یہ بانو مشتاق کی انعام یافتہ کتاب “ہارٹ لیمپ” کی سرورق کہانی کا ترجمہ ہے۔ اس کتاب کا تعارف اس شمارے میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ افسانہ ہندوستان کی مڈل کلاس مسلم سوسائٹی کے احوال کی بہت عمدہ ترجمانی کرتا ہے، لیکن یہ مائنڈ سیٹ کم و بیش پورے برصغیر ہی میں ملتا ہے۔ ترجمہ نعیم بلوچ نے کیا ہے۔
مہرو نے آدھے کھلے دروازے کی درز کو ذرا سا دھکیلا ہی تھا اور محض ایک قدم اندر رکھا تھا کہ صحن کے ساتھ والے کمرے میں تخت پر نیم دراز اس کے والد اور آہستہ آواز میں ان سے باتیں کرتے بڑے بھائی کی گفتگو ایک دم رک گئی۔ دونوں کی نظریں ایک ساتھ اس پر جا ٹکیں۔
اسی دوران اندر سے بھاگتی ہوئی رابعہ آئی اور خوشی سے چہک کر بولی:
“مہرو پھپھو آ گئیں … مہرو پھپھو آ گئیں!”
یہ سنتے ہی مشتاق، جو رابعہ کے والد اور مہرو کا دوسرا بھائی تھا، کمرے سے نکل آیا۔ اس کی ٹھوڑی پر شیو کے صابن کی جھاگ چمک رہی تھی، ہاتھ میں اب بھی برش تھا، اور وہ مہرو کو اس طرح دیکھنے لگا جیسے یقین ہی نہ آ رہا ہو کہ وہ سامنے کھڑی ہے۔
اسی لمحے شفیق، جو بچوں کو ترنم سے قرآن پڑھا رہا تھا، بھی سب کچھ بھول کر باہر آیا اور مہرو پر نظریں جما دیں۔ اس کے دوپٹے کا پلو سر سے ڈھلک رہا تھا مگر اسے اس کی پروا نہ تھی۔
ماں، جن کی باریک اور کانپتی انگلیوں میں تسبیح کے دانے تھرک رہے تھے، یوں کھڑی رہ گئیں جیسے زبانِ حال سے
پوچھ رہی ہوں:
“یہ سچ ہے؟ کیا یہ سچ ہے؟”
چھوٹی بہنیں، ریحانہ اور صبیحہ، ڈرائنگ روم کے دروازے کے پیچھے سے جھانکنے لگیں۔ باورچی خانے میں توے پر ڈالی گئی چپاتی جلنے لگی مگر انہیں پروانہ تھی۔ شکر تھا کہ چھوٹا بھائی عاطف اس وقت گھر پر موجود نہ تھا۔
پورے گھر پر جیسے ایک لمحے کے لیے سکتہ طاری ہو گیا۔ وہی گھر، جہاں بچپن میں ہنسی کی کھنک بکھرتی تھی، اب اس کے لیے اجنبی لگ رہا تھا۔ ماں، جنہوں نے نو مہینے اسے اپنے پیٹ میں رکھا اور پھر اپنی گود میں پروان چڑھایا تھا، آج زبان نہ کھول سکیں کہ کہتیں:
“آ گئی میری بچی، اندر آ جا!”
والد، جو کبھی اسے اپنی چوڑی چھاتی پر اچھلتے دیکھ کر خوشی سے کھلکھلا اٹھتے تھے، ان کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ کا شائبہ تک نہ تھا۔ مشتاق، وہی بھائی جو ضد کر کے اسے کالج بھیجنے پر مصر رہتا تھا، چپ کھڑا تھا۔ سب سے بڑے بھائی، جو ہمیشہ پیار سے اسے “میری پری، میری فرشتہ” کہا کرتے تھے، نگاہیں پھیر کر کھڑے رہے۔ بھابھیاں اسے یوں گھور رہی تھیں جیسے کسی اجنبی سی مخلوق کو دیکھ رہی ہوں۔ مہرو کا دل بیٹھ گیا۔
اسی لمحے اس کی گود میں لپٹی نو ماہ کی بچی زور سے روئی تو سب کے ہوش ٹوٹے۔ بڑے بھائی کی زبان سے پہلا جملہ نکلا:
“عنایت کہاں ہے؟”
“وہ شہر میں نہیں ہے۔” مہرو نے سر جھکا لیا، جیسے کوئی جرم کر بیٹھی ہو۔
“تو پھر تم کس کے ساتھ آئی ہو؟”
“میں اکیلی آئی ہوں۔”
“اکیلی؟!” یہ آواز یکدم ہر سمت سے بلند ہوئی۔
مہرو اب بھی دہلیز پر ہی کھڑی تھی کہ بڑے بھائی نے حکم دیا:
“فاروق! اندر لے جاؤ اسے۔”
حکم سنتے ہی وہ جیسے بوجھل قدموں سے کمرے میں داخل ہوئی۔ کمرہ عدالت لگ رہا تھا۔ بچی پھر رونے لگی۔ مہرو نے نقاب اوپر کر کے ابا کے بستر کے کنارے پر بیٹھتے ہی بچی کو سینے سے لگا لیا۔ اس نے نہ نقاب اتارا، نہ منہ دھویا۔
رات سے بھوکی تھی، پیٹ میں آگ سی لگی ہوئی تھی۔ اس محفل میں عورتوں کو آنے کی اجازت نہ تھی، ماں کے سوا۔
ماں کی لرزتی آواز اٹکی:
“مہرو! تم نے آنے سے پہلے کسی کو اطلاع دی تھی؟”
“کیوں دوں اطلاع؟ کس کو دوں؟” مہرو نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا، “اب تو ہفتہ گزر گیا، وہ گھر تک نہیں آیا۔ نہ بتایا کہاں گیا ہے۔ میں نے خط لکھے تھے، مگر آپ سب نے جواب دینا تک گوارا نہ کیا۔ پروا نہ کی کہ میں زندہ ہوں یا مر گئی۔”
بڑے بھائی کی آواز میں کڑواہٹ تھی۔
“تم نے لکھا تھا کہ وہ کسی نرس کے ساتھ چلا گیا ہے۔ اور تم چاہتی ہو ہم یہ مان لیں؟”
مہرو کے چہرے پر دکھ کی لکیریں کھنچ گئیں۔
“اگر یقین نہیں تھا، تو آ کر پوچھتے۔ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے خود دیکھا ہے۔”
بھائی کا جواب کڑا تھا:
“تو پھر؟ ہم جا کر دیکھ بھی لیں تو کیا ہو گا؟ مان لو ہم نے پکڑ کر پوچھا اور وہ صاف کہہ دے کہ ہاں، یہ سچ ہے۔ تو ہم کیا کریں گے؟ مسجد میں عرضی لکھیں کیا؟ وہ کہے گا: غلطی ہو گئی، اب اسے مسلمان بنا کر نکاح کر لیتا ہوں۔ تو وہ تمہاری سوتن بن جائے گی۔ اور مان لو ہم نے ڈانٹ بھی دیا، تو کیا کر لیں گے اگر وہ کہہ دے کہ مجھے یہ عورت نہیں چاہیے، میں اسے طلاق دیتا ہوں؟”
اب مہرو پر رونے کا گویا دورہ پڑ گیا۔ اسے خود پر قابو نہ رہا۔ بچی کو سینے سے لگا کر ایک طرف سے دوسری طرف کروٹ بدل دی اور دودھ پلاتی رہی۔ اپنے برقع کے نیچے سے ساڑھی کا پلو نکالا اور اسی سے آنکھیں اور ناک پونچھ ڈالیں۔ کمرے پر ایک لمحے کو پھر سکوت چھا گیا۔ اس سکوت کو مہرو نے خود توڑا:
“یعنی یہ بات ہے کہ آپ سب کچھ نہیں کر سکتے، ہے نا؟”
کوئی بولا نہیں اور وہ رکی نہیں:
“میں نے آپ سب کے قدموں میں گر کر کہا تھا کہ مجھے شادی نہیں کرنی۔ کیا آپ نے سنی؟ میں نے کہا تھا کہ میں برقع پہن کر کالج چلی جاؤں گی، مجھے پڑھنے سے نہ روکیں۔ میں نے آپ سے منتیں کیں، مگر کسی نے میری نہ سنی۔ میری ہم جماعت آج تک غیر شادی شدہ ہیں، اور میں پانچ بچوں کا بوجھ ڈھوتی ایک بوڑھی عورت بن گئی ہوں۔”
ان کا باپ آوارہ پھر رہا ہے اور میری اپنی زندگی کچھ نہیں۔ جب ایک مرد اتنا بڑا حرام کام کرتا ہے تو آپ میں سے کوئی اس سے سوال کرنے کی جرات نہیں رکھتا؟”
“بس، مہرو… بس!” ماں نے آنکھیں موند لیں اور سر جھٹک دیا۔
مہرو نے روتے روتے سر اٹھایا:
**”ہاں مشتاق، بس تو میرے ساتھ بھی ہو چکا۔ پہلے لوگ سرگوشیاں کرتے رہے، پھر جنہوں نے ان دونوں کو تھیٹروں اور ہوٹلوں میں دیکھا، سیدھا آ کر مجھے بتایا۔ اور پھر وہ ڈھیٹ ہو گیا، اس کے گھر آنے جانے لگا۔ سب نے سمجھایا، تو وہ بنگلور گیا، ہزاروں روپے خرچ کیے اور اسے وہاں سے ٹرانسفر کروا لیا۔ اب آٹھ دن سے وہ اس کے ساتھ رہ رہا ہے۔
آخر میں کب تک برداشت کروں؟ میں کیسے جیوں؟”**
ماں نے لرزتی آواز میں کہا:
“صبر کرو، بیٹی۔ پیار سے اسے راہِ راست پر لانے کی کوشش کرو۔”
“مشتاق، کیا میرا دل نہیں ہے؟ کیا میرے جذبات نہیں؟ اس کی اس بے وفائی پر میں اسے شوہر مان کر عزت نہیں دے سکتی۔ اس کی صورت دیکھ کر میرے جسم پر کراہت چھا جاتی ہے۔ محبت تو دور کی بات ہے۔ یہ طلاق دینے یا نہ دینے کا مسئلہ نہیں۔ میں خود اس سے طلاق لوں گی۔ میں اس گھر واپس نہیں جاؤں گی۔”
“مہرو! یہ کیا کہہ رہی ہو؟ یہ زیادتی ہے۔ وہ مرد ہے، کیچڑ میں پاؤں رکھ دیا ہے تو دھو کر واپس آ جائے گا۔ کوئی داغ اس پر چپکا نہیں رہ سکتا۔”
اس سے پہلے کہ مہرو جواب دیتی، مشتاق بول پڑا:
“دیکھو تو کیسے بڑوں کے سامنے زبان چلا رہی ہے۔ یقیناً اس کے سامنے بھی ایسی ہی باتیں کرتی ہو گی، اسی لیے وہ ناراض ہو کر چلا گیا۔”
پھر ذرا نرم لہجہ اختیار کیا:
“اگر گھر کی بہو بیٹیاں یہ باتیں سن لیں تو کمال ہی ہو جائے گا نا؟”
مہرو کا دکھ یکدم غصے اور پھر مایوسی میں بدل گیا:
“واہ انا! آپ بہت انصاف کی بات کرتے ہیں۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے۔ سچ یہی ہے کہ گناہ گار میں ہی ہوں۔ اپنی بدطینتی کا سبق بھی آپ سے سیکھ لیا۔ میں نے کبھی برقع کے بغیر قدم باہر نہیں رکھا۔ وہ کہتا تھا برقع چھوڑ دو، ساڑھی کو ناف سے نیچے باندھو اور اس کا ہاتھ تھامے سرِ عام پھرو۔ مگر آپ ہی نے مجھے برقع اوڑھا کر یوں پروان چڑھایا کہ
آج میرا پلّو ذرا سا بھی سر سے ڈھلک جائے تو میں ننگی محسوس کرتی ہوں۔ آپ ہی نے شریعت کا خوف میرے دل میں بسا دیا۔ میں نے وہ نہیں کیا جو وہ چاہتا تھا، اسی لیے اس نے ایسی عورت چنی جو اس کی مرضی پر ناچتی ہے۔ اور اب آپ سب ڈرتے ہیں کہ اگر اس نے مجھے چھوڑ دیا تو میں آپ کے گلے کا بوجھ بن جاؤں گی۔ اسی لیے مجھے سہنے کو کہہ رہے ہیں۔ مگر یہ اب ممکن نہیں۔ اس جہنم میں جلنے سے بہتر ہے کہ اپنے بچوں کو لے کر مزدوری کر لوں۔ آپ پر بوجھ نہیں بنوں گی۔”
ماں نے لرزتے لبوں سے کہا:
“پھل بیل پر بوجھ ہوتا ہے کیا، مہرو؟ یہ کیسی باتیں کر رہی ہو؟”
بڑا بھائی سنجیدہ آواز میں بولا:
“مشتاق، اسے اندر لے جائیں اور کچھ کھانے کو دیں۔”
پھر سخت لہجے میں کہا:
“ہم دس منٹ میں چک منگلور کے لیے نکلتے ہیں۔ اگر بس ملی تو بس سے جائیں گے، ورنہ ٹیکسی پکڑیں گے۔ ہم اس کی ضد پر نہیں چل سکتے۔”
مہرو نے چٹان کی طرح اٹل لہجے میں کہا:
“میں آپ کے گھر ایک قطرہ پانی بھی نہیں پیوں گی، اور نہ ہی چک منگلور جاؤں گی۔ اگر زبردستی لے گئے تو قسم ہے، آگ لگا لوں گی خود کو۔”
“بس بہت ہو گیا، مہرو!” بھائی کا لہجہ سخت تھا، “جو مرنا چاہتے ہیں وہ یوں بڑھ چڑھ کر باتیں نہیں کرتے۔ اگر واقعی اس خاندان کی عزت کا پاس ہوتا تو تم یہاں آنے کے بجائے یہ قدم اٹھا لیتی۔ تمہاری ڈولی جس گھر گئی ہے، تمہارا جنازہ بھی وہیں سے نکلنا چاہیے۔ شریف عورت کی زندگی یہی ہے۔ تمہاری بیٹی ہائی اسکول میں پڑھ رہی ہے، دو بہنیں بیاہنے کے قابل بیٹھی ہیں۔ تمہارا ایک قدم ان سب کے مستقبل کو داؤ پر لگا دے گا۔ تم چاہتی ہو ہم تمہاری بچکانہ باتوں پر یقین کریں اور تمہارے شوہر سے لڑنے جائیں، مگر ہمارا بھی گھر ہے، بیویاں اور بچے ہیں۔ اس لیے چپ رہو اور جا کر کھانا کھاؤ۔”
پھر وہ مشتاق کی طرف پلٹا اور سختی سے بولا:
“مشتاق، ٹیکسی منگاؤ۔”
مہرو خاموش بیٹھی رہی۔
ماں اور بہنیں اسے منانے کی کوشش کرتی رہیں، مگر اس نے نوالہ منہ میں نہ ڈالا، نہ قطرہ پانی پیا۔ جب ٹیکسی آ گئی تو
وہ گود میں بچی کو بھینچ کر باہر نکلی۔ بھائی اس کے ساتھ تھے۔ اس نے کسی کو خدا حافظ نہ کہا۔
بس جب دروازے کی آخری سیڑھی پر پہنچی تو پلٹ کر ایک بار اپنے اس گھر کو دیکھا جہاں اس نے جنم لیا تھا مگر اب وہ اس کا نہیں رہا تھا۔ آنکھوں میں برسات اتر آئی۔
ابا نے سینے پر ہاتھ رکھا، کھانسی کا دورہ پڑا۔ ماں روتی ہوئی کبھی شوہر کو سنبھالتی، کبھی بیٹی کو تکتے ہوئے ہاتھ باندھ کر کہتی جا رہی تھی:
“کھانا تو کھلا دیا ہوتا!”
مشتاق نے کار کا دروازہ کھولا اور مہرو کی طرف آنکھوں کے اشارے سے کہا کہ بیٹھ جاؤ۔ زیر لب بڑبڑاتا بھی رہا۔ کبھی زمانے میں مہرو اپنے بھائیوں پر فخر کرتی تھی۔ شوہر عنایت سے خفا ہوتی تو ڈنکے کی چوٹ پر کہہ دیتی:
“میرے بھائی شیرِ ببر کی طرح کھڑے ہیں۔ اگر تم یوں ہی کرتے رہے نا تو ایک دن تمہیں کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے۔”
لیکن آج وہ فخر، وہ غرور سب مٹ گیا تھا۔ بھائی کے الفاظ اس کے کانوں میں گونج رہے تھے:
“اگر تجھے خاندان کی عزت کی پروا ہوتی تو تو اپنے آپ کو آگ لگا کر مر جاتی۔ تجھے یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔”
وہ کار میں بیٹھ گئی، نہ ماں کو دیکھا جو شاید کھڑکی کے پیچھے سے جھانک رہی ہو، نہ بہنوں کو جو پردے کی اوٹ میں چھپی ہوں، نہ بھابھیاں جو اپنی مصروفیت میں الجھی ہوں گی۔ صرف آنسو تھے جو نقاب کے نیچے بہتے جا رہے تھے۔ وہ ہونٹ کاٹتی رہی اور دبے دبے سسکیوں کو اندر ہی نگلتی رہی۔
کار تیز دوڑ رہی تھی۔ کسی نے زبان نہ کھولی۔ مشتاق سامنے ڈرائیور کے ساتھ بیٹھا تھا۔ محلے کے ڈرائیور کے آگے گھر کے راز کیسے کہے جاتے؟ سو سفر خاموشی میں کٹتا رہا۔
مہرو کے ذہن میں پچھلے سولہ برسوں کی کہانی یوں پلٹتی رہی جیسے کوئی پٹاری کھل گئی ہو۔ سولہ برس تک وہ عنایت کی محبت اور ہوس کے کھیل میں ایک مہرہ بنی رہی، اور آخرکار انہی سولہ برسوں کے بعد اس کی عورت ہونے کی توہین کی گئی۔
“تو لاش کی طرح پڑی رہتی ہے۔ مجھے کیا خوشی ملی تجھ سے؟” عنایت نے اسے ایک دفعہ طعنہ دیا تھا۔
“کیا کچھ نہیں دیا تجھے پہننے کو، کھانے کو؟ کون ہے جو مجھے روک سکے؟ اب میں اس عورت کے ساتھ ہوں جو مجھے خوش رکھتی ہے۔”
کار رکی تو مہرو نے بے دلی سے باہر دیکھا۔ یہ وہی مکان تھا جسے اس کا گھر کہا جاتا تھا۔ سامنے سے ایک کمسن سی مرجھائی ہوئی لڑکی بھاگتی ہوئی آئی:
“امی! آخر آپ واپس آگئیں۔ میں تو ڈر ہی گئی تھی!”
یہ سلمیٰ تھی، سولہ برس کی، جس نے گود سے منھی بہن کو لیا، سینے سے لگایا اور اندر دوڑ گئی۔
مہرو آہستہ آہستہ گھر کے اندر داخل ہوئی۔ گھر سونا لگ رہا تھا۔ باقی بچے اسکول گئے ہوئے تھے۔ سلمیٰ، جو اپنی ماں کے دکھ میں برابر کی شریک تھی، اس دن سب سے بڑی تھی۔ صبح سے بہن بھائیوں کو اسکول بھیج کر بس ماں کا انتظار کر رہی تھی۔ ماں کے ساتھ ماموں کو دیکھ کر اس نے اطمینان کا سانس لیا۔ دل ہی دل میں خوش ہوئی:
“ابوا کو وہ بالوں سے گھسیٹ کر بھگائیں گے۔”
وہ ہرنی کی طرح ادھر اُدھر دوڑنے لگی، کبھی ماموں کو ناشتہ دیتی، کبھی چائے چڑھاتی۔ ماں کمرے میں پڑی تھی۔ سلمیٰ آئی، ماں کے آنسو پونچھے، نوالے نوالے کھلائے۔ پلیٹ اٹھا کر کمرے سے باہر نکل ہی رہی تھی کہ جانا پہچانا سا لہجہ کان میں پڑا:
“امی، امی! ابا آگئے!”
مہرو نے جیسے سنا ہی نہ، اور چادر میں منہ چھپا کر اور بھی دبک گئی۔
عنایت نے سلام دعا کی، باتوں باتوں میں سب کو ہنسانا بھی چاہا۔ مگر کمرے کی دہلیز پر کھڑا ہو کر اندر جھانکا تو مہرو کو یوں دیکھی پڑی دیکھا کہ جیسے وہ کوئی اجنبی ہو۔ اس کی بدبو، اس کے پینے کی باس، اس کے بدن کی بو… یہ سب مہرو کے اعصاب پر چھا گئے۔
عنایت غرایا:
“سلمیٰ، جا کر اپنی ماں سے کہہ دے، ڈرامے بند کرے۔ اگر بھائیوں کو بلا کر مجھے سمجھانے آئی ہے تو اپنی ہی گردن میں پھندا ڈالے گی۔ میں ایک سانس میں تین بار کہہ دوں گا، طلاق، طلاق، طلاق اور معاملہ ختم۔ پھر دیکھے گی کہ اپنی بہنوں اور بیٹیوں کے رشتے کہاں کرتی ہے! جا، کہہ دینا اپنی ماں سے۔ اور بھائیوں سے جا کر پوچھ لے، مرغی پکائے گی یا بکرے کا گوشت؟ دوپہر کا کھانا تیار کر لے۔”
مہرو اسی جگہ بیٹھی رہی۔
ادھر مرد ایک دوسرے سے باتوں میں ہنس رہے تھے۔ موضوع بدل گئے: کبھی کافی کی قیمت، کبھی کشمیر کے
الیکشن، کبھی محلے کی اس لڑکی کا ذکر جس نے ہندو لڑکے سے شادی کی۔ باتوں کے بیچ پریشر ککر سیٹی بجاتا رہا، مسالے کی خوشبو پھیلتی رہی، مرغی کی ڈش تیار ہوئی، اور کھانے کی خدمت سلمیٰ نے کی۔
مہرو بس ایک لمحے کو باورچی خانے سے باہر آئی، پھر غائب ہو گئی۔ کھانے کے بعد بھائی پان چباتے، جانے کو تیار ہوئے۔ مشتاق دروازے پر رکا اور بولا:
“ذرا عقل سے کام لو، سب سنبھالو۔ میں اگلے ہفتے آؤں گا۔ ابھی تھوڑے دن وہ یوں ہی کرے گا، پھر خود ہی سدھر جائے گا۔ اور پھر شکر کرو! کچھ عورتوں کے شوہر شرابی ہیں، کچھ کی ساس مار پیٹ کرتی ہیں۔ اللہ کا شکر ہے، تمہارا شوہر بس تھوڑا غیر ذمہ دار ہے۔ یہ سب تمہیں ہی سنبھالنا ہے۔”
وہ چلے گئے۔ ان کی کار کی آواز دھندلائی تو عنایت بھی نکل کھڑا ہوا۔ سلمیٰ ماں کو دیکھتی رہی۔ ماموں نہ دلاسہ دے سکے، نہ سہارا۔ وہ اپنی ماں کے دکھ میں تڑپتی رہی۔
شام ڈھلی، چراغاں ہوا، مگر مہرو کے دل کا چراغ مدتوں پہلے بجھ چکا تھا۔ وہ سوچتی: کس کے لیے جیے؟ کیا مقصد ہے؟ گھر کی دیواریں، چھت، برتن، بستر، صحن کا گلابی پودا، کسی کے پاس اس کے سوالوں کا جواب نہ تھا۔
رات گہری ہوئی۔ بچے سو گئے۔ سلمیٰ پڑھائی میں مصروف تھی مگر نظر ماں کے کمرے پر تھی۔ مہرو جاگتی رہی۔ یادیں دستکیں دیتی رہیں؛ شادی کا دن، بی کام کے امتحان کی حسرت، عنایت کی ابتدائی محبت، اور پھر وہ لمحہ جب ایک نرس کے لیے وہ سب کچھ بھول بیٹھا۔ وہ الفاظ جن سے عنایت نے اسے زندہ جلا دیا تھا:
“تو میری ماں جیسی ہے!”
مہرو نے سوچا: اب کیا باقی ہے؟ کوئی نہیں جو اسے تھام لے۔ نہ ہنسی، نہ محبت، نہ سہارا۔ بس گھپ اندھیرا۔
دھیرے دھیرے اٹھی۔ ننھی بچی کو دیر تک تکتا رہی، پھر دوسرے کمروں میں سوئے بچوں پر نظر ڈالی۔ ڈرائنگ روم میں گئی، سلمیٰ کو کتابوں پر جھکے دیکھ کر رک گئی۔ اس کا دل لرز گیا۔ جی چاہا بیٹی کو چھو لے، مگر ضبط کیا۔ دل ہی دل میں کہا:
“بیٹی، اب تمہیں ماں بننا ہو گا ان سب کی۔”
وہ آنگن میں آئی۔ پودے جیسے رو رہے تھے۔ پھر اندر جا کر مٹی کا تیل اٹھایا۔ ادھر ادھر گھومتی رہی، کہاں خود کو جلائے؟ بچوں پر آخری نظر ڈالی، پھر دیا سلائی کی ڈبیا ہاتھ میں لی اور دروازہ کھول کر باہر آ گئی۔
تیل اپنے اوپر انڈیلا۔ ایک انجانی طاقت نے اسے جکڑ رکھا تھا۔ کوئی یاد، کوئی رشتہ، کوئی لمس باقی نہ رہا۔
مگر اندر بچی بھوک سے چیخنے لگی۔ سلمیٰ نے اسے گود میں لیا، امی کو پکارتی دوڑتی ہوئی باہر آئی۔ اندھیرے میں ماں کی شبیہ اور تیل کی بو محسوس کی۔ سوچے سمجھے بغیر لپک کر ماں سے لپٹ گئی۔
ماچس کی ڈبیا مہرو کے ہاتھ سے چھوٹ گئی۔ سلمیٰ اس کے پیروں سے لپٹی رو رہی تھی:
“امی! بس ایک شخص کے لیے آپ ہم سب کو یتیم کر دیں گی؟ ابا کے لیے مرنے پر تیار ہیں، کیا ہمارے لیے جینے کی ہمت نہیں کر سکتیں؟”
مہرو نے بچوں کی طرف دیکھا۔ ننھی گود سے چھوٹ کر زمین پر بلک رہی تھی۔ سلمیٰ کی باتیں شاید کان میں نہ گئیں، مگر اس کا لمس دل میں اتر گیا۔ ماں نے بچی کو اٹھایا، سلمیٰ کو سینے سے لگایا۔ یوں لگا جیسے برسوں بعد کوئی سچا دوست اسے سہلا رہا ہو، سمجھ رہا ہو۔
اس کی آنکھیں بوجھل ہو گئیں۔ لبوں سے بس اتنا نکل سکا:
“معاف کر دینا، میری جان…”
رات کی تاریکی ٹوٹنے لگی تھی۔
“اے اللہ! اگر میری ساری عمر کی عبادت میں کوئی ذرّہ بھر نیکی ہے تو اس کے صدقے میری بیٹی کی زندگی سنوار دے۔”