مواد پر جائیں

پہلے قتل کے بعد

نعیم احمد بلوچ اردو

وہ دونوں قطعی طور پر ایک دوسرے کے لیے اجنبی تھیں ۔ ان کا لباس ، ان کی زبان ،ان کی حرکات و سکنات ، ان کا بناؤ سنگھار۔۔۔۔ سب کچھ مختلف تھا ۔۔۔اور کیوں نہ ہوتا ! وہ ایک دوسرے سے ہزاروں برس کے فاصلے پر تھیں ۔ لیکن اس سب کے باوجود وہ ایک دوسرے سے ابلاغ کر رہی تھیں ۔۔۔۔ اس ابلاغ کی شروعات ایک خاموش اعتماد سے ہوئی تھی ۔ اس کی شاید ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ دونوں خواتین تھیں ۔۔۔ عمروں میں کوئی خاص فرق نہ تھا۔ وہ عجیب اپنائیت محسوس کر رہی تھیں ۔

زیرہ اپنی جوانی کے جوبن کی کئی بہاریں دیکھ چکی تھی ۔ وہ اپنے سامنےکھڑی دوسری عورت کو انتہائی حیرت سے دیکھ رہی تھی ۔ ان کی ملاقات کو ابھی زیادہ لمحات نہیں گزرے تھے۔وہ تھوڑی ہی دیر پہلے اس کے سامنے” ظاہر “ہوئی تھی ۔ ایک بہت ہی پرکشش اجنبی خاتون کا یوں سامنے آجانا، زیرہ کی زندگی کا حیرت انگیز اور نا قابل یقین لمحہ تھا ۔ وہ بہت ہی عجیب طرح سے اس کےسامنے وارد ہوئی تھی ۔

ہوا یوں کہ دن کے خاتمے کےقریب ، جھٹپٹے میں ، زیرہ اپنے کمرے میں ایسے ہی بلاوجہ آکر لیٹ گئی ۔ اسے لگا کہ اس کےمخصوص ایام نزدیک ہیں ۔ اسی احساس میں کسی وقت اس کے تنگ اور قدرے تاریک سے کمرے میں بنے واحد روشن دان سے ہوا کا ایک جھونکا اندر داخل ہوا۔

کم از کم زیرہ کو تو ایسا ہی لگا تھا ۔وہ لکڑی کے تختوں کے بنے چارپائی نماپلنگ پر اٹھ کر بیٹھ گئی ۔

وہ اب اپنے سامنے پراسرار قسم کی روشنیاں دیکھ رہی تھی۔ کچھ لمحوں کے بعد رنگین روشنیوں نے گول گول گھوم کر رقص کیا۔ زیرہ کو کچھ اندازہ نہیں تھا کہ یہ ہو کیا رہا ہے ۔ اسے بس یہ نظر آ رہا تھا جیسے ایک بڑی سی روشنی کی دیوار کھڑی ہو گئی ہے اور اس دیوار میں اسے ایک کھڑکی بنتی دکھائی دی۔

وہ اس سارے حیرت انگیز منظر سے اس لیے نہیں گھبرائی تھی کہ جو کچھ ہو رہا تھا وہ بہت ہی دل چسپ، خوب صورت اور آنکھوں کو خیرہ کر دینے والا تھا ۔ وہ گھبرانے کے بجائے اسے دیکھنے میں محو ہو چکی تھی ۔تجسس تھا کہ اب آگے کیا ہوتا ہے ؟

اگلا منظر یہ تھا کہ اسے ان گنت جگنووں کے جلو میں ایک اجنبی عورت کا وجود بنتا ٹوٹتا نظر آنے لگا ۔ پہلے کچھ مناظر ایسے بھی آ ئے کہ جگنو بکھر بکھر جاتے ، روشنی کے ِترمرے ناچ ناچ کر ملگجے اندھیروں میں گم ہو جاتے مگر اب پچھلے کئی لمحوں سے اس کی شبیہ کو قرار آ چکا تھا ۔ اور زیرہ جسے دیکھ رہی تھی ، اس کا سراپا بہت ہی سحر انگیز تھا ۔

خوب صورت پھولی پھولی ، ہولے ہولے لہراتی سنہری زلفیں جیسے انھیں یہ دکھانا ہو کہ وہ کسی تصویر کے بال نہیں ، کسی زندہ کے زندگی بھرے گیسوئے تاب دار ہیں۔ خوب صورت تو وہ بھی تھی ۔۔۔۔ مجسم سادگی اور وقارلیکن اس بن بلائی مہمان کی خوبصورتی سِوا تھی ۔

لباس ۔۔۔۔۔ اف ۔۔۔ وہ اس کے جسم پر یوں جچ رہا تھا جیسے چودھویں کی رات میں آسمان پر جھلملاتے ہوئے ستارے ۔ اور ایک اس کا لباس تھا ۔۔۔۔۔ بہت ہی سادہ ۔۔۔ بہت ہی خوب صورت مگر اس کے مقابلے میں بالکل پھیکا سا۔ وہ تو بس کپڑوں کی چادر میں سلیقے سے لپٹی ہوئی تھی۔۔۔۔۔جیسے مکئی کا بھٹہ ، جس کے سفید دودھیا دانوں کو سبز پتوں نے مہربند کر دیا ہو ۔

دونوں کئی ثانیوں سے ایک دوسرے کو ٹُکر ُٹکر دیکھ رہی تھیں ۔

پہلے زیرہ بولی :”آ پ کون ہیں ؟”

جواب سننے سے پہلے زیرہ نے دیکھا کہ اس کے سامنے ایک چھوٹی سے تختی روشن ہو گئی ہے اور پھر اسے عجیب سی آواز سنائی دی۔ یہ آواز تھی تو اسی کی زبان میں مگر لہجہ اور سانچا بہت مختلف تھا ،جیسے کوئی کسی کنویں میں سےبول رہا ہے البتہ بولے گئے شَبدھ اس کی سمجھ میں آ گئے تھے۔

اس نے پوچھا تھا :” تم ہابیل کی بیوہ ہو نا ؟ وہی جسے اس کے بھائی قابیل نے قتل کر دیا تھا ؟”

اس سوال نے زیرہ کو پہلے تو چونکا کر رکھ دیا اور پھر اس انتہائی غیر متوقع بات نے ایک دم اسے سخت اداس کر دیا ۔ لگتا تھا اس سوال نے اسے غم کی کھائی میں دھکیل دیا ہے۔

اسے خاموش دیکھ کر وہ اجنبی بولی:

” دیکھو ، میرا نام سارہ ہے ۔۔۔ اور تمھارا ۔۔۔۔۔؟ “

مگر زیرہ پھر بھی خاموش رہی۔ یہ نام اس نے پہلی دفعہ سنا تھا ۔ وہ سوچ میں پڑ گئی یہ اجنبی اتنا الٹا پلٹا کیا پوچھ رہی ہے ؟اس کے خیال میں اس کا سوال بہت ہی عجیب اور ناگوار تھا۔ اور آخر یہ ہےکون؟ہماری بستی کے سوا تو کوئی انسانی بستی ہے نہیں ، یہ کہاں سے آگئی ؟

وہ ذرا خشک سے لہجے میں بولی:

” مگر ہابیل تو میرا بھائی تھا ، خاوند نہیں ۔ اور ہم آدم کی ہیں اور ہابیل اور قابیل اور شیث ہمارے بھائی ہیں ! وہ ہمارے خاوند کیسے ہو سکتے ہیں ؟ “

“تو پھر تمھارے خاوند کون تھے ؟”

اس سوال نے تو اسے غصہ دلا دیا ۔ وہ قدرے خشک لہجے میں بولی : “ذرا ٹھہرو ، پہلے تم بتاؤ یہاں کیسے ، میری اجازت کے بغیر آگئی ۔۔۔۔ کیسے جانتی ہو میرے بارے میں ؟ اور وہ بھی اتنا غلط سلط ۔”

سارہ اب گھبرا چکی تھی ۔ اسے لگا کہ اب اسے کچھ نہ کچھ تو بتانا پڑے گا ۔

“ہاں بتاتی ہوں ۔۔۔ معذرت خواہ ہوں ۔۔۔ میں ۔۔۔۔۔”

وہ کچھ کہتے رک گئی ۔ پھر بولی : ” آپ کی سمجھ میں نہیں آئے گا ۔۔۔بس یوں سمجھیں میں ہواکے بگولے سے یہاں پہنچ گئی ۔۔۔” اس نے روشن دان کی طرف اشارہ کیا۔۔۔ ” بس مجھے یہ فن آتا ہے ۔اور میں جہاں چاہوں جا سکتی ہوں ۔۔۔۔ “

زیرہ اپنی موٹی موٹی خوب صورت آنکھیں دو چار دفعہ پٹ پٹا کر بولی : ” نہیں میں سمجھ سکتی ہوں ۔۔۔ میرے ابا بتایا کرتے تھےکہ وہ یہاں آنے سے پہلے اللہ کے مہمان تھے ۔۔ وہاں انھوں نے بہت

سے اڑن میں سفر کیا ۔اس کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔وہ بھی ہوا اور روشنی کے اڑن میں اڑتے تھے ۔۔ جیسے آپ روشنی کی کھڑکی سے اور جگنووں میں سے نکلی ہیں ، وہ بھی کچھ ایسا ہی بتاتے ہیں۔ لگتا ہے آپ اسی پرانی دنیا سے آئی ہیں ۔ “

سارہ چکرا کر رہ گئی ۔ زیرہ نے دیکھا کہ اس نے اپنی تختی پر انگلیوں سے چھوا ہے اوروہاں سے کچھ نیلی پیلی روشنیاں بھی نکلی ہیں ۔ پھر کچھ ثانیوں کےبعد بولی :

“میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ ہابیل کو قابیل نے قتل کیا تھا ۔۔۔ اب اس کی کوئی بیوی تو ہو گی نا۔۔ مگر اس کا کہیں نام نہیں ملا ۔۔۔بس مجھے یہی لکھا ملا۔۔۔ ” حوا کا بیج ” میں نے یہی خیال کیا کہ ” بیج” تمھارا نام ہے ۔۔۔ بیج کو تمھاری زبان میں ” زیرہ” کہتے ہیں ناں ؟ بس میں نے اپنی روشنی کی گاڑی کو کہا تھا کہ زیرہ کے پاس جانا ہے اور میں یہاں آگئی ۔۔۔مجھے ہابیل کی بیوہ سے ہم دردی ہے نا، اس لیے آگئی۔۔۔۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ تمھارا کمرہ ہو گا ۔۔۔ میں پھر معافی چاہتی ہوں ۔۔۔ میں جاننا چاہتی تھی کہ مذہبی روایت کے مطابق جب پہلی عورت بیوہ ہوئی تھی تو اس کے ساتھ کیا سلوک ہوا ؟وہ تو پوری کائنات میں تنہا رہ گئی ہو گی !!

” سارہ نے اپنا مدعا صاف صاف بیان کر دیا۔ اس نے خیال کیا تھا اس کی اس “انسانیت دوست ” سوچ سے وہ ضرور متاثر ہو گی ۔ مگر اسے سخت مایوسی ہوئی ۔

“تمھاری ان باتوں میں صرف دو باتیں درست ہیں ۔ ایک یہ کہ میرے بھائی قابیل نے اپنے دوسرے بھائی ہابیل کو قتل کیا تھا اور دوسری یہ کہ میرا نام زیرہ ہے مگر باقی ساری باتیں بالکل غلط ہیں ۔ بالکل ہی غلط ۔۔۔ تمھاری گاڑی” زیرہ” کے پاس تو آئی ہے لیکن کسی بیوہ کے پاس بالکل نہیں ۔ “

“مگر پھر ہابیل کی بیوہ کون ہے ؟ “وہ الجھ کر رہ گئی ۔

“دیکھو خاتون کچھ عقل کے ناخن لو ۔۔۔۔ ہم بھائی بہنوں میں کیسے شادی ہو سکتی ہے ۔۔۔ آدم کی بیٹیوں کی شادی کسی سے نہیں ہوئی ۔ “

تو پھر آپ کی اولاد ؟”سارہ اب سٹپٹا گئی ۔ ” “

” ” اولاد پیدا کرنے کے لیے مرد کی ضرورت ناگزیر نہیں محترمہ ۔۔۔ عورت بھی کافی ہے ۔۔۔ ہم سب کی اولادیں ہیں لیکن وہ اسی طرح ہیں جیسے ہمارے باپ آدم اور ماں حوا ” تھے ۔۔۔۔ اللہ اگر

آدم کو بغیر باپ کے پیدا کر سکتا تھا تو ہمارے ہاں اولاد کیوں نہیں پیدا کر سکتا ؟ باپ کے بغیر بھی تو اولاد ہو سکتی ہے نا۔”

اس نے اس اعتماد سے بات کی تھی جیسے وہ کوئی عام سی معمول کی بات کر رہی ہو! سارہ کا خیال تھا وہ بائیسویں صدی کے جدید ترین دور سے تعلق رکھتی ہے ۔ اس کے دور میں تواب ایسا ممکن ہے کہ محض ایک سپارک انجکشن سے عورت حاملہ ہو جائے مگر کیا یہ اس دور میں۔۔۔۔ آدم کے دور میں ۔۔۔ایک عام سی چیز تھی ۔ اسے محسوس ہو رہا تھا اس کی ماضی کھوجنے کی مہم جوئی ضائع نہیں جائے گی ۔اس نے اپنی حیرت پر قابو پاتے ہوئے کہا:

“تو کیا تمھارے ہاں مردوں کی شادی نہیں ہوتی ۔۔۔ بچے بس ایسے ہی پیدا ہو جاتے ہیں ۔۔؟ ”

وہ جب یہ سوال پوچھ رہی تھی تو اس کے ذہن میں آیا کہ جانوروں اور پودوں ، دونوں میں بچے جنسی عمل سے بھی پیدا ہوتے ہیں غیر جنسی طریقے سے بھی ۔۔۔ تو کیا اس دور میں انسانوں میں بھی ایسا ہوتا تھا؟ مگر پھر عورت اور مرد کی علیحدہ علیحدہ شناخت کیوں؟ کیا مرد بالکل ہی نکھٹو ہیں ؟ کیااسے اب یہ حیرت انگیز بات معلوم ہونے لگی ہے کہ یہاں کے مرد بھی بچے جنتے ہیں ؟ اور جس طرح انسان کے جسم میں اپنڈکس کی طرح کے کئی اعضاء اب ناکارہ اور بے مقصد ہو گئے ہیں۔ اسی طرح مردوں کے اندر ‘رحم مادر’ بھی ناکارہ ہو کر نابود ہو گئی ہے ؟؟؟

ایک لمحے میں اسے یہ سارے خیالات آئے تھے ۔ مگر جو کچھ زیرہ بتا رہی تھی، اس سے حیرت کا ایک نرالا ہی در کھل رہا تھا ۔

” میرے بھائیوں میں سے ابھی کسی کی شادی نہیں ہوئی ۔۔۔۔وہ ابھی چھوٹے ہیں نا ۔۔۔ شادی کے قابل ہی نہیں ہوئے !!

” کیا مطلب ؟ کیا وہ تم سے بہت بعد میں پیدا ہوئے ؟ “

وہ سوچ رہی تھی کہ زیرہ کی عمر تیس برس تو ضرور ہوگی ۔ پھر اس کے بھائیوں کی عمر یں کیا ہوں گی ؟ پھر یہ مان بھی رہی ہے کہ قابیل نے ہابیل کو قتل کر دیا تھا ۔۔۔ تو ایک بچے نے دوسرے بچے کو قتل کر دیا تھا ۔۔۔؟

” دیکھو اجنبی خاتون ۔۔۔ میں آدم کی سب سے بڑی بیٹی ہوں ۔ میرے بعد میری دو بہنیں ہیں ۔ جب ہم تیرہ برس کی ہوئیں تو اللہ نےشادی کے بغیر ہمارے ہاں اولاد پیدا کر دی ۔ بھائیوں میں سب سے بڑے ہابیل تھے۔ اس کے بعد چند منٹوں کے بعد قابیل پیدا ہوئے ۔۔۔ جڑواں جو تھے ۔۔۔۔ جب وہ دونوں بالغ ہوئے تو اللہ نے انھیں حکم دیا کہ شکرانےکےطور پر قربانی کرو ۔ یہ ان کی پہلی قربانی تھی ۔کیونکہ اس کے بغیر ان کی شادی نہیں ہو سکتی تھی ۔۔اب ہابیل جانورپالتا تھا ۔ اس نے بہترین جانور پیش کیا ۔ قابیل فصل کاشت کرتا تھا۔قربانی کے کچھ روز پہلے زوردار آندھی چلی اور اس کی فصل کا ایک حصہ تباہ ہو گیا۔ اس نے اسی تباہ شدہ فصل کا ایک حصہ قربانی کے لیے پیش کر دیا ۔۔۔ حالانکہ ابا نے کہا تھا کہ اللہ کے حضور اچھی چیز پیش کرو ، اسے جانور یا فصل سے نہیں تمھارے اخلاص اور محبت سے مطلب ہے ۔۔ یہ تو محض تمھارا امتحان ہے ۔۔۔ مگر اس نے کوئی پروا نہ کی ۔۔۔ کہتا تھا کہ اللہ کو بھلا اس گندم کی کیا ضرورت ہے۔۔۔۔ یہ تو ایک علامتی عمل ہی ہے نا ۔۔۔ اور منع کرنے کے باوجود اس نےوہی فصل پیش کر دی ۔ اب ہابیل کی قربانی قبول ہو گئی اور قابیل کی نہیں ہوئی ۔ “

سارہ نےنیا سوال داغا : ” مگر یہ کیسے معلوم ہوا کہ ہابیل کی قربانی قبول ہوئی اور قابیل کی نہیں ؟ “

” جیسے تم روشنیوں کے سہارے سے اس بند کمرے میں پہنچ گئی ہو ، ویسے ہی ہم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ بجلی کا ایک کوندا سا لپکا اور ہابیل کا خوب صورت جانور غائب ہو گیا اور قابیل کی فصل جل کر راکھ ہو گئی! بس اسی سےپتا چلا ۔ اور پھر ابا نے ہمیں بتا بھی دیا ۔ انھیں اللہ نے خبر دی تھی ۔وہ ہمارے باپ ہی نہیں ، اللہ کے نبی بھی تو ہیں نا ! “

اب تو حیرت سےسارہ کی کھوپڑی درد کرنے لگی تھی۔ وہ زیرہ کے خاموش ہونے پر بھی کچھ نہ بولی ، مگر وہ اسے بتا رہی تھی :

” اب بھائی قابیل کہنے لگا کہ اس کی قربانی اس وجہ سے قبول نہیں ہوئی کہ ہابیل نے بہترین جانور

پیش کیا ہے ، اگر وہ بھی اپنا وہ لنگڑا بیل پیش کر دیتا جو کچھ دن پہلے زخمی ہو کر ناکارا ہو چکا ہے تو اللہ اس کی گندم کا بھیگا اورخراب گٹھا قبول کر لیتا ۔ اس پر وہ ہابیل سے جھگڑنے لگا ۔ اصل میں اسے اپنے بھائی سے حسد ہوچکا تھا۔ اسے تو اپنے آپ پر بہت فخر تھا نا کہ بھائی سے زیادہ طاقت ور اور لمبا تڑ نگا ہے ۔ اب جب قربانی قبول ہونے پر ہابیل کی واہ واہ ہونے لگی اور وہ ہم سب کی نظروں میں بھی پسندیدہ ٹھہر گیا تو اپنی اصلاح کرنے کے بجائے وہ ہابیل کے درپے ہو گیا۔ اس نے اس سے لڑنے کی بہت کوشش کی مگر ہابیل کسی بھی طور اشتعال میں نہ آیا۔ پھر ایک دن اس نے سوتے میں اس کا قتل کر دیا ۔ اوریہاں سے بھاگ گیا۔ کیونکہ اسے یہی گمان تھا کہ اسے اب ضرور سزا ملے گی ۔ “

” تو کیا اس کا اب آپ سے کوئی رابطہ نہیں ؟ وہ اب کہاں رہے گا ، کس سے شادی کرے گا ؟ اس کے بچے کیسے ہوں گے ؟ “

” ایک تو آپ کو ہر کسی کی شادی اور بچوں کی بہت فکر ہے ۔۔۔کیا اس کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہوتے زندگی میں ؟ رہنا سہنا ، کھانا پینا وغیرہ ۔۔۔ اس کے بارے میں کچھ نہیں پوچھا آپ نے ؟ “

“اصل میں ، میں تو سیدھی اس کمرے میں آپ کے پاس آ پہنچی ہوں ، اورکچھ جانتی نہیں ، آپ بتائیں نا کہ قابیل کی زندگی اب کیسی ہو گی ؟”اس کے اصرار میں ایک عجیب بے تکلفی تھی ، اس لیے زیرہ بتانے لگی :

” آپ اگر کچھ ہماری بستی اور ارد گرد کے جنگل کی سیر دیکھ آتیں تو آپ کو معلوم ہوتا کہ یہاں پر دو طرح کے انسان رہتے ہیں ۔ ایک وہ جو ہمارے باپ آدم کی اولاد اور اس کی بیٹیوں یعنی ہماری اولاد ہیں ۔ یہ خالص انسان ہیں ۔۔۔ تہذیب یافتہ ، ہر پہلو سے مکمل ۔۔۔ اور ایک وہ جو کہ جنگلی یا حیوان یا انسان

ہیں ۔” “حیوانی یا جنگلی اولاد ؟ ! ؟”

” جی ۔ ہمارے والد ین ہی ایسےانسان ہیں جو اچھے برے کی تمیز سیکھ چکے ہیں ۔ پاکی اور ناپاکی کا فرق جانتے ہیں ، کیا کھانا ہے اور کیا نہیں کھانا، جانتے ہیں ۔ ایک دوسرے سے بات آوازوں سے نہیں لفظوں سے کر سکتے ہیں ، اور اسی لیے ہم اپنی بات لکھ سکتے ہیں، پڑھ سکتے ہیں ، سمجھا سکتے ہیں،ہم خوب صورتی اور بدصورتی میں فرق کرسکتے ہیں ، مگر جنگلی انسان تو بس جانورں ہی کی طرح ہیں ۔ ان کی شکل و صورت بےشک ہم سے خاصی حد تک ملتی ہے لیکن وہ سب کچھ نہیں جانتے جو ہم جانتے ہیں ، ہم محسوس کرتے ہیں۔ “

“اور آپ نے یہ سب کچھ کہاں سے سیکھا ؟”سارہ کے اس سوال میں طنز صاف ظاہر ہو رہا تھا۔

“اصل میں ،ہمارے ابا آدم بتاتے ہیں کہ انھیں یہ سب آگہی اور تعلیم اللہ نے دی۔ پھر انھیں ایک خاص قسم کے باغ میں رکھا ، وہ وہاں مہمان تھے، اللہ کے مہمان تھے ۔اور وہ باغ اللہ ہی کا خاص باغ تھا۔

وہاں انھیں اللہ نے ساری سہولتیں دیں ۔۔۔۔ پاک کھانا پینا ، پہننا ، لکھنا پڑھنا ، سب اپنے فرشتوں کے ذریعے سے سکھایا ۔ وہ ساری باتیں جو ہمیں عام حیوانی اور جنگلی انسانوں سے ممیز کرتی ہیں ۔ اسی لیے تو ہم گھر بنا کر رہتے ہیں ، پاک صاف کھاتے ہیں۔ اس طرح کا رہنا ہم نے اپنے والدین سے سیکھا ہے ۔”

زیرہ رکی تو سارہ سوچنے لگی کہ اس مطلب یہ ہوا کہ آدم اور حوا اپنی پیدائش کے بعد اس خاص باغ ، جسے ہم جنت کہتے ہیں ، وہاں بھیج دیے گئےاور فرشتوں نے یا جو بھی آپ نام دے دیں ، ان کی پرورش کی ، تربیت کی ، سکھایا ، پڑھا یا اور وہ بڑے ہوئے۔۔۔

کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ دوبارہ گویا ہوئی : ” ابا بتاتے ہیں کہ ایک غلطی کرنے کے بعد حالات کچھ ایسے پیدا ہو گئے کہ اللہ نے کہا کہ اب تم سب کچھ سیکھ سمجھ گئے ہو ۔ بڑے ہو گئے ہو ۔۔۔ اور بڑوں والی حرکتیں بھی کرنے لگے ہو۔۔۔۔اپنی مرضیاں بھی کر چکے ہو۔۔۔ اس لیے میری مہمان داری ختم ۔ اب یہاں سے اپنی دنیا ، اپنی بستی خود بناؤ اور بساؤ۔ چنانچہ وہ وہاں سے نکل گئے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم وہاں سے نکل تو گئے لیکن دل وہیں اٹک چکا تھا ۔چنانچہ اس باغ کی تلاش انھوں نے بہت کی ۔ پتا نہیں کہاں کہاں گئے۔۔جب نہ ملا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یا تو وہ کوئی بہت سہانا خواب تھا یااللہ نے اسے ایسی جگہ بنایا تھاجہاں سے واپس جانا ان کے بس کی بات نہیں ۔ شاید آنے والی نسلیں اس خاص اور شان دار باغ کو تلاش کر لیں ۔ابا، اماں تو اس کی بہت کہانیاں سناتے ہیں اور ہمیں سمجھاتے ہیں اللہ نے اس باغ سے نکالتے ہوئے ہمیں کہا تھا کہ اگر تم اور تمہاری اولاد نے اپنی وفا داری اور فرماں برداری سے ثابت کر دیا کہ وہ اس باغ میں رہنے کے قابل ہیں تو وہ انھیں اور ان کی اولاد یعنی ہمیں اس باغ سے بھی شان دار اور وسیع باغات رہنے کو دیں گے ۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں دوسرے جانور نما انسانوں کو اس بات کا کوئی شعور نہیں ۔ وہ تو بس عام جانوروں کی طرح رہتے ہیں ۔ اسی لیے تو ہمیں فکر ہے کہ قابیل کیا کرے گا؟ وہ کہاں رہے گا؟ جو تعلیم ہم اپنے ابا آدم سے حاصل کرتے ہیں ، وہ کہاں سے حاصل کرے گا ؟ بلکہ ہمیں خدشہ ہے کو وہ کسی جنگلی حیوان عورت سے شادی نہ کر لے ! ایسا ہو گیا تو پھربہت عجیب وغریب انسان پیدا ہو جائیں گے جو جانور بھی ہوں گے اور انسان بھی !پھر تو بہت فساد مچے گا ۔ہم تو کبھی کبھی سوچتے ہیں کہ یہ قا بیل میں ضرور کوئی حیوانی بات رہ گئی تھی جو اس نے بھائی کو قتل کر دیا۔۔۔ اور اگر قا بیل بچے ہوئے ہی حیوانی اور جنگلی عورت سے تو کیا ہوگا۔۔۔۔ ؟ ان کو تو وہ تمیز اور احساس بالکل بھی نہیں ہو گا جو ہمیں ہے !”

بلاشبہ زیرہ کی فکر بہت اہم تھی لیکن سارہ کے ذہن میں اس سے پہلے کے حالات پربھی سوال سر اٹھا رہے تھے ۔ اس نے پوچھ ہی لیا :

” اچھا زیرہ یہ بتاؤکہ تمھارے دادا ،دادی کون تھے ؟ “

میرے والد آدم کے کوئی باپ نہیں تھے ، مگرماں تھی !

سارا اب اس کی ہر حیرت انگیز بات کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگی تھی ۔ ۔۔۔ حیرتوں کو سلجھانا تو اس کا پیشہ تھااور زیرہ کی پیدا کردہ الجھنوں کی گتھیاں وہ سلجھانے کی کوشش کرنے لگی تھی ۔اسے مسیح عیسیٰ کے بارے میں الہامی کتابوں کی بات یاد آ گئی ۔۔اس کے ذہن میں تو معلومات کا طومار تھا۔ اس حوالے سے اسے معلوم تھا کہ وہ بھی تو بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے اور قرآن نامی کتاب میں تو باقاعدہ نام لے کر کہا گیا تھا کہ ، آدم کی مثل ہے ۔۔۔ جس کا کوئی باپ نہیں تھا ۔ کیا اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ جس طرح مسیح کی والدہ تھیں ،اسی طرح آدم کی بھی والدہ تھیں ؟ ایسا آج تک نہیں سمجھا گیا تھا ۔۔۔۔ مگر اب یہ زیرہ بالکل ایسی ہی بات کر رہی ہے ۔۔ اور اگر ایسا ہے تو پھر آدم کی ماں کون تھی ؟اور اس کے ساتھ ہی ایک اور سوال اس کےذہن میں کلبلانے لگا کہ حوا کیسے پیدا ہوئی ؟ یہ ایک اور الجھن تھی!

زیرہ بھی کوئی کم ذہین نہیں تھی ۔ ٹھیک ہے اس کے پاس سارہ جتنی معلومات نہیں تھیں مگر اس کے مشاہدے کی قوت بہت تھی ۔۔۔وہ اس کے چہرے پر لکھے سوال کو پڑھ چکی تھی ، بولی : ” اور ہماری ماں کی والدہ ۔۔۔۔شاید وہ بھی آدم کی والدہ کی طرح ایک انسانی حیوان رہی ہو ۔۔۔ ہمیں یقین سے کچھ نہیں پتا ، کیونکہ اس کے بارے میں ہمارے ابا اماں کو کچھ یاد نہیں۔

اب یہ ایک نیا حیرت کدہ تھا ، جس کو سمجھنے کے لیے اسے نہ جانے عقل کے کون سے گھوڑے پر سوار ہونا تھا !اس بات کا تو وہ تصور کر سکتی تھی کہ عورت کے ہاں جنسی عمل کے بغیر بچہ پیدا ہو سکتا ہے لیکن پھر مرد کا کیا کردار ہے ؟ اس کا ایک ہی جواب اس کے ذہن میں آرہا تھا کہ آدم ہی نہیں بلکہ اس کی بیوی بھی باپ کے بغیر پیدا ہوئی اور اب آدم کے بیٹے ان عورتوں سے شادی کریں گے جو زیرہ اور اس کی بہنوں سے بغیر جنسی عمل کے پیدا ہوئے۔۔۔ اسی لیے تو زیرہ اس بات پر ناراض ہو رہی تھی کہ سارہ نے یہ کیوں سمجھا کہ اس کی شادی اپنے سگے بھائی سے ہوئی اور وہ بیوہ ہوگئی ۔ مگر اس کی تصدیق کیسے ہو ؟ کچھ سوچ کر اس نے پوچھا :

” اچھا یہ بتاؤ کہ تمھارے بھائی ہابیل تو قتل ہوگئے ، قابیل فرار ہوگئے اور ایک نام تم نے اور لیا تھا۔۔۔ شیث ۔۔ ان کی شادی کب ہو گی ؟ “

“پھر شادی ۔۔۔ حد ہو گئی بھئی ۔۔۔ وہ تو ابھی بہت بچے ہیں ۔ جب تک وہ بڑے ہوں گے ان کی شادی ہم میں سے کسی کی بیٹی سے ہوگی جو اس کی کم از کم بہن نہیں ہو گی۔۔۔ بلکہ اس کا اس کے ساتھ کوئی خونی رشتہ نہ ہو گا ۔ ۔۔۔ اور دیکھو اب تک تم مجھ ہی سے سب کچھ پوچھے چلے جارہی ہو ، اپنے بارے میں بھی تو بتاؤ نا ۔۔۔ کیا تم کہیں اس باغ سے تو نہیں آئی جہاں پہلے میرے ابا اور اماں رہتے تھے ؟ “اس نے اپنا سوال دہرایا تھا ۔

سارہ اب گڑ بڑا گئی ۔ اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا جواب دے ، کیسے اسے ٹالے ۔۔۔کیا زیرہ اس کو سمجھ پائے گی کہ وہ مستقبل سے ماضی میں آئی ہے ؟ کیا اس کے ذہن میں اس کا کوئی تصور ہے کہ مستقبل سے ماضی میں تو جایا جا سکتا ہے لیکن ماضی یا حال سے مستقبل کا سفر کرنا ممکن نہیں ۔۔۔۔ کیونکہ ماضی تو وجود میں آچکا ہوتا ہے لیکن مستقبل نے ابھی وجود میں آنا ہوتا ہے ۔۔۔ماضی تو بس بکھرچکا ہوتا ہے، ماضی کی تصویر کی لہریں منتشر ہو چکی ہوتی ہیں ۔اور اسےاکٹھا ہی تو کرنا ہوتا ہے ۔۔۔ اور اگر وہ اکٹھا ہو جائے تو اسے باآسانی دیکھا جا سکتا ہے ۔ البتہ مداخلت نہیں کی جا سکتی کیونکہ وہ محض تصویر ہوتی ہے ، بالکل ہزاروں میل دور براہ راست ٹیلی کاسٹ ہوتی نشریات کی طرح ۔

وہ ابھی اسی الجھن میں تھی کہ اسےاحساس ہوا کہ اس کی انر جی ویویز میں کوئی مداخلت ہو رہی ہے ۔۔۔ اس کا مطلب تھا کہ اسے اب واپس جانا ہے ۔۔اسے اپنے سامنے روشن تختی پر کچھ لکھا ہوا نطر آیا۔

ادھر زیرہ اسےپوچھ رہی تھی ۔۔۔۔ “ٹھیک ہے تم نہ بتاؤ اپنے بارے میں ۔۔۔ مگر میرا ایک کام کر دو ۔۔۔اگر تم میرے پاس پہنچ سکتی ہو تو قابیل کے پاس بھی تو بھی پہنچ سکتی ہو نا ۔۔۔ اسے ہمارا اور ہماری اماں کا پیغام دینا ۔۔۔۔ ہم اسے اپنے والد سےمعافی لے کر دے دیں گے ۔۔۔ انھیں کہنا کہ اگر ابا اور اماں کو اللہ سے معافی مل سکتی ہے تو اسے کیوں نہیں مل سکتی ؟ بس وہ شیطان نہ بنے ۔۔۔ اس کی سنت پر نہ چلے ۔۔اپنے باپ کو دیکھے اور اس کی سنت پر چلے ۔۔ اپنے جرم کو اللہ کی رحمت اور مغفرت سے بڑا نہ سمجھے۔ اللہ کی رحمت انسان کے ہر گناہ اور ہر جرم سے بڑی اور وسیع ہے۔۔”

زیرہ کی بات ختم ہوتے ہی ایک دم روشنی کی کھڑکی تاریک ہو گئی اور وہ غائب ہو گئی ۔۔۔ زیرہ سوچنے لگی کہ معلوم نہیں اس تک اس کا پیغام پہنچا ہے یا نہیں ؟ سارہ قابیل کے پاس جائے گی یا نہیں ؟