی وفات سے ایک دیدہ ور مصنف، صاحب نظر عالم، صائب الراے مفسر اور صاحبِ بصیرت ناقد و مصلح سے مسلمانان ہند محروم ہو گئے۔ خاک سار کو ان سے ایک دورکی نسبت یہ تھی کہ وہ والد ماجد علامہ شبیر احمد ازہر میرٹھی کے شاگرد تھے، جن کو والد ماجد نے مدرسۃ الاصلاح سراے میر، اعظم گڑھ میں پڑھایاتھا۔
کعبہ سے ان بتوں کوبھی نسبت ہے دورکی
امیدہے کہ پروفیسرالطاف احمداعظمی مرحوم کی غیرمطبوعہ کتابیں اور مقالے بھی جلد ہی منظر عام پر آئیں گے اور نئی نسل اس نئی علمی صداکی طرف متوجہ ہو سکے گی۔
خورشید ندیم
الطاف احمد اعظمی
الطاف احمد اعظمی صاحب سے میرا پہلا تعارف ان کی کتاب ’’احیاے ملت اور دینی جماعتیں‘‘ سے ہوا۔
دینی تحریکیں ابتدا ہی سے میری دل چسپی کا موضوع ہیں۔ اس کتاب کا عنوان، لازم تھا کہ اپنی طرف متوجہ کرتا۔ یہ ضخیم کتاب جماعت اسلامی، تبلیغی جماعت اور جمعیت علماے ہند کا تنقیدی مطالعہ ہے۔ یہ تینوں تحریکیں برصغیر کی مسلم روایت کا مشترکہ ورثہ ہیں۔ اس لیے اس باب میں بھارت میں کچھ لکھا جائے یا پاکستان میں، سرحد کے دونوں طرف بسنے والے مسلمان کے لیے یکساں دل چسپی کا حامل ہے۔ تقسیمِ ہند کے بعد اور پہلے جماعت اسلامی اور جمعیت علماے ہند کی حکمتِ عملی میں واضح فرق ہے۔ اس کا سبب دونوں کا سیاست سے تعلق ہے۔ تقسیم کے بعد یہ ممکن نہیں تھا کہ پہلے کی حکمتِ عملی کو جاری رکھا جاتا۔ جماعت اسلامی اگرچہ اسی نام سے دونوں ممالک میں کام کرتی رہی، لیکن جمعیت علماے ہند پاکستان میں جمعیت علماے اسلام کے نام سے متحرک ہوئی۔
تبلیغی جماعت نے چونکہ دعوت کو اپنا میدان بنایا اور سیاست سے گریز کیا، اس لیے اسے اپنی حکمتِ عملی میں کسی جوہری تبدیلی کی ضرورت نہیں پڑی۔ ان کا ایک عالم گیر نظم تھا جو قائم رہا۔ جماعت اسلامی اور جمعیت علماے ہند کی آئیڈیالوجی وہی رہی جو پہلے تھی۔ جمعیت علماے اسلام کے تمام دھڑے اپنا فکری اور نظریاتی تعلق جمعیت علماے ہند ہی کے ساتھ قائم رکھے ہوئے ہیں۔ اس لیے بھارت سے تعلق رکھنے کے باوصف، اعظمی صاحب کا یہ مطالعہ ہمارے لیے بھی اسی طرح دل چسپی کا باعث ہے جس طرح کسی بھارتی مسلمان کے لیے۔
الطاف احمد اعظمی صاحب مدرسۃ الاصلاح، سراے میر، اعظم گڑھ کے فارغ التحصیل تھے۔ طبیب بھی تھے۔ جامعۂ ہمدرد سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔ مدرسۃ الاصلاح کو اس خطے کے جلیل القدر عالم امام حمید الدین فراہی کے ساتھ نسبت ہے۔ یہ خطہ اس پر ہمیشہ ناز کرے گا کہ گذشتہ کئی صدیوں میں قرآن مجید کے سب سے بڑے عالم نے اس سرزمین پر جنم لیا۔ امام فراہی ایک مخفی خزانے کا نام تھا۔ ان کے شاگرد امام امین احسن اصلاحی نے، جو خود بھی قرآن مجید کے ایک بڑے عالم تھے، اس خزانے سے صحیح معنوں میں دنیا کو متعارف کرایا جب ان کی تفسیر ’’تدبرِ قرآن‘‘ منصۂ شہود پر آئی۔
یہ کہنا تو مشکل ہے کہ مولانا اصلاحی جیسا امام فراہی کے علم کا کوئی وارث پیدا ہوا، لیکن اس میں شبہ نہیں کہ ان کے علم و فضل سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد اب کم نہیں ہے۔ بہت سے ذی علم ہیں جنھوں نے حسبِ توفیق ان کے علم سے اپنا دامن بھرا اور پھر اس کا ابلاغِ عام کیا۔ مولانا شبلی نعمانی، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، سید سلیمان ندوی، مولانا عبید اللہ فراہی، مولانا سلطان احمد اصلاحی، ڈاکٹر ابو سفیان اصلاحی جیسے کئی معتبر علمی نام ہیں جو اس چشمۂٔ فیض سے سیراب ہوئے۔ان لوگوں نے روایت کے ساتھ تعلق کو نبھاتے ہوئے، تفہیمِ دین اور فکرِ اسلامی کے باب میں نئی راہیں دریافت کیں، تاہم امام فراہی نے تدبرِ قرآن کی جو روایت قائم کی، اس کے حقیقی وارث دو ہی ہیں: مولانا امین احسن اصلاحی اور جناب جاوید احمد غامدی۔ یہ شرف پاکستان کے حصے میں آیا کہ امام فراہی کی دکھائی راہ پر چلتے ہوئے ان حضرات نے فہمِ قرآن کی اس منفرد روایت کو ایک مکتبِ فکر میں بدل دیا۔ اب یہ روایت اس مقام پر کھڑی ہے کہ علومِ دین اور فہمِ دین کے باب میں اٹھنے والے ہر سوال کا جواب دے سکتی ہے۔
الطاف احمد اعظمی صاحب نے اس روایت کو اپنے تئیں آگے بڑھایا جس کا ایک مظہر وہ کتاب ہے جس کا میں نے ابتدا میں ذکر کیا۔ جماعت اسلامی کے بارے میں ان کا نتیجۂ فکر وہی ہے جو مولانا وحید الدین خاں کا ہے۔ مولانا مودودی نے حکومتِ الہٰیہ کے قیام کو جس طرح ایک دینی فریضہ قرار دیا ہے، وہ اسے درست نہیں سمجھتے۔ تبلیغی جماعت پر ان کا تبصرہ ہے کہ ’’مولانا محمد الیاس کی دعوت بعض نقائص کے باوجود اصولی اعتبار سے بالکل درست اور قرآن و سنت کے مطابق تھی۔ لیکن اس مردِ مومن کے انتقال کے بعد تبلیغی جماعت مولانا محمد زکریا کے زیرِ اثر آ گئی اور یہیں سے جماعت کا فکری اور عملی زوال شروع ہوا‘‘۔
جمعیت علماے ہند کے بارے میں اعظمی صاحب کا کہنا ہے کہ ’’اس کا سیاسی نصب العین ملک کی مکمل آزادی اور مذہبی نصب العین اسلام کے انفرادی اور اجتماعی احکام کی تنفیذ تھا‘‘۔ انگریزوں کے جانے کے بعد سیاسی نصب العین ختم ہو گیا اور مذہبی بھی تبدیل ہو گیا۔ اعظمی صاحب اس باب میں ایک اہم بات کہتے ہیں: ’’آزادی کے بعد مولانا آزاد نے لکھنؤ میں مسلمانوں کے اصحاب الراے کی جو کانفرنس منعقد کی، اس میں دیگر امور کے علاوہ یہ بھی طے پایا کہ مسلمانوں کی تمام سیاسی جماعتیں تحلیل کر دی جائیں۔ اس فیصلے کے مطابق جمعیت العلما کا سیاسی وجود ختم ہو گیا۔ اس کے ذمہ داروں نے اعلان کیا کہ اب جمعیت العلما کا دائرۂ کار مسلمانوں کے مذہبی اور تعلیمی امور تک محدود رہے گا، لیکن عملاً اس نے اس فیصلے کی پابندی نہیں کی اور برابر الیکشن کے موقع پر کانگرس کی حمایت میں سرگرمی دکھائی اور اب تک یہ سلسلہ جاری ہے‘‘۔ یہ کتاب ایک ایسے صاحبِ نظر عالم کا تجزیہ ہے جو بھارتی مسلمان ہے اور اُس سرزمین پر مسلمانوں کے مستقبل کے بارے میں سوچتا ہے۔
’’وحدت الوجود: ایک غیر اسلامی نظریہ‘‘ اعظمی صاحب کی دوسری کتاب ہے جو میری نظر سے گزری۔ فراہی مکتبِ فکر نے تصوف کو جس طرح موضوع بنایا، وہ بھی بہت اہم ہے۔ چونکہ اس مکتبِ فکر میں قرآن مجید اور سنت ہی کو اصل دین سمجھا جاتا ہے، اس لیے اس اصول پر تفسیر، علمِ حدیث، کلام، فقہ اور تصوف سمیت مسلم علمی روایت کے ہر پہلو کا جائزہ لیا گیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اردو زبان میں تصوف پر ڈاکٹر غلام قادر لون کی ’’مطالعۂ تصوف؛ قرآن وسنت کی روشنی میں‘‘ سے بہتر کتاب نہیں لکھی گئی۔ تصوف کی امہات الکتب سے براہِ راست استفادے کے بعد لکھی گئی یہ کتاب اس کو علمی اعتبار سے وقیع بنا دیتی ہے۔ اس کا مقدمہ مولانا سلطان احمد اصلاحی نے لکھا ہے۔ اعظمی صاحب کی کتاب اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ اعظمی صاحب کی یہ کتاب محققانہ ہے، مگر اسے پڑھتے ہوئے میں ایک عقدہ حل نہیں کر سکا۔ اس کتاب کا انتساب انھوں نے شیخ احمد سرہندی کے نام کیا۔ ان کے بارے میں انھوں نے کتاب میں شاہ ولی اللہ کی یہ راے بھی نقل کی کہ شیخ کا تصور وحدت الشہود، جوہری اعتبار سے وحدت الوجود ہی ہے۔ یہ محض ایک لفظی نزاع ہے۔ اس کے باوصف اعظمی صاحب کا خیال ہے کہ شیخ احمد نے وجودی تصوف کے سامنے بند باندھا ہے۔ ان دو باتوں میں تطبیق مشکل ہے۔ ان دونوں بزرگوں کے تصوف پر سب سے اچھا تبصرہ مولانا مودودی نے ’’تجدید و احیاے دین‘‘ میں کرد یا ہے۔ اعظمی صاحب معلوم ہوتا ہے کہ اس سے متفق نہیں۔
الطاف اعظمی صاحب نے خطباتِ اقبال کا تنقیدی مطالعہ بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قرآن مجید سے علامہ اقبال نے اپنے خطبات میں جو استدلال کیا ہے، وہ درست نہیں۔ ڈاکٹر جاوید اقبال نے ’’تسہیلِ خطبات‘‘ میں اس تنقید کا ذکر کیا ہے۔ ڈاکٹر ایوب صابر مرحوم نے اس کا جواب لکھا ہے۔ اعظمی صاحب نے ’’میزان القرآن‘‘ کے عنوان سے قرآن مجید کی تفسیر بھی لکھی جو میری نظر سے نہیں گزری۔ ان کی جن کتابوں کا میں نے ذکر کیاہے، وہ پاکستان میں بھی شائع ہو چکی ہیں۔ ان کی لکھی کتب کی فہرست طویل ہے۔ ہماری علمی روایات کو اپنے علمی کمالات سے مالامال کرنے والے یہ بڑے عالم، 12اگست کو دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی مغفرت سے نوازے اور ان کی خدمات کو قبول فرمائے۔
(بشکریہ: روزنامہ دینا، لاہور، 17 اگست 2023)
- ۔ ملاحظہ ہوحکیم نازش احتشام احمداعظمی اصلاحی کی کتاب ”ابناے مدرسۃالاصلاح کی علمی و ادبی خدمات“، شائع کردہ اصلاحی ہیلتھ کیئرفاؤنڈیشن، نئی دہلی ۔
- ۔ ڈاکٹرالطاف اعظمی نے یہ خیالات ایک انٹرویومیں ظاہرکیے جومدرستہ الاصلاح کے استاد مولانا عمر اسلم اصلاحی نے اصلاح ٹی وی کی جانب سے13 جنوری 2018کو ان سے لیاتھا۔لنک یہ ہے:https://www.youtube.com/watch?v=3qacJerUSbs
- ۔ اردوبک ریویو ص 11 ، جولائی، اگست، ستمبر2010اورانٹرویومذکور۔
- ۔ ملاحظہ ہوحکیم نازش احتشام احمداعظمی اصلاحی کی کتاب ”ابناے مدرسۃ الاصلاح کی علمی و ادبی خدمات“۔
- ۔ میزان القرآن، جلدسوم، تفسیرسورۂ فیل، ص 3101۔ شائع کردہ مرکزتحقیق واشاعت قرآنی، نئی دہلی۔
- ۔ انٹرویومذکور۔
- ۔ ایضاً۔
- ۔ جادہ ومنزل ص 991، البلاغ پبلیکیشنز ،نئی دہلی ۔
- ۔ جادہ ومنزل ص 302، البلاغ پبلیکیشنز ،نئی دہلی ۔
- ۔ انٹرویومذکور۔