مواد پر جائیں

پہلے کون سی سورہ نازل ہوئی؟

تحریروتحقیق:علامہ شبیراحمدازہرمیرٹھی / ترتیب وتدوین:ڈاکٹرمحمدغطریف شہبازندوی اردو

[مختارات کا حصہ قدیم و جدید مصنفین کی منتخب تحریروں کے لیے مخصوص ہے۔ اس کا مقصد ماضی اور حال کے فکر و نظر کو قارئین کے سامنے پیش کرنا ہے۔ اس میں ماضی کے نمایندہ اہل علم کی تصانیف سے ایسے اقتباس نقل کیے جاتے ہیں، جو ان کے افکار اور اسالیب کو نمایاں کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ نئے لکھنے والوں کی موثر اور معتبر تحریروں کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔ اِس حصے کے مندرجات سے مدیر اور ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ ادارہ]

سیرت وتفسیراورکتب حدیث میں عام طورپر یہی چیزمعروف ومشہورہے کہ نزول کے اعتبارسے سب سے پہلی وحی سورۂ علق کی ابتدائی آیات ہیں، جب کہ بخاری ہی میں اس کے متعلق حضرت جابرکی حدیث سب سے پہلی وحی سورۂ مدثرکی پہلی آیات کوبتاتی ہے۔ روایت یہ ہے:

قال البخاري: حدثنا یحی ثنا وکع عن علي بن المبارک عن یحي بن أبي کثیرقال: سألت أباسلمۃ بن عبد الرحمن عن أول مانزل من القرآن قال:یایہاالمدثر قلت یقولون اقرأباسم ربک الذي خلق؟فقال أبو سلمہ سألت جابربن عبد اللّٰہ عن ذلک وقلت لہ مثل الذي قلتَ فقال جابرلاأحدثک الابماحدثنا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال:جاورت بحراء فلما قضیت جواري استبطنت فنودیتُ فنظرت عن یمني فلم أر شیئًا ونظرت عن شمالي فلم أر شیئًا ونظرت أمامي فلم أر شیئًا ونظرت خلفي فلم أر شیئًا فرفعت رأسي فرأیت شیئًا فاتیت خدیجۃ فقلت دثروني وصُبواعليّ ماءً باردًا قال فدثروني وصبواعليّ ماءً باردًا قال فنزلت:یاأیھا المدثر قم فأنذر وربک فکبر.(بخاری، رقم 732)

یعنی یحییٰ بن ابی کثیرنے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے پوچھاکہ سب سے پہلے کون سی سورہ نازل ہوئی؟ انھوں نے کہاکہ المدثر۔ یحییٰ نے کہاکہ لوگ توکہتے ہیں کہ علق پہلے نازل ہوئی؟کہنے لگے میں نے حضرت جابرسے یہی سوال کیا تھا اور ان کے جواب پر ان سے یہی بات کہی تھی جوتم نے کہی توانھوں نے کہا تھاکہ میں تووہی بیان کر رہا ہوں جو رسول اللہ نے بیان کیا۔ جابر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں غارِ حرا میں جا کر معتکف ہوا اور اللہ کے ذکر و عبادت میں لگ گیا۔ مدتِ اعتکاف ختم ہوئی (اس مدت کو اوزاعی نے ایک ماہ بتایا ہے) تو گھر واپس ہوا، پہاڑ سے اتر کر بطیف وادی میں پہنچا تو یکایک کسی پکارنے والے کی آواز آئی جو مجھے پکار رہا تھا۔ اِدھر اُدھر اور آگے پیچھے دیکھا کوئی نظر نہ آیا۔ آگے بڑھا تو پھر آواز آئی پھر دیکھا تو کوئی دکھائی نہ دیا۔ آگے بڑھا تو پھر صدا آئی اور محسوس ہوا کہ اوپر کی جہت سے آئی ہے۔ تب میں نے آسمان کی طرف سر اٹھایا تو میں نے کچھ دیکھا اسے دیکھتے ہی مجھ پر ایسی دہشت طاری ہوئی کہ زمین پر گر گیا۔ ہوش آیا تو کپکپاتا ہوا گھر کی طرف چلا۔ گھر آ کر حضرت خدیجہ سے کہا مجھے کپڑا اوڑھا دو، کپڑا اوڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو۔ کپڑا اوڑھا دیا گیا۔ اسی حالت میں مجھ پر یہ آیات نازئی ہوئیں: ’یٰٓاَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَاَنْذِرْ‘۔ شارحین حدیث دونوں حدیثوں میں تطبیق دیتے ہیں کہ حضرت جابروالی حدیث کی دوسری روایات جن میں اورتفصیل آئی ہے اور جو خود بخاری میں، مسلم میں اورحدیث کی دوسری کتابوں میں بھی آئی ہیں ان سے متعین ہوجاتاہے کہ سورۂ مدثروالاواقعہ فترۃ وحی کے بعدکا ہے۔

مصحف میں سب سے پہلے سورۂ فاتحہ درج کی گئی ہے، جس کوام القرآن اورفاتحۃ الکتاب کہاگیاہے۔اسی طرح یہ بھی معروف و مشہور ہے کہ سورۂ فاتحہ میں بندے جو دعاکرتے ہیں: ’اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ‘ (ہمیں سیدھی راہ دکھا) تو اسی دعا کا جواب پورا قرآن پاک ہے۔

چنانچہ پوراقرآن صاحب ’’ تدبرقرآن‘‘ کے لفظوں میں ”درحقیقت اسی سورۂ فاتحہ کے تخم سے پیدا ہوا ہے اور یہ اسی شجرہ طیبہ کے برگ وبار ہیں جو قرآن کے پورے تیس پاروں میں پھیلے ہوئے ہیں“۔1 اسی سے ملتی جلتی بات مفسرقرآن جناب جاوید احمد غامدی نے بھی لکھی ہے کہ ”مضمون کے لحاظ سے ان (فاتحہ سے المائدہ تک کی سورتوں)کاباہمی تعلق دعا اور جواب دعا کا بھی ہے اور اجمال و تفصیل کا بھی۔“2

اس سلسلہ میں مفسرقرآن علامہ میرٹھی کی تحقیق یہ ہے کہ بدء وحی سے متعلق جواحادیث آئی ہیں، وہ صحیح و ثابت ہیں، مگران میں راوی زہری نے اپنی طرف سے ادراج کردیاہے اوربہت سی باتیں اپنی طرف سے بڑھادی ہیں۔ علامہ میرٹھی کا خیال ہے کہ ’اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ‘ کی جگہ’اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ الَّذِیۡ خَلَقَ‘ کہنازہری کی بھول ہوسکتی ہے۔ بہرحال یہ تحقیق ان کے اپنے الفاظ میں ترتیب میں تھوڑے تغیرکے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

’’سورۂ علق کی ابتدائی آیات کو نزول کے اعتبار سے قرآنِ کریم کی اولین آیات سمجھا گیا ہے: ’اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ الَّذِیۡ خَلَقَ .خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ عَلَقٍ. اِقۡرَاۡ وَ رَبُّکَ الۡاَکۡرَمُ. الَّذِیۡ عَلَّمَ بِالۡقَلَمِ. عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ یَعۡلَمۡ‘ تک کواس کی پہلی قسط ماناجاتاہے۔ ’کَلَّآاِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰی‘ سے آخر تک دوسری قسط ہے، جو سورۃ الاعلیٰ کے بعد نازل ہوئی تھی۔ قسط اول کے نزول میں اولین آیات قرآن ہونا حضرت ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے ثابت ہے۔ آغازِ وحی سے متعلق یہ حدیث ام المومنین نے اپنے بھانجے عروہ بن زبیر کو سنائی تھی اور عروہ نے ابن شہاب، یعنی محمد بن مسلم زہری کو بتائی تھی۔ یہاں میں یہ پوری حدیث ضروری تشریح کے ساتھ ہدیۂ ناظرین کو دینا چاہتا ہوں۔ وباللہ التوفیق۔

ام المومنین رضی اللہ عنہا نے آغازِ وحی کا جو قصہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا، اسے اپنے لفظوں میں یوں بیان کیا ہے: ’اول ما بدئ بہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من الوحی الرؤیا الصادقۃ فی النوم فکان لا یری رؤ یاالاجاء ت مثل فلق الصبح‘۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتدا سچے خوابوں سے ہوئی۔ آپ خواب میں جو بات دیکھتے، دن کے اجالے کی طرح واقعہ بن کر ظہور میں آ جاتی تھی۔

(شرح) امورِ غیب کا حصول بیداری کی بہ نسبت خواب میں سہل و آسان ہے۔ انبیاے کرام پر اللہ کی وحی خواب میں بھی آتی تھی۔ اسے ’وَحی مَنامِی‘کہتے ہیں اور بیداری میں جو بھی نازل ہوتی تھی وہ بے حد ثقیل و گراں گزرتی تھی۔ اس کے مقابلہ میں ’وَحی مَنامِی‘ سہل و خفیف ہوتی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا آغاز سہل و خفیف قسم سے کیا گیا تاکہ آپ کو امورِ غیب کے ادراک و تحصیل کی مشق ہو جائے۔ عالم غیب سے مسلسل رابطہ رہنے کی وجہ سے تحمل وحی کی عادت پڑ جائے اور بیداری میں نازل ہونے والی وحی کا ثقل برداشت کرنے کی طاقت و صلاحیت حاصل ہو جائے۔ خفیف سے آغاز کر کے بہ تدریج ثقیل کی طرف منتقل ہونا معقول و فطری چیز ہے۔ حافظ ابن حجر نے ’’فتح الباری‘‘ میں بیہقی کے حوالے سے لکھاہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ’وَحی مَنامِی‘ کا سلسلہ چھ ماہ رہا ہے۔ بنابریں وحی منامی کا آغاز ماہِ ربیع الاول میں ہوا تھا جب آپ کی عمر چالیس سال ہو گئی تھی اور بیداری کی وحی کا آغاز ماہِ رمضان میں ہوا تھا (فتح الباری 1/ 26) ۔

’وَحی مَنامِی‘ کا سلسلہ شروع ہونے کے کچھ دنوں بعد دنیا واہل دنیا سے الگ تھلگ رہ کر مصروفِ عبادت رہنا آپ کا محبوب مشغلہ بن گیا۔چنانچہ ام المومنین فرماتی ہیں: ’ثم حبب الیہ الخلاء فکان یخلو بغار حراء فیتحنث فیہ اللیالی ذوات العدد قبل ان یرجع الی اھلہ و یتزود لذلک. ثم یرجع الی خدیجۃ فیتزود لمثلھا حتی جاء ہ الحق وھو فی غارِ حراء‘۔ اور صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے: ’حتی فجئه الحق وھو فی غار حراء فجاء ہ الملک فیہ‘ (کتاب التعبیر، رقم6982)۔

یعنی آپ کوہِ حرا کے ایک غار میں خلوت گزیں رہنے لگے۔ تسلسل کے ساتھ کئی کئی دن رات وہاں اللہ کی یاد و عبادت میں بسر فرماتے۔ گھر سے لایا ہوا توشہ ختم ہو جاتا تو گھر واپس آتے اور توشہ لے کر پھر چلے جاتے، یہاں تک کہ غارِ حرا میں اچانک آپ کے سامنے امر حق آ گیا۔

(شرح) حقیقت یہ ہے کہ سن شعور کو پہنچنے پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی تھی کہ اہل مکہ کا مذہب شرک و بت پرستی قطعاً باطل ہے اور اس سے تعلق رکھنے والے اعمال و رسوم سب واہیات ہیں۔ بڑے بوڑھوں کی زبانی آپ نے سنا تھا کہ ہم لوگ اسمٰعیل بن ابراہیم کی نسل سے ہیں۔ اور یہ کہ وہ دونوں باپ بیٹے بڑے نیک اور اچھے انسان تھے۔ اللہ سے بے حد محبت رکھنے والے۔ دونوں نے خانہ کعبہ اللہ کی عبادت کے لیے بنایا تھا، مگر ان کا اصل مذہب باقی نہیں رہا۔ جوں جوں آپ کی عمر بڑھی آپ کو اصل دین ابراہیم کی کھوج پڑی، مگر اس کا کما حقہٗ سراغ نہ مل سکا۔ عبادات میں بس تسبیح،تحلیل، تکبیر اعتکاف، روزہ اور حج دین ابراہیم کے باقی ماندہ آثار تھے۔ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انھی کے مطابق اللہ وحدہٗ لا شریک لہٗ کی عبادت فرماتے رہے۔ اللہ کی محبت کے نور سے آپ کا سینہ معمور تھا ہی۔ جب ’وَحی مَنامِی‘ کے سلسلہ نے آپ کا عالم غیب سے اٹوٹ تعلق قائم کر دیا تو اللہ کی بندگی و پرستاری و محبت کے غلبہ نے آپ کو دنیا و اہل دنیا سے بالکل منقطع کر دیا اور آپ دس دس دن رات مسلسل غارِ حرا میں اللہ کی یاد و عبادت میں مصروف رہنے لگے۔ اس حدیث میں اگرچہ دس کا عدد مذکور نہیں ہے، لیکن چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعد نبوت ہر سال رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے تو اس سے یہی مفہوم ہوتا ہے کہ غارِ حرا میں آپ کا اعتکاف دس شبانہ روز کا ہی ہوتا تھا۔ اور یہ جو اس حدیث میں ’فجاءہ الحق‘ آیا ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ اس سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ فرشتہ نہ دیکھا تھا، نہ آپ کو اس کا کچھ علم تھا۔ ہاں، تو یکایک ایک رات غارِ حرا میں ہی ایک شخص نے جو فی الواقع فرشتہ تھا جیسا کہ بعد میں ثابت ہوا، آ کر آپ سے کہا: ’اِقْرَاْ‘، اس لفظ کے معنی ہیں ”پڑھ ‘‘۔چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

فجاءہ الملک فقال اقرأ. قال فقلت ما انا بقارئ. فاخذنی فغطنی حتی بلغ منی الجھد ثم ارسلَنی فقال: اقرأ، ما انا بقارئ فاخذنی فغطنی الثانیۃ حتی بلغ منی الجھد ثم ارسلنی فقال: اقرأ، فقلت: ما انا بقارئ فاخذنی فغطنی الثالثۃ حتی بلغ منی الجھد ثم ارسلنی فقال ”اقرأ باسِم ربک… الی. ما لم یعلم‘.

’’ چنانچہ فرشتہ آیا اور کہا کہ پڑھیے، میں نے فرشتے کے جواب میں کہا: ”میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔“ یعنی اُمی ہوں، لکھنا پڑھنا نہیں جانتا۔ میرا جواب سن کر اس نے مجھے باہوں میں جکڑ کر خواب زور سے بھینچا کہ میرا بدن چور چور ہونے لگے۔ پھر چھوڑ کر بولا: ’اِقْرَاْ‘ میں نے پھر عذر کیا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ تب اس نے مجھے پکڑ کر دوبارہ خوب زور سے بھینچا کہ مجھے بڑی مشقت محسوس ہوئی پھر چھوڑ کر کہا: ’اِقْرَاْ‘میں نے پھر اَن پڑھ ہونے کا عذر کیا۔ تب اس نے تیسری بار مجھے پکڑ کر خوب زور سے بھینچا پھر چھوڑ کر کہا: ’اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ. خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ. اِقْرَاْ وَرَبُّکَ الْاَکْرَمُ. الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ. عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ ‘۔ ‘‘

(تشريح) وہ اجنبی شخص اللہ تعالیٰ کا مقرب و معزز فرشتہ جبریل امین تھا، مگر اُس وقت اُس نے اپنا تعارف نہیں کرایا، نہ یہ بتایا کہ میں اللہ کا بھیجا ہوا آپ کے پاس آیا ہوں اور یہ کلمات جو آپ کو تلقین کر رہا ہوں، اللہ کے کلمات ہیں۔ اُس غار میں تو اب تک آپ کے پاس کوئی شخص دن میں بھی نہ آیا تھا۔ اہل مکہ شاید جانتے بھی نہ تھے کہ آپ اس غار میں خلوت گزیں رہا کرتے ہیں۔ پس جنگل میں اندھیری رات میں اس خلوت گاہ کے اندر کسی اجنبی شخص کا یکایک گھس آنا تعجب اور گھبراہٹ میں ڈال دینے والا واقعہ تھا۔ پھر اس کا پکڑ پکڑ کر آپ کو زور زور سے بھینچنا اور آپ کو تعجب و مشقت میں ڈال دینا ایک طرف اس کی دلیل تھا کہ وہ نہایت قوی و زور آور ہے۔ دوسری طرف سخت حیرت انگیز بھی تھا کہ آخر وہ آپ کے اَن پڑھ ہونے کے عذر کو کیوں نہیں سنتا۔ دراصل حضرت جبریل نے آتے ہی یہ آیتیں آپ کو تلقین کرنا شروع کر دی تھیں۔ لفظ اول ’اِقْرَأ‘ کہا تو آپ سمجھے کہ یہ شخص مجھ سے پڑھنے کو کہہ رہا ہے۔ اسی لیے عذر میں فرمایا: ”میں پڑھا ہوا نہیں ہوں“ آخر تین بار آپ کو زور زور سے بھینچنے کے بعد آپ کو پورا کلام تلقین کیا، تب آپ کو پتا چلا کہ’اِقْرَأ‘ تو اس کلام کا لفظ اول ہے جو اس نے مجھے تلقین کیا ہے۔ تعجب ہے کہ صحیحین کے شارحین کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی اور وہ ’اِقْرَأ‘ کی دور ازکار توجیہات میں جا پڑے۔

سوال یہ ہے کہ حضرت جبریل نے اُس وقت آپ کو صاف صاف کیوں نہیں بتایا کہ میں اللہ کا فرستادہ جبریل ہوں۔ اللہ نے آپ کو نبی بنایا ہے۔ میں اُس کا کلام آپ کے پاس لایا ہوں؟ جواب یہ ہے کہ اللہ کا یہ حکم نہ ہوا تھا۔ اس وقت آپ کو حیرت و دہشت اور تدبر و تفکر میں ہی ڈالنا مقصود تھا۔ فرشتہ آپ سے وہی کہہ سکتا تھا جو اسے کہنے کا حکم ہوا تھا۔

رہا جبریل کا آپ کو تین بار زور سے بھینچنا تو اس کی سیدھی سادی توجیہ تو یہ ہے کہ اس کا باعث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت تھی جو حضرت جبریل کے دل میں بھری ہوئی تھی۔ وہ اللہ کے ہر رسول کے دوست اور اس کے اور اللہ کے درمیان واسطہ رہے ہیں۔ آپ ان کے آخری محبوب تھے۔ اللہ کے نزدیک آپ کی جو قدر و منزلت تھی، اس سے وہ خوب واقف تھے۔ بے حد محبت ہونے کے باوجود چالیس سال تک حضرت جبریل کو آپ سے ملنے کی اجازت نہیں ملی تھی۔ آج رات پہلی بار بہ حکم حق وہ اپنے حبیب سے آ کر ملے۔ حالاں کہ آپ ان سے بالکل واقف نہ تھے، اس لیے محبت دو طرفہ نہ تھی۔ جان پہچان اور باہمی دوستی رکھنے والے بچھڑے ہوئے دو شخص ملتے ہیں۔باہم بغل گیر ہوتے اور ایک دوسرے کو بھینچتے ہیں۔ اس بھینچ بھانچ سے دونوں کو فرحت حاصل ہوتی ہے۔ لیکن اگر ایک شخص غائبانہ کسی سے بے حد محبت رکھتا ہو اور محبوب شخص نہ اسے پہچانتا ہو، نہ اس کی محبت کو جانتا ہو پھر اتفاقیہ دونوں کی ملاقات ہو جائے اور محبت کرنے والا بہ تقاضاے محبت بغل گیر ہو کر گرم جوشی کے ساتھ محبوب شخص کو بھینچے تو نہ پہچاننے کی وجہ سے اسے اس کے بھینچنے سے بڑی وحشت و تکلیف ہو گی۔ اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت حضرت جبریل کے بھینچنے سے تکلیف و مشقت ہوئی تھی۔ آپ کو معلوم ہوتا کہ یہ اللہ کا مقرب و معظم اور میرا دوست فرشتہ روح القدس ہے تو آپ بھی بہ تقضاے محبت انھیں بھینچتے۔ اور کیا عجب ہے کہ آپ کی زبان سے بھولابھالا عذر ”میں پڑھا ہوا نہیں ہوں“ سن کر حضرت جبریل کو آپ پر اور بھی پیار آیا ہو کہ جسے اللہ علم الاولین و الاٰخرین دینے والا اور اگلے پچھلے تمام علما کا امام بنانے والا ہے، وہ کس سادگی سے ’ما انا بقارئ‘ کہہ دیتا ہے۔ صبر سے پوری بات کیوں نہیں سنتا۔

اور تحقیقی بات یہ ہے کہ موثر محل تاثیر میں تاثر کی صلاحیت کو سرگرمِ کار کرنے کے لیے مناسب تصرفات کہا کرتا ہے۔ان تصرفات کے بغیر محل تاثیر میں تاثر کی صلاحیت ہویدا نہیں ہوتی۔ کسان بیج بونے کے لیے زمین میں مناسب تصرف اور اس کی چیر پھاڑ کرتا ہے۔ سنار زیور بنانے کے لیے سونے چاندی میں مناسب تصرف کرتا ہے۔ گلاتا ڈھالتا اور کوٹتا پیٹتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو جو علوم اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سینۂ پاک میں بہ تدریج ڈالنے منظور تھے، اُن کے اخذ و تلقی اور فہم و ادراک کی جو صلاحیت آپ کے اندر رکھی تھی، اسے سرگرمِ کار کرنے کے لیے جبریل کو آپ کے بھینچنے پر مامور فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ موثر تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم محل تاثیر تھے اور حضرت جبریل آلۂ تاثیر حق تھے۔

القصہ حضرت جبریل اپنا اور اس کلام کا کچھ تعارف کرائے بغیر آپ کو یہ کلام تلقین کر کے آپ کی نظر سے غائب ہو گئے۔ اب فرطِ دہشت سے آپ غار میں نہ رک سکے، حالاں کہ آپ اعتکاف سے فارغ ہو کر دن میں گھر واپس ہوا کرتے تھے، مگر اب رات کی تاریکی میں ہی واپس ہو گئے۔ چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں:’فوجع بھا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یرجف فؤادہ و ترجف بوادرہ فدخل علی خدیجۃ بنت خویلد فقال: ’’زملونی‘‘ فزملوہ حتی ذھب عنہ الروح فقال:’’يا خديجة، ما لي‘‘؟ و اخبرھا وقال: الخبر لقد خشیت علی نفسی‘۔حال یہ تھا کہ دل دھڑک رہا ہے۔ جسم اطہر پر کپکپی طاری اور زبانِ مبارک پر وہ مقدس کلام جاری ہے۔ اُس کلام کے کلمات سے یہ تو آپ قطعی طور پر جان چکے تھے کہ یہ میرے رب اللہ کی طرف سے ہے اور ان کلمات کے پردے میں میرے لیے عظیم الشان بشارت چھپی ہوئی ہے۔ دہشت کے ساتھ اس مسرت نے مل کر آپ کے اندر غیر معمولی کیفیت پیدا کر دی تھی۔ خلافِ معمول گھر پہنچے۔ آپ کے لرزاں و پریدہ رنگ دیکھ کر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا گھبرا گئیں۔ پوچھا: کیسی طبیعت ہے؟ فرمایا: مجھے کپڑا اوڑھا دو، کپڑا اوڑھا دو، کپڑا اوڑھا کے وہ آپ کے پاس بیٹھیں۔ بارے لرزہ موقوف ہوا اور طبیعت سنبھلی تب آپ نے ماجرا سنایا اور فرمایا کہ مجھے تو اپنی جان کا خوف ہو گیا تھا کہ وہ شخص مجھے بھینچ بھینچ کر مار ہی ڈالے گا۔

(تشريح) واضح رہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ’لقد اَخْشی‘ بہ صیغۂ مضارع نہیں، بلکہ’خَشِیْت‘ صیغۂ ماضی فرمایا تھا۔ شارحین نے غلط فہمی سے ’خَشِیْتُ‘ کو ’اَخْشٰی‘ کے معنی میں سمجھ لیا اور دور ازکار توجیہات کر ڈالیں۔ اس کے بعد قصہ پڑھیے:

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نہایت عقل مند و فرزانہ تھیں، بڑی خوبی و عمدگی سے آپ کو تسلی دی۔راوی کے لفظوں میں: ’فقالت خدیجۃ. کلا اَبْشر. واللّٰہِ لا یخزیک اللّٰہ ابدًا. انک لَتصل الرحم و تحمل الکَلَّ و تکسب المعدوم و تقری الضیف و تعین علی نوائب الحق و تصدق الحدیث و تؤدی الامانۃ‘۔

حضرت خدیجہ نے فرمایا:ہرگز نہیں۔ نہ ایسا ہو سکتا تھا نہ آیندہ ہو گا کہ اللہ آپ کو رسوا فرمائے۔ آپ اللہ کے دوست اور پسندیدہ بندے ہیں۔ دوست کو اپنے دوست کی رسوائی گوارا نہیں ہوتی۔ انسان بھی اپنے دوست کی عزت کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ اور لوگ بھی اس کی عزت کریں اور تا امکان اسے ذلت و رسوائی سے بچانے کی کوششیں کرتا ہے۔ قدرت ہونے کے باوجود کسی کو ذلت و رسوائی سے نہ بچانا اس کی محبت نہ ہونے کی دلیل اور دوستی کے منافی ہے۔ اور آپ اس لیے اللہ کے حبیب ہیں کہ رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہیں۔ نادار لوگوں کا بارِ معاش اٹھاتے ہیں۔ تقدیری حوادث کے شکار لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ مہمان نوازی، راست گفتاری اور اداے امانت آپ کا شیوہ ہے۔

(تشريح) یہ بڑی زبردست و قطعی برہان ہے جو حضرت خدیجہ نے اپنے عزت مآب شوہر صلی اللہ علیہ وسلم کے حبیب اللہ ہونے پر قائم کی تھی، اس لیے کہ ان اوصاف کا حاصل یہ ہے کہ آپ خلق خدا کے بڑے خیر خواہ و مددگار و فریاد رس ہیں اور جو بندہ ایسا ہو، وہ یقیناً اللہ کا محبوب ہے۔ اس حقیقت کو یوں سمجھو کہ جس شخص کے متعلق تمھیں معلوم ہو کہ وہ تمھاری اولاد کا سچا خیر خواہ و محسن ہے تو تمھارے دل میں اس کی عزت و محبت ضرور پیدا ہو جائے گی اور یہی کہو گے کہ وہ ایک شریف و کریم انسان ہے اور جس شخص کے متعلق تمھیں معلوم ہو کہ بلا وجہ تمھاری اولاد کے درپے آزار رہتا ہے اور اس سے بغض و دشمنی رکھتا ہے تو تمھیں اس سے نفرت ہو گی اور یہی کہو گے کہ وہ رذیل و کمینہ شخص ہے۔ اسی طرح یہ بھی قطعی ہے کہ جو شخص واقعی تمھارا دوست ہو گا تمھاری اولاد اور دیگر متعلقین سے بھی درجہ بہ درجہ محبت کا برتاؤ کرے گا۔ ناممکن ہے کہ کوئی شخص فی الواقع تم سے سچی محبت رکھتا ہو اور تمھارے اہل و عیال سے بغض و عداوت رکھے۔ سچ کہا ہے شاعر نے:

و من بیّنات الحب اَن کان اہلُھا

احبَّ الی قلبی و عینَیَّ من اھلی

’’محبت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ محبوب کے گھروالے بھی مجھے اپنے دل اور آنکھوں میں اپنے گھروالوں سے زیادہ محبوب ہیں۔‘‘

اور ظاہر ہے کہ والدین کو اپنی اولاد سے جو محبت و شفقت ہوتی ہے، وہ اس رحمت و محبت کی پاسنگ بھی نہیں ہے جو اللہ ارحم الراحمین کو اپنے بندوں سے ہے۔ والدین اپنی اولاد کی کفالت کرتے ہیں جو نہ کلی ہے نہ حقیقی، بلکہ جزوی اور مجازی ہے۔ لیکن اللہ اپنے تمام بندوں کی کلی و حقیقی کفالت فرماتا ہے۔ اس لیے جو بندہ خلق خدا کا دوست و خیر خواہ اور مددگار و فریاد رس ہو گا، یقیناً وہ اللہ کا محبوب اور اس کی نظر میں قدر و عزت کا مستحق ہو گا۔ اور جس شخص کے دل میں واقعی اللہ کی محبت ہو گی، لازماً وہ اللہ کی مخلوق پر شفیق و مہربان اور ان کا غم خوار ہو گا۔

طویل مصاحبت، عقل سلیم اور بلند پایہ فرزانگی کی بہ دولت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو یقین تھا کہ میرا گرامی مرتبہ شوہر غیر معمولی خوبیوں کا پیکر اور اللہ کا محبوب بندہ ہے اور ناممکن ہے کہ اپنے اس بندے پر اللہ کسی ایسے مرض یا آفت کو پڑ جانے دے جو رسوائی کا باعث ہو۔ اس لیے جو کچھ انھوں نے دیکھا ہے، نہ وہ دماغی خلل اور کسی قسم کے جنون کا نتیجہ ہے نہ کسی آسیب کا اثر وہ تو کچھ اللہ کی طرف سے ہی کسی عظیم و اہم بات کا آغاز ہوا ہے۔ مگر وہ بات کیا ہے؟ اور وہ شخص کون تھا؟ اس سوال کا جواب نہ حضرت خدیجہ کے پاس تھا، نہ اس وقت خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا۔ اور چونکہ حضرت خدیجہ کو اس کے من جانب اللہ ہونے کا یقین تھا، اس لیے وہ نہ آپ کو کسی طبیب یا کاہن کے پاس لے گئیں، نہ کسی جھاڑ پھونک کرنے والے کے پاس نہ آپ کو مشورہ دیا کہ فلاں طبیب یا کاہن یا راقی (جھاڑ پھونک کرنے والے) کے پاس جایئے، بلکہ حقیقت کا کچھ سراغ پا سکنے کی توقع میں صبح کو وہ اپنے چچا کے بیٹے ورقہ بن نوفل کے پاس آپ کو لے گئیں:

فانطلقت بہ خدیجۃ حتی اتت بہ ورقۃ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزی ابن عم خدیجۃ و کان امرءً ا تنصّر فی الجاھلیۃ و کان یکتب الکتاب العربی فیکتب بالعربیۃ من الانجیل ماشاء اللّٰہ ان یکتب. و کان شیخا کبیرا قد عمِی. فقالت لہ خدیجۃ: یا ابن عم!اسمع من ابن اخیک. فقال لہ ورقۃ یا ابن اخی، ما ذا تری؟ فاخبرہ رسول اللّٰہ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ خبرہ.

خود آپ اس مسئلہ میں اُن سے ملنے اور کچھ پوچھنے کی ضرورت نہ سمجھتے تھے، کیونکہ آپ سمجھتے تھے کہ جلد ہی اللہ کی طرف سے یہ مسئلہ حل ہو جانے والا ہے۔ لیکن حضرت خدیجہ کی دل دہی کی خاطر آپ ان کے ساتھ ورقہ کے پاس تشریف لے گئے۔ ورقہ بن نوفل عنفوانِ شباب میں ملک شام چلے گئے تھے۔ وہاں تورات و انجیل کے علما سے مستفید ہوئے۔ لکھنا پڑھنا سیکھا اور عیسائی مذہب اختیار کر لیا۔ جوانی وہیں بیت گئی، بوڑھے ہو گئے تو اس قصد سے مکہ واپس آ گئے کہ گھر رہ کر انجیل کا عربی زبان میں ترجمہ کروں گا۔ لیکن بینائی جاتی رہی، اس لیے یہ کام نہ ہو سکا۔ اب سب سے الگ تھلگ اپنے گھر پڑے رہتے تھے۔ حضرت خدیجہ کے والد کا نام خویلد بن اسد تھا اور ورقہ کے والد کا نام نوفل بن اسد۔ حضرت خدیجہ یہ سوچ کر گئی تھیں کہ میرا بوڑھا نابینا بھائی ورقہ چونکہ عالم و فاضل اور صالح و عابد شخص ہے، اس لیے ممکن ہے کہ اس کے پاس اس گتھی کا حل ہو۔ جا کر کہا: بھائی جان، ذرا اپنے بھتیجے کا تو ماجرا سنیے! یہ ورقہ کو معلوم ہوہی چکا تھا کہ خدیجہ آپ کو ساتھ لے آئی ہیں۔ عمر کی بزرگی کا خیال کر کے حضرت خدیجہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو محاورۃً ورقہ کا بھتیجا قرار دیا تھا۔ یوں بھی ورقہ و خدیجہ اوپر کے نسب میں آپ کے ساتھ قصی بن کلاب پر جمع ہو جاتے ہیں۔ علماے نسب کہتے ہیں کہ اوپر کے نسب کے لحاظ سے ورقہ بن نوفل اور عبد اللہ بن عبدالمطلب بھائی بھائی قرار پاتے ہیں۔ ورقہ نے شفقت کے ساتھ پوچھا: بتاؤ بھتیجے، کیا ماجرا ہے؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماجرا بیان کیا۔ ورقہ نے توجہ سے پورا قصہ سن کر کہا: مژدہ باد یہ شخص جس نے اچانک آ کر آپ کو زور زور سے بھینچا اور یہ کلام تلقین کیا ہے، ناموس ہے۔ اللہ کا خاص سفیر جو اللہ کے نبیوں کو اللہ کا کلام و پیام پہنچانے پر مامور ہے۔ موسیٰ علیہ السلام پر اللہ کی وحی لے کر یہی ناموس بہ کثرت آیا ہے۔ آپ کے پاس اس کا آنا اور اس کلامِ حق کو لانا یہ معنی رکھتا ہے کہ اللہ نے نبوت کا اعزاز آپ کو عطا فرمایا ہے۔ گو ابھی آپ سے ناموس نے اس کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اس سلسلہ میں آپ کو سخت احوال پیش آئیں گے۔ کاش، میں ان دنوں کچھ کر سکنے کے لائق رہوں۔ کاش، میں اس زمانہ میں زندہ رہوں جب آپ کی قوم آپ کو یہاں سے نکال دے گی۔ چنانچہ حدیث میں ہے: ’فقال لہ ورقۃ: ھذا الناموس الذی نزل اللّٰہ علی موسی. یٰلیتنی فیھا جَذَعًا یٰلیتنی اکون حیا اذیُخرجک قومک‘۔

(تنبیہ) زہری سے یہ حدیث معمر بن راشد جزری و عقیل بن خالد ایلی و یونس بن یزید ایلی نے سن کر روایت کی تھی۔ تینوں کی روایت میں ’علی موسی‘ کے بعد ’یا لینتی فیھا جذعا‘ ہے۔ سوال یہ ہے کہ’فیھا‘ کی ضمیر کا مرجع کیا ہے؟ ما قبل میں کوئی لفظ ایسا مذکور نہیں ہے جو اس ضمیر کا مرجع بن سکے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہاں زہری یا عروہ سے کچھ چھوٹ گیا ہے۔ اصل حدیث میں جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کی تھی ’اِنَّ بین یدیک ایّامًا شدیدۃً‘ یا اس کا ہم معنی کوئی جملہ تھا۔ لفظ ’فِیھا‘ اس جملہ کے ہونے کا مقتضی ہے۔ میں نے اوپر اس کا مطلب واضح کر دیا ہے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ورقہ کی یہ بات سن کر کہ آپ کی قوم ایک دن آپ کو یہاں سے نکال دے گی، تعجب ہوا، کیونکہ چھوٹے بڑے، امیر و غریب تمام اہل مکہ آپ کا بڑا احترام کرتے تھے۔ ان کی محفلوں میں الصادق الامین کے لقب سے آپ کا ذکر ہوتا تھا۔ تو وہ کیوں آپ کے دشمن بن جائیں گے۔ اس لیے از راہِ تعجب فرمایا: ”مجھے وہ نکال دینے والے ہیں؟“ چنانچہ حدیث میں ہے: ’فقال رسول اللّٰہ صلى اللّٰه عليه وسلم او مخرجِیَّ ھم؟ قال: نعم، لم یأت رجل قط بمثل ما جئت بہ الا عودِی و اُوذی. و اِن ید رکنی قومک انصرْک نصرا مؤزرا. ثم لم ینشب ورقۃ اَن توفی و فتر الوحی‘ (صحیحین) ۔

ورقہ نے جواب دیا کہ ہاں، یہ تو ہو کررہنے والا واقعہ ہے، کیونکہ جو بھی اللہ کا رسول ہوا ہے اور جس نے بھی بہ حکم حق لوگوں کے سامنے حکم حق پیش کیا ہے، اُس سے دشمنی کی گئی اور اُسے تکلیف پہنچائی گئی ہے۔ اور اگر وہ آنے والا وقت میری زندگی میں آ گیا تو میں مقدور بھر آپ کی بھرپور مدد کروں گا، لیکن ورقہ کا چند روز بعد ہی انتقال ہو گیا اور کچھ مدت وحی بند رہی۔ نہ آپ نے وہ فرشتہ دیکھا، نہ مزید کوئی آیت نازل ہوئی۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہیں تک بیان کیا تھا۔ آگے کا قصہ جس میں تقریباً ایک ماہ بعد سورۂ مدثر کی ابتدائی آیات نازل ہونے اور پھر تسلسل کے ساتھ وحی آتے رہنے کا ذکر ہے۔ حضرت جابر نے بیان کیا ہے جو اُسی وقت حاضر مجلس ہوئے تھے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہاں تک ذکر فرما چکے تھے۔ حضرت جابر کی حدیث ضروری وضاحت کے ساتھ بحمداللہ مقدمہ تفسیر سورۂ مدثر میں بیان کی جا چکی ہے۔ اب تین باتیں اور عرض کرتا ہوں۔

اول یہ کہ عامر بن شراحیل شعبی نے نہ معلوم کس سے سن کر کہہ دیا تھا کہ ’اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ‘ کے بعد تین سال تک وحی بند رہی۔ شعبی کی یہ بات قطعاً غلط اور محض ہوائی ہے جسے بعض مفسرین نے اس طرح نقل کر دیا ہے جیسے یہ کوئی صحیح و ثابت بات ہو۔ حضرت جابر کی حدیث صحیح جس کی بخاری و مسلم و احمد نے تخریج کی ہے، بتاتی ہے کہ وحی رکنے کی مدت چند روزہ تھی۔ بس تقریباً ایک ماہ کا ذکر امام احمد کی تخریج کردہ حدیث جابر میں ہے۔ (مسند احمد 3/ 306)

دوم یہ کہ ورقہ نے نہ آپ کو جبریل نام بتایا تھا، نہ یہ کہ جو آپ کو کلام تلقین کیا گیا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ بس ’ھذا الناموس الذی نزّل اللّٰہ علی موسی‘ کہا تھا۔ ناموس راز داں اور سفیر ِخیر کو کہتے ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ورقہ کی اس بات پر تو اظہارِ تعجب کیا تھا کہ آپ کی قوم آپ کو یہاں سے نکال دے گی، لیکن آپ نے ورقہ سے نہ ناموس کا مطلب پوچھا تھا نہ موسیٰ کے متعلق دریافت کیا کہ کون تھے، اس لیے کہ آپ کو یقین تھا کہ چونکہ یہ امر اللہ کی طرف سے ہے، لہٰذا تمام حقائق آیندہ خود ہی کھول دیے جائیں گے، کیونکہ جو آیات آپ کو تلقین کی گئی تھیں، وہ آپ کے لیے عظیم الشان بشارت اپنے اندر رکھتی تھیں۔ اس لیے نہ آپ کو اس سلسلہ میں ورقہ سے کچھ پوچھنے کی ضرورت تھی، نہ آپ ورقہ کے پاس کچھ پوچھنے کے لیے گئے تھے۔ نہ اس سے پہلے آپ کبھی ورقہ سے ملنے کے لیے تشریف لے گئے تھے، نہ اس کے بعد آپ کا ورقہ سے ملنا ہوا۔ اور اس وقت تو آپ محض حضرت خدیجہ کا دل رکھنے کے لیے ورقہ کے یہاں آ گئے تھے۔

رہا یہ کہ ورقہ نے کیسے سمجھ لیا تھا کہ آپ نے وہی ناموس دیکھا ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا تھا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ ورقہ ذی علم ہونے کی وجہ سے اس سے واقف تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بشارت دے گئے ہیں کہ میرے بعد احمد نام کا ایک رسول تشریف لائے گا۔ وہ جانتے تھے کہ حضرت موسیٰ نے فرمایا ہے: ”خدا وند سینا سے آیا ساعیر سے چمکا اور فاران سے جلوہ گر ہوا“ یسعیاہ، ير میاہ، حزقیل اور داؤد و سلیمان علیہم السلام کی پیشین گوئیاں بھی ان کے علم میں ہوں گی اور قرابت ِقریبہ کی وجہ سے وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ سے بھی واقف تھے، اس لیے انھوں نے سمجھ لیا کہ ان سابق ابنیاے کرام کی بشارتوں کے مصداق آپ ہی ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ورقہ کے پاس آنا جانا نہ تھا۔ آپ کا مکہ میں میل جول صرف حضرت ابوبکر بن ابی قحافہ سے تھا اور جب سے آپ خلوت گزیں ہوئے تھے، ان سے بھی شاید ہی کبھی ملاقات ہوئی ہو۔ ورقہ سے آپ کی یہ مختصر سی ملاقات جب حضرت خدیجہ آپ کو لے کر گئی تھیں پہلی بھی تھی اور آخری بھی، کیونکہ آپ ایک دو دن بعد پھر غارِ حرا میں جا کر معتکف ہو گئے اور غالباً اسی دوران میں ورقہ کا انتقال ہو گیا۔ ورقہ نے سوچا ہو گا کہ آیندہ ملاقات میں مفصل بات چیت کروں گا، لیکن پھر انھیں موقع نہ مل سکا۔ پس حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے نبی ہو جانے کا علم ورقہ کی بات سن کر نہیں ہوا تھا، بلکہ جب آپ کو فرشتے نے غارِ حرا میں سورۂ علق کی ابتدائی آیات تلقین کی تھیں تو ان آیات کے مضمون سے اپنے نبی ہونے کا اجمالی علم حاصل ہو چکا تھا اورتفصیلی علم سورۂ مدثر کی ابتدائی آیات کے نزول کے وقت ہوا تھا۔ ورقہ نے اپنی گفتگو سے آپ کے اجمال علم و وجدان کی تصدیق کر دی تھی۔

تیسری بات یہ ہے کہ ورقہ نے ’ھذا الناموس الذی نزّل اللّٰہ علی موسٰی‘ کہا تھا۔ نہ موسیٰ کے بجاے عیسیٰ کہا، نہ موسیٰ کے ساتھ عیسیٰ کہا، حالاں کہ ورقہ عیسائی تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ جانتے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اُن رسولوں میں سے ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دین کی تجدید کے لیے ہی بنی اسرائیل میں مبعوث ہوئے تھے۔ وہ مستقل صاحب شرع رسول نہ تھے، بلکہ شریعت میں حضرت موسیٰ کے تابع تھے۔ اس سے سراغ لگتا ہے کہ ورقہ مومن و صالح العقیدہ شخص تھے۔ ان عیسائیوں میں سے نہ تھے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق افراط و غلو میں مبتلا ہیں۔

پہلی وحی سورۂ فاتحہ تھی: بحمداللہ آغازِ وحی کے متعلق حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث کی ضروری شرح و وضاحت ناظرین کے سامنے آ گئی ہے۔ اس کے متعلق میں نے خامہ فرسا ئی اس لیے ضروری سمجھی کہ یہ حدیث صحیحین میں ہے۔ بخاری و مسلم، دونوں نے اس کی تخریج کی ہے۔ صحیح بخاری میں یہ حدیث چھ جگہ مذکور ہے۔ اس کی رو سے یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ سورۂ علق کی یہ ابتدائی آیات ہی سب سے پہلے نازل ہوئی تھیں، لیکن حق یہ ہے کہ ابن شہاب زہری سے اس حدیث کو بیان کرنے میں متعدد غلطیاں ہو گئی تھیں۔ اور سوچنے کی بات یہ ہے کہ مصحف شریف میں قرآنِ مجید کی جو پہلی لکھی ہوئی حدیث اور صحابۂ کرام سے آج تک تمام اہل اسلام اس پر متفق ہیں، وہ سورۂ فاتحہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فاتحۃ الکتاب اور ام القرآن بتایا ہے اور وہ فی الواقع پورے قرآن مجید کی اساس ہے۔ تمام چھوٹی بڑی سورتیں اسی پر مبنی ہیں جسے پوری عمارت اساس، یعنی بنیاد پر مبنی ہوتی ہے۔ سورۂ فاتحہ میں اللہ نے بندوں کو تعلیم دی ہے کہ اس کی حمد و ثنا کریں اور اعتراف کریں کہ وہ تنہا ان کا معبود و حاجت روا ہے، پھر اس سے درخواست کی کہ انھیں راہِ راست پر چلائے۔ سورۂ فاتحہ کے بعد پورے قرآنِ کریم میں اس راہِ راست صراطِ مستقیم کا بیان ہے۔ دوپہر کے سورج سے بڑھ کر وضاحت ہے۔ اب کوئی بتائے کہ کیا بنیاد مقدم ہوتی ہے یا عمارت؟ کیا ماں سے پہلے اس کی اولاد وجود میں آتی ہے؟ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عملاً قولاً فرما دیا ہے کہ نماز کی ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ پڑھی جائے؟ اس لیے سمجھ میں یہی آتا ہے کہ سورۂ فاتحہ ہی سب سے پہلے نازل ہوئی تھی۔ اس حدیث میں:’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ. اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ. مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ ‘کے بجائے: ’اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ‘ کا ذکر کرنا ابن شہاب زہری کی غلط بیانی ہی معلوم ہوتی ہے۔

(مقدمہ تفسیر سورۂ علق ’’مفتاح القران‘‘،جلد پنجم، زیر طبع )

  1. ۔ تدبرقرآن1/76۔
  2. ۔ البیان 1/14۔