اس جہانِ پست میں کیا چاہیے
وہ نہیں ملتا تو چاہیں اور کیا
کب اسے دیکھیں یہی دیکھا کیے
ہے بقدر ساز و ساماں بار دل
صحبتوں سے دل مکدر ہو گیا
آج سے کل دور کچھ اتنا نہیں
کون ہے جس پر کریں ہم اعتماد
زندگی بیگار میں ساری کٹی
اور نہ چاہو کچھ تو پھر کیا چاہیے
چاہنے کو اس سے بالا چاہیے
اور جو ملتا ہے تو پھر کیا چاہیے!