مواد پر جائیں

چھوٹے چھوٹے خداؤں کے نام

نصرت بھٹو اردو

یہ تحریر اُن لوگوں کے نام ہے جو بڑے عہدوں پر نہیں ہوتے، مگر بڑی انا کے تخت پر بیٹھے ہوتے ہیں۔

وہ کسی ملک کے صدر نہیں ہوتے، مگر اپنے چھوٹے سے دائرے میں خود کو سلطنت کا مالک سمجھتے ہیں۔ کوئی ادارے کا سربراہ، کوئی اسکول کا پرنسپل، کوئی گھر کا قوام، کوئی محلے کا منتظم، مگر مزاج ایسا جیسے سچ اور جھوٹ کا فیصلہ صرف انہی کے ہاتھ میں ہو۔

یہ وہ لوگ ہیں جو حق کو پہچانتے بھی ہیں، مگر ماننے سے انکار کر دیتے ہیں، کیونکہ حق کو تسلیم کرنا انا کے تاج کو ہلکا کر دیتا ہے۔

اور انہیں تاج عزیز ہوتا ہے، سچ نہیں۔ یہ باطل کے نعرے کو اتنی بلند آواز میں دہراتے ہیں کہ سچ کی دھیمی مگر سچی صدا دب جائے۔

یہ دلیل سے بات نہیں کرتے، یہ عہدے سے بولتے ہیں۔ یہ انصاف نہیں کرتے، یہ اختیار کے زور پر فیصلے سناتے ہیں۔ سرِعام جھوٹ بولتے ہیں مگر چہرے پر دیانت کا نقاب سجائے رکھتے ہیں۔ الفاظ میں اخلاقیات، مگر کردار میں تکبر، سختی اور بے رحمی۔

یہ ظاہری اقدار کی چادر اوڑھ لیتے ہیں تاکہ اندر کی تاریکی چھپ جائے، جیسے اندھیرا روشنی کا لباس پہن لے۔

انہیں اختلاف سے خوف آتا ہے، کیونکہ اختلاف ایک آئینہ ہوتا ہے۔ اور آئینے میں وہ سچ دکھائی دیتا ہے جس سے وہ برسوں سے نظریں چرا رہے ہوتے ہیں۔

یہ چھوٹے چھوٹے حکمران اپنے گرد چاپلوسوں کی دیوار کھڑی کر لیتے ہیں۔ سچ بولنے والے انہیں باغی لگتے ہیں، سوال کرنے والے گستاخ اور انصاف مانگنے والے مسئلہ۔ کیونکہ انہیں نظام نہیں، اپنی حکمرانی عزیز ہوتی ہے۔

وہ سمجھتے ہیں کہ اختیار ہمیشہ رہے گا، کہ کرسی کبھی خالی نہیں ہو گی، کہ لوگ ہمیشہ خاموش رہیں گے۔

مگر تاریخ کا ایک اٹل اصول ہے:

جھوٹ جتنا بھی اونچا کھڑا ہو، اس کی بنیاد ہمیشہ ریت پر ہوتی ہے۔ وقت گواہی دیتا ہے کہ اقتدار کا شور آخرکار خاموشی میں بدل جاتا ہے، اور یاد وہی لوگ رکھے جاتے ہیں

جنہوں نے سچ کا ساتھ دیا، نہ کہ وہ جنہوں نے سچ کو دبایا۔ اے چھوٹے چھوٹے نمرودوں اور فرعونوں، یاد رکھو:

اختیار آزمائش ہے، ملکیت نہیں۔ عہدہ ذمہ داری ہے، برتری نہیں۔

اور سچ۔۔۔

سچ کو نہ تمہارے دستخط کی ضرورت ہے، نہ تمہاری اجازت کی۔ ایک دن تمہارے فیصلے نہیں، تمہارا کردار تمہارا تعارف ہوگا۔

اور اس دن نہ عہدہ بولے گا، نہ طاقت۔

صرف سچ بولے گا۔