مواد پر جائیں

پھر ہوئے زینتِ دیوارِ حرم اے ساقی

جاوید احمد غامدی اردو

توڑ ڈالے تھے جو پتھر کے صنم اے ساقی

راہ رو گرمِ سفر پشت بہ منزل ہو کر

ہے یہی آج بھی تقدیرِ امم اے ساقی

مے کدہ چھوڑ تو دیں تیری جفا پر، لیکن

یاد آ جاتا ہے پھر تیرا کرم اے ساقی

تیری صحبت ہی وہ فردوس ہے دنیا میں جہاں

کوئی اندیشۂ فردا ہے، نہ غم اے ساقی

روے زیبا نہ سہی، گردشِ مینا ہی سہی

کچھ تو رہ جائے فقیروں کا بھرم اے ساقی

روح خاموش ہے صدیوں سے، بدن گرمِ سرود

اب کہاں سوزِ عرب، سازِ عجم اے ساقی!

ہم وہ مے کش ہیں کہ منت کشِ صہبا نہ ہوئے

مانگ لائے ہیں رگِ تاک سے نم اے ساقی

دین تو تھا ہی، سیاست بھی ہے ملا کے سپرد

اور باقی ہے کوئی ہم پہ ستم اے ساقی؟

عقل ہو جاتی ہے منزل سے گریزاں جب بھی

دیکھ لیتے ہیں ترا نقشِ قدم اے ساقی